مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 18

‏’‏وہ اِن باتوں پر سوچ بچار کرتی رہیں‘‏

‏’‏وہ اِن باتوں پر سوچ بچار کرتی رہیں‘‏

1،‏ 2.‏ مریم کا سفر بیان کریں اور بتائیں کہ اُن کے لیے یہ سفر دُشوار کیوں تھا۔‏

ذرا اپنے ذہن میں اِس منظر کی تصویر بنائیں:‏ مریم کئی گھنٹے سے گدھے پر سوار ہیں۔‏ اُن کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ گدھے پر بیٹھ کر اِتنا لمبا سفر کریں مگر وہ جیسے تیسے کر کے اِس سفر کو کاٹ رہی ہیں۔‏ یوسف اُن کے آگے آگے اُس راستے پر چل رہے ہیں جو دُور واقع بیت‌لحم کی طرف جاتا ہے۔‏ مریم وقتاًفوقتاً اپنے پیٹ میں پلنے والے بچے کو حرکت کرتا محسوس کر رہی ہیں۔‏

2 اُس وقت مریم کو حاملہ ہوئے کئی مہینے گزر چُکے تھے۔‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے ”‏حمل کی مُدت پوری ہونے والی تھی۔‏“‏ (‏لُو 2:‏5‏)‏ راستے میں جب یوسف اور مریم کھیتوں سے گزر رہے ہوں گے تو کسانوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہو رہی ہوگی کہ ایک عورت ایسی حالت میں سفر پر کیوں نکل پڑی ہے۔‏ آخر ایسا کیا ہو گیا تھا کہ مریم ناصرت میں موجود اپنے گھر سے اِتنی دُور آ گئی تھیں؟‏

3.‏ ‏(‏الف)‏ مریم کو کون سی ذمےداری ملی تھی؟‏ (‏ب)‏ ہم مریم کے بارے میں کس بات پر غور کریں گے؟‏

3 کافی مہینے پہلے کی بات ہے کہ مریم کو ایک ایسی ذمےداری ملی تھی جو اپنے آپ میں سب سے منفرد تھی۔‏ اُنہیں ایک ایسے بچے کو جنم دینا تھا جو خدا کا بیٹا تھا اور جس نے بڑے ہو کر مسیح کہلانا تھا۔‏ (‏لُو 1:‏35‏)‏ جب بچے کی پیدائش کا وقت نزدیک آیا تو حالات نے ایسی صورت اِختیار کی کہ یوسف اور مریم کو بیت‌لحم کے سفر پر نکلنا پڑا۔‏ اِس دوران مریم کے سامنے طرح طرح کی مشکلات نے سر اُٹھایا جن سے اُن کے ایمان کا اِمتحان ہوا۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ مریم اپنے ایمان کو مضبوط رکھنے کے قابل کیسے ہوئیں۔‏

بیت‌لحم کا سفر

4،‏ 5.‏ ‏(‏الف)‏ یوسف اور مریم بیت‌لحم کیوں جا رہے تھے؟‏ (‏ب)‏ قیصر اوگوستُس کے فرمان کی بدولت کون سی پیش‌گوئی پوری ہوئی؟‏

4 صرف یوسف اور مریم ہی سفر پر نہیں نکلے ہوئے تھے۔‏ حال ہی میں قیصر اوگوستُس نے یہ حکم جاری کِیا تھا کہ ملک میں مردم‌شماری کروائی جائے۔‏ اِس حکم کے پیشِ‌نظر لوگوں کو اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جانا تھا تاکہ وہاں اپنے نام لکھوا سکیں۔‏ یہی وجہ تھی کہ ”‏یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرت سے یہودیہ میں داؤد کے شہر بیت‌لحم گئے کیونکہ وہ داؤد کی نسل اور گھرانے سے تھے۔‏“‏—‏لُو 2:‏1-‏4‏۔‏

 5 یہ کوئی اِتفاق کی بات نہیں تھی کہ قیصر نے ٹھیک اِسی وقت مردم‌شماری کا فرمان جاری کِیا تھا۔‏ تقریباً 700 سال پہلے ایک پیش‌گوئی میں بتایا گیا تھا کہ مسیح بیت‌لحم میں پیدا ہوگا۔‏ ویسے تو ناصرت سے 11 کلومیٹر (‏7 میل)‏ کے فاصلے پر بھی بیت‌لحم نامی ایک شہر تھا لیکن پیش‌گوئی میں صاف صاف کہا گیا تھا کہ مسیح کی پیدائش ”‏بیتؔ‌لحم‌اِفراتاہ“‏ میں ہوگی۔‏ ‏(‏میکاہ 5:‏2 کو پڑھیں۔‏)‏ ناصرت سے اِس چھوٹے سے شہر میں جانے کے لیے مسافروں کو سامریہ کے پہاڑی علاقے سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا اور یہ سفر تقریباً 130 کلومیٹر (‏80 میل)‏ کا تھا۔‏ یہی بیت‌لحم بادشاہ داؤد کا آبائی شہر تھا اور چونکہ یوسف اور مریم دونوں داؤد کی نسل سے تھے اِس لیے اُنہیں اِسی بیت‌لحم جانا تھا۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ بیت‌لحم کا سفر مریم کے لیے آسان کیوں نہیں ہونا تھا؟‏ (‏ب)‏ شادی کے بعد فیصلے کرنے کے حوالے سے مریم کی زندگی میں کون سی تبدیلی آئی؟‏ (‏فٹ‌نوٹ کو بھی دیکھیں۔‏)‏

6 کیا مریم کے لیے یہ کوئی آسان فیصلہ تھا کہ وہ یوسف کے ساتھ اِس سفر پر نکل پڑتیں؟‏ بالکل بھی نہیں۔‏ یہ غالباً اکتوبر کے مہینے کا آغاز تھا جب خشک موسم ختم ہو جاتا تھا اور ہلکی بارشوں کا اِمکان ہوتا تھا۔‏ اِس کے علاوہ اِس سفر کے آخر میں یوسف اور مریم کو چڑھائیاں چڑھ کر بیت‌لحم جانا تھا کیونکہ یہ شہر 760 میٹر (‏2500 فٹ)‏ سے بھی زیادہ بلندی پر واقع تھا۔‏ کئی دنوں کا یہ سفر اُن دونوں کے لیے تو اَور بھی لمبا ہونے والا تھا کیونکہ ایسی حالت میں مریم کو بار بار آرام کے لیے رُکنے کی ضرورت پڑنی تھی۔‏ اور ذرا سوچیں کہ جس عورت کے حمل کے آخری دن چل رہے ہوں،‏ کیا وہ یہ نہیں چاہے گی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہو تاکہ وہ حمل کی دردیں شروع ہونے پر اُس کی مدد کر سکیں۔‏ مریم کو اِس سفر پر نکلنے کے لیے واقعی بڑے دل گرُدے کی ضرورت تھی۔‏

مریم کے لیے بیت‌لحم کا سفر بالکل بھی آسان نہیں تھا۔‏

 7 لاکھ خدشوں کے باوجود مریم،‏ یوسف کے ساتھ بیت‌لحم کے لیے نکل پڑیں۔‏ لُوقا کی اِنجیل میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت یوسف سے ”‏اُن کی شادی ہو چکی تھی۔‏“‏ (‏لُو 2:‏4،‏ 5‏)‏ شادی کے بعد فیصلے کرنے کے حوالے سے مریم کی زندگی میں بڑی تبدیلی آ گئی تھی۔‏ دراصل مریم اِس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ یوسف اُن کے سربراہ ہیں اور خدا نے اُن پر یہ فرض ٹھہرایا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی مددگار کے طور پر اُس کے فیصلوں میں اُس کا ساتھ دیں۔‏ * لہٰذا مریم اپنے شوہر کے لیے فرمانبرداری دِکھاتے ہوئے اِس مشکل سفر پر چل پڑیں۔‏ یوں اُنہوں نے مضبوط ایمان کا مظاہرہ کِیا۔‏

8.‏ ‏(‏الف)‏ مریم کو غالباً اَور کس وجہ سے بیت‌لحم جانے کی ترغیب ملی ہوگی؟‏ (‏ب)‏ مریم کی مثال خدا کے بندوں کے لیے ایک روشن دیے کی طرح کیوں ہے؟‏

8 غالباً ایک اَور بات بھی تھی جس کی وجہ سے مریم کو یہ ترغیب ملی ہوگی کہ وہ یوسف کے ساتھ سفر پر جائیں۔‏ ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مریم اُس پیش‌گوئی سے واقف تھیں جس کے مطابق مسیح نے بیت‌لحم میں پیدا ہونا تھا۔‏ دراصل یہ ایسی بات تھی جس سے نہ صرف اُس زمانے کے مذہبی رہنما بلکہ عام لوگ بھی واقف تھے۔‏ (‏متی 2:‏1-‏7؛‏ یوح 7:‏40-‏42‏)‏ اور بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ مریم پاک صحیفوں کا گہرا علم رکھتی تھیں۔‏ (‏لُو 1:‏46-‏55‏)‏  بہرحال چاہے مریم کو اپنے شوہر کی فرمانبرداری کا خیال تھا،‏ چاہے وہ شاہی فرمان کی وجہ سے ایسا کر رہی تھیں،‏ چاہے اُن کے ذہن میں یہوواہ کی پیش‌گوئی تھی یا چاہے وہ اِن سبھی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھیں،‏ اُنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ سفر کرنے کا فیصلہ کر کے ایک شان‌دار مثال قائم کی۔‏ یہوواہ ایسے مردوں اور عورتوں کی بڑی قدر کرتا ہے جن میں خاکساری اور فرمانبرداری کا جذبہ پایا جاتا ہے۔‏ آج ہم جس تاریک دُنیا میں رہتے ہیں،‏ اُس میں زیادہ‌تر لوگوں کو اِختیار کے تابع رہنا پسند نہیں ہے۔‏ لیکن جو لوگ خدا سے پیار کرتے ہیں،‏ اُن کے لیے مریم کی مثال ایک روشن دیے کی طرح ہے۔‏

مسیح کی پیدائش

9،‏ 10.‏ ‏(‏الف)‏ جب مریم اور یوسف بیت‌لحم کے قریب پہنچنے والے تھے تو اُنہوں نے کس بارے میں سوچا ہوگا؟‏ (‏ب)‏ یوسف اور مریم کہاں ٹھہرے اور کیوں؟‏

9 سفر کرتے کرتے جب مریم کو دُور سے بیت‌لحم کی ایک جھلک نظر آئی ہوگی تو اُن کی جان میں جان آ گئی ہوگی۔‏ پہاڑی راستوں پر چڑھتے اور زیتون کے درختوں میں سے گزرتے وقت جن پر ابھی بھی پھل لگے ہوئے تھے،‏ شاید مریم اور یوسف نے اِس چھوٹے سے شہر کی تاریخ کے بارے میں سوچا ہو۔‏ میکاہ کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یہوداہ کا ایک معمولی سا شہر تھا۔‏ لیکن دراصل یہ وہی بیت‌لحم تھا جہاں 1000 سال سے زیادہ عرصہ پہلے بوعز،‏ نعومی اور بعد میں داؤد کی بھی پیدائش ہوئی تھی۔‏

10 جب مریم اور یوسف بیت‌لحم پہنچے تو یہ لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔‏ چونکہ اُن سے پہلے ہی کافی لوگ اپنے نام لکھوانے کے لیے آ چُکے تھے اِس لیے اُنہیں مسافرخانے میں رُکنے کے لیے جگہ نہیں ملی۔‏ * اُنہیں وہ رات ایک اِصطبل میں کاٹنی پڑی۔‏ اور وہیں اچانک مریم نے درد سے کراہنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے یوسف سخت پریشان ہونے لگے۔‏ مریم کو ایسی تکلیف کا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور اُن کی یہ تکلیف لمحہ بہ لمحہ اَور شدید ہوتی جا رہی تھی۔‏ دراصل مریم کو حمل کی دردیں شروع ہو گئی تھیں۔‏

11.‏ ‏(‏الف)‏ مائیں مریم کی حالت کو کیوں سمجھ سکتی ہیں؟‏ (‏ب)‏ یسوع کن لحاظ سے پہلوٹھے تھے؟‏

11 کسی بھی ماں کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اُس وقت مریم کی کیا حالت ہو رہی ہوگی۔‏ تقریباً 4000 سال پہلے یہوواہ نے ایک پیش‌گوئی میں بتایا تھا کہ آدم سے ورثے میں ملنے والے گُناہ کی وجہ سے تمام عورتوں کو بچے کی پیدائش کے وقت تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔‏ (‏پید 3:‏16‏)‏ اور بائبل سے ایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا کہ مریم اِس تکلیف سے آزاد رہیں۔‏ اِنجیل نویس لُوقا نے اِس منظر کو مختصر سے لفظوں میں سمیٹتے ہوئے لکھا:‏ ”‏مریم کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا۔‏“‏ (‏لُو 2:‏7‏)‏ اگرچہ بعد میں مریم کے کم از کم چھ اَور بچے پیدا ہوئے مگر یہ اُن سب سے فرق تھا۔‏ (‏مر 6:‏3‏)‏ یہ نہ صرف مریم کا پہلوٹھا تھا بلکہ یہ تو یہوواہ کی ”‏تمام مخلوقات میں سے پہلوٹھا“‏ اور اُس کا اِکلوتا بیٹا تھا۔‏—‏کُل 1:‏15‏،‏ فٹ‌نوٹ۔‏

12.‏ مریم نے بچے کو کہاں رکھا اور جس طرح سے اِس منظر کی تصویرکشی کی جاتی ہے،‏ وہ حقیقت سے کیسے فرق ہے؟‏

 12 اِس کے ساتھ ہی لُوقا کی اِنجیل میں یہ مشہور منظر پیش کِیا گیا ہے:‏ ”‏[‏مریم]‏ نے اُس کو کپڑے میں لپیٹا اور چرنی میں رکھ دیا۔‏“‏ (‏لُو 2:‏7‏)‏ کرسمس کے موقعے پر کیے جانے والے ڈراموں اور تصویروں میں اِس منظر کو ایسے انداز میں پیش کِیا جاتا ہے جو بڑا دلکش ہوتا ہے۔‏ لیکن حقائق کا جائزہ لینے سے ایک بالکل فرق تصویر سامنے آتی ہے۔‏ چرنی یا کھرلی ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں جانوروں کے لیے کھانا ڈالا جاتا ہے۔‏ اور یوسف اور مریم ایک اِصطبل میں موجود تھے جہاں صاف ہوا اور صفائی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔‏ بےشک کوئی بھی ماں باپ یہ نہیں چاہے گا کہ اُن کا بچہ ایسی جگہ پر پیدا ہو بلکہ وہ اِس کے لیے اچھی سے اچھی جگہ کا اِنتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔‏ تو پھر کیا یوسف اور مریم ایسا نہیں چاہتے ہوں گے جبکہ اُن کے ہاں تو خدا کا بیٹا پیدا ہوا تھا؟‏ یقیناً اُن کی بھی یہ خواہش ہوگی لیکن اُن کے پاس کوئی اَور چارہ نہیں تھا۔‏

13.‏ ‏(‏الف)‏ حالات سے مایوس ہو کر بیٹھنے کی بجائے مریم اور یوسف نے کیا کِیا؟‏ (‏ب)‏ سمجھ‌دار والدین،‏ یوسف اور مریم کی طرح کس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟‏

13 حالات سے مایوس ہو کر بیٹھنے کی بجائے یوسف اور مریم نے جو بس میں تھا،‏ وہ کِیا۔‏ مثال کے طور پر مریم نے خود بچے کو کپڑے میں لپیٹا اور پھر احتیاط سے اُسے چرنی میں رکھ دیا تاکہ وہ گرم اور محفوظ رہے۔‏ ایسی ناگوار صورتحال میں بھی مریم نے ہر طرح سے اپنے بچے کا خیال رکھنے کی کوشش کی۔‏ وہ دونوں اِس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وہ اُس بچے کی بھلائی کے لیے سب سے بڑا کام جو کر سکتے ہیں،‏ وہ یہ ہے کہ اُس کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت بھریں۔‏ ‏(‏اِستثنا 6:‏6-‏8 کو پڑھیں۔‏)‏ آج خدا سے دُور اِس دُنیا میں سمجھ‌دار والدین بھی اپنے بچوں کی پرورش کرتے وقت اِس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔‏

آسمان سے مزید پیغامات

14،‏ 15.‏ ‏(‏الف)‏ چرواہے بچے کو کیوں دیکھنا چاہتے تھے؟‏ (‏ب)‏ اِصطبل میں بچے کو دیکھنے کے بعد چرواہوں نے کیا کِیا؟‏

14 اِس دوران اچانک کچھ ایسا ہوا کہ یوسف اور مریم چونک گئے۔‏ کچھ چرواہے بھاگے بھاگے اِصطبل میں داخل ہوئے۔‏ وہ مریم اور یوسف سے اور خاص طور پر اُس بچے سے ملنا چاہتے تھے جو ابھی ابھی پیدا ہوا تھا۔‏ اُن آدمیوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔‏ تھوڑی دیر پہلے وہ میدان میں اپنی بھیڑیں چرا رہے تھے لیکن پھر ایک ایسی بات ہوئی کہ وہ خود کو یہاں آنے سے روک نہیں پائے۔‏ * اُنہوں نے یوسف اور مریم کو بھی اِس بارے میں بتایا جو اِس سب پر حیرت میں گم تھے۔‏ ہوا دراصل کچھ یوں تھا کہ آدھی رات کے وقت ایک دم سے خدا کا فرشتہ اُن کے سامنے آ گیا۔‏ پھر اُن کے اِردگِرد کی ساری جگہ یہوواہ کی شان کی بدولت روشنی سے چمک اُٹھی اور فرشتے  نے اُنہیں یہ خبر دی کہ ابھی ابھی بیت‌لحم میں مسیح پیدا ہوا ہے۔‏ اُس نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ اُنہیں وہ بچہ کپڑے میں لپیٹا اور چرنی میں پڑا ہوا ملے گا۔‏ اِس کے بعد ایک ایسی بات واقع ہوئی جسے دیکھ کر چرواہوں کے رونگٹے ہی کھڑے ہو گئے ہوں گے۔‏ اُنہیں فرشتوں کی ایک بڑی فوج خدا کی حمد کرتی ہوئی دِکھائی دی۔‏—‏لُو 2:‏8-‏14‏۔‏

15 اِتنے حیران‌کُن مناظر دیکھنے کے بعد چرواہے ذرا بھی دیر کیے بغیر بیت‌لحم کی طرف دوڑے۔‏ وہ یقیناً اُس وقت خوشی سے جھوم اُٹھے ہوں گے جب اُنہیں فرشتے کے کہنے کے مطابق ایک بچہ چرنی میں پڑا ہوا نظر آیا ہوگا۔‏ اُنہوں نے اِس خوش‌خبری کو اپنے تک نہیں رکھا بلکہ لوگوں کو بھی اِس کے بارے میں بتایا۔‏ ”‏اور جس جس نے چرواہوں کی باتیں سنیں،‏ وہ حیران ہو گیا۔‏“‏ (‏لُو 2:‏17،‏ 18‏)‏ اُس زمانے کے مذہبی رہنما چرواہوں کو اپنے پاؤں کی دھول سمجھتے تھے۔‏ لیکن یہوواہ اُن وفادار اور خاکسار چرواہوں کی بڑی قدر کرتا تھا جو یسوع سے ملنے آئے تھے۔‏ البتہ یہ سب دیکھنے اور سننے کے بعد مریم پر کیا اثر ہوا؟‏

یہوواہ اُن وفادار اور خاکسار چرواہوں کی بڑی قدر کرتا تھا جو یسوع سے ملنے گئے۔‏

16.‏ ایک وجہ کیا تھی جس کی بِنا پر مریم ساری زندگی اپنے ایمان کو مضبوط رکھ پائیں؟‏

16 بچے کی پیدائش کی دردیں سہنے کے بعد بےشک مریم تھک کر چُور ہو گئی ہوں گی۔‏ مگر پھر بھی اُنہوں نے بڑے دھیان سے چرواہوں کی باتوں کو سنا۔‏ صرف اِتنا ہی نہیں بلکہ ”‏مریم نے یہ ساری باتیں ذہن میں بٹھا لیں اور اِن پر سوچ بچار کرتی رہیں۔‏“‏ (‏لُو 2:‏19‏)‏ دراصل مریم کی یہ عادت تھی کہ وہ اہم باتوں پر سوچ بچار کرتی تھیں۔‏ وہ جانتی تھیں کہ فرشتے نے چرواہوں کو جو پیغام دیا ہے،‏ وہ نہایت اہم ہے۔‏ یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ مریم اِس بات کو سمجھیں کہ اُن کا بیٹا کون ہے اور اُس کی کیا اہمیت ہے۔‏ لہٰذا مریم نے چرواہوں کی باتوں کو صرف سننے کی بجائے اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیا تاکہ وہ آنے والے مہینوں اور سالوں کے دوران اِن پر غوروخوض کر سکیں۔‏ یہ مریم کی ایک ایسی عادت تھی جس نے ساری زندگی اُن کے ایمان کو مضبوط رکھا۔‏‏—‏عبرانیوں 11:‏1 کو پڑھیں۔‏

مریم نے دھیان سے چرواہوں کی باتیں سنیں اور اِنہیں ذہن میں بٹھا لیا۔‏

17.‏ ہم مریم کی مثال سے کون سا اہم سبق سیکھتے ہیں؟‏

17 کیا آپ مریم کی مثال پر عمل کریں گے؟‏ یہوواہ کا کلام نہایت اہم سچائیوں سے بھرا ہوا ہے۔‏ لیکن ہمیں اِن سچائیوں کا فائدہ تبھی ہوگا جب ہم اِن پر دھیان دیں گے۔‏ اِس کے لیے ہمیں باقاعدگی سے خدا کے کلام کو پڑھنا چاہیے اور ایسا کرتے وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کوئی عام سی کتاب نہیں ہے بلکہ خدا کے اِلہام سے لکھی گئی ہے۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏16‏)‏ اِس کے بعد ہمیں مریم کی طرح یہوواہ کی کہی گئی باتوں کو ذہن میں بٹھانا چاہیے اور اِن پر سوچ بچار کرنا چاہیے۔‏ جب ہم اُس سب پر غوروخوض کریں گے جو ہم بائبل میں پڑھتے ہیں اور یہ سوچیں گے کہ ہم خدا کی ہدایات پر اَور اچھی طرح کیسے عمل کر سکتے ہیں تو ہمارے ایمان کا پودا بڑھتا جائے گا۔‏

 ہیکل میں ملنے والی حوصلہ‌افزائی

18.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع کی پیدائش کے آٹھویں اور چالیسویں دن مریم اور یوسف نے شریعت کی پابندی کیسے کی؟‏ (‏ب)‏ یوسف اور مریم نے ہیکل میں جو قربانی چڑھائی،‏ اُس سے اُن کی مالی حالت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

18 بچے کی پیدائش کے آٹھویں دن مریم اور یوسف نے شریعت کے مطابق اُس کا ختنہ کروایا اور دی گئی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اُس کا نام یسوع رکھا۔‏ (‏لُو 1:‏31‏)‏ پھر 40ویں دن وہ اُسے ہیکل میں لے گئے جو کہ بیت‌لحم سے تقریباً 10 کلومیٹر (‏6 میل)‏ کے فاصلے پر یروشلیم میں تھی۔‏ وہاں اُنہوں نے مریم کو پاک کرنے کے سلسلے میں وہ قربانی پیش کی جو شریعت کے مطابق غریب لوگ چڑھا سکتے تھے یعنی ”‏ایک فاختہ کا جوڑا یا کبوتر کے دو بچے۔‏“‏ ہو سکتا ہے کہ مریم اور یوسف کو اِس بات پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہو کہ وہ دیگر والدین کی طرح برّہ قربان نہیں کر رہے ہیں۔‏ لیکن اُنہوں نے ایسے احساسات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔‏ بہرحال اُن کے لیے ہیکل میں آنا بڑا اچھا رہا کیونکہ یہاں اُنہیں بہت حوصلہ‌افزائی ملی۔‏—‏احبا 12:‏6-‏8؛‏ لُو 2:‏21-‏24‏۔‏

19.‏ ‏(‏الف)‏ مریم نے شمعون کی کن باتوں کو ذہن میں بٹھا لیا ہوگا؟‏ (‏ب)‏ یسوع کو دیکھ کر حناہ نے کیا کِیا؟‏

19 ہیکل میں شمعون نامی ایک عمررسیدہ شخص مریم اور یوسف کے پاس آیا۔‏ شمعون نے اُن سے اَور ایسی باتیں کہیں جنہوں نے مریم کے ذہن میں گھر کر لیا ہوگا۔‏ شمعون سے یہ وعدہ کِیا گیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے مسیح کو دیکھیں گے اور یہوواہ کی پاک روح نے اُن پر ظاہر کر دیا تھا کہ ننھے یسوع ہی وہ نجات‌دہندہ ہوں گے جن کے آنے کا وعدہ کِیا گیا تھا۔‏ شمعون نے مریم کو بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب اُنہیں اِتنی شدید تکلیف سے گزرنا پڑے گا کہ اُنہیں لگے گا جیسے کسی نے اُن کے دل میں ایک لمبی تلوار گھونپ دی ہے۔‏ (‏لُو 2:‏25-‏35‏)‏ بےشک یہ الفاظ سُن  کر مریم لرز گئی ہوں گی لیکن اِس بات نے اُنہیں اُس وقت ضرور ہمت دی ہوگی جب تقریباً 30 سال بعد تکلیف کا وہ وقت آیا۔‏ شمعون کے علاوہ حناہ نامی نبِیّہ نے بھی یسوع کو دیکھا۔‏ حناہ اُن سب لوگوں کو یسوع کے بارے میں بتانے لگیں جو یروشلیم کی رِہائی کے منتظر تھے۔‏‏—‏لُوقا 2:‏36-‏38 کو پڑھیں۔‏

مریم اور یوسف کے لیے ہیکل میں جانا بڑی حوصلہ‌افزائی کا باعث بنا۔‏

20.‏ یوسف اور مریم نے یسوع کو ہیکل میں لا کر اچھا فیصلہ کیوں کِیا تھا؟‏

20 یوسف اور مریم کا اپنے بچے کو ہیکل میں لانے کا فیصلہ بہت اچھا ثابت ہوا۔‏ یسوع کو ہیکل میں لا کر اُنہوں نے ایک اچھی بنیاد ڈالی اور آگے چل کر یسوع باقاعدگی سے یہاں آتے رہے۔‏ ہیکل میں یوسف اور مریم نے اپنی مالی حیثیت کے لحاظ سے بہترین قربانی چڑھائی اور حوصلہ‌افزائی اور ہدایت حاصل کی۔‏ وہاں سے نکلتے وقت یقیناً مریم کا ایمان اَور پُختہ ہو گیا ہوگا اور اُن کا ذہن اَور ایسی اہم باتوں سے بھر گیا ہوگا جن پر وہ خود سوچ بچار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے بھی بات کر سکتی تھیں۔‏

21.‏ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ مریم کی طرح ہمارا ایمان بھی مضبوط ہوتا جائے؟‏

21 یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ آج مسیحی والدین یوسف اور مریم کی مثال پر عمل کرتے ہیں اور باقاعدگی سے اپنے بچوں کو اِجلاسوں میں لاتے ہیں!‏ یوسف اور مریم کی طرح وہ بھی جو کچھ کر سکتے ہیں،‏ کرتے ہیں۔‏ جب وہ اِجلاسوں میں آتے ہیں تو اپنی باتوں سے دوسروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔‏ اور اِجلاسوں کے بعد ایسے والدین کا ایمان اَور مضبوط ہو جاتا ہے،‏ اُن کی خوشی اَور بڑھ جاتی ہے اور اُن کے پاس اَور ایسی اچھی باتیں ہوتی ہیں جو وہ دوسروں کو بتا سکتے ہیں۔‏ ایسے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر عبادت کرنے سے ہمارے دل خوشی سے بھر جاتے ہیں اور مریم کی طرح ہمارا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے۔‏

^ پیراگراف 7 ذرا غور کریں کہ اِس واقعے اور اِس سے کچھ عرصہ پہلے ہونے والے ایک واقعے سے کیا فرق پتہ چلتا ہے۔‏ لُوقا کی اِنجیل میں بتایا گیا ہے کہ جب مریم کو یہوداہ میں الیشبع کے گھر جانا تھا تو وہ ”‏روانہ ہوئیں اور .‏ .‏ .‏ یہوداہ کے ایک شہر کو گئیں۔‏“‏ (‏لُو 1:‏39‏)‏ اُس وقت مریم کی منگنی ہو چُکی تھی لیکن ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔‏ اِس لیے شاید اُنہوں نے یوسف سے مشورہ کیے بغیر الیشبع کے پاس جانے کا فیصلہ کِیا تھا۔‏ لیکن لُوقا 2:‏5 میں درج الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کے بعد بیت‌لحم کے سفر پر جانے کا فیصلہ یوسف کا تھا،‏ مریم نے بس اُن کا ساتھ دیا۔‏

^ پیراگراف 10 اُس زمانے میں شہروں میں یہ دستور تھا کہ مسافروں اور قافلوں کو ٹھہرنے کے لیے کوئی جگہ دی جاتی تھی۔‏

^ پیراگراف 14 یہ بات قابلِ‌غور ہے کہ یسوع کی پیدائش کے وقت چرواہے باہر میدان میں اپنی بھیڑیں چرا رہے تھے۔‏ یہ تفصیل اُس بات کی حمایت کرتی ہے جو اِنجیلوں میں درج واقعات کی تاریخوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتی ہے۔‏ بات یہ ہے کہ یسوع دسمبر میں نہیں بلکہ اکتوبر کے شروع میں پیدا ہوئے کیونکہ دسمبر کے مہینے میں بھیڑوں کو کُھلے میدان کی بجائے باڑے میں رکھا جاتا تھا۔‏