مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 11

دُنیا میں اِتنی مصیبتیں کیوں ہیں؟‏

دُنیا میں اِتنی مصیبتیں کیوں ہیں؟‏

1،‏ 2.‏ بہت سے لوگوں کے ذہن میں کون سا سوال آتا ہے؟‏

ایک سونامی نے پورے گاؤں کو تباہ کر دیا۔‏ ایک شخص نے ہوٹل پر فائرنگ کر کے کئی لوگوں کو زخمی اور کئی کو ہلاک کر دیا۔‏ پانچ بچوں کی ماں کینسر کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔‏

2 جب اِس طرح کی مصیبتیں آتی ہیں تو بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ”‏یہ سب کیوں ہوا؟‏“‏ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ ”‏دُنیا میں اِتنی زیادہ نفرت اور مصیبتیں کیوں ہیں؟‏“‏ کیا آپ نے بھی کبھی اِس بارے میں سوچا ہے؟‏

3،‏ 4.‏ (‏الف)‏ حبقوق نبی نے یہوواہ خدا سے کیا پوچھا؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے اُنہیں کیا جواب دیا؟‏

3 پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ اُن لوگوں کے ذہن میں بھی اِس طرح کے سوال آئے جو خدا پر مضبوط ایمان رکھتے تھے۔‏ مثال کے طور پر حبقوق نبی نے یہوواہ خدا سے پوچھا:‏ ”‏تُو مجھے کیوں بدکرداری اور مصیبت دِکھاتا ہے کہ مَیں ستم اور ظلم پر نظر کروں۔‏ فتنہ‌وفساد میرے سامنے برپا ہوتا رہتا ہے۔‏“‏—‏حبقوق 1:‏3‏،‏ کیتھولک ترجمہ۔‏

4 حبقوق 2:‏2،‏ 3 میں خدا نے حبقوق نبی کے سوال کا جواب دیا اور وعدہ کِیا کہ وہ حالات کو ٹھیک کر دے گا۔‏ یہوواہ خدا کو اِنسانوں سے بہت محبت ہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏اُس کو آپ کی فکر ہے۔‏“‏ (‏1-‏پطرس 5:‏7‏)‏ اگر دُنیا میں مصیبتیں دیکھ کر ہمیں دُکھ ہوتا ہے تو یہوواہ خدا کو تو اِس سے کہیں زیادہ دُکھ ہوتا ہوگا۔‏ (‏یسعیاہ 55:‏8،‏ 9‏)‏ آئیں،‏ اب اِس سوال پر غور کریں کہ ”‏دُنیا میں اِتنی زیادہ مصیبتیں کیوں ہیں؟‏“‏

 دُنیا میں اِتنی مصیبتیں کیوں ہیں؟‏

5.‏ (‏الف)‏ مذہبی رہنما اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ پاک کلام میں اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏

5 مذہبی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ اِنسانوں پر مصیبتیں خدا کی مرضی سے آتی ہیں۔‏ کچھ مذہبی رہنما کہتے ہیں کہ ایک شخص کی زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اور اُس پر جو بھی مصیبتیں آتی ہیں،‏ وہ خدا نے پہلے سے طے کی ہوتی ہیں اور ہم اِس کی وجہ نہیں سمجھ سکتے۔‏ کچھ مذہبی رہنما تو یہ بھی کہتے ہیں کہ لوگ،‏ یہاں تک کہ چھوٹے بچے اِس لیے مرتے ہیں تاکہ خدا اُنہیں آسمان پر اپنے ساتھ رکھ سکے۔‏ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‏ یہوواہ خدا کبھی کوئی بُرا کام نہیں کرتا۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏یہ ہرگز ہو نہیں سکتا کہ خدا شرارت کا کام کرے اور قادرِمطلق بدی کرے۔‏“‏—‏ایوب 34:‏10‏۔‏

6.‏ بہت سے لوگ اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ذمےدار خدا کو کیوں ٹھہراتے ہیں؟‏

6 بہت سے لوگ اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ذمےدار خدا کو ٹھہراتے ہیں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ خدا اِس دُنیا کا حکمران ہے۔‏ لیکن ہم نے باب نمبر 3 میں سیکھا تھا کہ شیطان اِبلیس اِس دُنیا کا حکمران ہے۔‏

7،‏ 8.‏ دُنیا میں اِتنی زیادہ مصیبتیں کیوں ہیں؟‏

7 پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏پوری دُنیا شیطان کے قبضے میں ہے۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 5:‏19‏)‏ اِس دُنیا کا حکمران یعنی شیطان بہت بُرا اور ظالم ہے۔‏ وہ ”‏ساری دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔‏“‏ (‏مکاشفہ 12:‏9‏)‏ دُنیا میں بہت سے لوگ شیطان کی طرح ہیں۔‏ اِسی لیے دُنیا میں جھوٹ،‏ نفرت اور ظلم اِتنا عام ہے۔‏

8 اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کی کچھ اَور بھی وجوہات ہیں۔‏ ایک وجہ یہ ہے کہ آدم اور حوا نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور اپنی اولاد کو گُناہ ورثے میں دیا۔‏ اِس گُناہ کی وجہ سے اِنسان ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔‏ وہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں دوسروں سے زیادہ اہمیت ملے۔‏ وہ  لڑائی جھگڑا کرتے ہیں،‏ جنگیں کرتے ہیں اور دوسروں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔‏ (‏واعظ 4:‏1؛‏ 8:‏9‏)‏ کبھی کبھار لوگوں کو اِس لیے بھی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ”‏سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔‏“‏ (‏واعظ 9:‏11‏)‏ جب لوگ غلط وقت پر غلط جگہ ہوتے ہیں تو اُن کے ساتھ کوئی بُرا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔‏

9.‏ ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کسی جائز وجہ کی بِنا پر اِنسانوں پر مصیبتیں آنے دیتا ہے؟‏

9 مصیبتیں یہوواہ خدا کی طرف سے نہیں آتیں۔‏ وہ جنگوں،‏ جُرم اور نااِنصافی کا ذمےدار نہیں ہے۔‏ قدرتی آفتوں جیسے کہ زلزلوں،‏ سمندری طوفانوں اور سیلابوں کے پیچھے خدا کا ہاتھ نہیں ہوتا۔‏ لیکن شاید آپ سوچیں:‏ ”‏اگر یہوواہ خدا کائنات کی سب سے طاقت‌ور ہستی ہے تو وہ اِن سب چیزوں کو روکتا کیوں نہیں ہے؟‏“‏ ہم جانتے ہیں کہ خدا کو ہم سے بہت پیار ہے۔‏ (‏1-‏یوحنا 4:‏8‏)‏ اِس لیے ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ کسی جائز وجہ کی بِنا پر ہی اِنسانوں پر مصیبتیں آنے دیتا ہے۔‏

خدا اِنسانوں پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے؟‏

10.‏ شیطان نے یہوواہ خدا پر کیا اِلزام لگایا؟‏

10 باغِ‌عدن میں شیطان نے آدم اور حوا کو بہکایا۔‏ اُس نے خدا پر اِلزام لگایا کہ وہ اچھا حکمران نہیں ہے۔‏ اُس نے دعویٰ کِیا کہ خدا آدم اور حوا کو ایک اچھی چیز سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔‏ شیطان آدم اور حوا کو یہ یقین دِلانا چاہتا تھا کہ وہ یہوواہ خدا سے زیادہ اچھا حکمران ثابت ہوگا اور یہ بھی کہ اُن دونوں کو خدا کی ضرورت نہیں ہے۔‏—‏پیدایش 3:‏2-‏5‏؛‏ کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 27 کو دیکھیں۔‏

11.‏ ہمیں کس سوال کا جواب حاصل کرنے کی ضرورت ہے؟‏

11 آدم اور حوا نے یہوواہ خدا کی نافرمانی کی اور اُس کے خلاف بغاوت کی۔‏ اُنہوں نے سوچا کہ اُنہیں خود یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔‏ یہوواہ خدا یہ کیسے ثابت کر سکتا تھا کہ آدم اور حوا غلط ہیں اور صرف وہی جانتا ہے کہ اُن دونوں کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا؟‏

12،‏ 13.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو فوراً ہلاک کیوں نہیں کِیا؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے شیطان کو اِس دُنیا پر حکمرانی کرنے کی اِجازت کیوں دی ہے؟‏ (‏ج)‏ یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو اپنی حکومتیں قائم کرنے کی اِجازت کیوں دی ہے؟‏

 12 یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو فوراً ہلاک نہیں کِیا۔‏ اِس کی بجائے اُس نے اُنہیں بچے پیدا کرنے کی اِجازت دی۔‏ پھر اُس نے آدم اور حوا کے بچوں کو یہ موقع دیا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ کسے اپنا حکمران چُنیں گے۔‏ یہوواہ خدا کا مقصد تھا کہ پوری زمین پر بےعیب لوگ رہیں اور اُس نے اپنا یہ مقصد ضرور پورا کرنا تھا،‏ چاہے شیطان کچھ بھی کر لیتا۔‏—‏پیدایش 1:‏28؛‏ یسعیاہ 55:‏10،‏ 11‏۔‏

13 شیطان نے لاکھوں فرشتوں کے سامنے یہوواہ خدا پر اِلزام لگایا تھا۔‏ (‏ایوب 38:‏7؛‏ دانی‌ایل 7:‏10‏)‏ اِس لیے یہوواہ خدا نے شیطان کو وقت دیا تاکہ وہ اپنے اِلزام کو ثابت کر سکے۔‏ اُس نے اِنسانوں کو بھی موقع دیا کہ وہ شیطان کی رہنمائی میں اپنی حکومتیں قائم کریں اور یہ ثابت کریں کہ وہ خدا کی مدد کے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں۔‏

14.‏ وقت کے ساتھ ساتھ کیا ثابت ہو گیا ہے؟‏

14 ہزاروں سال کے دوران اِنسانوں نے بہت سی حکومتیں قائم کی ہیں لیکن یہ کامیاب نہیں ہوئیں۔‏ شیطان جھوٹا ثابت ہو چُکا ہے۔‏ اِنسان خدا کی رہنمائی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔‏ یرمیاہ نبی نے کہا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ مَیں جانتا ہوں کہ اِنسان کی راہ اُس کے اِختیار میں نہیں۔‏ اِنسان اپنی روِش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔‏“‏ (‏یرمیاہ 10:‏23‏)‏ یرمیاہ نبی کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی ہے۔‏

یہوواہ خدا نے اب تک مصیبتوں کو ختم کیوں نہیں کِیا؟‏

15،‏ 16.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا نے اب تک تکلیفوں کو ختم کیوں نہیں کِیا؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے اُن مسئلوں کو حل کیوں نہیں کِیا جو شیطان کی وجہ سے ہوئے ہیں؟‏

15 اِنسان ہزاروں سال سے تکلیفیں سہہ رہے ہیں۔‏ لیکن خدا نے اب تک اِن تکلیفوں کو ختم نہیں کِیا۔‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ وہ بُرائی کو کیوں نہیں روکتا؟‏ یہ ثابت ہونے میں کافی وقت لگا  ہے کہ شیطان کی حکومت ناکام ہو گئی ہے۔‏ اِنسانوں نے فرق فرق طریقوں سے حکومت کر کے دیکھا ہے لیکن وہ ناکام رہے ہیں۔‏ اگرچہ اُنہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کی ہے پھر بھی نااِنصافی،‏ غربت،‏ جُرم اور جنگوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اِضافہ ہوا ہے۔‏ اِنسان خدا کی رہنمائی کے بغیر کامیابی سے حکومت نہیں کر سکتے۔‏

16 یہوواہ خدا نے اُن مسئلوں کو حل نہیں کِیا جو شیطان کی وجہ سے ہوئے ہیں۔‏ اگر وہ ایسا کرتا تو یہ لگتا کہ خدا شیطان کی حکمرانی کی حمایت کر رہا ہے اور خدا ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔‏ اِس کے علاوہ اِنسان بھی یہ سمجھتے کہ وہ اپنے بل‌بوتے پر کامیابی سے حکومت کر سکتے ہیں۔‏ لیکن یہ جھوٹ ہے اور خدا کبھی جھوٹ کی حمایت نہیں کرتا۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ خدا کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔‏—‏عبرانیوں 6:‏18‏۔‏

17،‏ 18.‏ یہوواہ خدا اُس نقصان کی بھرپائی کیسے کرے گا جو شیطان کی وجہ سے ہوا ہے؟‏

17 کیا یہوواہ خدا اُس سارے نقصان کی بھرپائی کر سکتا ہے جو شیطان اور اِنسانوں کی بغاوت کی وجہ سے ہوا ہے؟‏ جی ہاں۔‏ خدا کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔‏ جب شیطان کے سب اِلزام جھوٹے ثابت ہو جائیں گے تو یہوواہ خدا کارروائی کرے گا۔‏ وہ اپنے مقصد کے مطابق زمین کو فردوس بنا دے گا۔‏ اِس کے علاوہ اُن لوگوں کو زندہ کِیا جائے گا جو ”‏قبروں“‏ میں ہیں۔‏ (‏یوحنا 5:‏28،‏ 29‏)‏ لوگ نہ کبھی بیمار ہوں گے اور نہ مریں گے۔‏ یسوع مسیح اُس سارے نقصان کی بھرپائی کر دیں گے جو شیطان نے کِیا ہے۔‏ یہوواہ خدا یسوع مسیح کے ذریعے ”‏اِبلیس کے کاموں کو ختم“‏ کر دے گا۔‏ (‏1-‏یوحنا 3:‏8‏)‏ ہم یہوواہ خدا کے شکرگزار ہیں کہ اُس وقت تک وہ ہماری خاطر صبر سے کام لے رہا ہے۔‏ وہ ہمیں موقع دے رہا ہے تاکہ ہم اُس کے بارے میں علم حاصل کر سکیں اور یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا ہم اُسے اپنا حکمران تسلیم کریں گے یا نہیں۔‏ ‏(‏2-‏پطرس 3:‏9،‏ 10 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس کے علاوہ جب ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ثابت‌قدم رہنے میں ہماری مدد بھی کرتا ہے۔‏—‏یوحنا 4:‏23؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 10:‏13 کو پڑھیں۔‏

 18 یہوواہ خدا ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور نہیں کرتا کہ ہم اُسے اپنا حکمران تسلیم کریں۔‏ اُس نے اِنسانوں کو صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ ہمیں اِس صلاحیت کو کیسے اِستعمال کرنا چاہیے۔‏

آپ کیا فیصلہ کریں گے؟‏

19.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا نے ہمیں کون سی صلاحیت دی ہے؟‏ (‏ب)‏ ہمیں اِس صلاحیت کے لیے شکرگزار کیوں ہونا چاہیے؟‏

19 یہوواہ خدا نے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت دی ہے اِس لیے ہم جانوروں سے فرق ہیں۔‏ جانور جو کچھ کرتے ہیں،‏ اپنی فطرت کے مطابق کرتے ہیں۔‏ (‏امثال 30:‏24-‏28‏)‏ لیکن ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کیسے گزاریں گے اور یہوواہ خدا کو خوش کریں گے یا نہیں۔‏ ہم مشینوں کی طرح نہیں ہیں جو صرف وہ کام کرتی ہیں جس کے لیے اُنہیں بنایا جاتا ہے۔‏ ہم خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس طرح کے شخص بنیں گے،‏ کن لوگوں سے دوستی کریں گے اور کس راہ پر چلیں گے۔‏ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگی سے لطف اُٹھائیں۔‏

20،‏ 21.‏ آپ کیا فیصلہ کر سکتے ہیں؟‏

20 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس سے محبت کریں۔‏ (‏متی 22:‏37،‏ 38‏)‏ جب ایک بچہ دل سے اپنے باپ سے یہ کہتا ہے کہ ”‏ابو،‏ مَیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں“‏ تو باپ بہت خوش ہوتا ہے۔‏ اِسی طرح یہوواہ خدا اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب ہم دل سے اُس سے پیار کرتے ہیں نہ کہ مجبور ہو کر۔‏ یہوواہ خدا نے ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے کہ ہم اُس کی عبادت کریں گے یا نہیں۔‏ شیطان،‏ آدم اور حوا نے یہوواہ خدا کو چھوڑنے کا فیصلہ کِیا۔‏ آپ کیا فیصلہ کریں گے؟‏

21 یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں۔‏ لاکھوں لوگوں نے یہوواہ خدا کو خوش کرنے اور شیطان کو چھوڑنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏ (‏امثال 27:‏11‏)‏ خدا نئی دُنیا میں تمام مصیبتوں کو ختم کر دے گا۔‏ لیکن آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ نئی دُنیا میں جا سکیں؟‏ اِس سوال کا جواب اگلے باب میں دیا جائے گا۔‏