مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۴۰

ہم خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏

ہم خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏

ہم خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏ کیا ہم اُس کو کچھ دے سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا کہتا ہے:‏ ”‏جنگل کا ایک‌ایک جانور میرا ہی ہے۔‏“‏ وہ یہ بھی کہتا ہے:‏ ”‏چاندی میری ہے اور سونا میرا ہے۔‏“‏ (‏زبور ۲۴:‏۱؛‏ ۵۰:‏۱۰؛‏ حجی ۲:‏۸‏)‏ ہم یہوواہ خدا کو کوئی چیز نہیں دے سکتے ہیں۔‏ تو پھر آپ کے خیال میں ہم یہوواہ خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آئیں،‏ مَیں آپ کو بتاتا ہوں۔‏

یہوواہ خدا ہمیں اِس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ ہم اُس کی مرضی پر چلیں۔‏ وہ ہمیں خود فیصلہ کرنے دیتا ہے کہ ہم اُس کا کہنا مانیں گے یا نہیں۔‏ اُس نے ہمیں اِس طرح بنایا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اُس کی خدمت کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔‏

کیا آپ کو پتہ ہے کہ روبوٹ کسے کہتے ہیں؟‏ روبوٹ ایک مشین ہے۔‏ روبوٹ صرف وہی کام کر سکتا ہے جو اِس کا بنانے والا چاہتا ہے۔‏ وہ کوئی اَور کام نہیں کر سکتا۔‏ اِس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔‏ اگر یہوواہ خدا چاہتا تو وہ ہمیں بھی روبوٹ جیسا بنا سکتا تھا۔‏ پھر ہم صرف وہی کام کر سکتے جو وہ چاہتا۔‏ لیکن اُس نے ہمیں روبوٹ جیسا نہیں بنایا۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کچھ کھلونے ریموٹ سے چلتے ہیں۔‏ بٹن دبانے پر وہ مختلف کام کرتے ہیں۔‏ لیکن وہ صرف ایسے کام کر سکتے ہیں جن کے لئے اُن کو بنایا گیا ہے۔‏ کیا آپ نے کبھی اِس طرح کا کھلونا دیکھا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بچے کچھ دن تک ایسے کھلونوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‏ لیکن پھر  وہ بور ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ کھلونے صرف وہی کام کر سکتے ہیں جن کے لئے اُن کو بنایا گیا ہے۔‏ وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے۔‏ یہوواہ خدا نے ہمیں روبوٹ کی طرح نہیں بنایا ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اُس کی خدمت کریں۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم اِس لئے اُس کا کہنا مانیں کیونکہ ہم اُس سے پیار کرتے ہیں۔‏

خدا نے ہمیں روبوٹ کی طرح کیوں نہیں بنایا؟‏

آپ کے خیال میں جب ہم اپنی مرضی سے یہوواہ خدا کی خدمت کرتے ہیں تو اُسے کیسا لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ جب آپ کوئی اچھا یا بُرا کام کرتے ہیں تو آپ کے امی‌ابو کو کیسا لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بائبل میں لکھا ہے کہ ایک سمجھ‌دار بیٹا ”‏اپنے باپ کو خوش کرتا ہے“‏ لیکن بےوقوف بیٹا ”‏اپنی ماں کو غمگین کرتا ہے۔‏“‏ (‏امثال ۱۰:‏۱‏)‏ جب آپ کے امی‌ابو آپ کو کوئی کام کرنے کے لئے کہتے ہیں اور آپ اِسے کرتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ لیکن جب آپ اُن کا کہنا نہیں مانتے ہیں تو پھر اُن کو کیسا لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

آپ یہوواہ خدا اور اپنے امی‌ابو کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏

اب ذرا سوچیں کہ ہم یہوواہ خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏ اُس نے یہ بات بائبل میں بتائی ہے۔‏ ذرا اپنی بائبل میں امثال ۲۷ باب کھولیں اور اِس کی ۱۱ آیت پڑھیں۔‏ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔‏“‏ اِس کا مطلب ہے کہ اگر ہم سمجھ‌داری سے کام لیں گے تو ہم یہوواہ خدا کے دل کو خوش کریں گے۔‏ یوں وہ شیطان کو جواب دے سکے گا کیونکہ شیطان،‏ یہوواہ خدا کو ملامت کرتا ہے۔‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ملامت کرنے کا کیا مطلب ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس کا مطلب ہے:‏ کسی کے بارے میں بُری باتیں کہنا۔‏ شیطان نے یہوواہ خدا کے بارے میں کون سی بُری باتیں کہی ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آئیں،‏ دیکھیں۔‏

یاد ہے کہ ہم نے باب نمبر ۸ میں پڑھا تھا کہ شیطان سب سے بڑا بننا چاہتا ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ سب  اُس کا کہنا مانیں۔‏ شیطان کہتا ہے کہ لوگ صرف اِس لئے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہوواہ خدا اُن کو بدلے میں ہمیشہ کی زندگی دے گا۔‏ شیطان نے آدم اور حوا کو خدا کی نافرمانی کرنے پر اُکسایا۔‏ چونکہ وہ اِس میں کامیاب ہو گیا اِس لئے اُس نے یہوواہ خدا سے کہا:‏ ”‏لوگ صرف اِس لئے تیری عبادت کرتے ہیں کیونکہ تُو اُن کو اچھی‌اچھی چیزیں دیتا ہے۔‏ مجھے موقع دے تو مَیں سب لوگوں کو گمراہ کر دوں گا۔‏“‏

جب شیطان آدم اور حوا کو اُکسانے میں کامیاب ہو گیا تو اُس نے یہوواہ خدا سے کیا کہا؟‏

یہ لفظ بائبل میں نہیں لکھے ہیں۔‏ تو پھر ہم کیسے جانتے ہیں کہ شیطان نے خدا سے یہ بات کہی تھی؟‏ جب ہم بائبل میں خدا کے خادم ایوب کی کہانی پڑھتے ہیں تو ہم جان جاتے ہیں کہ شیطان نے خدا سے ایسی ہی بات کہی تھی۔‏ شیطان نے کہا کہ ایوب خدا کے وفادار نہیں رہیں گے۔‏ لیکن خدا کو یقین تھا کہ ایوب اُس کے وفادار رہیں گے۔‏ ذرا بائبل میں ایوب کی کتاب کو کھولیں۔‏ اِس کے پہلے اور دوسرے باب میں ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوا تھا۔‏

پہلے باب میں بتایا گیا ہے کہ جب فرشتے آسمان پر یہوواہ خدا کے سامنے حاضر ہوئے تو شیطان بھی وہاں گیا۔‏ یہوواہ خدا نے شیطان سے پوچھا:‏ ”‏تُم کہاں سے آئے ہو؟‏“‏ شیطان نے جواب دیا  کہ ”‏مَیں زمین سے آیا ہوں۔‏“‏ پھر یہوواہ خدا نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم نے دیکھا ہے کہ میرا خادم ایوب کتنا اچھا ہے؟‏ وہ کوئی بُرا کام نہیں کرتا۔‏“‏—‏ایوب ۱:‏۶-‏۸‏۔‏

شیطان نے یہوواہ خدا کو جواب دیا:‏ ”‏ایوب صرف اِس لئے تیری خدمت کرتا ہے کیونکہ اُس کے پاس سب کچھ ہے۔‏ لیکن اگر تُو اُس کی مدد کرنا چھوڑ دے تو وہ تجھے بُرابھلا کہے گا۔‏“‏ اِس پر یہوواہ خدا نے کہا:‏ ”‏ٹھیک ہے،‏ تُم جو چاہے اُس کے ساتھ کر سکتے ہو لیکن اُس کے جسم کو ہاتھ نہ لگانا۔‏“‏—‏ایوب ۱:‏۹-‏۱۲‏۔‏

کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان نے پھر کیا کِیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اُس نے کچھ لوگوں کو اُکسایا اور اِن لوگوں نے ایوب کے بیل اور گدھے چوری کر لئے اور اُن نوکروں کو قتل کر دیا جو اِن جانوروں کا خیال رکھتے تھے۔‏ پھر آسمان سے بجلی گِری اور ایوب کی سب بھیڑیں اور چرواہے جل کر راکھ ہو گئے۔‏ اِس کے بعد کچھ لوگوں نے ایوب کے اُونٹوں کو چوری کر لیا اور اُن نوکروں کو مار ڈالا جو اُونٹوں کا خیال رکھتے تھے۔‏ آخرکار شیطان نے بڑی تیز آندھی چلائی اور وہ گھر گِر گیا جس میں ایوب کے دس بچے تھے اور وہ سب کے سب مر گئے۔‏ اِن مصیبتوں کے باوجود ایوب خدا کے وفادار رہے۔‏—‏ایوب ۱:‏۱۳-‏۲۲‏۔‏

اِس کے بعد شیطان پھر سے خدا کے پاس گیا۔‏ یہوواہ خدا نے شیطان سے کہا:‏ ”‏دیکھو،‏ ایوب ابھی بھی میرا وفادار ہے۔‏“‏ شیطان  نے کہا:‏ ”‏ذرا مجھے اُس کے جسم کو تکلیف پہنچانے دے۔‏ پھر وہ ضرور تجھے بُرابھلا کہے گا۔‏“‏ اِس پر یہوواہ خدا نے شیطان کو اِس بات کی بھی اجازت دے دی۔‏ لیکن خدا نے اُسے ایوب کو مار ڈالنے کی اجازت نہیں دی۔‏

ایوب پر کون سی مصیبتیں آئیں؟‏ خدا ایوب سے کیوں خوش ہوا؟‏

شیطان نے ایوب کو بیمار کر دیا۔‏ ایوب کے جسم پر سر سے پاؤں تک بڑےبڑے پھوڑے نکل آئے۔‏ اِن پھوڑوں سے اِتنی بدبُو آتی تھی کہ کوئی بھی ایوب کے پاس بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔‏ یہاں تک کہ اُن کی بیوی نے اُن سے کہا:‏ ”‏آخر آپ کب تک خدا کے وفادار رہیں گے؟‏ خدا کو بُرابھلا کہیں اور مر جائیں۔‏“‏ پھر ایوب کے کچھ دوست اُن کا حال پوچھنے کے لئے آئے۔‏ اُنہوں نے ایوب کو تسلی دینے کی بجائے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم نے ضرور بہت ہی بُرے کام کئے ہیں اِسی لئے تُم پر یہ ساری مصیبتیں آئی ہیں۔‏“‏ حالانکہ شیطان نے ایوب کو بڑی تکلیف پہنچائی لیکن پھر بھی ایوب خدا کے وفادار رہے۔‏—‏ایوب ۲:‏۱-‏۱۳؛‏ ۷:‏۵؛‏ ۱۹:‏۱۳-‏۲۰‏۔‏

جب یہوواہ خدا نے دیکھا کہ ایوب مشکلات کے باوجود اُس کے وفادار ہیں تو اُس نے کیسا محسوس کِیا ہوگا؟‏ آپ کا کیا خیال ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا بہت ہی خوش ہوا۔‏ اب وہ شیطان سے کہہ سکتا تھا:‏ ”‏دیکھو،‏ میرا خادم ایوب کسی چیز کے بدلے میں میری خدمت نہیں کرتا۔‏ وہ اپنی مرضی سے میری خدمت کرتا ہے۔‏“‏ اِس طرح ایوب نے شیطان کو جھوٹا ثابت کر دیا۔‏ کیا آپ شیطان کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یاد ہے،‏ شیطان نے کہا تھا کہ وہ سب لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔‏ لیکن اگر ہم گمراہ نہیں ہوں گے تو ہم شیطان کو جھوٹا ثابت کریں گے۔‏ یہ ایک بہت بڑا شرف ہے۔‏ عظیم اُستاد یسوع مسیح بھی اِس کو بہت بڑا شرف خیال کرتے تھے۔‏

یسوع مسیح کبھی شیطان کے کہنے میں نہیں آئے اور اُنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کِیا۔‏ یہوواہ خدا اُن سے بہت خوش ہوا ہوگا،‏ ہے نا؟‏ یہوواہ خدا،‏ شیطان سے کہہ سکتا تھا کہ ”‏میرے بیٹے کو دیکھو۔‏ وہ ہر حال میں میرا وفادار ہے کیونکہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔‏“‏ ذرا سوچیں کہ یسوع مسیح کو اپنے باپ یہوواہ خدا کو خوش کرنے سے کتنی خوشی ملی ہوگی۔‏ وہ خدا کو خوش کرنے کے لئے سُولی پر اپنی جان دینے کو بھی تیار تھے۔‏—‏عبرانیوں ۱۲:‏۲‏۔‏

کیا آپ بھی عظیم اُستاد یسوع مسیح کی طرح یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ پھر یہوواہ خدا کی مرضی کے بارے میں سیکھیں اور اِس پر چلیں۔‏

یسوع مسیح نے خدا کو کیسے خوش کِیا؟‏ اور ہم خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ امثال ۲۳:‏۲۲-‏۲۵؛‏ یوحنا ۵:‏۳۰؛‏ یوحنا ۶:‏۳۸؛‏ یوحنا ۸:‏۲۸‏؛‏ اور ۲-‏یوحنا ۴‏۔‏