مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب نمبر ۲۶

ہمیں اچھے کام کرنا کیوں مشکل لگتا ہے؟‏

ہمیں اچھے کام کرنا کیوں مشکل لگتا ہے؟‏

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ساؤل نے بُرے کام کئے تو کون خوش ہوا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ شیطان خوش ہوا اور یہودیوں کے مذہبی رہنما بھی خوش ہوئے۔‏ لیکن جب ساؤل یسوع مسیح کے شاگرد بن گئے اور پولس رسول کے نام سے مشہور ہو گئے تو مذہبی رہنما اُن سے نفرت کرنے لگے اور اُن کو ستانے لگے۔‏ آپ کے خیال میں کیا پولس رسول کے لئے اچھے کام کرنا آسان تھا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یسوع مسیح کے کسی بھی شاگرد کے لئے اچھے کام کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔‏

جب پولس رسول نے اچھے کام کئے تو لوگوں نے اُن سے کیسا سلوک کِیا؟‏

پولس رسول کو یسوع مسیح کا شاگرد بننے کی وجہ سے بہت تکلیف سہنی پڑی۔‏ ایک بار سردارکاہن حننیاہ نے کچھ آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ پولس رسول کو مکے ماریں۔‏ حننیاہ نے پولس رسول کو قید کروانے کی بھی کوشش کی۔‏ بُرے لوگوں نے کئی موقعوں پر پولس رسول کو ماراپیٹا۔‏ ایک بار تو لوگوں نے اُن پر بڑےبڑے پتھر بھی پھینکے تاکہ وہ مر جائیں۔‏—‏اعمال ۲۳:‏۱،‏ ۲؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲۴،‏ ۲۵‏۔‏

جب آپ اچھے کام کرتے ہیں تو کئی لوگ آپ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔‏ وہ نہیں چاہتے کہ آپ اچھے کام کریں۔‏ اِس لئے وہ آپ کو بُرے کام کرنے پر  اُکسانے کی کوشش کریں گے۔‏ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟‏ کیا آپ پھر بھی اچھے کام کریں گے؟‏ ایسا کرنے کے لئے آپ کو بہادر بننا پڑے گا،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

شاید آپ سوچیں کہ ”‏جب ہم اچھے کام کرتے ہیں تو لوگوں کو خوش ہونا چاہئے۔‏ اُن کو ہم سے نفرت تو نہیں کرنی چاہئے۔‏“‏ یہ سچ ہے۔‏ زیادہ‌تر لوگ یسوع مسیح کو اِس لئے پسند کرتے تھے کیونکہ وہ اچھے کام کرتے تھے۔‏ ایک بار یسوع مسیح ایک گھر میں بیماروں کو ٹھیک کر رہے تھے۔‏ یہ سُن کر شہر کے لوگ بہت خوش ہوئے اور سب کے سب اُس گھر کے آگے جمع ہو گئے۔‏—‏مرقس ۱:‏۳۳‏۔‏

لیکن بہت سے لوگ اُن باتوں کو پسند نہیں کرتے تھے جو یسوع مسیح سکھا رہے تھے۔‏ یسوع مسیح نے کبھی  کوئی غلط بات نہیں سکھائی تھی۔‏ وہ جو کچھ سکھاتے تھے،‏ صحیح ہوتا تھا۔‏ لیکن کئی لوگ سچائی نہیں سننا چاہتے تھے۔‏ اِس لئے وہ یسوع مسیح سے نفرت کرنے لگے۔‏ مَیں آپ کو اِس سلسلے میں ایک کہانی سناتا ہوں۔‏ ایک دن یسوع مسیح شہر ناصرت گئے جہاں اُنہوں نے بچپن گزارا تھا۔‏ وہ اِس شہر کے عبادت‌خانے میں گئے۔‏ بائبل میں عبادت‌خانہ اُس جگہ کو کہا گیا ہے جہاں یہودی خدا کی عبادت کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے۔‏

عبادت‌خانے میں یسوع مسیح نے بڑی اچھی تقریر کی۔‏ شروع میں لوگوں کو یہ تقریر بہت پسند آئی۔‏ اُن کو بڑا فخر تھا کہ یہ آدمی جو اُنہیں اِتنی اچھی باتیں سکھا رہا ہے،‏ اُن کے شہر سے ہے۔‏

لیکن پھر یسوع مسیح نے ایک ایسی بات کہی جو اُن کو اچھی نہیں لگی۔‏ یسوع مسیح نے اُنہیں یاد دلایا کہ خدا نے کئی موقعوں پر یہودیوں کی مدد کرنے کی بجائے ایسے لوگوں کی مدد کی جو یہودی نہیں تھے۔‏ یہ سُن کر لوگوں کو بہت غصہ آیا۔‏ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن کو غصہ کیوں آیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اُن کی نظر میں یہودی قوم دوسری سب قوموں سے بہتر تھی۔‏ اُن کا خیال تھا کہ خدا کو صرف یہودیوں کی مدد کرنی چاہئے۔‏ اِس لئے وہ یسوع مسیح سے ناراض ہوئے۔‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اُنہوں نے پھر کیا کِیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ یسوع مسیح کو شہر سے باہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے۔‏ وہ یسوع مسیح کو وہاں سے نیچے گِرانا چاہتے تھے لیکن یسوع مسیح اُن کے بیچ میں سے نکل کر چلے گئے۔‏—‏لوقا ۴:‏۱۶-‏۳۰‏۔‏

اِن لوگوں نے یسوع مسیح کو قتل کرنے کی کوشش کیوں کی؟‏

اگر اِن لوگوں نے آپ کے ساتھ ایسا سلوک کِیا ہوتا تو کیا آپ واپس جا کر اُن کو پھر سے خدا کے بارے میں تعلیم دیتے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ایسا کرنے کے لئے آپ کو بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یسوع مسیح اِس واقعے کے ایک سال بعد ناصرت واپس گئے۔‏ بائبل میں لکھا ہے کہ وہ پھر سے ”‏عبادت‌خانے میں تعلیم دینے لگے۔‏“‏ وہاں کے لوگ خدا سے محبت نہیں رکھتے تھے۔‏ لیکن یسوع مسیح اُن کو سچائی کی تعلیم دیتے رہے۔‏ وہ اِن لوگوں سے نہیں ڈرتے تھے۔‏—‏متی ۱۳:‏۵۴‏۔‏

ایک اَور موقعے پر یسوع مسیح نے ایک آدمی کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ سُوکھ گیا تھا۔‏ وہ اِس ہاتھ سے کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔‏ خدا کی طاقت سے یسوع مسیح اِس آدمی کے ہاتھ کو ٹھیک کر سکتے تھے۔‏ لیکن اُس دن سبت کا دن تھا۔‏ سبت کے دن یہودیوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔‏ وہاں کچھ اَور لوگ بھی موجود تھے جو یسوع مسیح پر  غلط کام کرنے کا الزام لگانا چاہتے تھے۔‏ آپ کے خیال میں یسوع مسیح نے کیا کِیا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یسوع مسیح نے اِن لوگوں سے پوچھا:‏ ”‏اگر تُم میں سے کسی کی بھیڑ سبت کے دن گڑھے میں گِر جائے تو کیا تُم اُسے باہر نہیں نکالو گے؟‏“‏

یہ لوگ اپنی بھیڑ کو ضرور باہر نکالتے۔‏ اِس لئے یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏سبت کے دن کسی انسان کی مدد کرنا زیادہ اہم ہوتا ہے کیونکہ انسان بھیڑ سے زیادہ اہم ہے۔‏“‏ ظاہری بات ہے کہ سبت کے دن اُس آدمی کی مدد کرنا کوئی غلط کام نہیں تھا۔‏

اِس لئے یسوع مسیح نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ۔‏“‏ اُس آدمی کا ہاتھ فوراً ٹھیک ہو گیا۔‏ وہ بہت خوش تھا۔‏ لیکن کیا دوسرے لوگ بھی خوش ہوئے؟‏ آپ کا کیا خیال ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ وہ خوش نہیں ہوئے بلکہ یسوع مسیح سے اَور بھی زیادہ نفرت کرنے لگے۔‏ اُنہوں نے آپس میں مشورہ کِیا کہ وہ یسوع مسیح کو کیسے قتل کریں گے۔‏—‏متی ۱۲:‏۹-‏۱۴‏۔‏

آج بھی ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم اچھے کام کرتے ہیں تو کچھ لوگ ہم سے ناراض ہوتے ہیں۔‏ لیکن ہم کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟‏ اگر ہم یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن کا کہنا ماننا چاہئے۔‏ لیکن پھر کون ہم سے نفرت کرے گا؟‏ کون ہمیں اچھے کام کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

شیطان ایسا کرے گا۔‏ لیکن آپ کے خیال میں اَور کون ہم سے نفرت کریں گے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ایسے لوگ ہم سے نفرت کریں گے جو شیطان کی تعلیم کو مانتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے کچھ مذہبی رہنماؤں سے کہا:‏ ”‏تُم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔‏“‏—‏یوحنا ۸:‏۴۴‏۔‏

بہت سے لوگ ابلیس یعنی شیطان کی تعلیم کو مانتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے اِن لوگوں کو ”‏دُنیا“‏ کہا۔‏ جب یسوع مسیح نے دُنیا کا ذکر کِیا تو وہ کس قسم کے لوگوں کا ذکر کر رہے تھے؟‏ آپ کا کیا خیال ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آئیں،‏ بائبل میں یوحنا ۱۵ باب کو کھولیں اور اِس کی ۱۹ آیت کو پڑھیں۔‏ یہاں لکھا ہے:‏ ”‏اگر تُم دُنیا کے ہوتے تو دُنیا اپنوں کو عزیز رکھتی لیکن چونکہ تُم دُنیا کے نہیں بلکہ مَیں نے تُم کو دُنیا میں سے چن لیا ہے اِس واسطے دُنیا تُم سے عداوت رکھتی ہے۔‏“‏

اِس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دُنیا کے لوگ یسوع مسیح کے شاگردوں سے عداوت یعنی نفرت کرتے ہیں۔‏  لیکن آپ کے خیال میں دُنیا یسوع مسیح کے شاگردوں سے نفرت کیوں کرتی ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ ذرا سوچیں کہ دُنیا کا حاکم کون ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏ساری دُنیا اُس شریر کے قبضے میں پڑی ہوئی ہے۔‏“‏ یہ شریر کون ہے؟‏ یہ شیطان ہے۔‏—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏۔‏

کیا آپ سمجھ گئے ہیں کہ ہمیں اچھے کام کرنا اِتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیونکہ شیطان اور اُس کی دُنیا ہمیں بُرے کام کرنے پر اُکساتے ہیں۔‏ لیکن ہمیں ایک اَور وجہ سے بھی اچھے کام کرنا مشکل لگتا ہے۔‏ کیا آپ کو یاد ہے کہ یہ کون سی وجہ ہے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس کتاب کے باب نمبر ۲۳ میں ہم نے سیکھا تھا کہ ہم سب پیدائش سے ہی گُناہ‌گار ہیں۔‏ لیکن ایک دن خدا گُناہ،‏ شیطان اور اُس کی بُری دُنیا کو ختم کر دے گا۔‏ یہ بہت اچھا ہوگا،‏ ہے نا؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

جب شیطان کی دُنیا ختم ہو جائے گی تو اُن لوگوں کا کیا ہوگا جو اچھے کام کرتے ہیں؟‏

بائبل میں خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ ”‏دُنیا مٹتی جاتی ہے۔‏“‏ اِس کا مطلب ہے کہ جو لوگ عظیم اُستاد یسوع مسیح کے شاگرد نہیں ہیں،‏ وہ ختم ہو جائیں گے۔‏ خدا اُن کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دے گا۔‏ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ کون لوگ ہمیشہ تک زندہ رہیں گے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔‏“‏ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۷‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ صرف ایسے لوگ خدا کی نئی دُنیا میں ہمیشہ تک رہ سکیں گے جو خدا کی مرضی پر چلتے ہیں۔‏ اِس لئے ہمیں اُس وقت بھی اچھے کام کرنے چاہئیں جب ہمیں ایسا کرنا مشکل لگتا ہے۔‏ کیا آپ بھی ایسا کریں گے؟‏ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہمیں اچھے کام کرنا آسان کیوں نہیں لگتا۔‏ آئیں،‏ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ متی ۷:‏۱۳،‏ ۱۴؛‏ لوقا ۱۳:‏۲۳،‏ ۲۴‏؛‏ اور اعمال ۱۴:‏۲۱،‏ ۲۲‏۔‏