مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 16

صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کریں

صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کریں

1،‏ 2.‏ آپ کو خود سے کون سا سوال پوچھنا چاہیے اور یہ کیوں اہم ہے؟‏

پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے سے آپ نے سیکھ لیا ہے کہ بہت سے لوگ خدا کی عبادت کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اصل میں وہ ایسی باتیں سکھاتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جن سے خدا کو نفرت ہے۔‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏17‏)‏ اِسی لیے یہوواہ خدا ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ”‏بابلِ‌عظیم“‏ یعنی جھوٹے مذاہب سے نکل آئیں۔‏ (‏مکاشفہ 18:‏2،‏ 4‏)‏ مگر آپ کیا فیصلہ کریں گے؟‏ اِس سلسلے میں خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں خدا کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کرنا چاہتا ہوں یا کیا مَیں اُسی طریقے سے اُس کی عبادت کرنا چاہتا ہوں جس طریقے سے مَیں آج تک کرتا آیا ہوں؟‏“‏

2 اگر آپ پہلے ہی جھوٹے مذہب سے تعلق توڑ چُکے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔‏ لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کو جھوٹے مذاہب کے کچھ رسم‌ورواج ابھی بھی اچھے لگتے ہوں۔‏ آئیں،‏ کچھ ایسے رسم‌ورواج پر غور کریں اور دیکھیں کہ یہ کیوں اہم ہے کہ ہم اِن کے بارے میں یہوواہ خدا جیسا نظریہ اپنائیں۔‏

مجسّموں کے ذریعے عبادت اور آباؤاجداد کی پرستش

3.‏ (‏الف)‏ کچھ لوگوں کو تصویروں اور مجسّموں کے بغیر خدا کی عبادت کرنا مشکل کیوں لگتا ہے؟‏ (‏ب)‏ پاک کلام میں تصویروں اور مجسّموں کے ذریعے عبادت کرنے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏

3 کچھ لوگ بہت سالوں سے تصویروں اور مجسّموں کے ذریعے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔‏ اگر آپ بھی ایسا کرتے آئے ہیں تو شاید آپ کو اِن کے بغیر خدا کی عبادت کرنا عجیب یا نامناسب لگے۔‏ لیکن یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اُس کی عبادت کیسے کرنی چاہیے۔‏ پاک کلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ ہم اُس کی عبادت کرنے کے لیے تصویروں اور مجسّموں وغیرہ کو اِستعمال کریں۔‏‏—‏خروج 20:‏4،‏ 5 کو پڑھیں؛‏ زبور 115:‏4-‏8؛‏ یسعیاہ 42:‏8؛‏ 1-‏یوحنا 5:‏21‏۔‏

4.‏ (‏الف)‏ ہمیں اپنے آباؤاجداد کی عبادت کیوں نہیں کرنی چاہیے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے اپنے بندوں کو مُردوں سے رابطہ کرنے سے منع کیوں کِیا؟‏

 4 کچھ لوگ اپنے آباؤاجداد کو خوش کرنے کے لیے بہت وقت اور پیسہ لگاتے ہیں۔‏ کئی لوگ تو اُن کی عبادت بھی کرتے ہیں۔‏ لیکن ہم نے سیکھ لیا ہے کہ مُردے نہ تو ہماری مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‏ وہ کسی اَور جہان میں زندہ نہیں ہیں۔‏ اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنا بہت خطرناک ہے کیونکہ اُن کی طرف سے ملنے والے پیغام دراصل بُرے فرشتوں کی طرف سے ہوتے ہیں۔‏ اِسی لیے یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو مُردوں سے رابطہ کرنے یا کوئی بھی ایسا کام کرنے سے منع کِیا جس کا تعلق بُرے فرشتوں سے ہو۔‏—‏اِستثنا 18:‏10-‏12‏؛‏ کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 26 اور 31 کو دیکھیں۔‏

5.‏ آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ تصویروں یا مجسّموں کے ذریعے خدا کی عبادت کرنا اور اپنے آباؤاجداد کی پرستش کرنا چھوڑ سکیں؟‏

5 اگر آپ تصویروں یا مجسّموں کے ذریعے خدا کی عبادت کرتے ہیں یا اپنے آباؤاجداد کی پرستش کرتے ہیں تو آپ اِنہیں چھوڑنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏ پاک کلام کو پڑھیں اور اِس بات پر غور کریں کہ یہوواہ خدا اِن کاموں کو کیسا خیال کرتا ہے۔‏ وہ اِنہیں ”‏مکروہ“‏ خیال کرتا ہے یعنی اِن سے گھن کھاتا ہے۔‏ (‏اِستثنا 27:‏15‏)‏ ہر روز یہوواہ خدا سے دُعا کریں تاکہ آپ اِن کاموں کے بارے میں اُس جیسا نظریہ اپنا سکیں اور اُس کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کر سکیں۔‏ (‏یسعیاہ 55:‏9‏)‏ یقین مانیں کہ یہوواہ خدا آپ کو ہمت دے گا تاکہ آپ ہر اُس چیز کو اپنی زندگی سے نکال سکیں جس کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہے۔‏

کیا ہمیں کرسمس منانا چاہیے؟‏

6.‏ یسوع مسیح کی سالگرہ 25 دسمبر کو کیوں منائی جانے لگی؟‏

6 پوری دُنیا میں کرسمس سب سے مشہور تہواروں میں سے ایک ہے۔‏ زیادہ‌تر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تہوار یسوع مسیح کی سالگرہ کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔‏ لیکن دراصل کرسمس کا تعلق جھوٹے  مذاہب سے ہے۔‏ ایک اِنسائیکلوپیڈیا کے مطابق روم میں رہنے والے بُت‌پرست لوگ 25 دسمبر کو سورج دیوتا کا جنم دن مناتے تھے۔‏ چرچ کے پیشوا چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مسیحی بنیں۔‏ اِس لیے اُنہوں نے 25 دسمبر کو یسوع مسیح کی سالگرہ منانے کا فیصلہ کِیا حالانکہ یسوع مسیح اِس دن پیدا نہیں ہوئے تھے۔‏ (‏لُوقا 2:‏8-‏12‏)‏ یسوع مسیح کے شاگرد کرسمس نہیں مناتے تھے۔‏ ایک کتاب میں جو مختلف مذاہب کے رسم‌ورواج کی شروعات کے بارے میں ہے،‏ بتایا گیا کہ یسوع مسیح کی پیدائش کے 200 سال بعد تک ”‏کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کس تاریخ کو پیدا ہوئے اور بہت کم لوگوں کو اِس بات میں دلچسپی تھی۔‏“‏ کرسمس کی تقریبات کا آغاز یسوع مسیح کی پیدائش کے سینکڑوں سال بعد ہوا۔‏

7.‏ سچے مسیحی کرسمس کیوں نہیں مناتے؟‏

7 بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ کرسمس اور اِس سے تعلق رکھنے والی رسموں،‏ مثلاً جشن منانے اور تحفے دینے کا آغاز جھوٹے مذاہب سے ہوا۔‏ اِسی لیے ایک زمانے میں اِنگلینڈ میں اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں کرسمس منانے پر پابندی تھی۔‏ اگر کوئی شخص کرسمس مناتا تھا تو اُسے سزا دی جاتی تھی۔‏ لیکن پھر لوگ دوبارہ سے کرسمس منانے لگے۔‏ سچے مسیحی کرسمس کیوں نہیں مناتے‏؟‏ کیونکہ وہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔‏

کیا ہمیں سالگرہ منانی چاہیے؟‏

8،‏ 9.‏ یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکار سالگرہ کیوں نہیں مناتے تھے؟‏

8 دُنیا بھر میں بہت سے لوگ سالگرہ منانے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔‏ کیا مسیحیوں کو سالگرہ منانی چاہیے؟‏ پاک کلام میں سالگرہ کی جن تقریبات کا ذکر کِیا گیا ہے،‏ وہ ایسے لوگوں نے منائیں جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے۔‏ (‏پیدایش 40:‏20؛‏ مرقس 6:‏21‏)‏ سالگرہ کی تقریبات جھوٹے دیوتاؤں کی تعظیم کرنے کے لیے منائی جاتی تھیں۔‏ اِسی لیے یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکار ”‏سالگرہ کو بُت‌پرستوں کا تہوار سمجھتے تھے۔‏“‏‏—‏دی ورلڈ بُک اِنسائیکلوپیڈیا۔‏

 9 قدیم زمانے میں رومی اور یونانی لوگ مانتے تھے کہ ہر شخص کی پیدائش کسی نہ کسی دیوتا کے جنم دن پر ہوتی ہے۔‏ اُن کا ماننا تھا کہ اُس شخص کی پیدائش کے موقعے پر ایک روح موجود ہوتی ہے جو ساری زندگی اُس کی حفاظت کرتی ہے۔‏ کتاب ‏”‏جنم دن کی تاریخ“‏ ‏(‏انگریزی میں دستیاب)‏ میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏اِس روح کا اُس دیوتا کے ساتھ بڑا پُراسرار تعلق ہوتا تھا جس کے جنم دن پر وہ شخص پیدا ہوتا تھا۔‏“‏

10.‏ آج‌کل مسیحیوں کو سالگرہ کیوں نہیں منانی چاہیے؟‏

10 آپ کے خیال میں کیا یہوواہ خدا ایسے تہواروں اور رسم‌ورواج کو پسند کرتا ہے جن کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہے؟‏ (‏یسعیاہ 65:‏11،‏ 12‏)‏ جی نہیں۔‏ اِس لیے ہم سالگرہ یا کوئی بھی ایسا تہوار نہیں مناتے جو جھوٹے مذاہب سے جُڑا ہو۔‏

تہواروں کے بارے میں یہوواہ خدا کا نظریہ

11.‏ (‏الف)‏ کچھ لوگ تہوار کیوں مناتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ آپ کے لیے سب سے اہم بات کیا ہونی چاہیے؟‏

11 کچھ لوگ یہ جانتے ہیں کہ کرسمس اور دوسرے تہواروں کا تعلق بُت‌پرستی سے ہے لیکن پھر بھی وہ اِنہیں مناتے ہیں۔‏ اُن کے لیے تہوار محض خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ہوتے ہیں۔‏ کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں؟‏ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش رکھنا غلط نہیں ہے۔‏ یہوواہ خدا نے خاندان کو بنایا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہمارا بندھن مضبوط ہو۔‏ (‏اِفسیوں 3:‏14،‏ 15‏)‏ لیکن ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہونی چاہیے کہ ہم یہوواہ خدا کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کریں،‏ بجائے اِس کے کہ ہم اپنے رشتےداروں کو خوش کرنے کے لیے ایسے تہوار منائیں جن کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہے۔‏ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏یہ معلوم کرتے رہیں کہ مالک کو کون سے کام پسند ہیں۔‏“‏—‏اِفسیوں 5:‏10‏۔‏

12.‏ یہوواہ خدا کس قسم کے تہواروں کو پسند نہیں کرتا؟‏

12 بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک تہوار کی  شروعات کہاں سے ہوئی۔‏ لیکن اِس سلسلے میں یہوواہ خدا کا نظریہ بالکل فرق ہے۔‏ وہ ایسے تہواروں کو پسند نہیں کرتا جن کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہو یا جن کے ذریعے کسی اِنسان یا ملک کی بڑائی ہو۔‏ مثال کے طور پر ملک مصر کے لوگ اپنے دیوی دیوتاؤں کے لیے بہت سے تہوار مناتے تھے۔‏ جب بنی‌اِسرائیل مصر کی غلامی سے آزاد ہوئے تو اُنہوں نے مصریوں کے ایک تہوار کی نقل کی اور اِسے ”‏[‏یہوواہ]‏ کے لئے عید“‏ کا نام دیا۔‏ لیکن یہوواہ خدا نے اُنہیں اِس کی سزا دی۔‏ (‏خروج 32:‏2-‏10‏)‏ لہٰذا ہمیں یسعیاہ نبی کی اِس نصیحت پر عمل کرنا چاہیے کہ ”‏ناپاک چیزوں کو ہاتھ نہ لگاؤ۔‏“‏‏—‏یسعیاہ 52:‏11 کو پڑھیں۔‏

دوسروں کے ساتھ نرمی سے بات کریں

13.‏ جب آپ تہوار نہ منانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کون سے سوال آ سکتے ہیں؟‏

13 جب آپ تہوار نہ منانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو شاید آپ کے ذہن میں بہت سے سوال آئیں۔‏ مثال کے طور پر ”‏اگر میرے ساتھ کام کرنے والے لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ مَیں اُن کے ساتھ کرسمس کیوں نہیں مناتا تو مَیں اُن سے کیا کہوں گا؟‏ اگر کوئی مجھے کرسمس پر تحفہ دے گا تو مَیں کیا کروں گا؟‏ اگر میرا جیون ساتھی مجھے کوئی تہوار منانے کے لیے کہے گا تو مَیں کیا کروں گا؟‏ مَیں کیا کر سکتا ہوں تاکہ میرے بچے اِس بات پر دُکھی نہ ہوں کہ ہم اُن کی سالگرہ یا تہوار نہیں مناتے؟‏“‏

14،‏ 15.‏ اگر کوئی شخص آپ کو کسی تہوار پر مبارک‌باد دے یا کوئی تحفہ دے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

14 یہ بہت اہم ہے کہ آپ کسی بھی صورتحال کے بارے میں سمجھ‌داری سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کیا کہیں گے اور کیا کریں گے۔‏ مثال کے طور پر اگر لوگ آپ کو کسی تہوار پر مبارک‌باد دیں تو اُنہیں نظرانداز نہ کریں۔‏ ایسی صورت میں آپ اُنہیں شکریہ کہہ سکتے ہیں۔‏ لیکن اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ آپ فلاں تہوار کیوں نہیں مناتے تو آپ اُسے تفصیل سے بتا سکتے ہیں۔‏ مگر ایسا کرتے وقت ہمیشہ نرمی،‏ احترام اور سمجھ‌داری سے بات کریں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏آپ کی باتیں ہمیشہ دلکش  اور نمک کی طرح ذائقےدار ہوں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ لوگوں کو کس طرح جواب دینا ہے۔‏“‏ (‏کُلسّیوں 4:‏6‏)‏ شاید آپ اُسے بتا سکتے ہیں کہ آپ کو دوسروں کے ساتھ وقت گزارنا اور اُنہیں تحفے دینا اچھا لگتا ہے مگر آپ تہواروں پر ایسا نہیں کرتے۔‏

15 اگر کوئی شخص آپ کو کسی تہوار پر تحفہ دے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏ پاک کلام میں اِس سلسلے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔‏ لیکن اِس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہمیں صاف ضمیر رکھنا چاہیے۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏18،‏ 19‏)‏ ہو سکتا ہے کہ جو شخص آپ کو کسی تہوار پر تحفہ دے رہا ہے،‏ وہ یہ نہیں جانتا کہ آپ وہ تہوار نہیں مناتے۔‏ یا شاید وہ کہے:‏ ”‏مَیں جانتا ہوں کہ آپ یہ تہوار نہیں مناتے لیکن پھر بھی مَیں آپ کو یہ تحفہ دینا چاہتا ہوں۔‏“‏ دونوں صورتوں میں یہ آپ کا فیصلہ ہوگا کہ آپ وہ تحفہ لیں گے یا نہیں۔‏ آپ جو بھی فیصلہ کریں،‏ اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کا ضمیر صاف رہے۔‏ بِلاشُبہ ہم کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیں گے جس کی وجہ سے یہوواہ خدا کے ساتھ ہماری دوستی کمزور پڑ جائے۔‏

اگر آپ کے گھر والے تہوار منانا چاہتے ہیں

جو لوگ یہوواہ خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ وہ خوش رہتے ہیں۔‏

16.‏ اگر آپ کے گھر والے کوئی تہوار منانا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏

16 اگر آپ کے گھر والے کوئی تہوار منانا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏ ایسی صورت میں آپ کو اُن سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‏ یاد رکھیں کہ اُنہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ کیا کریں گے۔‏ اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اُن کے فیصلوں کا احترام کریں جیسے آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے فیصلوں کا احترام کریں۔‏ ‏(‏متی 7:‏12 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن اگر آپ کے گھر والے یہ چاہتے ہیں کہ آپ تہوار پر اُن کے ساتھ وقت گزاریں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏ ایسی صورت میں فیصلہ کرنے سے پہلے یہوواہ خدا سے دُعا کریں تاکہ وہ صحیح فیصلہ کرنے میں آپ کی مدد کرے۔‏ اِس معاملے پر سوچ بچار کریں اور اِس کے بارے میں تحقیق کریں۔‏ یاد رکھیں کہ ہم ہمیشہ یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔‏

17.‏ جب آپ کے بچے دوسروں کو تہوار مناتے دیکھتے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ وہ دُکھی نہ ہوں؟‏

 17 جب آپ کے بچے دوسروں کو تہوار مناتے دیکھتے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ وہ دُکھی نہ ہوں؟‏ آپ وقتاًفوقتاً اُن کے لیے کوئی خاص پروگرام بنا سکتے ہیں یا اُنہیں تحفے دے سکتے ہیں۔‏ اور سب سے خاص تحفہ جو آپ اُنہیں دے سکتے ہیں،‏ وہ آپ کا پیار اور وقت ہے۔‏

خدا کی مرضی کے مطابق عبادت کریں

18.‏ ہمیں اِجلاسوں میں کیوں جانا چاہیے؟‏

18 یہوواہ خدا کو خوش کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف جھوٹے مذہب بلکہ اُن تمام رسموں اور تہواروں کو بھی چھوڑ دیں جن کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہے۔‏ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں خدا کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت بھی کرنی چاہیے۔‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏ اِس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم باقاعدگی سے اِجلاسوں میں جائیں۔‏ ‏(‏عبرانیوں 10:‏24،‏ 25 کو پڑھیں۔‏)‏ اِجلاس یہوواہ خدا کی عبادت کا بہت اہم حصہ ہیں۔‏ (‏زبور 22:‏22؛‏ 122:‏1‏)‏ جب ہم اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کر سکتے ہیں۔‏—‏رومیوں 1:‏12‏۔‏

19.‏ یہ کیوں اہم ہے کہ آپ دوسروں کو پاک کلام کی اُن سچائیوں کے بارے میں بتائیں جو آپ نے سیکھی ہیں؟‏

19 یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق عبادت کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ دوسروں کو وہ باتیں بتائیں جو آپ نے پاک کلام سے سیکھی ہیں۔‏ بہت سے لوگ دُنیا میں پھیلی بُرائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔‏ شاید آپ بھی ایسے کچھ لوگوں کو جانتے ہوں۔‏ آپ اُن لوگوں کو اُس شان‌دار مستقبل کے بارے میں بتا سکتے ہیں جس کے متعلق آپ نے پاک کلام سے سیکھا ہے۔‏ لہٰذا اِجلاسوں میں جائیں اور دوسروں کو بائبل کی سچائیوں کے بارے میں بتائیں۔‏ یوں آپ کے دل میں جھوٹے مذاہب کا حصہ رہنے اور اُن کے رسم‌ورواج منانے کی خواہش ختم ہو جائے گی۔‏ یقین مانیں کہ جب آپ صحیح طریقے سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں گے تو وہ آپ کی کوششوں کو کامیاب کرے گا اور آپ خوش رہیں گے۔‏—‏ملاکی 3:‏10‏۔‏