مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۳۴

مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏

مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏

آپ جانتے ہیں کہ لوگ بیمار ہوتے ہیں،‏ بوڑھے ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔‏ یہاں تک کہ کبھی‌کبھی بچے بھی مر جاتے ہیں۔‏ کیا آپ کو مُردوں سے ڈرنا چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

اگر ایک شخص مر جاتا اور اُسے دوبارہ زندہ کِیا جاتا تو ہم اُس سے پوچھ سکتے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔‏ سچ ہے کہ آج تو کوئی ایسا شخص نہیں ہے۔‏ لیکن جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو ایک ایسا شخص تھا۔‏ اِس شخص کا نام لعزر تھا اور وہ یسوع مسیح کے دوست تھے۔‏ لعزر کے گاؤں کا نام بیت‌عَنِیاہ تھا اور یہ یروشلیم کے نزدیک تھا۔‏ اُن کی دو بہنیں تھیں جن کا نام مرتھا اور مریم تھا۔‏ لعزر کی کہانی سننے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔‏ آئیں،‏ مَیں آپ کو اُن کی کہانی سناتا ہوں۔‏

ایک دن لعزر بہت بیمار ہو گئے۔‏ اُس وقت یسوع مسیح کسی اَور علاقے میں تھے۔‏ یہ علاقہ لعزر کے گاؤں سے بہت دُور تھا۔‏ اِس لئے مرتھا اور مریم نے ایک آدمی کے ذریعے یسوع مسیح کو خبر دی کہ لعزر بیمار ہیں۔‏ وہ دونوں جانتی تھیں کہ یسوع مسیح آکر اُن کے بھائی کی بیماری کو دُور کر سکتے ہیں۔‏ یسوع مسیح ڈاکٹر تو نہیں تھے لیکن یہوواہ خدا نے اُن کو ہر طرح کی بیماریوں کو ٹھیک کرنے کی طاقت دی تھی۔‏—‏متی ۱۵:‏۳۰،‏ ۳۱‏۔‏

اِس سے پہلے کہ یسوع مسیح لعزر کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوئے،‏ لعزر اِتنے بیمار ہو گئے کہ وہ مر گئے۔‏ لیکن یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ”‏لعزر سو گیا ہے اور مَیں اُسے جگانے جا رہا ہوں۔‏“‏ یہ بات شاگردوں کو سمجھ نہیں آئی۔‏ اِس لئے یسوع مسیح نے اُنہیں صاف‌صاف بتایا کہ ”‏لعزر مر گیا ہے۔‏“‏ اِس سے ہمیں موت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ موت گہری نیند کی طرح ہوتی ہے۔‏ یہ اِتنی گہری نیند کی طرح ہوتی ہے کہ اِس میں خواب بھی نہیں آتے۔‏

 بہت سے لوگ لعزر کی موت کی خبر سُن کر مرتھا اور مریم سے افسوس کرنے اور اُنہیں تسلی دینے کے لئے آئے۔‏ جب مرتھا نے سنا کہ یسوع مسیح گاؤں میں پہنچ گئے ہیں تو وہ اُن سے ملنے کے لئے گئیں۔‏ اِس کے تھوڑی دیر بعد مریم بھی یسوع مسیح سے ملنے کے لئے گئیں۔‏ جب مریم نے یسوع مسیح کو دیکھا تو وہ اُن کے پاؤں پر گِر پڑیں۔‏ وہ بہت زیادہ رو رہی تھیں۔‏ جو لوگ مریم کے پیچھے آ رہے تھے،‏ وہ بھی رو رہے تھے۔‏ وہ سب بہت دُکھی تھے۔‏

پھر یسوع مسیح نے لوگوں سے پوچھا:‏ ”‏تُم نے لعزر کو کہاں رکھا ہے؟‏“‏ اِس پر لوگ اُن کو اُس غار تک لے گئے جہاں لعزر کو رکھا گیا تھا۔‏ جب یسوع مسیح نے دیکھا کہ سب لوگ رو رہے ہیں تو وہ بھی رونے لگے۔‏ وہ جانتے تھے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو لوگوں کو بہت دُکھ ہوتا ہے۔‏

اُس غار کے مُنہ پر بڑا سا پتھر رکھا ہوا تھا۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اِس پتھر کو ہٹاؤ۔‏“‏ لیکن مرتھا نے اُن کو روکنے کی کوشش کی۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ مرتھا نے ایسا کیوں کِیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ مرتھا نے کہا:‏ ”‏اَے خداوند!‏ لعزر کو مرے چار دن ہو چکے ہیں۔‏ اب تو اُس سے بدبُو آ رہی ہوگی۔‏“‏

اِس پر یسوع مسیح نے مرتھا سے کہا:‏ ”‏یاد ہے،‏ مَیں نے تُم سے کہا تھا کہ اگر تمہارا ایمان پکا ہے تو تُم خدا کا جلال دیکھو گی۔‏“‏ یسوع مسیح یہ کہنا چاہتے تھے کہ مرتھا ایک ایسا معجزہ دیکھیں گی جس سے خدا کی بڑائی ہوگی۔‏ جب غار کے مُنہ سے پتھر ہٹایا گیا تو یسوع مسیح نے اُونچی آواز میں یہوواہ خدا سے دُعا کی۔‏ پھر اُنہوں نے پکارا:‏ ”‏لعزر،‏ باہر نکل آؤ!‏“‏ لیکن لعزر تو مر چکے تھے۔‏ آپ کے خیال میں کیا وہ غار سے باہر آ سکتے تھے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

جب کوئی سو رہا ہے تو کیا آپ اُس کو جگا سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر آپ اُونچی آواز میں اُس کا نام لیں گے تو وہ جاگ جائے گا۔‏ لیکن کیا آپ ایک ایسے شخص کو جگا سکتے ہیں جو موت کی نیند سو رہا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ چاہے آپ کتنی بھی اُونچی آواز میں پکاریں،‏ آپ اُس کو نہیں جگا سکتے۔‏ آج کوئی بھی انسان مُردوں کو زندہ نہیں کر سکتا ہے۔‏

اِس تصویر میں یسوع مسیح کیا کر رہے ہیں؟‏

لیکن یسوع مسیح عام انسان نہیں تھے۔‏ خدا نے اُن کو خاص قوت دی تھی۔‏ اِس لئے جب یسوع مسیح نے لعزر کو پکارا تو لعزر زندہ ہو گئے۔‏ وہ غار سے باہر نکل آئے۔‏ وہ سانس لے رہے تھے،‏ چل‌پھر رہے تھے اور  بول رہے تھے۔‏ حالانکہ لعزر چار دن سے مُردہ تھے پھر بھی یسوع مسیح نے اُن کو زندہ کر دیا۔‏—‏یوحنا ۱۱:‏۱-‏۴۴‏۔‏

اب ذرا اِن سوالوں کے بارے میں سوچیں:‏ جب لعزر مر گئے تو اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‏ کیا اُن کے جسم سے روح یا جان نکلی تھی؟‏ کیا لعزر کی روح آسمان پر چلی گئی تھی؟‏ کیا لعزر چار دن تک خدا کے پاس تھے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

یاد ہے کہ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ لعزر سو رہے ہیں۔‏ جب آپ گہری نیند سو رہے ہوں تو کیا آپ کو کسی چیز کا ہوش ہوتا ہے؟‏ کیا آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ آپ کے اِردگِرد کیا ہو رہا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ جب آپ جاگ جاتے ہیں تو آپ کو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ آپ کتنی دیر سوئے ہیں۔‏

اِسی طرح جب لوگ مر جاتے ہیں تو اُن کو کسی چیز کا ہوش نہیں ہوتا۔‏ وہ کچھ نہیں جانتے،‏ وہ کچھ محسوس نہیں کر سکتے اور وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔‏ جب لعزر مر گئے تو اُنہیں بھی کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔‏ موت گہری نیند کی طرح ہوتی ہے۔‏ اِس لئے بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔‏“‏—‏واعظ ۹:‏۵،‏ ۱۰‏۔‏

جب لعزر مر گئے تو کیا اُن کو کسی چیز کا ہوش تھا؟‏

 ذرا ایک اَور بات کے بارے میں سوچیں:‏ اگر لعزر چار دن تک آسمان پر ہوتے تو کیا وہ زمین پر واپس آکر یہ نہیں بتاتے کہ وہ کہاں تھے اور اُنہوں نے وہاں کیا کِیا تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اور اگر لعزر خدا کے پاس آسمان پر ہوتے تو کیا یسوع مسیح اُن کو دوبارہ سے زمین پر لاتے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ ایسا نہیں کرتے۔‏

لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جب انسان مر جاتے ہیں تو اُن کے جسم سے کوئی چیز نکل جاتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔‏ وہ کہتے ہیں کہ یہ چیز انسان کی جان یا روح ہے۔‏ اِن لوگوں کے خیال میں جب لعزر مر گئے تو اُن کا جسم مر گیا لیکن اُن کی جان زندہ رہی۔‏ لیکن بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا ہے۔‏ اِس میں بتایا گیا ہے کہ جب انسان مرتے ہیں تو کچھ بھی زندہ نہیں رہتا۔‏ انسان کا وجود بالکل ختم ہو جاتا ہے۔‏ آپ کو یاد ہوگا کہ آدم سب سے پہلے انسان تھے۔‏ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا نے آدم کو ”‏زمین کی مٹی سے بنایا اور اُن کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا۔‏ تب آدم جیتی جان ہوئے۔‏“‏ بائبل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب آدم نے گُناہ کِیا تو خدا نے اُن کو یہ سزا سنائی:‏ ”‏تُم زمین کی مٹی میں پھر لوٹ جاؤ گے اِس لئے کہ تُم اِس سے بنائے گئے ہو کیونکہ تُم خاک ہو اور خاک میں پھر لوٹ جاؤ گے۔‏“‏ چونکہ سب انسان آدم کی اولاد ہیں اِس لئے وہ سب مرتے ہیں۔‏—‏پیدایش ۲:‏۷؛‏ ۳:‏۱۷-‏۱۹؛‏ رومیوں ۵:‏۱۲‏۔‏

اِس سے پہلے کہ خدا نے آدم کو بنایا،‏ آدم کا کوئی وجود نہیں تھا۔‏ اور مرنے کے بعد اُن کا وجود ختم ہو گیا۔‏ اُن  سے کوئی چیز نکل کر زندہ نہیں رہی۔‏ چونکہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں اِس وجہ سے ہم پیدائش ہی سے گُناہ‌گار ہیں۔‏ اور بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏جو جان گُناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔‏“‏ اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو جان زندہ نہیں رہتی۔‏—‏حزقی‌ایل ۱۸:‏۴‏۔‏

ہمیں مُردوں سے ڈرنے کی ضرورت کیوں نہیں ہے؟‏

کئی لوگ مُردوں سے ڈرتے ہیں۔‏ وہ قبرستان کے نزدیک بھی نہیں جاتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ مُردوں کی روحیں اُن کو ستائیں گی۔‏ لیکن آپ کے خیال میں کیا مُردے کسی کو ستا سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ کسی کو نہیں ستا سکتے ہیں۔‏

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مُردوں کی روحیں کبھی‌کبھار زندہ لوگوں سے ملنے کے لئے آتی ہیں۔‏ اِس لئے وہ اُن کے لئے کھانا تیار کرکے رکھتے ہیں۔‏ وہ اِس وجہ سے ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ مُردوں کے بارے میں بائبل کی تعلیم کو نہیں مانتے۔‏ لیکن اگر ہم مانتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کا وجود ختم ہو جاتا ہے تو ہم مُردوں سے نہیں ڈریں گے اور ہمیشہ ایسے کام کریں گے جن سے یہوواہ خدا خوش ہوتا ہے۔‏

لیکن شاید آپ کے دل میں سوال پیدا ہو کہ کیا خدا اُن بچوں کو زندہ کرے گا جو مر چکے ہیں؟‏ کیا وہ ایسا کرنا چاہتا ہے؟‏ اگلے باب میں ہم اِس کے بارے میں پڑھیں گے۔‏

کیا مُردے کچھ کر سکتے ہیں؟‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ زبور ۱۱۵:‏۱۷ (‏زبور ۱۱۳:‏۱۷،‏ کیتھولک ترجمہ‏)‏؛‏ زبور ۱۴۶:‏۳،‏ ۴ (‏زبور ۱۴۵:‏۳،‏ ۴،‏ کیتھولک ترجمہ‏)‏۔‏