مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 15

خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ

خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ

1.‏ کون ہمیں بتا سکتا ہے کہ خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟‏

بہت سے مذاہب کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا کے بارے میں سچی تعلیم دیتے ہیں۔‏ لیکن یہ سچ نہیں ہو سکتا کیونکہ مختلف مذاہب میں خدا اور اُس کی عبادت کے بارے میں مختلف باتیں سکھائی جاتی ہیں‏۔‏ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟‏ صرف یہوواہ خدا ہی ہمیں بتا سکتا ہے کہ ہمیں اُس کی عبادت کس طرح کرنی چاہیے۔‏

2.‏ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟‏

2 یہوواہ خدا نے ہمیں بائبل دی ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ ہمیں اُس کی عبادت کس طرح کرنی چاہیے۔‏ لہٰذا پاک کلام کا مطالعہ کریں۔‏ پھر یہوواہ خدا اِس کی تعلیمات سے فائدہ حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرے گا کیونکہ وہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے۔‏—‏یسعیاہ 48:‏17‏۔‏

3.‏ خدا ہم سے کیا توقع کرتا ہے؟‏

3 کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خدا کے نزدیک سب مذہب قابلِ‌قبول ہیں۔‏ لیکن یسوع مسیح نے یہ تعلیم نہیں دی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو لوگ مجھے ”‏مالک!‏ مالک!‏“‏ کہتے ہیں،‏ اُن میں سے ہر کوئی آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ صرف وہ لوگ اُس میں داخل ہوں گے جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتے ہیں۔‏“‏ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم خدا کی مرضی کے بارے میں جانیں اور اِس پر چلیں۔‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یسوع مسیح نے اُن لوگوں کو ’‏بُرے کام کرنے والے‘‏ کہا جو خدا کے حکموں پر عمل نہیں کرتے۔‏—‏متی 7:‏21-‏23‏۔‏

4.‏ یسوع مسیح نے خدا کی مرضی پر چلنے کے سلسلے میں کیا کہا؟‏

4 یسوع مسیح نے کہا کہ جو لوگ خدا کی مرضی پر چلنے کی کوشش کریں گے،‏ اُنہیں مشکلات کا سامنا ہوگا۔‏ اُنہوں نے ہدایت دی:‏ ”‏چھوٹے دروازے سے داخل ہوں کیونکہ وہ دروازہ بڑا ہے اور  وہ راستہ کُھلا ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور اِس پر بہت لوگ چلتے ہیں جبکہ وہ دروازہ چھوٹا ہے اور وہ راستہ تنگ ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اِس پر کم لوگ چلتے ہیں۔‏“‏ (‏متی 7:‏13،‏ 14‏)‏ اگر ہم تنگ راستے پر چلیں گے یعنی صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کریں گے تو ہمیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏ لیکن اگر ہم کُھلے راستے پر چلیں گے یعنی صحیح طریقے سے خدا کی عبادت نہیں کریں گے تو اِس کا انجام موت ہوگا۔‏ مگر یہوواہ خدا نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص مرے۔‏ وہ ہر شخص کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اُس کے بارے میں سیکھے۔‏—‏2-‏پطرس 3:‏9‏۔‏

خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ

5.‏ آپ اُن لوگوں کی پہچان کیسے کر سکتے ہیں جو صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں؟‏

5 یسوع مسیح نے بتایا کہ ہم اُن لوگوں کی پہچان کیسے کر سکتے ہیں جو صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ اُن کے پھلوں سے اُن کو پہچان لیں گے۔‏“‏ لہٰذا ہم اُن لوگوں کے عقیدوں اور کاموں کا جائزہ لینے سے اُنہیں پہچان سکتے ہیں جو صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے یہ بھی کہا:‏ ”‏ہر اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے۔‏“‏ (‏متی 7:‏16،‏ 17‏،‏ فٹ‌نوٹ)‏ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ وہ بےعیب ہیں۔‏ البتہ خدا کے بندے ہمیشہ صحیح کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرنے میں کیا کچھ شامل ہے۔‏

6،‏ 7.‏ (‏الف)‏ سچے مذہب کے پیروکاروں کے عقیدوں کی بنیاد بائبل کیوں ہے؟‏ (‏ب)‏ ہم یسوع مسیح سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

6 ہمارے عقیدے بائبل پر مبنی ہونے چاہئیں۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏پاک صحیفوں میں جو کچھ بھی لکھا ہے،‏ وہ خدا کے اِلہام سے ہے اور تعلیم دینے،‏ اِصلاح کرنے،‏ معاملوں کو سدھارنے اور خدا کے معیاروں کے مطابق تربیت کرنے کے لیے فائدہ‌مند ہے تاکہ خدا کے بندے ہر لحاظ سے قابل ہوں اور ہر اچھے کام کے لیے تیار ہوں۔‏“‏ (‏2-‏تیمُتھیُس 3:‏16،‏ 17‏)‏ پولُس رسول نے مسیحیوں  کو لکھا:‏ ”‏جب ہم نے آپ کو خدا کا کلام سنایا تو آپ نے اِسے اِنسانوں کا کلام سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کا کلام سمجھ کر قبول کِیا۔‏ اور یہ واقعی خدا کا کلام ہے۔‏“‏ (‏1-‏تھسلُنیکیوں 2:‏13‏)‏ سچے مذہب کے پیروکاروں کے عقیدے اِنسانی نظریات،‏ روایات یا کسی اَور چیز پر نہیں بلکہ خدا کے کلام بائبل پر مبنی ہوتے ہیں۔‏

7 یسوع مسیح کی ساری تعلیمات خدا کے کلام پر مبنی تھیں۔‏ ‏(‏یوحنا 17:‏17 کو پڑھیں۔‏)‏ اُنہوں نے اکثر پاک صحیفوں کا حوالہ دیا۔‏ (‏متی 4:‏4،‏ 7،‏ 10‏)‏ خدا کے بندے،‏ یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہیں اور اِس لیے اُن کی تعلیمات کی بنیاد بائبل ہوتی ہے۔‏

8.‏ یسوع مسیح نے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کے سلسلے میں کیا کہا؟‏

8 ہمیں صرف یہوواہ خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔‏ زبور 83:‏18 میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو ہی جس کا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔‏“‏ یسوع مسیح چاہتے تھے کہ لوگ یہ جانیں کہ سچا خدا کون ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے لوگوں کو اُس کا نام بتایا۔‏ ‏(‏یوحنا 17:‏6 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏صرف یہوواہ اپنے خدا کی پرستش کرو اور صرف اُسی کی عبادت کرو۔‏“‏ (‏متی 4:‏10‏)‏ لہٰذا خدا کے بندوں کے طور پر ہم یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہیں۔‏ ہم صرف یہوواہ خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ اُس کا نام اِستعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ بتاتے ہیں کہ خدا کا نام کیا ہے اور وہ ہمارے لیے کیا کرے گا۔‏

9،‏ 10.‏ ہم ایک دوسرے کے لیے محبت کیسے ظاہر کرتے ہیں؟‏

9 ہمیں ایک دوسرے سے سچی محبت کرنی چاہیے۔‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے محبت کرنا سکھایا۔‏ ‏(‏یوحنا 13:‏35 کو پڑھیں۔‏)‏ چاہے ہمارا تعلق کسی بھی ملک یا ثقافت سے ہو یا چاہے ہم امیر ہوں یا غریب،‏ ہمیں ایک دوسرے سے ایسی محبت کرنی چاہیے جو ہمیں بہن بھائیوں کی طرح متحد رکھے۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏14‏)‏ لہٰذا ہم جنگوں میں حصہ نہیں لیتے اور لوگوں کو قتل نہیں کرتے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا کے بچوں اور اِبلیس کے بچوں میں فرق اِس سے ظاہر  ہوتا ہے:‏ جو شخص عادتاً نیکی نہیں کرتا اور جو شخص اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتا،‏ وہ خدا سے نہیں ہے۔‏“‏ اِس میں یہ بھی لکھا ہے:‏ ”‏ہمیں قائن کی طرح نہیں ہونا چاہیے جو شیطان سے تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔‏“‏—‏1-‏یوحنا 3:‏10-‏12؛‏ 4:‏20،‏ 21‏۔‏

10 ہم اپنے وقت،‏ توانائی اور پیسوں کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔‏ (‏عبرانیوں 10:‏24،‏ 25‏)‏ ہم ”‏سب کے ساتھ بھلائی“‏ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏—‏گلتیوں 6:‏10‏۔‏

11.‏ ہم کیوں مانتے ہیں کہ ہم یسوع مسیح کے ذریعے خدا کی قربت حاصل کر سکتے ہیں؟‏

11 ہمیں یسوع مسیح کی فرمانبرداری کرنی چاہیے کیونکہ اُن کے ذریعے ہم خدا کی قربت حاصل کر سکتے ہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏کسی اَور کے ذریعے نجات ممکن نہیں کیونکہ خدا نے زمین پر کوئی اَور نام نہیں چُنا جس کے ذریعے ہمیں نجات ملے۔‏“‏ (‏اعمال 4:‏12‏)‏ باب نمبر 5 میں ہم نے سیکھا تھا کہ خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ اُن لوگوں کے لیے اپنی جان قربان کریں جو اُس کے حکموں پر چلتے ہیں۔‏ (‏متی 20:‏28‏)‏ یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔‏ اِس لیے پاک کلام میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یسوع مسیح کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔‏‏—‏یوحنا 3:‏36 کو پڑھیں۔‏

12.‏ ہم سیاسی معاملات میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟‏

12 ہمیں سیاسی معاملات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔‏ یسوع مسیح نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔‏ جب اُن پر مُقدمہ چل رہا تھا تو اُنہوں نے رومی حاکم پیلاطُس سے کہا:‏ ”‏میری بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‏“‏ ‏(‏یوحنا 18:‏36 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع مسیح کی طرح ہم بھی خدا کی آسمانی بادشاہت کے وفادار ہیں۔‏ اِس لیے چاہے ہم کہیں بھی رہتے ہوں،‏ ہم سیاسی معاملات میں حصہ نہیں لیتے‏۔‏ لیکن پاک کلام میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ’‏حاکموں کے تابع‌دار‘‏ رہیں۔‏ (‏رومیوں 13:‏1‏)‏ ہم جس ملک میں رہتے ہیں،‏ اُس کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔‏ لیکن جب کوئی قانون خدا کے قوانین کے خلاف  ہوتا ہے تو ہم یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکاروں کی مثال پر عمل کرتے ہیں جنہوں نے کہا:‏ ”‏خدا کا کہنا ماننا اِنسانوں کا کہنا ماننے سے زیادہ ضروری ہے۔‏“‏—‏اعمال 5:‏29؛‏ مرقس 12:‏17‏۔‏

13.‏ ہم لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟‏

13 ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی دُنیا کے مسئلوں کو حل کرے گی۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ ”‏بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی ساری دُنیا میں کی جائے گی۔‏“‏ ‏(‏متی 24:‏14 کو پڑھیں۔‏)‏ کوئی اِنسانی حکومت وہ کام نہیں کر سکتی جو خدا کی بادشاہت ہمارے لیے کرے گی۔‏ (‏زبور 146:‏3‏)‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو خدا کی بادشاہت کے لیے دُعا کرنے کی ہدایت کی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تیری بادشاہت آئے۔‏ تیری مرضی جیسے آسمان پر ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی ہو۔‏“‏ (‏متی 6:‏10‏)‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی بادشاہت تمام اِنسانی حکومتوں کو ختم کر دے گی اور ”‏ابد تک قائم رہے گی۔‏“‏—‏دانی‌ایل 2:‏44‏۔‏

14.‏ آپ کے خیال میں کون لوگ صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں؟‏

14 اِن باتوں پر غور کرنے کے بعد خود سے پوچھیں:‏ ”‏کن لوگوں کے عقیدے بائبل پر مبنی ہیں؟‏ کون لوگ دوسروں کو خدا کے نام کے بارے میں بتاتے ہیں؟‏ کون لوگ ایک دوسرے کے لیے سچی محبت ظاہر کرتے ہیں؟‏ کون لوگ یہ مانتے ہیں کہ خدا نے یسوع مسیح کو ہمیں نجات دِلانے کے لیے بھیجا؟‏ کون لوگ سیاست میں حصہ نہیں لیتے؟‏ کون لوگ یہ مُنادی کرتے ہیں کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی اِنسانوں کے مسئلوں کو حل کر سکتی ہے؟‏“‏ یہ لوگ یہوواہ کے گواہ ہیں۔‏—‏یسعیاہ 43:‏10-‏12‏۔‏

آپ کیا کریں گے؟‏

15.‏ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری عبادت کو قبول کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

15 صرف یہ ماننا کافی نہیں ہے کہ خدا وجود رکھتا ہے۔‏ بُرے فرشتے بھی خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ اُس کی فرمانبرداری نہیں کرتے۔‏ (‏یعقوب 2:‏19‏)‏ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری  عبادت کو قبول کرے تو ہمیں نہ صرف اُس کے وجود پر ایمان رکھنا چاہیے بلکہ اُس کے حکموں پر عمل بھی کرنا چاہیے۔‏

16.‏ ہمیں جھوٹے مذاہب سے الگ کیوں رہنا چاہیے؟‏

16 خدا اُسی صورت میں ہماری عبادت کو قبول کرے گا اگر ہم جھوٹے مذاہب سے الگ رہیں گے۔‏ یسعیاہ نبی نے لکھا:‏ ”‏اُس کے درمیان سے نکل جاؤ اور پاک ہو۔‏“‏ (‏یسعیاہ 52:‏11؛‏ 2-‏کُرنتھیوں 6:‏17‏)‏ لہٰذا ہمیں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کا تعلق جھوٹے مذاہب سے ہو۔‏

17،‏ 18.‏ (‏الف)‏ ”‏بابلِ‌عظیم“‏ کس کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ ”‏بابلِ‌عظیم“‏ سے فوراً الگ ہونا کیوں ضروری ہے؟‏

17 جھوٹے مذاہب سے مُراد وہ تمام مذاہب ہیں جو ایسے طریقے سے خدا کی عبادت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں جو پاک کلام کے مطابق نہیں ہے۔‏ بائبل میں تمام جھوٹے مذاہب کو ”‏بابلِ‌عظیم‏“‏ کہا گیا ہے۔‏ (‏مکاشفہ 17:‏5‏)‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ دراصل طوفانِ‌نوح کے بعد بہت سی جھوٹی تعلیمات کا آغاز شہر بابل میں ہوا۔‏ پھر یہ جھوٹی تعلیمات پوری زمین پر پھیل گئیں۔‏ مثال کے طور پر بابل کے لوگ دیوی دیوتاؤں کے گروپوں کو پوجتے تھے اور ہر گروپ میں تین دیوی دیوتا ہوتے تھے۔‏ آج بھی بہت سے مذاہب میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ خدا تثلیث ہے۔‏ لیکن پاک کلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ صرف ایک ہی سچا خدا ہے جس کا نام یہوواہ ہے اور یسوع مسیح اُس کے بیٹے ہیں۔‏ (‏یوحنا 17:‏3‏)‏ بابل کے لوگ یہ بھی مانتے تھے کہ اِنسان کے اندر کوئی شے ہوتی ہے جو اُس کے مرنے کے بعد زندہ رہتی ہے اور جسے دوزخ کی آگ میں تڑپایا جا سکتا ہے۔‏ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‏—‏کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 14،‏ 17 اور 18 کو دیکھیں۔‏

18 خدا نے اپنے کلام میں پیش‌گوئی کی ہے کہ بہت جلد تمام جھوٹے مذاہب کو ختم کر دیا جائے گا۔‏ (‏مکاشفہ 18:‏8‏)‏ کیا آپ سمجھ گئے ہیں کہ جھوٹے مذاہب سے الگ ہونا اِتنا ضروری کیوں ہے؟‏ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ اِس سے پہلے کہ جھوٹے مذاہب کو ختم کِیا جائے،‏ آپ اِن سے الگ ہو جائیں۔‏—‏مکاشفہ 18:‏4‏۔‏

یہوواہ خدا کے بندوں کے ساتھ مل کر اُس کی عبادت کرنے سے آپ ایک ایسے خاندان کا حصہ بن جائیں گے جو پوری دُنیا میں پھیلا ہوا ہے۔‏

19.‏ یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کرنے سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟‏

 19 جب آپ جھوٹے مذہب کو چھوڑنے اور یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں گے تو شاید آپ کے دوست اور رشتےدار آپ کے فیصلے کی مخالفت کریں اور آپ سے میل جول رکھنا چھوڑ دیں۔‏ لیکن یہوواہ خدا آپ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔‏ آپ ایک ایسے خاندان کا حصہ بن جائیں گے جو پوری دُنیا میں پھیلا ہوا ہے اور جس میں لاکھوں لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ آپ کو نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی اُمید بھی ملے گی۔‏ (‏مرقس 10:‏28-‏30‏)‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کے کچھ گھر والے اور دوست جنہوں نے شروع میں آپ کی مخالفت کی تھی،‏ بعد میں پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کریں۔‏

20.‏ صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرنا کیوں اہم ہے؟‏

20 بہت جلد خدا بُرائی کا نام‌ونشان مٹا دے گا اور اُس کی بادشاہت زمین پر حکمرانی کرے گی۔‏ (‏2-‏پطرس 3:‏9،‏ 13‏)‏ بِلاشُبہ وہ بڑا شان‌دار وقت ہوگا!‏ ہر شخص یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کرے گا‏۔‏ لہٰذا یہ بہت اہم ہے کہ آپ صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کرنے کے لیے فوری قدم اُٹھائیں۔‏