مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 88

امیر آدمی اور لعزر

امیر آدمی اور لعزر

لُوقا 16:‏14-‏31

  • امیر آدمی اور لعزر کی مثال

یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو دُنیاوی دولت کے اِستعمال کے سلسلے میں ہدایتیں دے رہے تھے۔‏ لیکن وہاں کچھ فریسی بھی موجود تھے اور اُن کو بھی یسوع کی اِن ہدایتوں پر دھیان دینے کی ضرورت تھی۔‏ کیوں؟‏ کیونکہ ”‏وہ پیسے سے بڑا پیار کرتے تھے۔‏“‏ مگر یسوع کی باتیں سُن کر فریسی ”‏ناک چڑھانے لگے۔‏“‏—‏لُوقا 15:‏2؛‏ 16:‏13،‏ 14‏۔‏

یہ دیکھ کر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگ اِنسانوں کے سامنے تو بڑے نیک بنتے ہیں لیکن خدا آپ کے دلوں کو جانتا ہے۔‏ اِنسان جن چیزوں کو اہم سمجھتے ہیں،‏ وہ خدا کی نظر میں گھناؤنی ہیں۔‏“‏—‏لُوقا 16:‏15‏۔‏

فریسی کافی عرصے سے اِنسانوں کی نظر میں بڑے اہم سمجھے جاتے تھے لیکن اب صورتحال میں تبدیلی آنے والی تھی۔‏ جو لوگ دولت‌مند تھے اور سیاسی اور مذہبی لحاظ سے اثرورسوخ رکھتے تھے،‏ اُنہیں پست کِیا جانے والا تھا۔‏ لیکن عام لوگ جو خدا کے بارے میں سیکھنے کو ترستے تھے،‏ اُنہیں بلند کِیا جانے والا تھا۔‏

یسوع مسیح نے اِس آنے والی تبدیلی کی طرف یوں اِشارہ کِیا:‏ ”‏شریعت اور نبیوں کی تعلیمات یوحنا کے زمانے تک تھیں۔‏ تب سے خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری سنائی جا رہی ہے اور ہر طرح کے لوگ اِس کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‏ جس طرح آسمان اور زمین نہیں مٹ سکتے اُسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ شریعت کی کوئی بات پوری نہ ہو۔‏“‏ (‏لُوقا 3:‏18؛‏ 16:‏16،‏ 17‏)‏ یسوع مسیح کے اِن الفاظ سے کیسے ظاہر ہوا کہ یہ تبدیلی آ رہی تھی؟‏

یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں کو بڑا مان تھا کہ وہ موسیٰ کی شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔‏ آپ کو یاد ہوگا کہ جب یسوع مسیح نے یروشلیم میں ایک اندھے فقیر کو شفا دی تھی تو فریسیوں نے بڑے فخر سے کہا تھا:‏ ”‏ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔‏ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے باتیں کیں۔‏“‏ (‏یوحنا 9:‏13،‏ 28،‏ 29‏)‏ شریعت کا ایک مقصد خاکسار لوگوں کو مسیح تک لانا تھا۔‏ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے لوگوں پر واضح کِیا کہ یسوع خدا کے میمنے ہیں۔‏ (‏یوحنا 1:‏29-‏34‏)‏ یوحنا کے دورِخدمت کے آغاز سے خاکسار یہودی اور خاص طور پر غریب یہودی ”‏خدا کی بادشاہت“‏ کے بارے میں سُن رہے تھے۔‏ یہ اُن سب کے لیے ”‏خوش‌خبری“‏ تھی جو اِس بادشاہت کی رعایا میں شامل ہونا چاہتے تھے اور اِس سے برکت پانا چاہتے تھے۔‏

موسیٰ کی شریعت جس مقصد کے لیے دی گئی تھی،‏ وہ پورا بھی ہوا کیونکہ اِس کے ذریعے لوگ مسیح کو پہچان گئے۔‏ اب شریعت پر عمل کرنا لازمی نہیں رہا۔‏ مثال کے طور پر شریعت کے مطابق مختلف وجوہات کی بِنا پر طلاق دی جا سکتی تھی۔‏ لیکن یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور کسی اَور سے شادی کرتا ہے،‏ وہ زِنا کرتا ہے۔‏ اور جو شخص ایک طلاق‌یافتہ عورت سے شادی کرتا ہے،‏ وہ زِنا کرتا ہے۔‏“‏ (‏لُوقا 16:‏18‏)‏ ذرا سوچیں،‏ ایسی باتیں سُن کر فریسیوں کو کتنا غصہ آتا ہوگا کیونکہ اُنہیں ہر چھوٹے موٹے معاملے کے لیے قاعدے قانون بنانے کا شوق تھا۔‏

 پھر یسوع نے ایک مثال دی جس سے ظاہر ہوا کہ آنے والی تبدیلی کتنی بڑی ہوگی۔‏ یہ مثال دو آدمیوں کے بارے میں تھی جن کی حیثیت بالکل بدل گئی۔‏ اِس مثال پر غور کرتے وقت یاد رکھیں کہ فریسی بھی اِسے سُن رہے تھے جنہیں پیسے سے بڑا پیار تھا۔‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏ایک آدمی تھا جو بڑا امیر تھا۔‏ وہ جامنی رنگ کا قیمتی لباس پہنتا تھا اور عیش‌وآرام کی زندگی گزارتا تھا۔‏ اب ایک فقیر بھی تھا جس کا نام لعزر تھا اور اُس کے پورے جسم پر ناسور تھے۔‏ لوگ اُسے امیر آدمی کے دروازے پر چھوڑ جایا کرتے تھے۔‏ اُس کا جی چاہتا تھا کہ وہ اُن ٹکڑوں سے ہی پیٹ بھر لے جو امیر آدمی کی میز سے گِرتے تھے۔‏ اُس کی حالت اِتنی بُری تھی کہ کتّے آ کر اُس کے ناسوروں کو چاٹتے تھے۔‏“‏—‏لُوقا 16:‏19-‏21‏۔‏

اِس مثال میں ”‏امیر آدمی“‏ سے مُراد فریسی تھے کیونکہ اُنہیں دولت سے بڑا پیار تھا۔‏ یہودیوں کے یہ مذہبی پیشوا مہنگے اور شان‌دار لباس پہننا پسند کرتے تھے۔‏ وہ نہ صرف مالی اِعتبار سے بہت دولت‌مند تھے بلکہ وہ خدا کی خدمت کرنے کے شرف اور موقعوں سے بھی مالامال تھے۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ امیر آدمی نے شاہی لباس پہن رکھا تھا جس سے اُنہوں نے فریسیوں کے اُونچے رُتبے اور نیکی کے دِکھاوے کی طرف اِشارہ کِیا۔‏

یہ امیر اور مغرور مذہبی پیشوا عام اور غریب لوگوں کو کیسا خیال کرتے تھے؟‏ وہ اپنی حقارت ظاہر کرنے کے لیے اِن لوگوں کو عبرانی میں ”‏اَمہاآرِتس“‏ کہتے تھے جس کا لفظی مطلب ”‏زمین کے لوگ“‏ ہے۔‏ اُن کے خیال میں یہ  لوگ نہ تو شریعت کا علم رکھتے تھے اور نہ ہی اِس کے بارے میں سیکھنے کے لائق تھے۔‏ (‏یوحنا 7:‏49‏)‏ اِن عام لوگوں کی حالت لعزر نامی فقیر جیسی تھی جس کا ”‏جی چاہتا تھا کہ وہ اُن ٹکڑوں سے ہی پیٹ بھر لے جو امیر آدمی کی میز سے گِرتے تھے۔‏“‏ اور جس طرح لعزر کے ناسوروں کی وجہ سے اُس سے گھن کھائی جاتی تھی اُسی طرح اِن لوگوں کو بھی اچُھوت خیال کِیا جاتا تھا گویا خدا اُن سے ناراض ہو۔‏

افسوس کی بات تھی کہ یہ صورتحال کافی عرصے سے چل رہی تھی۔‏ مگر یسوع مسیح جانتے تھے کہ اب امیر آدمی اور لعزر جیسے لوگوں کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آ چُکی تھی۔‏

امیر آدمی اور لعزر کی صورتحال میں تبدیلی

اِس تبدیلی کے سلسلے میں یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏وقت گزرتا گیا۔‏ آخر وہ فقیر مر گیا اور فرشتے اُسے اُٹھا کر ابراہام کے پہلو میں لے گئے۔‏ پھر امیر آدمی بھی مر گیا اور اُسے دفن کِیا گیا اور وہ قبر میں سخت تکلیف میں تھا۔‏ جب اُس نے نظریں اُٹھائیں تو اُس نے دیکھا کہ لعزر وہاں سے بہت دُور،‏ ابراہام کے پہلو میں بیٹھا ہے۔‏“‏—‏لُوقا 16:‏22،‏ 23‏۔‏

جو لوگ یسوع مسیح کی باتوں کو سُن رہے تھے،‏ وہ جانتے تھے کہ ابراہام کو فوت ہوئے بڑا عرصہ ہو گیا ہے اور وہ قبر میں ہیں۔‏ پاک صحیفوں میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ قبر میں مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔‏ وہ نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بات کر سکتے ہیں۔‏ (‏واعظ 9:‏5،‏ 10‏)‏ تو پھر اِن مذہبی پیشواؤں نے یسوع مسیح کی بات کا کیا مطلب نکالا ہوگا؟‏ یسوع پیسے سے پیار کرنے والے مذہبی رہنماؤں اور عام لوگوں کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے؟‏

یسوع مسیح نے کچھ ہی دیر پہلے یہ کہہ کر ایک تبدیلی کی طرف اِشارہ کِیا کہ ”‏شریعت اور نبیوں کی تعلیمات یوحنا کے زمانے تک تھیں۔‏ تب سے خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری سنائی جا رہی ہے۔‏“‏ لہٰذا یوحنا بپتسمہ دینے والے اور یسوع کے پیغام کی وجہ سے امیر آدمی اور لعزر مر گئے یعنی اُن کی صورتحال بدل گئی۔‏

خاکسار اور غریب یہودی بڑے عرصے سے روحانی لحاظ سے محرومی کا شکار تھے۔‏ اُن کا جی چاہتا تھا کہ وہ اُن ٹکڑوں سے ہی پیٹ بھر لیں جو امیر آدمی کی میز سے گِرتے تھے یعنی اُن چند باتوں سے ہی سیر ہو جائیں جو مذہبی رہنما اُنہیں سکھا رہے تھے۔‏ لیکن پھر یوحنا بپتسمہ دینے والے کے پیغام اور بعد میں یسوع کے پیغام کی وجہ سے اِن لوگوں کی مدد ہونے لگی۔‏ اب اُنہیں خدا کی بادشاہت کے بارے میں اہم سچائیاں سکھائی جا رہی تھیں۔‏ ایسا لگ رہا تھا جیسے خدا کی نظر میں اُن کا مقام بدل گیا ہو۔‏

اِن لوگوں کے برعکس امیر اور اثرورسوخ والے مذہبی پیشوا اُس پیغام کو قبول نہیں کر رہے تھے جس کی مُنادی یوحنا نے اور پھر یسوع مسیح نے پورے ملک میں کی۔‏ (‏متی 3:‏1،‏ 2؛‏ 4:‏17‏)‏ یہ پیغام اُن لوگوں کے لیے آگ کی طرح تھا کیونکہ اِس سے ظاہر ہوا کہ اُن پر خدا کا عذاب آنے والا تھا۔‏ اِسے  سُن کر اُنہیں غصہ آتا تھا اور سخت تکلیف ہوتی تھی۔‏ (‏متی 3:‏7-‏12‏)‏ اگر یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد خدا کا پیغام سنانا بند کر دیتے تو اِن امیر پیشواؤں کو اپنی تکلیف سے آرام ملتا۔‏ یہ پیشوا مثال والے امیر آدمی کی طرح تھے جس نے پکار کر کہا:‏ ”‏باپ ابراہام،‏ مجھ پر رحم کریں۔‏ لعزر کو بھیجیں تاکہ وہ اپنی اُنگلی کا سرا پانی میں ڈبو کر میری زبان پر لگائے کیونکہ مَیں اِس بھڑکتی آگ کی وجہ سے بہت تکلیف میں ہوں۔‏“‏—‏لُوقا 16:‏24‏۔‏

مگر اِن مذہبی پیشواؤں کو تکلیف سے آرام نہیں ملنے والا تھا۔‏ کیوں؟‏ اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی سوچ بدلنے کو تیار نہیں تھے۔‏ اُنہوں نے ”‏موسیٰ اور دوسرے نبیوں کی بات“‏ سننے سے اِنکار کِیا تھا۔‏ اگر وہ اِن نبیوں کی کتابوں میں درج باتوں پر ایمان لاتے تو وہ یسوع کو مسیح اور خدا کے مقررہ بادشاہ کے طور پر قبول کرتے۔‏ (‏لُوقا 16:‏29،‏ 31؛‏ گلتیوں 3:‏24‏)‏ مذہبی پیشوا خاکسار بننے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی وہ اُن غریب لوگوں کے پیغام کو قبول کرنے کو تیار تھے جو یسوع مسیح پر ایمان لائے تھے اور جنہیں خدا کی خوشنودی حاصل تھی۔‏ اِس کے علاوہ یسوع کے شاگرد اِن پیشواؤں کو خوش کرنے کے لیے اپنا پیغام توڑمروڑ کر پیش نہیں کر سکتے تھے۔‏ یہ اُس بات سے ظاہر ہوتا ہے جو مثال میں ”‏باپ ابراہام“‏ نے امیر آدمی سے کہی تھی۔‏

ابراہام نے کہا:‏ ”‏بیٹا،‏ یاد کرو کہ تُم نے کتنی آرام‌دہ زندگی گزاری تھی جبکہ لعزر نے بہت تکلیف اُٹھائی تھی۔‏ اب وہ مطمئن ہے لیکن تُم تکلیف میں ہو۔‏ اور پھر ہمارے اور تمہارے درمیان ایک بہت بڑی کھائی بھی ہے تاکہ جو لوگ یہاں سے تمہاری طرف جانا چاہیں،‏ وہ نہ جا سکیں اور نہ ہی وہاں سے لوگ ہماری طرف آ سکیں۔‏“‏—‏لُوقا 16:‏25،‏ 26‏۔‏

اب مغرور مذہبی پیشواؤں اور خاکسار لوگوں کی صورتحال بالکل اُلٹ گئی تھی۔‏ جو خاکسار لوگ یسوع مسیح کا جُوا اُٹھانے کو تیار تھے،‏ وہ تازہ‌دم اور روحانی طور پر سیر ہو گئے۔‏ (‏متی 11:‏28-‏30‏)‏ یہ تبدیلی کچھ مہینے بعد پنتِکُست 33ء پر اَور بھی نمایاں ہوئی جب نئے عہد نے شریعت کی جگہ لے لی۔‏ (‏یرمیاہ 31:‏31-‏33؛‏ کُلسّیوں 2:‏14؛‏ عبرانیوں 8:‏7-‏13‏)‏ اُس وقت خدا نے یسوع کے پیروکاروں پر پاک روح نازل کی جس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اِن لوگوں کو خدا کی خوشنودی حاصل تھی نہ کہ فریسیوں اور اُن کے حامیوں کو۔‏