مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سوال 6

مَیں اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟‏

مَیں اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟‏

یاد رکھیں

اگر آپ دوسروں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے تو آپ خود یہ طے کریں گے کہ آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔‏ آپ کی زندگی دوسروں کے کنٹرول میں نہیں ہوگی۔‏

آپ کیا کرتے؟‏

ذرا اِس صورتحال کا تصور کریں:‏ برائن کے سکول کے دو لڑکے اُس کی طرف آ رہے ہیں۔‏ اُنہیں دیکھ کر برائن کو ٹینشن ہو رہی ہے۔‏ اِس ہفتے وہ پہلے ہی دو بار اُسے سگریٹ پینے پر مجبور کر چُکے ہیں۔‏ اور اب وہ تیسری بار ایسا کرنے والے ہیں۔‏

پہلا لڑکا کہتا ہے:‏

‏”‏تُم پھر اکیلے کھڑے ہو۔‏ چلو،‏ تمہیں اپنے ایک دوست سے ملواتا ہوں۔‏“‏

وہ لفظ ”‏دوست“‏ آنکھ مارتے ہوئے کہتا ہے اور پھر جیب سے ایک چیز نکال کر برائن کی طرف بڑھاتا ہے۔‏

برائن کو اُس لڑکے کے ہاتھ میں سگریٹ نظر آتی ہے اور اُس کی ٹینشن اَور بڑھ جاتی ہے۔‏

برائن کہتا ہے:‏ ”‏یار،‏ مَیں تمہیں پہلے بھی بتا چُکا ہوں کہ مَیں سگریٹ نہیں پیتا۔‏“‏

اِس پر دوسرا لڑکا فوراً کہتا ہے:‏ ”‏تُم کتنے ڈرپوک ہو۔‏“‏

برائن بڑے اِعتماد سے کہتا ہے:‏ ”‏نہیں،‏ مَیں ڈرپوک نہیں ہوں!‏“‏

دوسرا لڑکا برائن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے:‏ ”‏لے لو نہ یار۔‏“‏

پہلا لڑکا سگریٹ برائن کے اَور قریب کرتا ہے اور اُس کے کان میں کہتا ہے:‏ ”‏ہم کسی کو نہیں بتائیں گے۔‏ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔‏“‏

اگر آپ برائن کی جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟‏

 ذرا رُکیں  اور سوچیں!‏

کیا برائن کے ساتھیوں کو اندازہ ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟‏ کیا اُنہوں نے سگریٹ پینے کا فیصلہ اپنی مرضی سے کیا تھا؟‏ شاید نہیں۔‏ وہ اپنے ساتھیوں کے دباؤ میں آ چُکے ہیں۔‏ وہ اپنے ساتھیوں کو خوش کرنے کے لیے اُن جیسے بن گئے ہیں۔‏

اگر آپ ایسی صورتحال میں ہوتے تو آپ اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کیسے کرتے؟‏

  1. خطرے کو بھانپ لیں

    پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏ہوشیار بلا کو دیکھ کر چھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔‏“‏—‏امثال 22:‏3‏۔‏

    اکثر آپ کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کسی مشکل میں پڑنے والے ہیں۔‏ مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے سکول کے کچھ لڑکے سگریٹ پی رہے ہیں۔‏ اگر آپ پہلے سے خطرے کو بھانپ لیتے ہیں تو آپ اُس خطرے کا سامنا بہتر طور پر کر پائیں گے۔‏

  2. پہلے سے سوچیں

    پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏اپنا ضمیر صاف رکھیں۔‏“‏—‏1-‏پطرس 3:‏16‏۔‏

    خود سے پوچھیں:‏ ”‏اگر مَیں دوسروں کے دیکھا دیکھی کوئی کام کروں گا تو اِس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟‏“‏ ہو سکتا ہے کہ اپنے ساتھیوں کی بات مان کر آپ اُنہیں وقتی طور پر تو خوش کر دیں لیکن بعد میں آپ کیسا محسوس کریں گے؟‏ کیا آپ اپنے ساتھیوں کو راضی کرنے کے لیے اپنے اصولوں کو قربان کر دیں گے؟‏—‏خروج 23:‏2‏۔‏

  3. فیصلہ کریں

    پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏دانش‌مند .‏ .‏ .‏ بدی سے گریز کرتا ہے۔‏“‏—‏امثال 14:‏16‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏۔‏

    کبھی نہ کبھی ہمیں یہ فیصلہ تو کرنا ہی ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے۔‏ اور ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں،‏ ہم اُس کے نتائج بھی بھگتتے ہیں۔‏ خدا کے کلام میں ایسے لوگوں کا ذکر آیا ہے جنہوں نے اچھے فیصلے کیے جیسے کہ یوسف،‏ ایوب اور یسوع مسیح۔‏ لیکن اِس میں ہمیں ایسے لوگوں کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے بُرے فیصلے کیے جیسے کہ قائن،‏ عیسو اور یہوداہ اِسکریوتی۔‏ آپ کیسے فیصلے کریں گے؟‏

پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ’‏جو شخص چھوٹے معاملوں میں وفادار ہے،‏ وہ بڑے معاملوں میں بھی وفادار ہے۔‏‘‏ (‏لُوقا 16:‏10‏)‏ اگر آپ پہلے سے اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ آپ کے فیصلوں کے نتیجے کیا ہوں گے تو آپ اپنے ساتھیوں کو آسانی سے بتا سکیں گے کہ آپ فلاں کام کیوں نہیں کرتے۔‏ اِس طرح آپ پر اُن کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔‏

گھبرائیں مت۔‏ آپ کو اپنے ساتھیوں کو لیکچر دینے کی ضرورت نہیں۔‏ آپ اُنہیں صاف لفظوں میں اِنکار کر سکتے ہیں۔‏ آپ اُن سے بحث میں اُلجھے بغیر صرف یہ کہہ سکتے ہیں:‏

  • ‏”‏مجھے اِس سب سے دُور ہی رکھو۔‏“‏

  • ‏”‏مَیں ایسا کبھی نہیں کروں گا!‏“‏

  • ‏”‏تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ مَیں ایسا نہیں ہوں۔‏“‏

اہم بات یہ ہے کہ آپ جو بھی جواب دیں،‏ فوراً دیں اور پورے یقین سے دیں۔‏ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کے ساتھی آپ کو تنگ کرنا چھوڑ دیں گے۔‏

طنز اور مذاق کی صورت میں آپ کا ردِعمل

اگر آپ اپنے ساتھیوں کے دباؤ میں آ جائیں گے تو آپ ایک ایسے روبوٹ بن جائیں گے جس کا ریموٹ کنٹرول اُن کے ہاتھ میں ہوگا۔‏

ہو سکتا ہے کہ آپ کے ساتھی آپ کا مذاق اُڑائیں۔‏ شاید وہ آپ سے کہیں:‏ ”‏تُم تو بڑے بزدل ہو۔‏“‏ اِس طرح کا طنز یا مذاق کرنے سے دراصل وہ آپ پر دباؤ ہی ڈال رہے ہوتے ہیں۔‏ ایسی صورت میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ آپ کے پاس دو آپشن ہیں۔‏

  • اُن کے طنز کو مان لیں۔‏ (‏آپ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏ہاں بھئی،‏ مَیں ہوں بزدل۔‏“‏ اِس کے بعد اُنہیں بتائیں کہ آپ وہ کام کیوں نہیں کرتے جو وہ آپ سے کرانا چاہتے ہیں۔‏)‏

  • اُنہیں کوئی ایسا جواب دیں جس سے وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔‏ اُنہیں اپنے اِنکار کی وجہ بتائیں۔‏ (‏مثلاً اگر وہ آپ کو سگریٹ پینے پر اُکسا رہے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏بھئی مَیں تو اِتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا،‏ تُم ہی پیو۔‏“‏)‏

اگر وہ پھر بھی آپ کا مذاق اُڑانے سے باز نہیں آتے تو وہاں سے چلے جائیں۔‏ جتنی زیادہ دیر آپ وہاں رُکیں گے اُتنا ہی زیادہ وہ آپ پر دباؤ ڈالیں گے۔‏ وہاں سے چلے جانے سے آپ ظاہر کریں گے کہ آپ یہ نہیں چاہتے کہ وہ آپ کی زندگی کو کنٹرول کریں۔‏

سچ ہے کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا کسی حد تک تو سامنا کرنا ہی پڑے گا۔‏ لیکن لازمی نہیں کہ آپ اُن کی بات مانیں۔‏ آپ اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ فلاں کام کیوں نہیں کرتے۔‏ اُن کے ہاتھ کی کٹھ‌پتلی نہ بنیں۔‏ صورتحال چاہے کچھ بھی ہو،‏ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کیا کریں گے۔‏—‏یشوع 24:‏15‏۔‏