مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا اور بڑوں کا کہنا مانیں

خدا اور بڑوں کا کہنا مانیں

 باب نمبر ۷

کیا آپ کبھی‌کبھار سوچتے ہیں کہ ”‏کتنا اچھا ہوتا اگر مَیں جو چاہے کر سکتا اور کوئی مجھ سے نہ کہتا کہ یہ کرو یا وہ کرو“‏؟‏ سچ‌سچ بتائیں،‏ کیا آپ کبھی ایسا سوچتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

آپ کو بڑوں کی باتوں پر کیوں دھیان دینا چاہئے؟‏

لیکن آپ کے خیال میں کیا بہتر ہے:‏ اپنی مرضی کرنا یا امی‌ابو کی بات ماننا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ آپ اپنے امی‌ابو کی بات مانیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ وہ یہ کیوں چاہتا ہے۔‏

آپ کتنے سال کے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے ابو کتنے سال کے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی امی،‏ داداجی اور دادی‌جی کی عمر کیا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ عمر میں آپ سے بہت بڑے ہیں۔‏ اُنہوں نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے اور بہت سے کام کئے ہیں۔‏ اِس لئے آپ اپنے بڑوں سے بہت کچھ سیکھ سیکھتے ہیں۔‏

کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو آپ سے عمر میں چھوٹا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ اُس سے زیادہ باتیں جانتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اُس سے عمر میں بڑے ہیں۔‏

کیا آپ کو پتہ ہے کہ کون سب سے زیادہ عرصے سے زندہ ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہوواہ خدا ہمیشہ سے زندہ ہے۔‏ اِس لئے وہ آپ سے اور مجھ سے زیادہ باتیں جانتا ہے۔‏ خدا ہمیں جو بھی کہتا ہے،‏ وہ ہمارے فائدے کے لئے ہوتا ہے۔‏ کبھی‌کبھار  ہمیں خدا کی بات ماننا مشکل لگتا ہے۔‏ ایک دفعہ عظیم اُستاد یسوع مسیح کو بھی خدا کی بات ماننا مشکل لگا تھا۔‏ کیا آپ یہ جانتے تھے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

خدا نے یسوع مسیح کو ایک ایسا کام کرنے کو کہا جو بہت مشکل تھا۔‏ جیسا کہ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں،‏ یسوع مسیح نے اِس کے بارے میں خدا سے دُعا کی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اَے باپ،‏ اگر تُو چاہے تو مجھے اِس مشکل سے نکال۔‏“‏ اِس دُعا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بات ماننا کبھی‌کبھی مشکل ہوتا ہے۔‏ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ یسوع مسیح نے دُعا کے آخر میں کیا کہا تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

ہم یسوع مسیح کی دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔‏“‏ (‏لوقا ۲۲:‏۴۱،‏ ۴۲‏)‏ یسوع مسیح اپنی مرضی نہیں کرنا چاہتے تھے۔‏ وہ خدا کی بات ماننا چاہتے تھے۔‏ اِس لئے یسوع مسیح نے وہی کِیا جو خدا نے کہا تھا۔‏

ہم یسوع مسیح کی اِس دُعا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ہم سیکھتے ہیں کہ چاہے ہمیں خدا کی بات ماننا مشکل لگے،‏ پھر بھی ہمیں ہمیشہ اُس کی بات ماننی چاہئے۔‏ ہم اِس دُعا سے ایک اَور بات بھی سیکھتے ہیں۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون سی بات ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یسوع مسیح ہی خدا ہیں۔‏ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‏ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح الگ‌الگ ہیں۔‏ یہوواہ خدا اپنے بیٹے سے بڑا ہے اور اُس سے زیادہ باتیں جانتا ہے۔‏

جب ہم خدا کا کہنا مانتے ہیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خدا سے پیار کرتے ہیں۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں اور اُس کے حکم سخت نہیں۔‏“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ اِس آیت سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم سب کو خدا کا کہنا ماننا چاہئے۔‏ کیا آپ خدا کا کہنا ماننا چاہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

یہوواہ خدا بچوں سے کیا چاہتا ہے؟‏ آئیں،‏ بائبل کھول کر افسیوں ۶ باب کی ایک سے تین آیت کو پڑھتے ہیں۔‏ یہاں لکھا ہے:‏ ”‏اَے فرزندو!‏ خداوند میں اپنے ماں‌باپ کے فرمان‌بردار رہو کیونکہ یہ واجب ہے۔‏  اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر (‏یہ پہلا حکم ہے جس کے ساتھ وعدہ بھی ہے)‏۔‏ تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر زمین پر دراز ہو۔‏“‏

یہوواہ خدا یہ چاہتا ہے کہ آپ اپنے امی‌ابو کے فرمان‌بردار ہوں۔‏ اِس کا مطلب ہے کہ آپ اُن کا کہنا مانیں اور اُن کی عزت کریں۔‏ یہوواہ خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ اگر آپ اپنے امی‌ابو کی بات مانیں گے تو آ پ کا بھلا ہوگا یعنی آپ کا فائدہ ہوگا۔‏

بائبل میں بہت سے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنہوں نے خدا کا کہنا مانا اور اِس لئے اُن کی جان بچ گئی۔‏ آئیں،‏ مَیں آپ کو اِس سلسلے میں ایک کہانی سناتا ہوں۔‏ یہ کہانی شہر یروشلیم میں رہنے والے لوگوں کی ہے۔‏ یروشلیم میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو خدا کی بات نہیں مانتے تھے۔‏ اِس لئے یسوع مسیح نے کہا کہ خدا یروشلیم کو تباہ کر دے گا۔‏ لیکن یروشلیم میں اچھے لوگ بھی تھے جو خدا کا کہنا مانتے تھے۔‏ یسوع مسیح نے وعدہ کِیا تھا کہ جب یروشلیم تباہ ہوگا تو اِن لوگوں کی جان بچ جائے گی۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏جب تُم دیکھو کہ فوجوں نے یروشلیم کو گھیر لیا ہے تو جان لینا کہ یہ شہر تباہ ہونے والا ہے۔‏ اُس وقت تُم یروشلیم سے نکل کر پہاڑوں پر بھاگ جانا۔‏“‏—‏لوقا ۲۱:‏۲۰-‏۲۲‏۔‏

اِن لوگوں نے یسوع مسیح کا کہنا مانا۔‏ اِس سے اُنہیں کون سا فائدہ ہوا؟‏

اور بالکل ایسا ہی ہوا۔‏ روم کے فوجیوں نے یروشلیم کو گھیر لیا۔‏ وہ اِس شہر پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔‏ لیکن پھر وہ اچانک واپس روم چلے گئے۔‏ بہت سے لوگوں نے سوچا کہ ”‏اب تو یروشلیم کو کوئی خطرہ نہیں رہا۔‏“‏ اِس لئے وہ یروشلیم میں رہے۔‏ لیکن کیا آپ کو یاد ہے کہ یسوع مسیح نے کیا کہا تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر آپ یروشلیم میں ہوتے تو آپ کیا کرتے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کئی لوگوں کو یقین تھا کہ یسوع مسیح نے جو کچھ کہا تھا،‏ وہ ضرور پورا ہوگا۔‏ اِس لئے وہ اپنا گھر چھوڑ کر پہاڑوں پر بھاگ گئے۔‏

اور پتہ ہے،‏ پھر کیا ہوا؟‏ ایک سال گزر گیا،‏ دو سال گزر گئے،‏ تین سال گزر گئے لیکن یروشلیم تباہ نہیں ہوا۔‏ کچھ لوگوں نے سوچا ہوگا کہ ”‏جو لوگ یروشلیم سے بھاگ گئے ہیں،‏ وہ تو بڑے بےوقوف ہیں۔‏“‏ لیکن چوتھے سال میں روم کے فوجی دوبارہ سے آئے۔‏ اُنہوں نے پھر سے یروشلیم کو گھیر لیا۔‏ اب کوئی بھی یروشلیم سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔‏ اور پھر روم کے فوجیوں نے یروشلیم کو بالکل تباہ کر دیا۔‏  زیادہ‌تر لوگ مارے گئے اور باقی لوگوں کو قیدی بنا لیا گیا۔‏

کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوا جنہوں نے یسوع مسیح کا کہنا مانا تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اُن کی جان بچ گئی۔‏ وہ تو یروشلیم سے دُور بھاگ گئے تھے اور پہاڑوں میں رہ رہے تھے۔‏ اِس لئے وہ یروشلیم کی تباہی سے بچ گئے۔‏ اِن لوگوں نے یسوع مسیح کی بات مانی تھی اور اِس سے اُن کو بڑا فائدہ ہوا۔‏

اگر آپ بڑوں کی بات مانیں گے تو آپ کو کون سے فائدے ہوں گے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آئیں،‏ مَیں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔‏ شاید آپ کے امی‌ابو آپ سے کہیں کہ ”‏گلی میں نہ کھیلو۔‏“‏ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ اِس لئے ایسا کہتے ہیں کیونکہ گلی میں گاڑیاں آتی‌جاتی ہیں اور آپ کو گاڑی سے ٹکر لگ سکتی ہے۔‏ لیکن شاید آپ سوچیں:‏ ”‏ابھی تو گلی میں کوئی گاڑی نہیں ہے۔‏ اِس لئے مجھے ٹکر نہیں لگے گی۔‏ اور پھر دوسرے بچے بھی گلی میں کھیلتے ہیں۔‏ اُنہیں تو کبھی کچھ نہیں ہوتا۔‏“‏

آپ کو بڑوں کا کہنا کیوں ماننا چاہئے؟‏

 جب روم کے فوجی پہلی بار یروشلیم آئے اور پھر وہاں سے چلے گئے تو بہت سے لوگوں نے بھی یہی سوچا ہوگا کہ ”‏اب تو ہمیں کچھ نہیں ہوگا،‏ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔‏“‏ اُنہوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ یروشلیم کو چھوڑ کر نہیں گئے۔‏ اِس لئے اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ بھی یروشلیم کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔‏ یسوع مسیح نے اُن کو بتایا تھا کہ یروشلیم تباہ ہوگا لیکن اُنہوں نے یسوع مسیح کی بات نہیں مانی۔‏ اِس وجہ سے وہ مارے گئے۔‏

آئیں،‏ مَیں آپ کو ایک اَور مثال دوں۔‏ کیا آپ کبھی ماچس سے کھیلے ہیں؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ جب ہم ماچس کی تیلی جلاتے ہیں تو آگ نکلتی ہے۔‏ یہ دیکھنے میں تو اچھا لگتا ہے لیکن یہ بڑا خطرناک ہو سکتا ہے۔‏ ماچس سے کھیلنے کی وجہ سے گھر کو آگ لگ سکتی ہے۔‏ پورا گھر جل سکتا ہے اور آپ مر بھی سکتے ہیں۔‏

اِس سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ بچوں کو بڑوں کا کہنا ماننا چاہئے۔‏ یوں وہ بہت سے خطروں سے بچ جائیں گے۔‏ یاد ہے کہ بائبل میں بچوں سے کہا گیا ہے:‏ ”‏اَے فرزندو!‏ خداوند میں اپنے ماں‌باپ کے فرمان‌بردار رہو۔‏“‏ یہ حکم کس نے دیا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یہ حکم خدا نے دیا ہے۔‏ اُس نے آپ کو یہ حکم اِس لئے دیا ہے کیونکہ اُس کو آپ سے بہت پیار ہے۔‏

خدا اور بڑوں کے فرمان‌بردار رہنا بہت اہم ہے۔‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ امثال ۲۳:‏۲۲؛‏ واعظ ۱۲:‏۱۳؛‏ یسعیاہ ۴۸:‏۱۷،‏ ۱۸‏؛‏ اور کلسیوں ۳:‏۲۰‏۔‏