مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 16

اُنہوں نے سمجھ‌داری،‏ دلیری اور بےغرضی کا مظاہرہ کِیا

اُنہوں نے سمجھ‌داری،‏ دلیری اور بےغرضی کا مظاہرہ کِیا

1-‏3.‏ ‏(‏الف)‏ اُس منظر کو بیان کریں جب آستر،‏ بادشاہ کے تخت کے قریب جا رہی تھیں۔‏ (‏ب)‏ جب آستر تخت کے پاس پہنچیں تو بادشاہ نے کیسا ردِعمل دِکھایا؟‏

آستر جیسے جیسے تخت کے قریب پہنچ رہی تھیں،‏ خوف کے مارے اُن کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔‏ بےشک اُس وقت سوسن کے شاہی دربار میں ہر طرف خاموشی پھیل گئی ہوگی،‏ اِتنی گہری خاموشی کہ آستر کو اپنے قدموں کی چاپ اور اپنے شاہی لباس کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی ہوگی۔‏ وہ دربار بڑی عالیشان طرز پر تعمیر کِیا گیا تھا۔‏ اُس میں خوب‌صورت ستون بنے ہوئے تھے اور اُس کی چھت لبنان کے دیوداروں کی لکڑی سے بنائی گئی تھی جس پر دلکش نقش‌ونگار نظر آ رہے تھے۔‏ لیکن آستر اپنا دھیان اِن میں سے کسی بھی چیز کی وجہ سے بھٹکنے نہیں دے سکتی تھیں۔‏ اُن کی پوری توجہ اُس آدمی پر تھی جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور جس کے ہاتھ میں اُن کی زندگی اور موت کا فیصلہ تھا۔‏

2 بادشاہ کی نظریں آستر پر جمی ہوئی تھیں اور اُس نے اپنا سونے کا عصا اُن کی طرف بڑھا رکھا تھا۔‏ یہ اِس بات کا اِظہار تھا کہ آستر کی جان بخش دی گئی ہے۔‏ دراصل اُنہوں نے بلائے بغیر بادشاہ کے سامنے آ کر قانون کی خلاف‌ورزی کی تھی لیکن بادشاہ نے اُنہیں معاف کر دیا تھا۔‏ تخت کے قریب آ کر آستر آگے بڑھیں اور بادشاہ کے احسان کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کے عصا کی نوک کو چُھوا۔‏—‏آستر 5:‏1،‏ 2‏۔‏

آستر نے بادشاہ کے رحم کے لیے شکرگزاری دِکھائی۔‏

3 بادشاہ اخسویرس کو دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اِنتہائی طاقت‌ور اور مال‌دار شخص ہے۔‏ خیال کِیا جاتا ہے کہ فارسی حکمران جو لباس پہنتے تھے،‏ وہ اِتنا مہنگا تھا کہ آج کے دَور میں اُس کی قیمت تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے۔‏ لیکن آستر اپنے شوہر کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کے جذبات دیکھ سکتی تھیں۔‏ بادشاہ نے آستر سے کہا:‏ ”‏تُو کیا چاہتی ہے اور کس چیز کی درخواست کرتی ہے؟‏ آدھی سلطنت تک وہ تجھے بخشی جائے گی۔‏“‏—‏آستر 5:‏3‏۔‏

4.‏ آستر کو ابھی کون سی مشکلیں سر کرنی تھیں؟‏

4 آستر نے واقعی مضبوط ایمان اور دلیری دِکھائی تھی۔‏ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو بچانے کے لیے بادشاہ کے سامنے آئی تھیں کیونکہ اُن سب کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا منصوبہ باندھا جا چُکا تھا۔‏ اگرچہ آستر کو بادشاہ کے دربار میں آنے کی اِجازت مل چُکی تھی لیکن ابھی اُنہیں اِس سے بھی بڑی مشکلیں سر کرنی تھیں۔‏ اُنہیں بارعب شخصیت والے اُس حکمران کو یہ یقین دِلانا تھا کہ اُس کا سب سے قابلِ‌بھروسا مشیر ایک بدنیت شخص ہے۔‏ دراصل اُس نے بادشاہ سے غلط‌بیانی  کر کے اُسے آستر کی قوم کے خلاف موت کا فرمان جاری کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔‏ لیکن آستر،‏ بادشاہ کو اپنی بات پر کیسے قائل کر سکتی تھیں اور ہم ایمان کے حوالے سے اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

آستر کی سمجھ‌داری

5،‏ 6.‏ آستر نے واعظ 3:‏1 اور 7 میں درج اصول پر کیسے عمل کِیا اور یہ سمجھ‌داری کی بات کیوں تھی؟‏

5 کیا آستر کو سب درباریوں کے سامنے بادشاہ کو سارا مسئلہ بتا دینا چاہیے تھا؟‏ اگر وہ ایسا کرتیں تو ہو سکتا ہے کہ اِس سے بادشاہ کی بےعزتی ہوتی اور اُس کے مشیر ہامان کو اپنے اُوپر لگائے گئے اِلزامات پر پردہ ڈالنے کا وقت مل جاتا۔‏ تو پھر آستر نے کیا کِیا؟‏ سینکڑوں سال پہلے دانش‌مند بادشاہ سلیمان نے لکھا تھا:‏ ”‏ہر چیز کا .‏ .‏ .‏ ایک وقت ہے۔‏ .‏ .‏ .‏ چپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔‏“‏ (‏واعظ 3:‏1،‏ 7‏)‏ خدا کے وفادار بندے مردکی نے ایک باپ کی طرح آستر کو بچپن سے ایسے سنہری اصول ضرور سکھائے ہوں گے۔‏ بےشک آستر جانتی تھیں کہ اُنہیں سمجھ‌داری سے یہ طے کرنا ہوگا کہ کس وقت پر بولنا صحیح رہے گا۔‏

6 آستر نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏اگر بادشاہ کو منظور ہو تو بادشاہ اُس جشن میں جو مَیں نے اُس کے لئے تیار کِیا  ہے ہاؔمان کو ساتھ لے کر آج تشریف لائے۔‏“‏ (‏آستر 5:‏4‏)‏ بادشاہ مان گیا اور اُس نے ہامان کو بلانے کا حکم دیا۔‏ ذرا غور کریں کہ آستر نے بادشاہ سے بات کرتے وقت کتنی سمجھ‌داری سے کام لیا۔‏ اُنہوں نے اپنے شوہر کی عزت کا خیال رکھا اور ایک ایسا موقع پیدا کِیا جس پر وہ بادشاہ کو اپنی پریشانی کے بارے میں بتا سکتی تھیں۔‏‏—‏امثال 10:‏19 کو پڑھیں۔‏

7،‏ 8.‏ آستر کی پہلی ضیافت کیسی تھی اور اُنہوں نے اُس موقعے پر بادشاہ کو ساری بات کیوں نہیں بتائی؟‏

7 اِس ضیافت کا اِہتمام کرتے وقت آستر نے بےشک اِس بات کا خاص دھیان رکھا ہوگا کہ اِس میں اُن کے شوہر کے سارے من‌پسند کھانے ہوں۔‏ اُنہوں نے عمدہ قسم کی مے کا بندوبست بھی کِیا تاکہ بادشاہ کی طبیعت خوش ہو جائے۔‏ (‏زبور 104:‏15‏)‏ بادشاہ اِس ضیافت سے بڑا لطف‌اندوز ہوا اور اُس نے دوبارہ آستر سے پوچھا کہ اُن کی کیا درخواست ہے۔‏ کیا اب وہ مناسب وقت آ چُکا تھا جب آستر کو بادشاہ سے ساری بات بیان کر دینی چاہیے تھی؟‏

8 آستر نے اِسے موزوں وقت خیال نہیں کِیا۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے بادشاہ اور ہامان سے کہا کہ وہ اگلے دن پھر اُن کی ضیافت میں آئیں۔‏ (‏آستر 5:‏7،‏ 8‏)‏ آستر نے اِس معاملے میں دیر کیوں لگائی؟‏ یاد کریں کہ شاہی فرمان کی وجہ سے آستر کی پوری قوم کے سر پر موت کی تلوار لٹک رہی تھی۔‏ اِتنی نازک صورتحال میں آستر کا صحیح وقت دیکھ کر بادشاہ سے  بات کرنا بہت ضروری تھا۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اِنتظار کِیا اور ایک اَور ضیافت کا اِہتمام کرنے سے بادشاہ کے لیے مزید احترام دِکھایا۔‏

9.‏ صبر کی خوبی اِتنی ضروری کیوں ہے اور ہم اِس حوالے سے آستر کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

9 صبر ایک بیش‌قیمت خوبی ہے جو بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔‏ حالانکہ آستر کا ذہن پریشانی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور وہ بادشاہ کو سب کچھ بتا دینا چاہتی تھیں پھر بھی اُنہوں نے صبر سے مناسب وقت کا اِنتظار کِیا۔‏ ہم آستر کی مثال سے اہم سبق سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ہم سب کو یا تو خود کبھی نہ کبھی نااِنصافی کا سامنا ہوتا ہے یا ہم کسی اَور کے ساتھ نااِنصافی ہوتے دیکھتے ہیں۔‏ ایسی صورت میں یقیناً ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُس نااِنصافی کو دُور کِیا جائے۔‏ اگر ہم اِس حوالے سے کسی بااِختیار شخص سے بات کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو شاید ہمیں بھی ویسے ہی صبر سے کام لینا پڑے جیسے آستر نے لیا تھا۔‏ امثال 25:‏15 میں لکھا ہے:‏ ”‏تحمل کرنے سے حاکم راضی ہو جاتا ہے اور نرم زبان ہڈی کو بھی توڑ ڈالتی ہے۔‏“‏ آستر کی طرح صحیح وقت کا اِنتظار کرنے اور نرمی کے ساتھ بات کرنے سے ہم اپنے کٹر مخالفوں کا دل بھی موم کر سکتے ہیں۔‏ البتہ کیا یہوواہ نے آستر کو اُن کے صبر اور سمجھ‌داری کا صلہ دیا؟‏

 آستر کے صبر کا میٹھا پھل

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ پہلی ضیافت سے واپس آتے وقت ہامان کی خوشی پھیکی کیوں پڑ گئی؟‏ (‏ب)‏ ہامان کی بیوی اور دوستوں نے اُسے کیا مشورہ دیا؟‏

10 آستر کا صبر سے کام لینا اُن کے حق میں بڑا فائدہ‌مند ثابت ہوا کیونکہ اِس دوران غیرمعمولی واقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔‏ ہامان پہلی ضیافت سے بڑا ”‏شادمان اور خوش“‏ ہو کر نکلا کیونکہ اُسے یہ خوش‌فہمی ہو رہی تھی کہ بادشاہ اور ملکہ باقی سب لوگوں سے زیادہ اُس کی قدر کرتے ہیں۔‏ مگر جب وہ محل کے دروازے سے گزرا تو اُس کی نظر مردکی پر پڑی جو اِس بار بھی اُس کی تعظیم کے لیے اُس کے سامنے نہیں جھکے۔‏ جیسے کہ ہم نے پچھلے باب میں دیکھا تھا،‏ مردکی اِس وجہ سے ایسا کرنے سے اِنکار نہیں کر رہے تھے کیونکہ وہ ہامان کے عہدے کا احترام نہیں کرتے تھے۔‏ اُن کے ایسا نہ کرنے کا تعلق اُن کے ضمیر اور یہوواہ کے ساتھ اُن کی دوستی سے تھا۔‏ لیکن ہامان،‏ ”‏مرؔدکی کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔‏“‏—‏آستر 5:‏9‏۔‏

11 جب ہامان نے اپنی بیوی اور دوستوں کو اپنی اِس بےعزتی کے بارے میں بتایا تو اُنہوں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ 22 میٹر (‏72 فٹ)‏ سے بھی اُونچی سُولی بنوائے اور بادشاہ سے اِجازت لے کر مردکی کو اُس پر لٹکا دے۔‏ ہامان کو اُن کا مشورہ پسند آیا اور اُس نے فوراً سُولی بنوانے کا حکم دیا۔‏—‏آستر 5:‏12-‏14‏۔‏

12.‏ ‏(‏الف)‏ بادشاہ نے یہ حکم کیوں دیا کہ اُس کے سامنے حکومت کی تاریخ کی کتاب پڑھی جائے؟‏ (‏ب)‏ بادشاہ کے علم میں کون سی بات آئی؟‏

12 اُس رات بادشاہ اخسویرس کو نیند نہیں آئی۔‏ اِس لیے اُس نے حکم دیا کہ حکومت کی تاریخ کی کتاب لائی جائے اور اُس کے سامنے پڑھی جائے۔‏ اِس دوران وہ واقعہ بھی پڑھا گیا جس میں بادشاہ کے قتل کی سازش کی گئی تھی اور پھر سازشیوں کو پکڑ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔‏ بادشاہ کو وہ سارا واقعہ یاد آیا لیکن اُس کے ذہن میں یہ سوال کھٹکا کہ اِس سازش کو بےنقاب کرنے والے شخص مردکی کو اُس کی نیکی کا کیا اِنعام دیا گیا تھا۔‏ اُسے جواب ملا کہ مردکی کے لیے کچھ بھی نہیں کِیا گیا تھا۔‏‏—‏آستر 6:‏1-‏3 کو پڑھیں۔‏

13،‏ 14.‏ ‏(‏الف)‏ ہامان کے منصوبوں پر کیسے پانی پھرنے لگا؟‏ (‏ب)‏ ہامان کی بیوی اور دوستوں نے اُسے کیا کہا؟‏

13 بادشاہ اِس غلطی کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔‏ اِس لیے اُس نے پوچھا کہ محل میں کون سا درباری موجود ہے جس سے وہ اِس بارے میں صلاح مشورہ کر سکتا ہے۔‏ اِتفاق ایسا تھا کہ وہاں ہامان ہی موجود تھا۔‏ غالباً وہ اِس وجہ سے صبح سویرے آ گیا تھا تاکہ بادشاہ سے مردکی کو قتل کرنے کی منظوری لے سکے۔‏ لیکن اِس سے پہلے کہ ہامان،‏ بادشاہ کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتا،‏ بادشاہ نے اُس سے پوچھا کہ وہ اُس شخص کو کیسے عزت دے جس سے اُس کا دل خوش ہے۔‏ ہامان کو لگا کہ بادشاہ اُس کی بات کر رہا ہے۔‏ اِس لیے اُس نے بڑے عالیشان طریقے سے اُس شخص کو عزت دینے کی تجویز پیش کی۔‏ اُس نے کہا کہ اُس شخص کو شاہی لباس پہنایا جائے اور ایک اعلیٰ افسر اُسے بادشاہ کے گھوڑے پر بٹھا کر سوسن کے چوک میں لے جائے اور سب کے سامنے اُس کے لیے تعظیمی جملے کہے۔‏ ذرا سوچیں کہ جب بادشاہ نے ہامان کو بتایا ہوگا کہ جس شخص کو وہ ایسی عزت بخشنا چاہتا ہے،‏ وہ مردکی ہیں تو کیسے ہامان کے ہوش اُڑ گئے ہوں گے!‏ سونے پہ سہاگا یہ کہ بادشاہ نے ہامان کو ہی سب لوگوں کے سامنے مردکی کے لیے تعظیمی جملے کہنے کو کہا۔‏—‏آستر 6:‏4-‏10‏۔‏

 14 ہامان نے دل پر پتھر رکھ کر یہ سب کچھ کِیا اور پھر مُنہ لٹکائے ہوئے گھر چلا گیا۔‏ اُس کی بیوی اور دوستوں نے اُسے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے،‏ وہ اُس کے لیے نیک شگون نہیں ہے اور اُسے ضرور مردکی کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔‏—‏آستر 6:‏12،‏ 13‏۔‏

15.‏ ‏(‏الف)‏ آستر کے صبر کا کون سا اچھا نتیجہ نکلا؟‏ (‏ب)‏ بائبل میں ہمیں ”‏اِنتظار“‏ کرنے کی نصیحت کیوں کی گئی ہے؟‏

15 چونکہ آستر نے صبر سے کام لیا اور بادشاہ کو سارے معاملے کی خبر کرنے سے پہلے ایک دن اَور اِنتظار کِیا اِس لیے اُن کی مشکل آسان ہو گئی کیونکہ ہامان نے خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔‏ اور بہت ممکن ہے کہ یہوواہ نے ہی اُس رات بادشاہ کی نیند اُڑا دی تھی۔‏ (‏امثا 21:‏1‏)‏ اِس واقعے سے ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ بائبل میں ہمیں ”‏اِنتظار“‏ کرنے کی نصیحت کیوں کی گئی ہے۔‏ ‏(‏میکاہ 7:‏7 کو پڑھیں۔‏)‏ اگر ہم صبر سے یہوواہ کے کارروائی کرنے کا اِنتظار کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری مشکلوں کا کوئی ایسا حل نکال دے جو ہماری اپنی تدبیروں سے ہزار گُنا بہتر ہو۔‏

آستر کی دلیری

16،‏ 17.‏ ‏(‏الف)‏ آستر کے ’‏بولنے کا وقت‘‏ کب آیا؟‏ (‏ب)‏ آستر میں اور بادشاہ کی سابقہ بیوی وشتی میں کیا فرق تھا؟‏

16 آستر،‏ بادشاہ کے صبر کو اَور نہیں آزما سکتی تھیں۔‏ اِس لیے اُنہیں دوسری ضیافت پر اُسے سب کچھ بتانا تھا۔‏ لیکن وہ اِس بارے میں بات کیسے شروع کر سکتی تھیں؟‏ حالات نے آستر پر یہ مہربانی کی کہ بادشاہ نے خود ہی اِس موضوع کو چھیڑتے ہوئے اُن سے پوچھا کہ وہ اُس سے کیا درخواست کرنا چاہتی ہیں۔‏ (‏آستر 7:‏2‏)‏ اب آستر کے ’‏بولنے کا وقت‘‏ آ چُکا تھا۔‏

17 بےشک آستر نے اپنی بات شروع کرنے سے پہلے دل ہی دل میں خدا سے دُعا کی ہوگی۔‏ اُنہوں نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏اَے بادشاہ اگر مَیں تیری نظر میں مقبول ہوں اور بادشاہ کو منظور ہو تو میرے سوال پر میری جان بخشی ہو اور میری درخواست پر میری قوم مجھے ملے۔‏“‏ (‏آستر 7:‏3‏)‏ اپنی اِس بات سے آستر نے بادشاہ کو یقین دِلایا کہ اُس کا جو بھی فیصلہ ہوگا،‏  وہ اُس کا احترام کریں گی۔‏ آستر،‏ بادشاہ کی سابقہ بیوی وشتی جیسی نہیں تھیں جس نے جان بُوجھ کر اپنے شوہر کی بےادبی کی تھی۔‏ (‏آستر 1:‏10-‏12‏)‏ آستر نے بادشاہ کو یہ احساس بھی نہیں دِلایا کہ اُس نے ہامان پر بھروسا کر کے بےوقوفی کی ہے۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے اُس کی مِنت کی کہ وہ اُنہیں موت کے مُنہ سے بچائے۔‏

18.‏ آستر نے بادشاہ کے سامنے اپنا مسئلہ کیسے پیش کِیا؟‏

18 آستر کی بات سُن کر بادشاہ حیران‌وپریشان رہ گیا ہوگا۔‏ اُس نے ضرور سوچا ہوگا کہ آخر کس کی اِتنی جُرأت ہے کہ وہ اُس کی پیاری ملکہ کی جان لینے کی کوشش کرے؟‏ پھر آستر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:‏ ”‏مجھے اور میری قوم کے لوگوں کو بیچ دیا گیا ہے تاکہ ہم سب ہلاک کیے جائیں اور ہمارا نام‌ونشان مٹ جائے۔‏ اگر ہم لوگ غلام اور لونڈیوں کی طرح بیچے جاتے تو مَیں خاموش رہتی کیونکہ یہ کوئی ایسا بڑا سانحہ نہ ہوتا جسے بادشاہ کو بتا کر پریشان کِیا جاتا!‏“‏ (‏آستر 7:‏4‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ ذرا غور کریں کہ آستر نے گھماپھرا کر بات کرنے کی بجائے صاف صاف لفظوں میں اپنا مسئلہ بیان کِیا۔‏ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بات صرف اُن کی قوم کے غلام بننے کی ہوتی تو وہ خاموش رہتیں۔‏ اُنہوں نے واضح کِیا کہ اُنہیں بادشاہ کو اِس معاملے سے اِس لیے باخبر کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اُن کی قوم کے قتلِ‌عام سے بادشاہ کو بھی نقصان پہنچے گا۔‏

19.‏ ہم آستر کی مثال سے دوسروں کو قائل کرنے کے حوالے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

19 آستر کی مثال سے ہم دوسروں کو قائل کرنے کا فن سیکھ سکتے ہیں۔‏ اگر آپ کو کبھی کسی عزیز یا کسی بااِختیار شخص کو کسی معاملے سے آگاہ کرنا ہو تو صبر،‏ احترام اور صاف‌گوئی کا مظاہرہ کرنے سے آپ کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔‏

20،‏ 21.‏ ‏(‏الف)‏ آستر نے ہامان کی سازش کو کیسے بےنقاب کِیا اور اِس پر بادشاہ کا کیا ردِعمل تھا؟‏ (‏ب)‏ جب ہامان کی مکاری پر سے پردہ اُٹھ گیا تو اُس نے کیا کِیا؟‏

20 اخسویرس نے پوچھا:‏ ”‏وہ کون ہے اور کہاں ہے جس نے اپنے دل میں ایسا خیال کرنے کی جُرأت کی؟‏“‏ آستر  نے جواب دیا:‏ ”‏وہ مخالف اور وہ دُشمن یہی خبیث ہاؔمان ہے۔‏“‏ ہو سکتا ہے کہ آستر نے یہ بات کہتے ہوئے اُنگلی سے ہامان کی طرف اِشارہ کِیا ہو۔‏ آستر کی بات سُن کر بادشاہ اور ہامان ہکے بکے رہ گئے۔‏ ہامان کا اُوپر کا سانس اُوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔‏ بادشاہ غصے سے لال پیلا ہونے لگا۔‏ وہ یہ جان گیا تھا کہ اُس کے قابلِ‌بھروسا مشیر نے اُسے باتوں میں گھیر کر قتلِ‌عام کے ایک ایسے فرمان پر مُہر کروا دی ہے جس کی لپیٹ میں اُس کی بیوی بھی آئے گی۔‏ بادشاہ اُٹھا اور اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے باغ میں چلا گیا۔‏—‏آستر 7:‏5-‏7‏۔‏

آستر نے دلیری سے ہامان کی مکاری کو بےنقاب کِیا۔‏

21 ہامان کی مکاری پر سے پردہ اُٹھ گیا تھا۔‏ اِس لیے وہ بزدلی سے ملکہ کے قدموں میں گِر گیا اور اُن سے رحم کی بھیک مانگنے لگا۔‏ جب بادشاہ اپنے کمرے میں واپس آیا تو اُس نے دیکھا کہ ہامان،‏ ملکہ کے پاس پڑا اُن سے مِنت‌سماجت کر رہا ہے۔‏ طیش میں آ کر اُس نے ہامان پر یہ اِلزام لگایا کہ وہ ملکہ کی عزت لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔‏ بادشاہ کا یہ اِلزام ہامان کے لیے موت کی گھنٹی کی طرح تھا۔‏ اُسی لمحے ہامان کے مُنہ پر کپڑا ڈال کر اُسے وہاں سے لے جایا گیا۔‏ بادشاہ کے ایک ملازم نے اُسے اُس سُولی کے بارے میں بتایا جو ہامان نے مردکی کے لیے بنوائی ہوئی تھی۔‏ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ ہامان کو اُسی سُولی پر لٹکا دیا جائے۔‏—‏آستر 7:‏8-‏10‏۔‏

22.‏ آستر کی مثال میں ہمارے لیے کون سا سبق پایا جاتا ہے؟‏

22 نااِنصافی سے بھری اِس دُنیا میں لوگ بڑی آسانی سے اِس سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں کبھی اِنصاف دیکھنے کو نہیں ملے گا۔‏ کیا آپ کو بھی کبھی ایسا محسوس ہوا ہے؟‏ آستر نے کبھی اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور کبھی اپنے ایمان کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔‏ مناسب وقت آنے پر اُنہوں نے دلیری سے حق کے لیے آواز اُٹھائی اور باقی معاملہ یہوواہ پر چھوڑ دیا۔‏ آئیں،‏ ہم بھی آستر کی مثال پر عمل کرنے کا عزم کریں اور یہ یاد رکھیں کہ جیسے یہوواہ نے ہامان کو اُسی کے جال میں پھنسایا،‏ وہ آج بھی بُرے لوگوں کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔‏‏—‏زبور 7:‏12-‏16 کو پڑھیں۔‏

آستر کی بےغرضی

23.‏ ‏(‏الف)‏ بادشاہ نے مردکی اور آستر کو کیا اِنعام دیا؟‏ (‏ب)‏ یعقوب نے اپنی موت سے پہلے جو پیش‌گوئی کی تھی،‏ وہ کیسے پوری ہوئی؟‏ (‏بکس ”‏ ایک قدیم پیش‌گوئی کی تکمیل‏“‏ کو دیکھیں۔‏)‏

23 بادشاہ یہ تو جان چُکا تھا کہ مردکی نے اُس کی جان بچائی تھی لیکن اب اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ مردکی ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے آستر کی پرورش کی تھی۔‏ بادشاہ نے اُنہیں ہامان کی جگہ وزیرِاعظم مقرر کر دیا۔‏ اِس کے علاوہ اُس نے ہامان کا گھر اور اُس کی ڈھیر ساری دولت آستر کو دے دی اور آستر نے مردکی کو اِس سب کی نگرانی کی ذمےداری سونپ دی۔‏—‏آستر 8:‏1،‏ 2‏۔‏

24،‏ 25.‏ ‏(‏الف)‏ ہامان کے ناپاک اِرادوں کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد آستر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر کیوں نہیں بیٹھ سکتی تھیں؟‏ (‏ب)‏ آستر نے ایک بار پھر اپنی جان داؤ پر کیسے لگا دی؟‏

 24 اب آستر اور مردکی کی جانیں محفوظ تھیں۔‏ لیکن آستر اِتنی خودغرض نہیں تھیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتیں۔‏ ہامان نے یہودیوں کو قتل کرنے کا جو فرمان جاری کِیا تھا،‏ وہ اُس وقت سلطنت کے کونے کونے میں پہنچایا جا رہا تھا۔‏ ہامان نے اِس سلسلے میں ”‏پور“‏ یعنی قُرعہ ڈالا تھا۔‏ یہ غالباً جادوٹونے کی کوئی قسم تھی جس کے ذریعے ہامان یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہودیوں کو ہلاک کرنے کے لیے مناسب وقت کون سا رہے گا۔‏ (‏آستر 9:‏24-‏26‏)‏ اُس دن کے آنے میں ابھی کچھ مہینے باقی تھے لیکن وقت بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔‏ کیا اِس تباہی کو کسی طرح ٹالا جا سکتا تھا؟‏

25 آستر نے پھر سے اپنی جان داؤ پر لگا دی اور بلائے بغیر بادشاہ کے حضور چلی گئیں۔‏ اِس بار وہ اپنے شوہر کے سامنے اپنی قوم کے لیے گڑگڑائیں اور اُس سے مِنت کرنے لگیں کہ وہ اُن کے قتل کے فرمان کو منسوخ کر دے۔‏ لیکن فارسی قانون کے مطابق ایسے فرمان کو منسوخ نہیں کِیا جا سکتا تھا جس پر بادشاہ کی انگوٹھی کی مُہر ہوتی تھی۔‏ (‏دان 6:‏12،‏ 15‏)‏ اِس لیے بادشاہ نے آستر اور مردکی کو یہ اِختیار دیا کہ وہ ایک نیا فرمان جاری کریں۔‏ لہٰذا بادشاہ کے نام پر ایک نیا حکم صادر ہوا جس میں یہودیوں کو لڑ کر اپنا دِفاع کرنے کی اِجازت دی گئی۔‏ قاصدوں نے تیزرفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر سلطنت کے ہر کونے میں یہودیوں تک یہ خوش‌خبری پہنچائی۔‏ یہودیوں کے دلوں میں اُمید کا دیا جگمگا اُٹھا۔‏ (‏آستر 8:‏3-‏16‏)‏ بےشک اُنہوں نے خود کو اِس جنگ کے لیے تیار کر لیا ہوگا جس کا حق اُنہیں نئے حکم کے بغیر کبھی نہ ملتا۔‏ لیکن سب سے اہم سوال تو یہ تھا کہ کیا ”‏ربُ‌الافواج [‏یہوواہ]‏“‏ اِس جنگ میں اپنے بندوں کی مدد کرے گا؟‏—‏1-‏سمو 17:‏45‏۔‏

آستر اور مردکی نے فارسی سلطنت میں رہنے والے یہودیوں کے لیے فرمان جاری کِیا۔‏

26،‏ 27.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ نے اپنے بندوں کو دُشمنوں پر کیسی فتح بخشی؟‏ (‏ب)‏ ہامان کے بیٹوں کے قتل سے کون سی پیش‌گوئی پوری ہوئی؟‏

 26 جب جنگ کا دن آیا تو خدا کے بندے پوری طرح تیار تھے۔‏ یہاں تک کہ بہت سے فارسی افسر بھی یہودیوں کی حمایت میں کھڑے تھے کیونکہ سلطنت میں ہر جگہ اِس خبر کی دُھوم مچی تھی کہ یہودی قوم کے مردکی کو نیا وزیرِاعظم بنا دیا گیا ہے۔‏ یہوواہ نے اِس جنگ میں اپنے بندوں کو زبردست فتح دِلوائی۔‏ بےشک یہوواہ نے اُن کی مدد کی ہوگی کہ وہ اپنے دُشمنوں کو ایسی دھول چٹائیں کہ اُنہیں دوبارہ اُن کے خلاف سر اُٹھانے کی جُرأت نہ ہو۔‏ *‏—‏آستر 9:‏1-‏6‏۔‏

27 لیکن مردکی کی جان کو ابھی بھی ایک خطرہ تھا۔‏ وہ ہامان کے گھر کی نگرانی کر رہے تھے جبکہ ہامان کے دس بیٹے اب تک زندہ تھے۔‏ لہٰذا اُنہیں بھی قتل کر دیا گیا۔‏ (‏آستر 9:‏7-‏10‏)‏ اِس طرح بائبل کی وہ پیش‌گوئی پوری ہوئی جس میں خدا نے کہا تھا کہ عمالیقیوں کا نام صفحۂ‌ہستی سے مٹا دیا جائے گا جنہوں نے خود کو اُس کے بندوں کے دُشمن بنا لیا تھا۔‏ (‏اِست 25:‏17-‏19‏)‏ ہامان کے بیٹے غالباً آخری عمالیقیوں میں سے تھے۔‏

28،‏ 29.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ یہ کیوں چاہتا تھا کہ آستر اور اُن کی قوم اپنے دِفاع کے لیے دُشمنوں سے جنگ لڑیں؟‏ (‏ب)‏ آستر کی مثال ہمارے لیے ایک برکت کیوں ہے؟‏

28 آستر کو اپنے کندھوں پر بہت بھاری ذمےداریوں کا بوجھ اُٹھانا پڑا۔‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے مردکی کے ساتھ مل کر دُشمنوں کے خلاف جنگ اور موت کے فرمان جاری کیے۔‏ آستر جیسی جوان خاتون کے لیے یہ سب بالکل بھی آسان نہیں رہا ہوگا۔‏ لیکن وہ جانتی تھیں کہ یہوواہ کی مرضی پوری ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اُس کے بندوں کو مٹنے سے بچایا جائے۔‏ دراصل یہودی قوم میں سے ہی مسیح کو پیدا ہونا تھا جو کہ اِنسانوں کے لیے اُمید کی واحد کِرن تھا۔‏ (‏پید 22:‏18‏)‏ ہمیں اِس بات کی خوشی ہے کہ آج ہمیں جنگیں نہیں لڑنی پڑتیں کیونکہ جب یسوع زمین پر آئے تو اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو جنگ میں حصہ لینے سے منع کر دیا۔‏—‏متی 26:‏52‏۔‏

29 البتہ مسیحی ایک فرق قسم کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‏ اِس جنگ میں اُن کا مقابلہ شیطان کے ساتھ ہے جو یہوواہ پر اُن کے ایمان کو برباد کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔‏ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 10:‏3،‏ 4 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن یہوواہ کی بڑی برکت ہے کہ ہمارے پاس آستر کی عمدہ مثال ہے۔‏ دُعا ہے کہ ہم بھی دوسروں کو قائل کرنے کے لیے سمجھ‌داری اور صبر سے کام لیں،‏ دلیری کا مظاہرہ کریں،‏ بےغرضی سے خدا کے بندوں کی حمایت کے لیے قدم اُٹھائیں اور یوں آستر جیسا ایمان ظاہر کریں۔‏

^ پیراگراف 26 بادشاہ نے یہودیوں کو ایک اَور دن لڑنے کی اِجازت دی تاکہ وہ اپنے دُشمنوں پر مکمل فتح حاصل کر سکیں۔‏ (‏آستر 9:‏12-‏14‏)‏ یہودی آج تک ادار کے مہینے میں جو کہ ہمارے کیلنڈر کے مطابق فروری کے وسط سے مارچ کے وسط تک رہتا ہے،‏ اِس فتح کا جشن مناتے ہیں۔‏ اِس جشن کو پوریم کہا جاتا ہے۔‏ یہ نام اُس قُرعے کے نام پر رکھا گیا تھا جو ہامان نے یہودیوں کو قتل کرنے کی تاریخ کا تعیّن کرنے کے لیے ڈالا تھا۔‏