مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۵

‏”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے“‏

‏”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے“‏

جب بچے اچھے کام کرتے ہیں تو بڑے اُن سے خوش ہوتے ہیں۔‏ جب ایک لڑکی کوئی اچھا کام کرتی ہے تو اُس کے ابو بڑے فخر سے کہتے ہیں:‏ ”‏دیکھا،‏ میری بیٹی کتنی اچھی ہے!‏“‏ اور جب ایک لڑکا کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اُس کے ابو خوش ہو کر کہتے ہیں:‏ ”‏دیکھو،‏ میرا بیٹا کتنا اچھا ہے!‏“‏

یسوع مسیح ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جن سے اُن کا باپ خوش ہوتا ہے۔‏ اِس لئے یسوع مسیح کا باپ اُن پر فخر کرتا ہے۔‏ پہلے باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ ایک بار یسوع مسیح اپنے تین دوستوں کے ساتھ ایک پہاڑ پر گئے تھے۔‏ کیا آپ کو یاد ہے کہ اُس وقت کیا ہوا تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آسمان سے خدا کی آواز آئی تھی۔‏ خدا نے کہا تھا:‏ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔‏“‏—‏متی ۱۷:‏۵‏۔‏

یسوع مسیح اپنے باپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔‏ اِس لئے وہ خوشی سے ایسے کام کرتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں۔‏ اگر ہم ایک کام خوشی سے کرتے ہیں تو یہ ہمیں زیادہ مشکل نہیں لگتا۔‏ لیکن اگر ہم ایک کام صرف اِس لئے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں مجبور کِیا جاتا ہے تو ہمیں یہ کام مشکل لگتا ہے۔‏

زمین پر آنے سے پہلے بھی یسوع مسیح خوشی سے وہ کام کرتے تھے جو اُن کا باپ اُن کو دیتا تھا۔‏ یسوع مسیح آسمان پر بہت بڑا درجہ رکھتے تھے۔‏ لیکن پھر خدا نے اُن کو ایک خاص کام دیا۔‏ اِس کام کو کرنے کے لئے یسوع مسیح کو آسمان چھوڑنا تھا اور زمین پر آنا تھا۔‏ اِس کا مطلب ہے کہ اُن کو بچے کے طور پر پیدا ہونا تھا۔‏ یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ یسوع مسیح زمین پر آئیں۔‏ اِس لئے یسوع مسیح زمین پر آنے کو تیار تھے۔‏

خدا کے فرشتے جبرائیل نے مریم سے کیا کہا تھا؟‏

زمین پر آنے کے لئے یسوع مسیح کو ایک عورت سے پیدا ہونا تھا۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح کی ماں کا کیا نام تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اُن کی ماں کا نام مریم تھا۔‏ یہوواہ خدا نے اپنے فرشتے جبرائیل کو مریم کے پاس بھیجا۔‏ جبرائیل نے مریم سے کہا:‏ ”‏تیرا ایک بیٹا ہوگا۔‏ اُس کا نام یسوع رکھنا۔‏“‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اِس بچے  کا باپ کون تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ فرشتے نے مریم کو بتایا کہ اِس بچے کا باپ یہوواہ خدا تھا۔‏ اِس لئے یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے۔‏

آپ کے خیال میں مریم نے فرشتے کی بات سُن کر کیا کِیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا مریم نے کہا:‏ ”‏مَیں یسوع کی ماں نہیں بننا چاہتی ہوں“‏؟‏ نہیں۔‏ مریم یسوع کی ماں بننا چاہتی تھیں کیونکہ وہ خدا کا کہنا ماننا چاہتی تھیں۔‏ لیکن خدا کا بیٹا تو آسمان پر تھا۔‏ تو پھر وہ بچے کے طور پر زمین پر کیسے پیدا ہو سکتا تھا؟‏ یسوع کی پیدائش دوسرے بچوں کی پیدائش سے فرق تھی۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن کی پیدائش کس طرح فرق تھی؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

خدا نے آدمی اور عورت کو ایسے بنایا ہے کہ ایک خاص طریقے سے اُن کا ملاپ ہو سکے۔‏ اِس ملاپ کے بعد ماں کے پیٹ میں ایک بچہ پلنے لگتا ہے۔‏ یہ بہت حیران‌کُن بات ہے،‏ ہے نا؟‏

خدا نے اپنے بیٹے کی زندگی مریم کے پیٹ میں ڈال دی۔‏ خدا نے پہلے کبھی ایسا نہیں کِیا تھا۔‏ اور اِس کے بعد بھی اُس نے کبھی دوبارہ سے ایسا نہیں کِیا۔‏ یہ ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔‏ اِس معجزے کے بعد یسوع مریم کے پیٹ میں پلنے لگے،‏ بالکل اُسی طرح جیسے دوسرے بچے اپنی ماں کے پیٹ میں پلتے ہیں۔‏ پھر مریم نے یوسف سے شادی کر لی۔‏

جب یسوع پیدا ہونے والے تھے تو مریم اور یوسف شہر بیت‌لحم گئے۔‏ اُس وقت شہر میں بہت زیادہ لوگ جمع تھے۔‏ اِس لئے یوسف اور مریم کو رہنے کے لئے کوئی کمرہ نہیں ملا۔‏ اُن کو ایک ایسی جگہ رہنا پڑا جہاں جانوروں کو رکھتے ہیں۔‏ وہاں یسوع پیدا ہوئے۔‏ مریم نے یسوع کو ایک چرنی میں ڈالا،‏  جیسا کہ آپ اِس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔‏ چرنی اُس چیز کو کہتے ہیں جس میں جانوروں کو چارا ڈالا جاتا ہے۔‏

اِس تصویر میں مریم،‏ یسوع کو چرنی میں کیوں ڈال رہی ہیں؟‏

جس رات یسوع پیدا ہوئے،‏ اُس رات بہت سی حیران‌کُن باتیں ہوئیں۔‏ بیت‌لحم کے نزدیک کچھ چرواہے میدان میں تھے۔‏ اچانک اُن کو ایک فرشتہ نظر آیا۔‏ اِس فرشتے نے اُن کو بتایا:‏ ”‏مَیں تمہیں خوش‌خبری دینے آیا ہوں۔‏ آج ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو لوگوں کو نجات دلائے گا۔‏“‏—‏لوقا ۲:‏۱۰،‏ ۱۱‏۔‏

فرشتے نے چرواہوں کو کون سی خوش‌خبری دی؟‏

فرشتے نے چرواہوں کو بتایا کہ یسوع بیت‌لحم میں ہیں۔‏ اچانک چرواہوں کو بہت سارے فرشتے دکھائی دئے۔‏ یہ سب فرشتے خدا کی حمد میں گیت گانے لگے۔‏ وہ کہہ رہے تھے:‏ ”‏خدا کی بڑائی ہو۔‏ اور زمین پر اُن آدمیوں کو سلامتی حاصل ہو،‏ جن سے خدا خوش ہے۔‏“‏—‏لوقا ۲:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

 پھر فرشتے غائب ہو گئے اور چرواہے بیت‌لحم گئے۔‏ وہاں اُنہوں نے یوسف اور مریم کو وہ ساری باتیں بتائیں جو فرشتے نے اُنہیں بتائی تھیں۔‏ یہ سب کچھ سُن کر مریم ضرور خوش ہوئی ہوں گی۔‏ اُنہوں نے سوچا ہوگا:‏ ”‏کتنا اچھا ہوا کہ مَیں نے یسوع کی ماں بننے سے انکار نہیں کِیا۔‏“‏

کچھ عرصے بعد یوسف اور مریم ناصرت کے شہر میں رہنے لگے۔‏ یسوع وہیں بڑے ہوئے۔‏ بڑے ہو کر وہ لوگوں کو خدا کی باتیں سکھانے لگے۔‏ یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا لوگوں کو خدا کی تعلیم دے۔‏ یسوع مسیح نے خوشی سے یہ کام کِیا کیونکہ وہ یہوواہ خدا سے بہت پیار کرتے تھے۔‏

 عظیم اُستاد بننے سے پہلے یسوع بپتسمہ لینا چاہتے تھے۔‏ اِس لئے وہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے پاس گئے۔‏ یوحنا نے اُن کو ایک دریا میں بپتسمہ دیا۔‏ اِس دریا کا نام یردن تھا۔‏ جب یسوع مسیح نے بپتسمہ لیا تو ایک انوکھی بات ہوئی۔‏ جیسے ہی یسوع مسیح پانی سے اُوپر آئے،‏ خدا نے آسمان سے کہا:‏ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔‏“‏ (‏متی ۳:‏۱۷‏)‏ جب آپ کے امی‌ابو آپ کی تعریف کرتے ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یقیناً یہ آپ کو اچھا لگتا ہے۔‏ اِسی طرح جب خدا نے یسوع مسیح کی تعریف کی تو اُنہیں بھی اچھا لگا ہوگا۔‏

یسوع مسیح ہمیشہ وہ کام کرتے تھے جو صحیح ہوتا تھا۔‏ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔‏ اُنہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ خدا ہیں۔‏ خدا کے فرشتے جبرائیل نے مریم کو بتایا تھا کہ یسوع کو خدا کا بیٹا کہا جائے گا۔‏ یسوع مسیح نے خود بھی کہا تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ خدا سے زیادہ سمجھ‌دار ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏باپ مجھ سے بڑا ہے۔‏“‏—‏یوحنا ۱۴:‏۲۸‏۔‏

جب یسوع مسیح آسمان پر تھے تو خدا نے اُن کو بہت سے کام دئے۔‏ یسوع مسیح نے وہ کام خوشی سے کئے۔‏ اُنہوں نے کبھی خدا سے یہ نہیں کہا:‏ ”‏ٹھیک ہے،‏ مَیں یہ کام کروں گا“‏ اور پھر جا کر کوئی اَور کام کرنے لگے۔‏ وہ اپنے باپ سے بہت پیار کرتے تھے۔‏ اِس لئے وہ خدا کا کہنا مانتے تھے۔‏ اور جب یسوع مسیح زمین پر آئے تب بھی اُنہوں نے وہی کام کئے جن کے لئے خدا نے اُن کو بھیجا تھا۔‏ اُنہوں نے دوسرے کام کرنے میں وقت ضائع نہیں کِیا۔‏ اِسی لئے تو یہوواہ خدا اپنے بیٹے سے بہت خوش ہے۔‏

ہم بھی یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس لئے ہمیں بھی خدا کی بات ماننی چاہئے۔‏ خدا کی باتیں بائبل میں لکھی ہیں۔‏ کبھی‌کبھی لوگ خدا کی بات ماننے کا دکھاوا کرتے ہیں۔‏ لیکن اصل میں وہ ایسے کام کرتے ہیں جن سے بائبل میں منع کِیا گیا ہے۔‏ کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر ہم واقعی یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں تو ہم خوشی سے اُس کا کہنا مانیں گے۔‏

ہمیں یسوع مسیح کے بارے میں اَور بھی باتیں جاننی چاہئیں اور اِن باتوں پر ایمان لانا چاہئے۔‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ متی ۷:‏۲۱-‏۲۳؛‏ یوحنا ۴:‏۲۵،‏ ۲۶‏؛‏ اور ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۵،‏ ۶‏۔‏