مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 13

زندگی کی نعمت کی قدر کریں

زندگی کی نعمت کی قدر کریں

1.‏ ہمیں زندگی کس نے دی ہے؟‏

یہوواہ ‏”‏زندہ خدا“‏ ہے۔‏ (‏یرمیاہ 10:‏10‏)‏ وہ ہمارا خالق ہے اور اُس نے ہمیں زندگی دی ہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو نے سب چیزیں بنائی ہیں اور ساری چیزیں تیری مرضی سے وجود میں آئیں اور بنائی گئیں۔‏“‏ (‏مکاشفہ 4:‏11‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خدا کی مرضی تھی کہ اِنسانوں کو زندگی ملے۔‏ بےشک زندگی خدا کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ ہے۔‏‏—‏زبور 36:‏9 کو پڑھیں۔‏

2.‏ ہم زندگی کا بھرپور لطف کیسے اُٹھا سکتے ہیں؟‏

2 یہوواہ خدا ہمیں وہ چیزیں دیتا ہے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں،‏ مثلاً خوراک اور پانی وغیرہ۔‏ (‏اعمال 17:‏28‏)‏ لیکن وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہم زندگی کا لطف اُٹھائیں۔‏ (‏اعمال 14:‏15-‏17‏)‏ لہٰذا زندگی کا بھرپور لطف اُٹھانے کے لیے ہمیں اُس کے حکموں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔‏—‏یسعیاہ 48:‏17،‏ 18‏۔‏

زندگی کے بارے میں خدا کا نظریہ

3.‏ جب قائن نے ہابل کو قتل کِیا تو یہوواہ خدا نے کیا کِیا؟‏

3 پاک کلام کے مطابق یہوواہ خدا کی نظر میں سب اِنسانوں کی زندگی بیش‌قیمت ہے۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ ایک دن آدم اور حوا کے بیٹے قائن کو اپنے چھوٹے بھائی ہابل پر بہت غصہ آیا۔‏ یہوواہ خدا نے قائن سے کہا کہ وہ اپنے غصے کو قابو میں رکھے۔‏ لیکن اُس نے خدا کی بات نہیں مانی۔‏ اُس کا غصہ اِتنا بڑھ گیا کہ اُس نے ”‏اپنے بھائی ہابلؔ پر حملہ کِیا اور اُسے قتل کر ڈالا۔‏“‏ (‏پیدایش 4:‏3-‏8‏)‏ اِس پر یہوواہ خدا نے قائن کو سزا دی۔‏ (‏پیدایش 4:‏9-‏11‏)‏ اِس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ غصہ اور نفرت بہت خطرناک ہیں۔‏ اِن کی وجہ سے ایک شخص ظلم اور تشدد کرنے والا بن سکتا ہے  اور ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع کھو سکتا ہے۔‏ ‏(‏1-‏یوحنا 3:‏15 کو پڑھیں۔‏)‏ لہٰذا اگر ہم یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ہم سب اِنسانوں سے پیار کرنا سیکھیں۔‏—‏1-‏یوحنا 3:‏11،‏ 12‏۔‏

4.‏ خدا کے اِس حکم سے کیا ظاہر ہوتا ہے کہ ”‏تُو خون نہ کرنا“‏؟‏

4 اِس واقعے کے ہزاروں سال بعد یہوواہ خدا نے ایک بار پھر یہ ظاہر کِیا کہ اُس کی نظر میں زندگی بیش‌قیمت ہے۔‏ اُس نے موسیٰ نبی کو دس حکم دیے جن میں سے ایک حکم یہ تھا:‏ ”‏تُو خون نہ کرنا۔‏“‏ (‏اِستثنا 5:‏17‏)‏ اگر کوئی شخص جان بُوجھ کر کسی کو قتل کرتا تو سزا یہ تھی کہ اُسے بھی قتل کر دیا جائے۔‏

5.‏ خدا بچہ ضائع کرانے کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏

5 خدا بچہ ضائع کرانے کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏ یہوواہ خدا کی نظر میں اُس بچے کی زندگی بھی بیش‌قیمت ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے۔‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو جو شریعت دی،‏ اُس میں اُس نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی حاملہ عورت کو نقصان پہنچائے اور اُس کا بچہ مر جائے تو اُس شخص کو قتل کر دیا جائے۔‏ (‏خروج 21:‏22،‏ 23 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں؛‏ * زبور 127:‏3‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ گِرانا غلط ہے۔‏—‏کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 28 کو دیکھیں۔‏

6،‏ 7.‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم زندگی کو بیش‌قیمت سمجھتے ہیں؟‏

6 ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بیش‌قیمت سمجھتے ہیں؟‏ ہم کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ہماری یا دوسروں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے۔‏ اِس لیے ہم نہ سگریٹ پئیں گے،‏ نہ شیشہ پئیں گے،‏ نہ پان چھالیا اور گٹکا وغیرہ کھائیں گے اور نہ ہی منشیات لیں گے۔‏ یہ چیزیں ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں،‏ یہاں تک کہ ہماری جان بھی لے سکتی ہیں۔‏

 7 خدا نے ہمیں زندگی اور جسم دیا ہے اور ہمیں اِن کو اُس کی مرضی کے مطابق اِستعمال کرنا چاہیے۔‏ اِس لیے ہمیں اپنے جسم کا خیال رکھنا چاہیے۔‏ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم خدا کی نظر میں ناپاک ہو جائیں گے۔‏ (‏رومیوں 6:‏19؛‏ 12:‏1؛‏ 2-‏کُرنتھیوں 7:‏1‏)‏ اگر ہم زندگی کو قیمتی خیال نہیں کرتے تو ہم یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کر سکتے جس نے ہمیں زندگی دی ہے۔‏ یہ سچ ہے کہ بُری عادتوں کو چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔‏ لیکن اگر ہم زندگی کو بیش‌قیمت خیال کرتے ہیں اور بُری عادتوں کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہوواہ خدا ہماری مدد کرتا ہے۔‏

8.‏ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنی یا دوسروں کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں؟‏

8 ہم نے سیکھ لیا ہے کہ زندگی ایک بیش‌قیمت تحفہ ہے۔‏ یہوواہ خدا کو پورا بھروسا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنی یا دوسروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔‏ لہٰذا ہم موٹرسائیکل یا گاڑی بہت احتیاط سے چلاتے ہیں۔‏ ہم خطرناک اور پُرتشدد کھیلوں سے دُور رہتے ہیں۔‏ (‏زبور 11:‏5‏)‏ ہم اپنے گھروں کو بھی اچھی حالت میں رکھتے ہیں تاکہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو حکم دیا کہ ”‏جب تُو کوئی نیا گھر بنائے تو اپنی چھت پر منڈیر ضرور لگانا تا نہ ہو کہ کوئی آدمی وہاں سے گِرے اور تیرے سبب سے وہ خون تیرے ہی گھر والوں پر ہو۔‏“‏—‏اِستثنا 22:‏8‏۔‏

9.‏ ہمیں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟‏

9 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم جانوروں سے بھی اچھا سلوک کریں۔‏ پاک کلام کے مطابق ہم صرف اُس صورت میں جانوروں کو مار سکتے ہیں جب ہمیں اُن سے خوراک یا لباس حاصل کرنا ہو یا جب ہمیں اُن سے جان کا خطرہ ہو۔‏ (‏پیدایش 3:‏21؛‏ 9:‏3؛‏ خروج 21:‏28‏)‏ لیکن ہمیں جانوروں پر ظلم نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی محض شوقیہ طور پر اُن کا شکار کرنا چاہیے۔‏—‏امثال 12:‏10‏۔‏

زندگی کو پاک خیال کریں

10.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ خون زندگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟‏

10 یہوواہ خدا کی نظر میں خون پاک ہے کیونکہ خون زندگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏ جب قائن نے ہابل کو قتل کِیا تو یہوواہ خدا نے اُس سے کہا:‏ ”‏تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے۔‏“‏  ‏(‏پیدایش 4:‏10‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہابل کا خون اُن کی زندگی کی علامت تھا۔‏ یہوواہ خدا نے قائن کو ہابل کو قتل کرنے کی سزا دی۔‏ طوفانِ‌نوح کے بعد یہوواہ خدا نے پھر سے یہ ظاہر کِیا کہ خون زندگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏ اُس نے نوح اور اُن کے گھر والوں کو جانوروں کا گوشت کھانے کی اِجازت دی۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏ہر چلتا پھرتا جان‌دار تمہارے کھانے کو ہوگا۔‏ ہری سبزی کی طرح مَیں نے سب کا سب تُم کو دے دیا۔‏“‏ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے اُنہیں یہ حکم بھی دیا کہ ”‏تُم گوشت کے ساتھ خون کو جو اُس کی جان ہے نہ کھانا۔‏“‏—‏پیدایش 1:‏29؛‏ 9:‏3،‏ 4‏۔‏

11.‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو خون کے حوالے سے کون سا حکم دیا؟‏

11 جب یہوواہ خدا نے نوح کو خون کھانے سے منع کِیا تو اِس کے تقریباً 800 سال بعد اُس نے بنی‌اِسرائیل کو حکم دیا:‏ ”‏بنی‌اِؔسرائیل میں سے یا اُن پردیسیوں میں سے جو اُن میں بودوباش کرتے ہیں جو کوئی شکار میں ایسے جانور یا پرندہ کو پکڑے جس کو کھانا ٹھیک ہے تو وہ اُس کے خون کو نکال کر اُسے مٹی سے ڈھانک دے۔‏“‏ اِس کے بعد یہوواہ خدا نے حکم دیا:‏ ”‏تُم .‏ .‏ .‏ خون نہ کھانا۔‏“‏ (‏احبار 17:‏13،‏ 14‏)‏ یہوواہ خدا اب بھی یہ چاہتا تھا کہ اُس کے بندے خون کو پاک خیال کریں۔‏ وہ گوشت تو کھا سکتے تھے لیکن خون نہیں۔‏ جب وہ خوراک کے لیے کسی جانور کا شکار کرتے تو اُنہیں اُس کا خون زمین پر بہانا تھا۔‏

12.‏ سچے مسیحی خون کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

12 یسوع مسیح کی موت کے کچھ سال بعد رسول اور یروشلیم کی کلیسیا کے بزرگ اِس بات پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے کہ موسیٰ کی شریعت کے کون سے حصے مسیحیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔‏ (‏اعمال 15:‏28،‏ 29 کو پڑھیں؛‏ اعمال 21:‏25‏)‏ یہوواہ خدا کی مدد سے وہ اِس بات کو سمجھ گئے کہ خون اب بھی اُس کی نظر میں بیش‌قیمت ہے اِس لیے اُنہیں بھی اِسے پاک خیال کرنا چاہیے۔‏ لہٰذا وہ خون کو کھا یا پی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی وہ کسی ایسے جانور کا گوشت کھا سکتے تھے جس کا خون صحیح طرح سے بہایا نہ گیا ہو۔‏ اگر وہ ایسا کرتے تو یہ بُت‌پرستی یا حرام‌کاری کے برابر ہوتا۔‏ اُس وقت سے سچے مسیحی نہ تو خون کھاتے ہیں اور نہ ہی اِسے پیتے ہیں۔‏ یہوواہ خدا آج بھی یہ چاہتا ہے کہ ہم خون کو پاک خیال کریں۔‏

13.‏ ایک مسیحی کو خون کیوں نہیں لگوانا چاہیے؟‏

 13 کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ مسیحیوں کو خون لگوانے سے بھی اِنکار کرنا چاہیے؟‏ جی ہاں۔‏ یہوواہ خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم نہ تو خون کھائیں اور نہ ہی اِسے پئیں۔‏ ذرا سوچیں کہ اگر ایک ڈاکٹر آپ کو شراب پینے سے منع کرے تو کیا آپ ڈرِپ کے ذریعے اِسے اپنے جسم میں داخل کروائیں گے؟‏ یقیناً آپ ایسا نہیں کریں گے۔‏ اِسی طرح خون سے گریز کرنے کا مطلب ہے کہ ہم خون نہ لگوائیں۔‏—‏کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 29 کو دیکھیں۔‏

14،‏ 15.‏ یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم زندگی کی قدر کریں اور یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کریں؟‏

14 لیکن اگر ڈاکٹر آپ سے کہے کہ ”‏اگر آپ خون نہیں لگوائیں گے تو آپ مر جائیں گے“‏ تو پھر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟‏ ایسی صورت میں ہر شخص کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ خون کے سلسلے میں خدا کے حکم پر عمل کرے گا یا نہیں۔‏ زندگی خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے اور ہم اِس کی بڑی قدر کرتے ہیں۔‏ اِس لیے ہم اپنی جان بچانے کے لیے ایسے علاج کرواتے ہیں جن میں خون اِستعمال نہیں ہوتا۔‏ لیکن ہم کسی بھی صورت میں خون نہیں لگواتے۔‏

15 ہم اپنی صحت کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔‏ لیکن چونکہ زندگی خدا کی نظر میں قیمتی ہے اِس لیے ہم خون نہیں لیتے‏۔‏ ہم اپنی جان بچانے کے لیے خدا کی نافرمانی نہیں کرتے کیونکہ ہمارے نزدیک اُس کی فرمانبرداری کرنا زیادہ اہم ہے۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏جو کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے،‏ وہ اِسے کھو دے گا لیکن جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے،‏ وہ اِسے بچا لے گا۔‏“‏ (‏متی 16:‏25‏)‏ ہم یہوواہ خدا کی فرمانبرداری اِس لیے کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں۔‏ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا اچھا ہے۔‏ اِس لیے ہم زندگی کو اُتنا ہی بیش‌قیمت اور پاک خیال کرتے ہیں جتنا یہوواہ خدا کرتا ہے۔‏—‏عبرانیوں 11:‏6‏۔‏

16.‏ خدا کے بندے اُس کی فرمانبرداری کیوں کرتے ہیں؟‏

16 خدا کے وفادار بندوں نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ خون کے سلسلے میں اُس کے حکم پر عمل  کریں گے۔‏ وہ نہ تو خون کھاتے ہیں،‏ نہ پیتے ہیں اور نہ ہی لگواتے ہیں۔‏ * لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لیے ایسے علاج ضرور کرواتے ہیں جن میں خون اِستعمال نہیں ہوتا۔‏ اُنہیں پکا یقین ہے کہ خدا نے زندگی اور خون کو بنایا ہے اِس لیے وہی جانتا ہے کہ اُس کے بندوں کے لیے کیا اچھا ہے۔‏ کیا آپ بھی یہ مانتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا نے کس مقصد کے لیے خون اِستعمال کرنے کی اِجازت دی؟‏

17.‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو کس مقصد کے لیے خون اِستعمال کرنے کی اِجازت دی تھی؟‏

17 موسیٰ کی شریعت میں یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل سے کہا:‏ ”‏جسم کی جان خون میں ہے اور مَیں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ [‏یا تمہارے گُناہوں کی معافی]‏ کے لئے اُسے تُم کو دیا ہے کہ اُس سے تمہاری جانوں کے لئے کفارہ ہو کیونکہ جان رکھنے ہی کے سبب سے خون کفارہ دیتا ہے۔‏“‏ (‏احبار 17:‏11‏)‏ جب بنی‌اِسرائیل گُناہ کرتے تھے تو وہ کاہن کو قربانی کے لیے ایک جانور دیتے تھے اور اُس سے کہتے تھے کہ وہ اِس جانور کا کچھ خون ہیکل میں قربان‌گاہ پر اُنڈیل دے۔‏ اِس طرح بنی‌اِسرائیل یہوواہ خدا سے اپنے گُناہ کی معافی مانگ سکتے تھے۔‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو صرف اِسی مقصد کے لیے خون اِستعمال کرنے کی اِجازت دی تھی۔‏

18.‏ یسوع مسیح کی قربانی کی بِنا پر اِنسان کیا حاصل کر سکتے ہیں؟‏

18 جب یسوع مسیح زمین پر آئے تو جانوروں کی قربانی کی ضرورت نہیں رہی۔‏ اِس کی وجہ یہ تھی کہ یسوع مسیح نے اپنی جان قربان کر دی یعنی اپنا خون بہایا تاکہ ہم گُناہوں کی معافی حاصل کر سکیں۔‏ (‏متی 20:‏28؛‏ عبرانیوں 10:‏1‏)‏ یسوع مسیح کی زندگی اِتنی بیش‌قیمت تھی کہ اُن کی قربانی کی بِنا پر یہوواہ خدا تمام اِنسانوں کو ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا موقع دے سکتا تھا۔‏—‏یوحنا 3:‏16؛‏ عبرانیوں 9:‏11،‏ 12؛‏ 1-‏پطرس 1:‏18،‏ 19‏۔‏

ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم زندگی اور خون کی قدر کرتے ہیں؟‏

19.‏ ہمیں ”‏اِنسانوں کے خون سے بَری“‏ ہونے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟‏

 19 ہم زندگی کی نعمت کے لیے یہوواہ خدا کے بہت شکرگزار ہیں۔‏ اِس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یسوع مسیح پر ایمان لانے سے وہ ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔‏ ہمیں لوگوں سے محبت ہے اِس لیے ہم اُنہیں یہ بتانے کی پوری کوشش کریں گے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔‏ (‏حِزقی‌ایل 3:‏17-‏21‏)‏ پھر ہم بھی پولُس رسول کی طرح یہ کہہ سکیں گے:‏ ”‏مَیں تمام اِنسانوں کے خون سے بَری ہوں کیونکہ مَیں آپ کو خدا کی مرضی بتانے سے نہیں ہچکچایا۔‏“‏ (‏اعمال 20:‏26،‏ 27‏)‏ واقعی جب ہم لوگوں کو یہوواہ خدا کے بارے میں بتاتے ہیں اور یہ سکھاتے ہیں کہ اُس کی نظر میں زندگی کتنی بیش‌قیمت ہے تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم زندگی اور خون کی دل سے قدر کرتے ہیں۔‏

^ پیراگراف 5 خروج 21:‏22،‏ 23 ‏(‏ترجمہ نئی دُنیا)‏:‏ ‏”‏اگر آدمی آپس میں مارپیٹ کریں اور کسی حاملہ عورت کو چوٹ پہنچائیں اور اُس کا بچہ نکل آئے لیکن کوئی جانی نقصان نہ ہو تو چوٹ پہنچانے والا شخص وہ جُرمانہ ادا کرے جو عورت کا شوہر عائد کرے اور وہ یہ جُرمانہ قاضیوں کے ذریعے ادا کرے۔‏ لیکن اگر جانی نقصان ہو جائے تو تُم جان کے بدلے جان لو۔‏“‏

^ پیراگراف 16 اِس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے کتاب ‏”‏خدا کی محبت میں قائم رہیں“‏ کے صفحہ 77 سے 79 کو دیکھیں۔‏ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کِیا ہے۔‏