مواد فوراً دِکھائیں

کیا آپ سچائی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں؟‏

کیا آپ سچائی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں؟‏

بہت سے لوگوں کے دل میں اہم معاملات کے بارے میں سوالات اُٹھتے ہیں اور وہ اِن کے بارے میں سچائی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔‏ شاید آپ نے بھی خود سے پوچھا ہو کہ

  • کیا خدا کو ہماری فکر ہے؟‏

  • کیا انسان کو ہمیشہ تک جنگوں اور تکالیف کا سامنا رہے گا؟‏

  • مرنے پر کیا واقع ہوتا ہے؟‏

  • کیا ہم اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ مل سکیں گے جو فوت ہو گئے ہیں؟‏

  • مجھے کیسے دُعا کرنی چاہئے تاکہ خدا میری دُعا کو سُن لے؟‏

  • مَیں حقیقی خوشی کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟‏

آپ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏ اگر آپ اِن کے جواب حاصل کرنے کے لئے دوستوں یا رشتہ‌داروں سے رُجوع کریں گے تو وہ آپ کو مختلف جواب دیں گے۔‏ یہاں تک کہ اِن معاملات کے بارے میں علما کی رائے بھی ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہے۔‏ یاپھر شاید آپ کتابوں میں اِن سوالوں کے جواب تلاش کریں۔‏ لیکن اِن میں بھی فرق فرق جواب دئے جاتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس بات کو آج سچ مانا جاتا ہے،‏ کل اِسی کو رد کرکے کوئی اَور رائے پیش کی جاتی ہے۔‏

لیکن آپ اِن معاملات کے بارے میں سچائی جان سکتے ہیں کیونکہ اِن سوالوں کے جواب پاک صحائف میں درج ہیں۔‏ یسوع مسیح نے خدا سے یوں دُعا کی تھی:‏ ”‏تیرا کلام سچائی ہے۔‏“‏ (‏یوحنا 17:‏​17‏)‏ خدا کا کلام اُس کی الہامی کتاب بائبل میں پایا جاتا ہے۔‏ آگے جا کر آپ کو اُوپر دئے گئے سوالات کے جواب پاک صحائف میں سے بتائے جائیں گے۔‏

 کیا خدا کو ہماری فکر ہے؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ دُنیا میں ناانصافی اور ظلم‌وتشدد کی بھرمار ہے۔‏ لوگوں کو طرح طرح کی تکالیف کا سامنا ہے۔‏ بہت سے مذہبی رہنما کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہو رہا ہے۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ خدا کوئی بُرا کام نہیں کرتا۔‏ خدا کے نبی نے لکھا:‏ ”‏یقیناً خدا بُرائی نہیں کرے گا۔‏ قادرِمطلق سے بےانصافی نہ ہوگی۔‏“‏ (‏ایوب 34:‏​12‏)‏ خدا نے انسان کو ہمیشہ خوش رہنے کے لئے خلق کِیا تھا اور وہ اپنی مرضی ضرور پوری کرے گا۔‏ اِس وجہ سے یسوع مسیح نے ہمیں خدا سے یوں دُعا کرنا سکھائی:‏ ”‏تیری مرضی جیسے آسمان پر ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی ہو۔‏“‏ (‏متی 6:‏​9،‏ 10‏)‏ خدا نے ہمیں ایک شاندار مستقبل فراہم کرنے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کِیا۔‏ اِس سے ہم جان جاتے ہیں کہ وہ ہم سے کتنی محبت رکھتا ہے۔‏​—‏⁠یوحنا 3:‏​16‏۔‏

اِس سلسلے میں پیدایش 1:‏​26-‏28؛‏ یعقوب 1:‏​13 اور 1-‏پطرس 5:‏​6،‏ 7 کو بھی دیکھیں۔‏

کیا انسان کو ہمیشہ تک جنگوں اور تکالیف کا سامنا رہے گا؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ جنگوں کی وجہ سے کروڑوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‏ دُنیا میں اَور بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہم سب کو دُکھ اور تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ زمین پر امن اور سلامتی کا دَور لائے گا۔‏ یہ اُس وقت ہوگا جب خدا اپنی بادشاہت قائم کرے گا۔‏ اِس حکومت کے تحت لوگ ”‏پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔‏“‏ اِس کی بجائے ”‏وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوئے بنا ڈالیں گے۔‏“‏ (‏یسعیاہ 2:‏4‏)‏ خدا دُنیا پر سے ناانصافی اور تکلیف کا نام‌ونشان تک مٹا دے گا۔‏ پاک صحائف میں خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ”‏[‏لوگوں]‏ کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی،‏ نہ ماتم،‏ نہ رونا،‏ نہ درد۔‏ جو کچھ پہلے ہوتا تھا،‏ وہ سب ختم ہو گیا۔‏ ‎“ اِن چیزوں میں وہ تمام ناانصافیاں اور تکالیف شامل ہیں جن کا آج ہمیں سامنا ہوتا ہے۔‏​—‏⁠مکاشفہ 21:‏​3،‏ 4‏۔‏

اِس سلسلے میں زبور 37:‏​10،‏ 11؛‏ 46:‏9 اور میکاہ 4:‏​1-‏4 کو بھی دیکھیں۔‏

مرنے پر کیا واقع ہوتا ہے؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ تقریباً تمام مذاہب کے رہنما سکھاتے ہیں کہ مرنے پر انسان کسی اَور روپ میں زندہ رہتا ہے۔‏ کئی مذہبی رہنما کہتے ہیں کہ مُردے ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ بُرے لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ موت کے بعد انسان کا وجود مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔‏ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”‏مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔‏“‏ (‏واعظ 9:‏5‏)‏ چونکہ مُردے دیکھنے،‏ سننے اور سوچنےسمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں اِس لئے وہ نہ تو ہماری حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‏​—‏⁠زبور 146:‏​3،‏ 4‏۔‏

اِس سلسلے میں پیدایش 3:‏​19 اور واعظ 9:‏​6،‏ 10 کو بھی دیکھیں۔‏

 کیا ہم اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ مل سکیں گے جو فوت ہو گئے ہیں؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ ہم زندہ رہنا اور اپنے عزیزوں کے ساتھ زندگی سے لطف‌اندوز ہونا چاہتے ہیں۔‏ یہ فطری بات ہے کہ ہم اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملنے کی آرزو رکھتے ہیں جو موت کی نیند سو گئے ہیں۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ خدا مُردوں کو زندہ کرے گا۔‏ یسوع مسیح نے وعدہ کِیا کہ ”‏سب لوگ جو قبروں میں ہیں،‏ .‏ .‏ .‏ نکل آئیں گے۔‏“‏ (‏یوحنا 5:‏​28،‏ 29‏)‏ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ مُردوں کو زمین پر زندہ کرکے اُنہیں فردوس میں رہنے کا موقع دے گا۔‏ (‏لوقا 23:‏​43‏)‏ جو لوگ خدا کے فرمانبردار رہیں گے اُن کو وہ مکمل صحت بخشے گا اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا۔‏ پاک صحائف میں لکھا ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔‏“‏​—‏⁠زبور 37:‏​29‏۔‏

اِس سلسلے میں ایوب 14:‏​14،‏ 15؛‏ لوقا 7:‏​11-‏17 اور اعمال 24:‏​15 کو بھی دیکھیں۔‏

مجھے کیسے دُعا کرنی چاہئے تاکہ خدا میری دُعا کو سُن لے؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ دُعا کرتے ہیں۔‏ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اُن کی فریاد سنی نہیں جاتی۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ یسوع مسیح نے کہا کہ ”‏دُعا کرتے وقت بار بار ایک ہی بات کو نہ دُہرائیں۔‏“‏ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں دُعا کرتے وقت بغیر سوچےسمجھے ایک ہی بات کو بار بار نہیں دُہرانا چاہئے۔‏ (‏متی 6:‏7‏)‏ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دُعا قبول ہو تو ہمیں ایسی باتوں کے بارے میں دُعا کرنی چاہئے جو خدا کی مرضی کے مطابق ہیں۔‏ ہم تب ہی خدا کی مرضی کے مطابق دُعا کر سکتے ہیں جب ہم جان لیتے ہیں کہ اُس کی مرضی کیا ہے۔‏ پاک صحائف میں لکھا ہے کہ ”‏ہم [‏خدا]‏ کی مرضی کے مطابق جو کچھ مانگیں گے،‏ وہ ہماری سنے گا۔‏“‏​—‏⁠1-‏یوحنا 5:‏​14‏۔‏

اِس سلسلے میں زبور 65:‏2؛‏ یوحنا 14:‏​6‏،‏ 14 اور 1-‏یوحنا 3:‏​22 کو بھی دیکھیں۔‏

مَیں حقیقی خوشی کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟‏

یہ سوال اِس لئے کِیا جاتا ہے:‏ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ خوبصورت بننے یا پھر دولت اور شہرت حاصل کرنے سے خوشی مل سکتی ہے۔‏ لہٰذا وہ اِن چیزوں کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔‏ لیکن جب وہ اِنہیں حاصل کر لیتے ہیں تو اُن کو احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی اِن چیزوں سے نہیں ملتی۔‏

پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے:‏ یسوع مسیح نے حقیقی خوشی حاصل کرنے کے سلسلے میں کہا:‏ ”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔‏“‏ (‏متی 5:‏3‏)‏ جی‌ہاں،‏ ہم اُسی صورت میں حقیقی خوشی حاصل کر سکیں گے اگر ہم خدا کے بارے میں اور اُس کی مرضی کے بارے میں سچائی جان جائیں گے۔‏ یہ سچائی پاک صحائف میں درج ہے۔‏ اِس سچائی کو جاننے سے ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ زندگی میں کونسی باتیں واقعی اہم ہیں اور کن چیزوں کے پیچھے بھاگنا فضول ہے۔‏ ہم پاک صحائف میں درج سچائیوں پر عمل کرنے سے ہی حقیقی خوشی حاصل کرتے ہیں۔‏​—‏⁠لوقا 11:‏​28‏۔‏

اِس سلسلے میں امثال 3:‏​5،‏ 6،‏ 13-‏18 اور 1-‏تیمتھیس 6:‏​9،‏ 10 کو بھی دیکھیں۔‏

 یہ لوگوں کے دل میں اُٹھنے والے چند سوال اور پاک صحائف میں سے اِن کے جواب تھے۔‏ اگر آپ سچائی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کے دل میں اَور بھی بہت سے سوال ہوں گے۔‏ مثال کے طور پر شاید آپ نے خود سے پوچھا ہو کہ ’‏اگر خدا کو ہماری فکر ہے تو وہ انسان کو دُکھ اور تکلیف کیوں سہنے دیتا ہے؟‏‏‘‏ یاپھر یہ کہ ’‏مَیں گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے کیا کر سکتا ہوں؟‏‏‘‏ پاک صحائف میں اِن کے علاوہ اَور بھی بہت سے معاملات کے بارے میں سچائی بتائی گئی ہے۔‏

آجکل بہت سے لوگ پاک صحائف کو پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ اِس پر بہت وقت صرف ہوگا اور اِن میں درج باتوں کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔‏ کیا آپ اپنے سوالوں کے جواب پاک صحائف سے جاننا پسند کریں گے؟‏ اِس سلسلے میں یہوواہ کے گواہ دو طریقوں سے آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔‏

ایک تو یہ کہ وہ آپ کو کتاب پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں مہیا کر سکتے ہیں جس کے ذریعے آپ پاک صحائف میں سے اپنے سوالوں کے جواب حاصل کر سکتے ہیں۔‏ دوسرا یہ کہ وہ آپ کے ساتھ پاک صحائف کا مطالعہ کر سکتے ہیں‏۔‏ اگر آپ کے علاقے میں کوئی یہوواہ کا گواہ رہتا ہے تو وہ ہر ہفتے تھوڑی دیر کے لئے آپ کے گھر یا کسی اَور مناسب جگہ آ کر آپ کو پاک صحائف کی تعلیم دے سکتا ہے۔‏ دُنیابھر میں لاکھوں لوگوں نے اِس تعلیم سے فائدہ حاصل کِیا ہے۔‏ اُن میں سے بہت سے لوگ اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”‏اب مجھے سچائی مل گئی ہے!‏“‏

سچائی اتنی بیش‌قیمت ہے کہ اِس کا کسی اَور چیز سے مقابلہ نہیں کِیا جا سکتا۔‏ پاک صحائف میں پائی جانے والی سچائیوں کو جان کر ہماری اُلجھنیں اور ہمارے وہم دُور ہو جائیں گے۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏آپ سچائی کو جان جائیں گے اور سچائی آپ کو آزاد کر دے گی۔‏“‏​—‏⁠یوحنا 8:‏​32‏۔‏