مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۱۲

دُعا کرنا سیکھیں

دُعا کرنا سیکھیں

کیا آپ یہوواہ خدا سے بات کرتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ چاہتا ہے کہ آپ اُس سے بات کریں۔‏ یہوواہ خدا سے بات کرنے کو دُعا کہتے ہیں۔‏ یسوع مسیح اکثر اپنے آسمانی باپ سے بات کرتے تھے۔‏ کبھی‌کبھار وہ دُعا کرنے کے لئے دوسروں سے الگ ہو جاتے تھے۔‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایک بار ”‏وہ اکیلے میں دُعا کرنے کے لئے ایک پہاڑ پر چلے گئے۔‏“‏—‏متی ۱۴:‏۲۳‏۔‏

آپ کہاں پر یہوواہ خدا سے اکیلے میں دُعا کر سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آپ رات کو سونے سے پہلے یہوواہ خدا سے اکیلے میں دُعا کر سکتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏جب تُم دُعا کرو تو اپنے کمرے میں جاؤ اور دروازہ بند کرکے اپنے آسمانی باپ سے دُعا کرو۔‏“‏ (‏متی ۶:‏۶‏)‏ کیا آپ ہر رات سونے سے پہلے یہوواہ خدا سے دُعا کرتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ہمیں ایسا کرنا چاہئے۔‏

یسوع مسیح اکیلے میں بھی دُعا کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی۔‏

یسوع مسیح اُس وقت بھی دُعا کرتے تھے جب دوسرے لوگ اُن کے ساتھ ہوتے تھے۔‏ جب یسوع مسیح کے دوست لعزر مر گئے تو  یسوع مسیح اُس جگہ گئے جہاں لعزر کو رکھا گیا تھا۔‏ وہاں اُنہوں نے بہت سے لوگوں کے سامنے دُعا کی۔‏ (‏یوحنا ۱۱:‏۴۱،‏ ۴۲‏)‏ یسوع مسیح اُس وقت بھی دُعا کرتے تھے جب وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جمع ہوتے تھے۔‏ کیا آپ مذہبی اجلاسوں پر جاتے ہیں جہاں دُعا کی جاتی ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ایسے اجلاسوں پر بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور کوئی آدمی سب کے سامنے دُعا کرتا ہے۔‏ جب وہ دُعا کرتا ہے تو آپ کو دھیان سے سننا چاہئے کیونکہ وہ آپ کے لئے بھی دُعا کر رہا ہوتا ہے۔‏ اگر آپ دُعا کو دھیان سے سنیں گے تو آپ دُعا کے آخر میں آمین کہہ سکیں گے۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ آمین کا کیا مطلب ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو دُعا اچھی لگی ہے اور آپ اِس میں کہی گئی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں۔‏

آپ کو مذہبی اجلاسوں پر دُعا کو دھیان سے کیوں سننا چاہئے؟‏

یسوع مسیح کھانا کھانے سے پہلے بھی دُعا کرتے تھے۔‏ وہ کھانے کے لئے خدا کا شکریہ ادا کرتے تھے۔‏ کیا آپ بھی کھانا کھانے سے پہلے دُعا کرتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ہمیں بھی کھانے کے لئے خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔‏ جب آپ دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو شاید کوئی اَور آپ کے لئے دُعا کرے۔‏ لیکن اگر آپ اکیلے کھانا کھائیں یا پھر ایسے لوگوں کے ساتھ کھانا کھائیں جو یہوواہ خدا کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آپ کو خود دُعا کرنی چاہئے۔‏

کیا آپ کو ہمیشہ اُونچی آواز میں دُعا کرنی چاہئے؟‏ اگر آپ دل میں دُعا کریں گے تو کیا یہوواہ خدا آپ کی دُعا سنے گا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ مَیں آپ کو اِس سلسلے میں ایک واقعہ بتاتا ہوں۔‏ خدا کے خادم نحمیاہ ایک بادشاہ کے محل میں  کام کرتے تھے۔‏ اُس بادشاہ کا نام ارتخششتا تھا۔‏ ایک دن نحمیاہ بہت اُداس تھے کیونکہ اُن کے شہر یروشلیم کی دیواریں گِرا دی گئی تھیں۔‏

نحمیاہ نے دل میں دُعا کی تھی۔‏ آپ کن موقعوں پر ایسا کر سکتے ہیں؟‏

بادشاہ نے نحمیاہ سے پوچھا:‏ ”‏تُو اُداس کیوں ہے؟‏“‏ نحمیاہ نے بادشاہ کو جواب دینے سے پہلے دل میں یہوواہ خدا سے دُعا کی۔‏ پھر اُنہوں نے بادشاہ کو اپنی اُداسی کی وجہ بتائی۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے بادشاہ سے پوچھا:‏ ”‏کیا مَیں یروشلیم جا کر اِس کی دیواروں کو دوبارہ سے تعمیر کر سکتا ہوں؟‏“‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ پھر کیا ہوا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

خدا نے نحمیاہ کی دُعا قبول کر لی۔‏ بادشاہ نے نحمیاہ کو شہر یروشلیم جانے کی اجازت دے دی۔‏ اُس نے نحمیاہ کو بہت سی لکڑی بھی دی تاکہ وہ یروشلیم کی دیواریں بنا سکیں۔‏ اِس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خدا تب بھی ہماری دُعا سنتا ہے جب ہم دل میں دُعا کرتے ہیں۔‏—‏نحمیاہ ۱:‏۲،‏ ۳؛‏ ۲:‏۴-‏۸‏۔‏

کیا ہمیں دُعا کرتے وقت  سر جھکانا چاہئے یا پھر گھٹنوں کے بل بیٹھنا چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کبھی‌کبھی یسوع مسیح گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دُعا کرتے تھے اور کبھی‌کبھی وہ کھڑے ہو کر دُعا کرتے تھے۔‏ کچھ موقعوں پر یسوع مسیح نے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر دُعا کی۔‏ جب اُنہوں نے لعزر کے لئے دُعا کی تو اُنہوں نے سر اُٹھا کر دُعا کی تھی۔‏

یسوع مسیح کی مثال سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‏ کیا ہمیں کسی خاص انداز میں دُعا کرنی چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہ ضروری نہیں کہ ہم کسی خاص انداز میں دُعا کریں۔‏ آپ سر جھکا کر اور آنکھیں بند کرکے دُعا کر سکتے ہیں۔‏ اگر آپ چاہیں تو آپ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بھی دُعا کر سکتے ہیں۔‏ یاد رکھیں کہ چاہے ہم کسی بھی وقت خدا سے دُعا کریں،‏ وہ ہماری سنے گا۔‏ ہمیں یہ یقین ہونا چاہئے کہ یہوواہ خدا ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے۔‏ کیا آپ کو یقین ہے کہ یہوواہ خدا آپ کی دُعاؤں کو سنتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

آپ کن باتوں کے بارے میں دُعا کر سکتے ہیں؟‏

آپ کے خیال میں ہمیں کن باتوں کے بارے میں دُعا کرنی چاہئے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آپ کن باتوں کے بارے میں دُعا کرتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا ہمیں بہت سی اچھی‌اچھی چیزیں دیتا ہے۔‏ ہمیں اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہم خدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‏ لیکن کیا آپ نے کبھی نیلےنیلے آسمان،‏ ہرےبھرے درختوں اور رنگ‌برنگے پھولوں کے لئے بھی یہوواہ خدا کا شکریہ ادا کِیا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا نے اِن سب چیزوں کو بنایا ہے۔‏

ایک دفعہ عظیم اُستاد یسوع مسیح کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏ہمیں کیسے دُعا کرنی چاہئے؟‏“‏ یسوع مسیح نے اُنہیں بتایا کہ کن باتوں کے لئے دُعا کرنا ضروری ہے۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون سی باتیں ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اپنی بائبل میں  متی ۶ باب کھولیں۔‏ اِس کی ۹ سے ۱۳ آیت میں اِن باتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔‏ اِس دُعا کو کچھ لوگ دُعائےربانی کہتے ہیں۔‏ آئیں،‏ مل کر اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏

یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع مسیح نے ہمیں خدا کے نام کے بارے میں دُعا کرنا سکھایا۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ خدا کا نام پاک ٹھہرایا جائے۔‏ کیا آپ کو یاد ہے کہ خدا کا نام کیا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ خدا کا نام یہوواہ ہے اور ہمیں اِس نام کی عزت کرنی چاہئے۔‏

پھر یسوع مسیح نے سکھایا کہ ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ خدا کی بادشاہت آئے۔‏ یہ بادشاہت بہت اہم ہے کیونکہ اِس کے ذریعے پوری زمین پر امن ہوگا اور زمین فردوس بن جائے گی۔‏

یسوع مسیح نے بتایا کہ ہمیں یہ بھی دُعا کرنی چاہئے کہ جس طرح خدا کی مرضی آسمان پر پوری ہو رہی ہے اِسی طرح خدا کی مرضی زمین پر بھی پوری ہو۔‏ اگر ہم یہ دُعا کرتے ہیں تو ہمیں خدا کی مرضی پر عمل کرنا چاہئے اور اُس کا کہنا ماننا چاہئے۔‏

یسوع مسیح نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ہمیں روز کی روٹی کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ خدا سے دُعا کرتے وقت ہمیں اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی چاہئے۔‏ خدا تب ہی ہماری غلطیاں معاف کرے گا جب ہم دوسروں کو معاف کرتے ہیں۔‏ کیا آپ کو دوسروں کی غلطیاں معاف کرنا آسان لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ جب شیطان ہمیں اُکسائے تو یہوواہ خدا ہمیں بُرے کام کرنے سے بچائے۔‏ ہم اِن سب باتوں کے بارے میں یہوواہ خدا سے دُعا کر سکتے ہیں۔‏

ہمیں اِس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ یہوواہ خدا ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے۔‏ ہمیں اُس سے مدد مانگنی چاہئے اور اُس کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔‏ یہوواہ خدا اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب ہم دل سے دُعا کرتے ہیں۔‏ جب ہم اچھی باتوں کے لئے دُعا کرتے ہیں تو وہ ہماری دُعا قبول کرتا ہے۔‏ کیا آپ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

دُعا کے بارے میں کچھ اَور باتیں جاننے کے لئے اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۱۲‏؛‏ اور ۱-‏یوحنا ۵:‏۱۴‏۔‏