مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۲۹

ہمیں کیسی دعوتیں کرنی چاہئیں؟‏

ہمیں کیسی دعوتیں کرنی چاہئیں؟‏

جب بنی‌اِسرائیل نے یہ جشن منایا تو یہوواہ خدا کیوں خوش ہوا؟‏

کیا آپ کو دعوتیں پسند ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ دعوتوں پر بڑا مزہ آتا ہے۔‏ کیا عظیم اُستاد یسوع مسیح چاہتے ہیں کہ ہم دعوتوں پر جائیں؟‏ آپ کا کیا خیال ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد بھی ایک دعوت پر گئے تھے۔‏ یہ شادی کی دعوت تھی۔‏ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم خوش ہوں۔‏ اِس لئے جب ہم دوستوں اور رشتہ‌داروں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے۔‏—‏یوحنا ۲:‏۱-‏۱۱‏۔‏

اِس کتاب کے صفحہ نمبر ۲۹ پر ہم نے پڑھا تھا کہ یہوواہ خدا نے سمندر کے پانی کے دو حصے کر دئے تاکہ بنی‌اسرائیل خشک راستے سے سمندر کے پار جا سکیں۔‏ کیا آپ کو یہ کہانی یاد ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس واقعے کے بعد بنی‌اِسرائیل نے بہت بڑا جشن منایا۔‏ وہ ناچنے اور گیت گانے لگے۔‏ اُنہوں نے یہ جشن کیوں منایا؟‏ کیونکہ وہ یہوواہ خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔‏ وہ بہت خوش تھے اور اُنہیں دیکھ کر یہوواہ خدا بھی بہت خوش ہوا۔‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ خروج ۱۵:‏۱،‏ ۲۰،‏ ۲۱‏۔‏

اِس واقعے کے ۴۰ سال بعد بنی‌اِسرائیل ایک اَور طرح کے جشن میں شریک ہوئے۔‏ اُن کو ایسے لوگوں نے دعوت پر بلایا تھا جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے۔‏ اِس جشن پر لوگوں نے بُتوں کو سجدہ کِیا اور ایسے آدمیوں اور عورتوں نے جنسی ملاپ کِیا جن کی آپس میں شادی نہیں ہوئی تھی۔‏ آپ کے خیال میں کیا بنی‌اِسرائیل کو اِس دعوت پر جانا چاہئے تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ چونکہ وہ اِس دعوت پر گئے اِس لئے یہوواہ خدا اُن سے ناراض ہوا اور اُس نے اُن کو سزا دی۔‏—‏گنتی ۲۵:‏۱-‏۹؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۸‏۔‏

 بائبل میں دو ایسے موقعوں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جب کسی کی سالگرہ منائی گئی تھی۔‏ کیا اِن میں سے ایک موقعے پر یسوع مسیح کی سالگرہ منائی گئی تھی؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِن موقعوں پر یسوع مسیح کی سالگرہ نہیں منائی گئی بلکہ دو ایسے آدمیوں کی سالگرہ منائی گئی جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے۔‏ اِن میں سے ایک آدمی کا نام ہیرودیس تھا۔‏ وہ اُس زمانے میں گلیل کے بادشاہ تھے جب یسوع مسیح وہاں رہتے تھے۔‏

ہیرودیس بادشاہ نے بہت سے بُرے کام کئے۔‏ اُنہوں نے اپنے بھائی کی بیوی ہیرودیاس سے شادی کر لی۔‏ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے ہیرودیس سے کہا کہ ایسا کرنا غلط ہے۔‏ ہیرودیس بادشاہ کو یوحنا کی یہ بات اچھی نہیں لگی۔‏ اِس لئے اُنہوں نے یوحنا کو جیل میں بند کروا دیا۔‏—‏لوقا ۳:‏۱۹،‏ ۲۰‏۔‏

پھر ہیرودیس بادشاہ کی سالگرہ کا دن آیا۔‏ اُنہوں نے ایک بہت بڑی پارٹی دی۔‏ اِس دعوت میں اُنہوں نے بہت سے مشہور اور امیر لوگوں کو بلایا۔‏ اِن سب لوگوں نے خوب کھایا پیا اور مزے کئے۔‏ پھر ہیرودیاس کی بیٹی مہمانوں کے سامنے ناچنے لگی۔‏ سب لوگ اُس لڑکی کے ڈانس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔‏ ہیرودیس بادشاہ اُس کو انعام دینا چاہتے تھے۔‏ اِس لئے اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏تُم جو بھی چیز مانگو گی،‏ مَیں تمہیں دوں گا،‏ چاہے تُم میری آدھی سلطنت بھی مانگو۔‏“‏

 اُس لڑکی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا مانگے؛‏ بہت سے پیسے مانگے،‏ اپنے لئے محل مانگے یا اچھےاچھے کپڑے مانگے۔‏ اِس لئے وہ اپنی امی ہیرودیاس کے پاس گئی اور اُن سے پوچھا کہ ”‏مَیں بادشاہ سے کیا مانگوں؟‏“‏

ہیرودیاس کو یوحنا بپتسمہ دینے والے سے نفرت تھی۔‏ اِس لئے اُنہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ ”‏جا کر یوحنا کا سر مانگو۔‏“‏ لڑکی فوراً بادشاہ کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ”‏مجھے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر چاہئے۔‏“‏

ہیرودیس بادشاہ جانتے تھے کہ یوحنا بڑے نیک آدمی ہیں۔‏ اِس لئے وہ اُن کو مروانا نہیں چاہتے تھے۔‏ لیکن ہیرودیس بادشاہ کو یہ بھی ڈر تھا کہ اگر وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کریں گے تو اُن کے مہمان کیا کہیں گے؟‏ اِس لئے اُنہوں نے ایک سپاہی کو بھیج کر یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر کٹوا دیا۔‏ جب سپاہی واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی پلیٹ تھی جس پر یوحنا کا سر تھا۔‏ سپاہی نے یہ پلیٹ لڑکی کو پکڑا دی اور لڑکی یہ پلیٹ اپنی امی کے پاس لے گئی۔‏—‏مرقس ۶:‏۱۷-‏۲۹‏۔‏

جس دوسرے آدمی کی سالگرہ کے بارے میں بائبل میں بتایا گیا ہے،‏ یہ مصر کا بادشاہ تھا۔‏ اُس نے بھی بڑی دھوم‌دھام سے اپنی سالگرہ منائی تھی۔‏ اِس موقعے پر بھی بادشاہ کے کہنے پر ایک آدمی کا سر کٹوایا گیا۔‏ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ اِس آدمی کو درخت پر ٹانگ دیا جائے تاکہ پرندے اُس کا گوشت کھا جائیں۔‏ (‏پیدایش  ۴۰:‏۱۹-‏۲۲‏)‏ اِن دونوں موقعوں پر لوگوں نے اپنی سالگرہ منائی اور بُرے کام کئے۔‏ آپ کے خیال میں کیا خدا اِن سے خوش تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر آپ وہاں ہوتے تو کیا آپ اِن دعوتوں پر جاتے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

ہیرودیس بادشاہ کی سالگرہ پر کیا ہوا؟‏

بائبل میں جو بھی باتیں لکھی ہیں،‏ یہ اِس لئے لکھی گئی ہیں تاکہ ہم اِن سے کچھ سیکھ سکیں۔‏ بائبل میں صرف دو ایسے موقعوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جب لوگوں نے اپنی سالگرہ منائی۔‏ اور دونوں بار لوگوں نے بُرے کام کئے۔‏ ہم اِس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ کیا خدا چاہتا ہے کہ ہم سالگرہ منائیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

یہ سچ ہے کہ آج‌کل جب لوگ سالگرہ مناتے ہیں تو کسی کا سر نہیں کٹوایا جاتا۔‏ لیکن اصل میں سالگرہ منانے کا رواج ایسے لوگوں نے شروع کِیا جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے۔‏ ایک کتاب میں بتایا گیا کہ بائبل میں جن دو سالگرہ کا ذکر ہوا ہے،‏ اِن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”‏صرف ایسے لوگ اپنی سالگرہ مناتے تھے جو خدا کے حکموں کو نہیں مانتے تھے۔‏“‏ ‏(‏دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا)‏ کیا آپ ایسے لوگوں کی طرح ہونا چاہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

کیا عظیم اُستاد یسوع مسیح نے اپنی سالگرہ منائی تھی؟‏ آپ کا کیا خیال ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بائبل میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یسوع مسیح نے اپنی سالگرہ منائی تھی۔‏ یسوع مسیح کے شاگردوں نے بھی اُن کی سالگرہ نہیں منائی تھی۔‏ تو پھر لوگ ۲۵ دسمبر کو یسوع مسیح کی سالگرہ کیوں منانے لگے؟‏ کیا آپ کو پتہ ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

ایک کتاب کے مطابق لوگ اِس لئے ۲۵ دسمبر کو یسوع مسیح کی سالگرہ منانے لگے کیونکہ ”‏اُس دن روم کے لوگ پہلے سے ہی سورج دیوتا کی سالگرہ مناتے تھے۔‏“‏ ‏(‏دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا)‏ اِس کا مطلب ہے کہ یسوع مسیح کی سالگرہ کے لئے ایک ایسا دن چنا گیا جس پر بُت‌پرست لوگ ایک تہوار مناتے تھے۔‏ ذرا سوچیں کہ یہ کتنی بُری بات تھی!‏

ویسے بھی یسوع مسیح دسمبر کے مہینے میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب یسوع پیدا ہوئے تو چرواہے رات کے وقت اپنی بھیڑوں کے ساتھ میدان میں تھے۔‏ (‏لوقا ۲:‏۸-‏۱۲‏)‏ اُس علاقے میں دسمبر میں بہت زیادہ بارشیں ہوتی تھیں اور سخت سردی پڑتی تھی۔‏ ایسے موسم میں چرواہے رات کے وقت میدان میں نہیں رہتے تھے۔‏

ہم کیسے جانتے ہیں کہ یسوع مسیح ۲۵ دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے تھے؟‏

 بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح ۲۵ دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے۔‏ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ۲۵ دسمبر کو بُت‌پرست لوگوں کا تہوار ہوتا تھا۔‏ لیکن پھر بھی وہ اُس دن کرسمس یعنی یسوع مسیح کی سالگرہ مناتے ہیں۔‏ اُن کو خدا کو خوش کرنے کی بجائے مزے کرنے اور دعوتیں کھانے کا شوق ہے۔‏ لیکن ہم تو یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

جب کوئی ہمیں دعوت پر بلاتا ہے تو ہمیں پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ کس قسم کی دعوت ہے۔‏ اگر ہم اِس دعوت پر جائیں گے تو کیا یہوواہ خدا خوش ہوگا؟‏ جب ہم اپنے دوستوں کی دعوت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی خاص دن کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‏ ہم سال میں کسی بھی دن اُن کی دعوت کر سکتے ہیں۔‏ ہم اُن کے ساتھ اچھےاچھے کھانے کھا سکتے ہیں اور بہت سے کھیل کھیل سکتے ہیں۔‏ کیا آپ اپنے دوستوں کی دعوت کرنا چاہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ پہلے تو آپ کو اپنے امی‌ابو سے اجازت لینی پڑے گی۔‏ پھر آپ اُن کے ساتھ مل کر دعوت کی تیاری کر سکتے ہیں۔‏ اِس میں بڑا مزہ آئے گا،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کسی بھی دعوت پر کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو یہوواہ خدا کو پسند نہیں ہے۔‏

اگر ہم یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کس قسم کی دعوتیں کرنی چاہئیں؟‏

ہمیں ہمیشہ ایسے کام کرنے چاہئیں جو یہوواہ خدا کو پسند ہیں۔‏ یہ اِتنا اہم کیوں ہے؟‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ امثال ۱۲:‏۲؛‏ یوحنا ۸:‏۲۹؛‏ رومیوں ۱۲:‏۲‏؛‏ اور ۱-‏یوحنا ۳:‏۲۲‏۔‏