مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر 4

‏”‏جہاں تُو جائے گی مَیں جاؤں گی“‏

‏”‏جہاں تُو جائے گی مَیں جاؤں گی“‏

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ رُوت اور نعومی کا سفر بیان کریں اور بتائیں کہ وہ دونوں غم سے نڈھال کیوں ہیں۔‏ (‏ب)‏ رُوت کا سفر کس لحاظ سے نعومی کے سفر سے فرق ہے؟‏

ذرا تصور کریں کہ رُوت اور نعومی اُس راستے پر چل رہی ہیں جو موآب کے اُونچے میدانوں سے گزرتا ہے۔‏ اُن دونوں کے علاوہ یہاں کوئی بندہ بشر نظر نہیں آ رہا۔‏ سائے ڈھل رہے ہیں اور شام ہونے والی ہے۔‏ رُوت اپنی ساس نعومی کی طرف دیکھتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ اب اُنہیں رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈ لینی چاہیے۔‏ وہ نعومی سے بہت پیار کرتی ہیں اور ہر طرح سے اُن کا خیال رکھنا چاہتی ہیں۔‏

2 یہ دونوں عورتیں غم کے بوجھ تلے دبی ہیں۔‏ نعومی کے شوہر کو فوت ہوئے کئی سال بیت چُکے ہیں۔‏ لیکن حال ہی میں اُنہیں اپنے دونوں بیٹوں کلیون اور محلون کی موت کا صدمہ بھی جھیلنا پڑا ہے۔‏ رُوت بھی غم سے نڈھال ہیں کیونکہ محلون اُن کے شوہر تھے۔‏ صدمے میں ڈوبی اِن عورتوں کی منزل اِسرائیل کا شہر بیت‌لحم ہے۔‏ لیکن ایک لحاظ سے اُن دونوں کا سفر ایک دوسرے سے فرق ہے۔‏ بیت‌لحم نعومی کا آبائی شہر ہے جبکہ رُوت وہاں پہلی دفعہ جا رہی ہیں۔‏ نعومی کے ساتھ اُن کے دیس جانے کے لیے رُوت نے اپنا سب کچھ یعنی اپنے گھر والوں،‏ اپنے ملک،‏ اِس کے رسم‌ورواج اور دیوی دیوتاؤں کو چھوڑ دیا ہے۔‏‏—‏رُوت 1:‏3-‏6 کو پڑھیں۔‏

3.‏ کن سوالوں پر غور کرنے سے ہم رُوت جیسا ایمان ظاہر کر پائیں گے؟‏

3 رُوت جیسی جوان عورت اِتنا بڑا قدم اُٹھانے کے لیے کیوں تیار ہو گئی؟‏ وہ ایک پرائے دیس میں اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے کے ساتھ ساتھ نعومی کا خیال کیسے رکھ پائیں؟‏ اِن سوالوں پر غور کرنے سے ہم سیکھ پائیں گے کہ ہم رُوت جیسا ایمان کیسے ظاہر کر سکتے ہیں۔‏ (‏بکس ”‏ چھوٹی سی کتاب مگر بڑا شاہکار‏“‏ کو بھی دیکھیں۔‏)‏ لیکن آئیں،‏ پہلے یہ دیکھیں کہ وقت نے ایسی کون سی کروٹ لی کہ یہ دونوں عورتیں بیت‌لحم جانے والے راستے پر آ پہنچیں۔‏

ایک خاندان جس پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا

4،‏ 5.‏ ‏(‏الف)‏ نعومی کا خاندان موآب کیوں گیا؟‏ (‏ب)‏ نعومی کو موآب میں کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟‏

4 رُوت نے موآب میں پرورش پائی جو کہ بحیرۂمُردار کے مشرق میں واقع ایک چھوٹا سا ملک تھا۔‏ اِس ملک میں سطح زمین سے اُونچے میدان تھے جن کے بیچ گہری کھائیاں تھیں۔‏ موآب بہت زرخیز ملک تھا اور اِس میں اُس وقت  بھی فصل پیدا کی جاتی تھی جب ملک اِسرائیل قحط‌سالی کا شکار ہوتا تھا۔‏ محلون اور اُن کے خاندان سے رُوت کی ملاقات اُسی وقت ہوئی تھی جب اِسرائیل میں قحط پڑا تھا۔‏—‏رُوت 1:‏1‏۔‏

5 قحط‌سالی کے وقت نعومی کے شوہر الیملک اپنی بیوی اور دونوں بیٹوں کے ساتھ موآب چلے گئے۔‏ اِس قدم کی وجہ سے اِس خاندان کے ہر فرد کے ایمان کا اِمتحان ہوا ہوگا کیونکہ بنی‌اِسرائیل کو باقاعدگی سے اُس جگہ عبادت کے لیے جمع ہونا ہوتا تھا جو یہوواہ نے چُنی تھی۔‏ (‏اِست 16:‏16،‏ 17‏)‏ ایسے حالات میں بھی نعومی نے اپنے ایمان کو زندہ رکھا۔‏ پھر بھی اُنہیں اُس وقت بڑا صدمہ پہنچا جب موت نے اُن کے شوہر کو اُن سے چھین لیا۔‏—‏رُوت 1:‏2،‏ 3‏۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ جب نعومی کے بیٹوں نے موآبی عورتوں سے شادی کی تو وہ پریشان کیوں ہوئی ہوں گی؟‏ (‏ب)‏ نعومی جس طرح سے اپنی بہوؤں کے ساتھ پیش آتی تھیں،‏ وہ قابلِ‌تعریف کیوں ہے؟‏

6 نعومی کا دل اُس وقت بھی دُکھا ہوگا جب اُن کے بیٹوں نے موآبی عورتوں سے شادی کی۔‏ (‏رُوت 1:‏4‏)‏ وہ جانتی تھیں کہ اُن کی قوم کے بزرگ ابراہام نے خاص کوشش کی تھی کہ اُن کے بیٹے اِضحاق کی شادی اُن لوگوں میں ہو جو یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں۔‏ (‏پید 24:‏3،‏ 4‏)‏ بعد میں موسیٰ کی شریعت میں بھی بنی‌اِسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی غیرقوم کے لوگوں سے نہ کروائیں تاکہ وہ بُت‌پرستی میں نہ پڑ جائیں۔‏—‏اِست 7:‏3،‏ 4‏۔‏

7 البتہ محلون اور کلیون نے موآبی عورتیں بیاہ لیں۔‏ اگر نعومی اِس وجہ سے مایوس اور پریشان ہوئی بھی ہوں گی تو بھی اُنہوں نے اپنی بہوؤں رُوت اور عرفہ کے لیے محبت اور مہربانی ظاہر کی۔‏ ہو سکتا ہے کہ اُنہیں اِس بات کی اُمید تھی کہ کبھی نہ کبھی وہ دونوں بھی اُن کی طرح یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں گی۔‏ بہرحال رُوت اور عرفہ،‏ نعومی سے بہت پیار کرتی تھیں۔‏ اور اُن کے آپسی پیار کی بدولت ہی وہ صدمے کے وقت میں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔‏ جب وہ اِس صدمے سے دوچار ہوئیں تو اُس وقت رُوت اور عرفہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔‏—‏رُوت 1:‏5‏۔‏

8.‏ رُوت،‏ یہوواہ کے قریب کیسے ہوئی ہوں گی؟‏

8 رُوت بچپن سے جس مذہب کا حصہ تھیں،‏ اُس میں سوگواروں کے لیے کوئی تسلی نہیں پائی جاتی تھی۔‏ موآبی بہت سے دیوتاؤں کو پوجتے تھے اور کموس اُن کا سب سے بڑا دیوتا تھا۔‏ (‏گن 21:‏29‏)‏ ایسا لگتا ہے کہ موآبیوں کے مذہب میں بھی اُس زمانے کے دیگر مذاہب کی طرح بچوں کی قربانی اور اِس جیسے دوسرے ہول‌ناک کام کیے جاتے تھے۔‏ مگر جب رُوت محلون اور نعومی سے یہوواہ کی شفقت اور رحم کے بارے میں سنتی ہوں گی تو وہ یہ سمجھ جاتی ہوں گی کہ یہوواہ خدا اور اُن دیوتاؤں میں کتنا فرق ہے جنہیں وہ بچپن سے پوجتی آئی ہیں۔‏ یہوواہ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے محبت کی بِنا پر اُس کی عبادت کریں نہ کہ اُس سے دہشت کھا کر۔‏ ‏(‏اِستثنا 6:‏5 کو پڑھیں۔‏)‏ جب رُوت کا شوہر اُن سے بچھڑ گیا تو اُس وقت وہ نعومی کے اَور قریب ہو گئی ہوں گی۔‏ ایسی صورتحال میں جب نعومی اُنہیں بتاتی ہوں گی کہ یہوواہ کتنا عظیم ہے،‏ اُس نے کتنے شان‌دار کام کیے ہیں اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ کتنی شفقت سے پیش آیا ہے تو اُن کی باتیں رُوت کے دل پر زیادہ اثر کرتی ہوں گی۔‏

رُوت اُس وقت نعومی کے اَور قریب ہو گئیں جب وہ دونوں صدمے سے دوچار تھیں۔‏

9-‏11.‏ ‏(‏الف)‏ نعومی،‏ رُوت اور عرفہ نے کیا فیصلہ کِیا؟‏ (‏ب)‏ نعومی،‏ رُوت اور عرفہ کو جن مصیبتوں سے گزرنا پڑا،‏ اُن سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

 9 جہاں تک نعومی کی بات ہے تو وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ اُن کے آبائی ملک کے حالات کیسے ہیں۔‏ ایک دن غالباً کسی تاجر سے اُنہیں یہ خبر ملی کہ اِسرائیل میں قحط ختم ہو گیا ہے۔‏ یہوواہ نے اپنے لوگوں پر نظرِکرم کی تھی۔‏ بیت‌لحم میں جس کا مطلب ”‏روٹی کا گھر“‏ ہے،‏ ایک بار پھر کثرت سے اناج پیدا کِیا جا رہا تھا۔‏ لہٰذا نعومی نے اپنے دیس لوٹنے کا فیصلہ کِیا۔‏—‏رُوت 1:‏6‏۔‏

10 لیکن رُوت اور عرفہ نے کیا کِیا؟‏ (‏رُوت 1:‏7‏)‏ چونکہ وہ دونوں بھی ویسی ہی تکلیف سے گزر رہی تھیں جس کا نعومی کو سامنا تھا اِس لیے وہ اُن کے زیادہ قریب ہو گئی تھیں۔‏ لگتا ہے کہ خاص طور پر رُوت اِس بات سے متاثر تھیں کہ نعومی نے اُن کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کِیا ہے اور وہ یہوواہ پر کتنا مضبوط ایمان رکھتی ہیں۔‏ لہٰذا رُوت اور عرفہ بھی نعومی کے ساتھ ملک یہوداہ کے لیے روانہ ہو گئیں۔‏

11 رُوت کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ مصیبتیں نہ صرف بُرے بلکہ اچھے لوگوں پر بھی آتی ہیں۔‏ (‏واعظ 9:‏2،‏ 11‏)‏ اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہم شدید صدمے میں ہوں تو ہمیں دوسروں اور خاص طور پر اُن لوگوں کا سہارا لینا چاہیے جو نعومی کی طرح یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں۔‏—‏امثا 17:‏17‏۔‏

رُوت—‏بےلوث محبت کی مثال

12،‏ 13.‏ ‏(‏الف)‏ نعومی کیوں چاہتی تھیں کہ رُوت اور عرفہ اُن کے ساتھ جانے کی بجائے اپنے دیس لوٹ جائیں؟‏ (‏ب)‏ جب نعومی نے رُوت اور عرفہ کو اپنے میکے لوٹ جانے کو کہا تو اُن کا ردِعمل کیا تھا؟‏

12 جب یہ تینوں عورتیں موآب سے کافی دُور آ چُکی تھیں تو نعومی کو ایک اَور بات کی فکر ستانے لگی۔‏ وہ سوچنے لگیں کہ رُوت اور عرفہ نے اُن کے اور اُن کے بیٹوں کے لیے کتنی محبت ظاہر کی ہے۔‏ نعومی نہیں چاہتی تھیں کہ اُن کی وجہ سے رُوت اور عرفہ کے بوجھ میں اِضافہ ہو جائے۔‏ اُنہیں یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ دونوں اپنا دیس چھوڑ کر اُن کے ساتھ بیت‌لحم چلی جائیں گی تو وہاں اُن کا کیا بنے گا۔‏

13 اِن باتوں کے بارے میں سوچ سوچ کر آخرکار نعومی نے رُوت اور عرفہ سے کہا:‏ ”‏تُم دونوں اپنے اپنے میکے کو جاؤ۔‏ جیسا تُم نے مرحوموں کے ساتھ اور میرے ساتھ کِیا ویسا ہی [‏یہوواہ]‏ تمہارے ساتھ مہر سے پیش آئے۔‏“‏ نعومی نے اُنہیں یہ دُعا بھی دی کہ یہوواہ دوبارہ سے اُن کے گھر بسائے اور اُن کی جھولی خوشیوں سے بھر دے۔‏ پھر نعومی نے  اُن کو چُوما اور وہ تینوں ”‏چلّا چلّا کر رونے لگیں۔‏“‏ نعومی واقعی ایک مہربان اور بےغرض خاتون تھیں۔‏ اِنہی خوبیوں کی وجہ سے اُنہوں نے رُوت اور عرفہ کے دل میں گھر کر لیا تھا۔‏ لہٰذا وہ دونوں نعومی سے اِصرار کرتی رہیں:‏ ”‏نہیں بلکہ ہم تیرے ساتھ لوٹ کر تیرے لوگوں میں جائیں گی۔‏“‏—‏رُوت 1:‏8-‏10‏۔‏

14،‏ 15.‏ ‏(‏الف)‏ نعومی نے رُوت 1:‏15 میں جو بات کہی،‏ اُس سے عرفہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏ (‏ب)‏ نعومی نے رُوت کو موآب لوٹ جانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کیسے کی؟‏

14 نعومی اِتنی آسانی سے رُوت اور عرفہ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئیں۔‏ اُنہوں نے اُن دونوں کو سمجھایا کہ اِسرائیل میں وہ اُن کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر پائیں گی۔‏ اُن کا شوہر زندہ نہیں تھا کہ اُن کا پیٹ پال سکے اور اُن کے کوئی اَور بیٹے بھی نہیں تھے کہ رُوت اور عرفہ سے شادی کر سکیں۔‏ اور اِس بات کی کوئی اُمید بھی نہیں تھی کہ نعومی اِس عمر میں شادی کرتیں اور رُوت اور عرفہ سے بیاہنے کے لیے بیٹے پیدا کرتیں۔‏ اُنہوں نے اِس بات پر دُکھ کا اِظہار بھی کِیا کہ وہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے اُن دونوں کا خیال نہیں رکھ سکتیں۔‏ نعومی کی باتیں عرفہ کی سمجھ میں آ گئیں۔‏ موآب میں اُن کی ماں اور گھر والے تھے جن کے پاس وہ لوٹ سکتی تھیں۔‏ سمجھ‌داری اِسی میں نظر آ رہی تھی کہ وہ موآب ہی میں رہیں۔‏ لہٰذا اُنہوں نے نعومی کو چُوما اور دل پر پتھر رکھ کر اُنہیں خداحافظ کہہ دیا۔‏—‏رُوت 1:‏11-‏14‏۔‏

15 لیکن رُوت نے کیا کِیا؟‏ نعومی یہ ساری باتیں اُنہیں بھی سمجھا رہی تھیں۔‏ مگر ”‏رُؔوت [‏نعومی]‏ سے لپٹی“‏ رہیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ نعومی نے دوبارہ سے اپنی منزل کی طرف چلنا شروع کر دیا ہو اور پھر دیکھا ہو کہ رُوت کچھ فاصلے پر اُن کے پیچھے پیچھے آ رہی ہیں۔‏ اُنہوں نے رُوت کو پھر سے سمجھایا:‏ ”‏دیکھ تیری جٹھانی اپنے کُنبے اور اپنے دیوتا کے پاس لوٹ گئی۔‏ تُو بھی اپنی جٹھانی کے پیچھے چلی جا۔‏“‏ (‏رُوت 1:‏15‏)‏ نعومی کے الفاظ سے ایک خاص بات کا پتہ چلتا ہے۔‏ عرفہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ ”‏اپنے دیوتا“‏ کے پاس بھی لوٹ گئی تھیں۔‏ اُنہیں اِس بات میں کوئی حرج نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ دوبارہ سے کموس اور دیگر جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش کریں۔‏ مگر کیا رُوت کی بھی یہی سوچ تھی؟‏

16-‏18.‏ ‏(‏الف)‏ رُوت نے محبت کی مثال کیسے قائم کی؟‏ (‏ب)‏ ہم رُوت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ (‏رُوت اور نعومی کی تصویروں کو بھی دیکھیں۔‏)‏

 16 رُوت کا دل نعومی کے لیے اور اُس خدا کے لیے محبت سے بھرا ہوا تھا جس کی نعومی عبادت کرتی تھیں۔‏ لہٰذا وہ اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیں اور نعومی سے کہنے لگیں:‏ ”‏تُو مِنت نہ کر کہ مَیں تجھے چھوڑوں اور تیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تُو جائے گی مَیں جاؤں گی اور جہاں تُو رہے گی مَیں رہوں گی۔‏ تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا ہوگا۔‏ جہاں تُو مرے گی مَیں مروں گی اور وہیں دفن بھی ہوں گی۔‏ [‏یہوواہ]‏ مجھ سے ایسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کرے اگر موت کے سوا کوئی اَور چیز مجھ کو تجھ سے جُدا کر دے۔‏“‏—‏رُوت 1:‏16،‏ 17‏۔‏

‏”‏تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا ہوگا۔‏“‏

17 رُوت کے الفاظ اِتنے خوب‌صورت ہیں کہ تقریباً 3000 سال گزر جانے کے بعد بھی یہ ہمارے دل کو چُھو لیتے ہیں۔‏ اِن الفاظ سے پیارومحبت کے جذبات ٹپکتے ہیں۔‏ رُوت،‏ نعومی سے اِتنی زیادہ محبت کرتی تھیں کہ وہ اُن کے ساتھ کہیں بھی جانے کو تیار تھیں۔‏ صرف موت ہی اُنہیں ایک دوسرے سے جُدا کر سکتی تھی۔‏ رُوت،‏ نعومی کی قوم کے لوگوں کو اپنے لوگ بنانا چاہتی تھیں اور اِسی لیے وہ اپنا سب کچھ،‏ یہاں تک کہ اپنے دیوتاؤں کو بھی چھوڑنے کے لیے تیار تھیں۔‏ عرفہ کے برعکس رُوت پورے دل سے نعومی کے خدا یہوواہ کو اپنا خدا بنانا چاہتی تھیں۔‏ *

18 لہٰذا رُوت اور نعومی نے بیت‌لحم کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔‏ ایک اندازے کے مطابق اُنہیں وہاں پہنچنے میں شاید ایک ہفتہ لگا ہوگا۔‏ بِلاشُبہ اِس سفر کے دوران وہ ایک دوسرے کے دُکھی دل کو دِلاسا دینے کی کوشش کرتی رہی ہوں گی۔‏

19.‏ آپ کے خیال میں ہم اپنے گھر والوں اور کلیسیا کے بہن بھائیوں کے لیے رُوت جیسی محبت کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

19 یہ دُنیا غموں سے بھری پڑی ہے۔‏ لیکن اِس میں حیرانی کی بات نہیں کیونکہ بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏آخری زمانے میں مشکل وقت آئے گا۔‏“‏ (‏2-‏تیم 3:‏1‏)‏ اِس آخری زمانے میں رہتے ہوئے ہمیں اپنے عزیزوں کی موت اور دیگر تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ اِس لیے یہ اَور بھی ضروری ہے کہ ہم رُوت کی طرح اپنے اندر محبت کی خوبی پیدا کریں۔‏ جب ہم کسی شخص سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی رُوت نے کی تو ہم ہر حال میں اُس شخص کے وفادار رہتے ہیں اور اُس کا ساتھ نبھاتے ہیں۔‏ یہ محبت اِس بےوفا اور خودغرض دُنیا میں لوگوں کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے۔‏ ہمیں اپنے ازدواجی بندھن کو،‏ گھریلو رشتوں کو،‏ دوستیوں کو اور ہم‌ایمانوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے لیے اِس محبت کی ضرورت ہے۔‏ ‏(‏1-‏یوحنا 4:‏7،‏ 8،‏ 20 کو پڑھیں۔‏)‏ ایسی محبت پیدا کرنے سے ہم رُوت کی شان‌دار مثال پر عمل کر رہے ہوں گے۔‏

 بیت‌لحم میں رُوت اور نعومی کی زندگی

20-‏22.‏ ‏(‏الف)‏ موآب میں قیام کا نعومی پر کیا اثر ہوا تھا؟‏ (‏ب)‏ نعومی اپنی مصیبتوں کے حوالے سے کس غلط سوچ میں پڑ گئی تھیں؟‏ (‏یعقوب 1:‏13 کو بھی دیکھیں۔‏)‏

20 لفظوں سے کسی کے لیے محبت کا اِظہار کرنا فرق بات ہے اور کاموں سے اِس محبت کو ظاہر کرنا فرق بات۔‏ رُوت کے پاس بھی یہ موقع تھا کہ وہ نہ صرف نعومی کے لیے بلکہ اُس خدا کے لیے بھی محبت ظاہر کریں جسے اُنہوں نے اپنا خدا بنا لیا تھا۔‏

21 آخرکار رُوت اور نعومی بیت‌لحم پہنچ گئیں۔‏ بیت‌لحم،‏ یروشلیم کے جنوب میں تقریباً 10 کلومیٹر (‏6 میل)‏ کے فاصلے پر تھا۔‏ ایسا لگتا ہے کہ بیت‌لحم میں بہت سے لوگ نعومی اور اُن کے خاندان سے واقف تھے۔‏ شاید اِسی لیے نعومی کے لوٹنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔‏ بیت‌لحم کی عورتیں اُنہیں گھورتیں اور کہتیں:‏ ”‏کیا یہ نعوؔمی ہے؟‏“‏ شاید اُن عورتوں کے لیے نعومی کو پہچاننا اِس لیے مشکل ہو رہا تھا کیونکہ موآب میں اُن کے قیام کے دوران وقت اور حالات نے اُن پر طرح طرح کے ستم ڈھائے تھے اور اِس وجہ سے وہ پہلے جیسی نہیں دِکھتی تھیں۔‏—‏رُوت 1:‏19‏۔‏

22 نعومی نے اپنی رشتےداروں اور پُرانی پڑوسنوں کو بتایا کہ اُنہیں اپنی زندگی میں کون کون سی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‏ اُنہیں تو یہ بھی لگتا تھا کہ اُن کا نام نعومی سے بدل کر مارہ رکھ دیا جائے کیونکہ نعومی کا مطلب ”‏خوش‌حالی“‏ جبکہ مارہ کا مطلب ”‏تلخی“‏ ہے۔‏ مصیبتوں کی ماری نعومی بھی ایوب کی طرح یہ سوچ رہی تھیں کہ اُن پر یہ مصیبتیں یہوواہ خدا لایا ہے۔‏—‏رُوت 1:‏20،‏ 21؛‏ ایو 2:‏10؛‏ 13:‏24-‏26‏۔‏

23.‏ ‏(‏الف)‏ بیت‌لحم پہنچ کر رُوت کیا سوچنے لگیں؟‏ (‏ب)‏ موسیٰ کی شریعت میں غریبوں کے لیے کیا بندوبست تھا؟‏ (‏فٹ‌نوٹ کو بھی دیکھیں۔‏)‏

23 بیت‌لحم پہنچنے کے بعد رُوت یہ سوچنے لگیں کہ وہ اپنا اور نعومی کا گزربسر کیسے کریں گی۔‏ اُنہیں پتہ چلا کہ یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل کو جو شریعت دی ہے،‏ اُس میں غریبوں کے لیے ایک پُرمحبت بندوبست ہے۔‏ غریبوں کو یہ اِجازت تھی کہ وہ کٹائی کے وقت کھیتوں میں جا سکتے تھے اور فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے گِری ہوئی بالیں چُن سکتے تھے۔‏ اِس کے علاوہ وہ اُس اناج کو بھی جمع کر سکتے تھے جو کھیتوں کے کناروں پر اُگتا تھا۔‏ *‏—‏احبا 19:‏9،‏ 10؛‏ اِست 24:‏19-‏21‏۔‏

24،‏ 25.‏ ‏(‏الف)‏ جب رُوت اِتفاق سے بوعز کے کھیتوں میں پہنچ گئیں تو اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ (‏ب)‏ بالیں چُننا کیسا کام تھا؟‏

 24 ہمارے کیلنڈر کے مطابق غالباً یہ اپریل کا مہینہ تھا جب رُوت جَو کی کٹائی کے وقت کھیتوں میں گئیں تاکہ کوئی اُنہیں اپنے کھیت میں بالیں چُننے کی اِجازت دے دے۔‏ اِتفاق سے وہ بوعز نامی شخص کے کھیتوں میں چلی گئیں جو ایک امیر آدمی تھے اور نعومی کے شوہر الیملک کے رشتےدار تھے۔‏ شریعت کے مطابق رُوت کو یہ حق تھا کہ وہ پوچھے بغیر گِری ہوئی بالیں جمع کر لیں۔‏ مگر پھر بھی اُنہوں نے اِس بندوبست کے لیے قدر ظاہر کرتے ہوئے اُس آدمی سے اِجازت لی جو کٹائی کرنے والوں کی نگرانی کر رہا تھا۔‏ جونہی اُنہیں اِجازت ملی،‏ وہ فوراً کام میں لگ گئیں۔‏—‏رُوت 1:‏22–‏2:‏3،‏ 7‏۔‏

25 ذرا اُس وقت کا تصور کریں جب رُوت کٹائی کرنے والوں کے پیچھے پیچھے کام کر رہی ہوں گی۔‏ جیسے ہی مزدور درانتی سے جَو کی بالیں کاٹتے ہوں گے،‏ رُوت جھک کر اُن بالوں کو جمع کر لیتی ہوں گی جو نیچے گِر جاتی تھیں۔‏ پھر وہ اِن بالوں کو گٹھوں میں باندھ دیتی ہوں گی اور کسی ایسی جگہ رکھ دیتی ہوں گی جہاں وہ بعد میں اِنہیں پھٹک سکیں۔‏ یہ سارا کام بہت وقت‌طلب اور تھکا دینے والا تھا اور سورج کی بڑھتی تپش اِسے اَور مشکل بنا رہی تھی۔‏ مگر رُوت بڑی محنت سے اِس کام میں لگی رہیں۔‏ وہ صرف دوپہر کے وقت تھوڑی دیر کے لیے اُس ”‏گھر“‏ یعنی جھونپڑی میں کھانا کھانے کے لیے رُکیں جو کھیت میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بنایا گیا تھا۔‏

رُوت اپنا اور نعومی کا پیٹ پالنے کے لیے ایک معمولی اور محنت‌طلب کام کرنے کو بھی تیار تھیں۔‏

26،‏ 27.‏ بوعز کیسے اِنسان تھے اور وہ رُوت کے ساتھ کیسے پیش آئے؟‏

26 رُوت کو نہ تو یہ اُمید تھی اور نہ ہی توقع کہ کوئی اُنہیں خاطر میں لائے گا۔‏ لیکن بوعز کی نظر رُوت پر پڑی اور اُنہوں نے مزدوروں کی نگرانی کرنے والے آدمی سے اُن کے بارے میں پوچھا۔‏ بوعز،‏ خدا پر مضبوط ایمان رکھتے تھے۔‏ وہ اپنے سب ملازموں سے جن میں پردیسی بھی شامل تھے،‏ اِن الفاظ میں سلام دُعا کرتے تھے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ تمہارے ساتھ ہو۔‏“‏ پھر وہ ملازم بھی ایسے ہی الفاظ میں جواب دیتے تھے۔‏ بوعز کی روحانی سوچ اِس سے بھی پتہ چلتی ہے کہ اُنہوں نے ایک باپ کی طرح رُوت کے لیے شفقت ظاہر کی۔‏ ذرا غور کریں کہ اُنہوں نے ایسا کیسے کِیا۔‏—‏رُوت 2:‏4-‏7‏۔‏

 27 بوعز نے رُوت کو ”‏اَے میری بیٹی“‏ کہہ کر مخاطب کِیا اور اُن سے کہا کہ وہ صرف اُن کے کھیتوں میں ہی بالیں چُنا کریں۔‏ اُنہوں نے رُوت کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اُن کے گھر کی عورتوں کے ساتھ رہیں تاکہ مزدور اُنہیں تنگ نہ کریں۔‏ بوعز نے اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ رُوت کو دوپہر کے وقت کھانا ملے۔‏ ‏(‏رُوت 2:‏8،‏ 9،‏ 14 کو پڑھیں۔‏)‏ سب سے بڑھ کر بوعز نے اُن کی تعریف کی اور اُن کا حوصلہ بڑھایا۔‏

28،‏ 29.‏ ‏(‏الف)‏ رُوت کے بارے میں لوگوں کے کیسے خیالات تھے؟‏ (‏ب)‏ آپ رُوت کی طرح یہوواہ کے پَروں کے نیچے پناہ کیسے لے سکتے ہیں؟‏

28 رُوت نے بوعز سے پوچھا کہ وہ اُن کے ساتھ اِتنی مہربانی سے کیوں پیش آ رہے ہیں جبکہ وہ ایک غیرقوم سے تعلق رکھتی ہیں۔‏ اِس پر بوعز نے رُوت کو بتایا کہ اُنہیں پتہ چلا ہے کہ اُنہوں نے اپنی ساس کے لیے کتنی محبت ظاہر کی ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ نعومی نے بیت‌لحم کی عورتوں کے سامنے رُوت کی بڑی تعریف کی ہو اور اِس بات کی خبر بوعز کے کانوں تک بھی پہنچی ہو۔‏ بوعز یہ بھی جانتے تھے کہ رُوت،‏ یہوواہ پر ایمان لے آئی ہیں۔‏ اِسی لیے اُنہوں نے رُوت سے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ تیرے کام کا بدلہ دے بلکہ [‏یہوواہ]‏ اِؔسرائیل کے خدا کی طرف سے جس کے پَروں کے نیچے تُو پناہ کے لئے آئی ہے تجھ کو پورا اجر ملے۔‏“‏—‏رُوت 2:‏12‏۔‏

29 بِلاشُبہ اِن الفاظ سے رُوت کو بڑی ہمت ملی ہوگی۔‏ جس طرح پرندے کا بچہ اُس کے پَروں تلے پناہ لیتا ہے اُسی طرح رُوت نے یہوواہ خدا کے پَروں کے نیچے پناہ لے لی تھی۔‏ رُوت نے بوعز کا شکریہ ادا کِیا کہ اُنہوں نے اُن کا حوصلہ بڑھایا ہے۔‏ پھر وہ شام ڈھلنے تک کام کرتی رہیں۔‏—‏رُوت 2:‏13،‏ 17‏۔‏

30،‏ 31.‏ ہم محنت سے کام کرنے،‏ دوسروں کی مہربانی کی قدر کرنے اور محبت ظاہر کرنے کے سلسلے میں رُوت کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

30 رُوت نے اُن سب کے لیے بہت اچھی مثال قائم کی جنہیں معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ چونکہ وہ بیوہ ہیں اِس لیے دوسروں کو اُن کا خیال رکھنا چاہیے۔‏ اِس کی بجائے جب اُن کے لیے مہربانی دِکھائی گئی تو اُنہوں نے اِس کے لیے قدر ظاہر کی۔‏ رُوت نے نعومی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی محنت سے ایک ایسا کام کِیا جسے معمولی خیال کِیا جاتا تھا۔‏ اُنہوں نے بوعز کی اِس ہدایت پر بھی عمل کِیا کہ وہ کام کے دوران لوگوں سے میل‌جول رکھنے کے حوالے سے احتیاط برتیں۔‏ سب سے بڑھ کر اُنہوں نے اِس بات کو یاد رکھا کہ یہوواہ ہی اُن کی پناہ‌گاہ ہے۔‏

31 اگر ہم دوسروں کے لیے رُوت جیسی محبت ظاہر کریں گے،‏ اُن کی طرح خاکسار اور محنتی بنیں گے اور دوسروں کی مہربانی کی قدر کریں گے تو ہم بھی ایمان کی اچھی مثال قائم کریں گے۔‏ لیکن یہوواہ نے رُوت اور نعومی کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست کیسے کِیا؟‏ اِس سوال پر اگلے باب میں بات کی جائے گی۔‏

^ پیراگراف 17 اُردو زبان میں بائبل کے جو ترجمے دستیاب ہیں،‏ اُن میں رُوت کی کتاب سے خدا کا نام نکال دیا گیا ہے۔‏ لیکن یہ بات قابلِ‌غور ہے کہ اصلی متن کے مطابق رُوت نے صرف لفظ ”‏خدا“‏ اِستعمال نہیں کِیا جیسے عام طور پر غیرقوموں کے لوگ کِیا کرتے تھے۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے خدا کا ذاتی نام یہوواہ اِستعمال کِیا۔‏ ایک کتاب جس میں بائبل کی آیتوں کی تفسیر بیان کی گئی ہے،‏ کہتی ہے:‏ ”‏[‏رُوت کے بیان میں خدا کے نام کا ذکر کرنے سے]‏ اِس کتاب کو لکھنے والے نے ظاہر کِیا کہ یہ غیراِسرائیلی خاتون سچے خدا کی عبادت کرتی تھی۔‏“‏

^ پیراگراف 23 یہ بندوبست واقعی پُرمحبت تھا۔‏ رُوت کے ملک میں تو ایسے کسی بندوبست کا تصور بھی نہیں تھا۔‏ اُس زمانے میں اِسرائیل کے اِردگِرد کے ملکوں میں بیواؤں سے بہت بُرا سلوک کِیا جاتا تھا۔‏ ایک کتاب میں لکھا ہے:‏ ”‏جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو اُس کا آخری سہارا اُس کے بیٹے ہی ہوتے۔‏ اور اگر اُس کا کوئی بیٹا نہ ہوتا تو اُسے بھوکوں مرنے سے بچنے کے لیے خود کو غلام کے طور پر بیچنا پڑتا یا پھر جسم‌فروشی کرنی پڑتی۔‏“‏