مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مزید معلومات

کاروباری معاملوں میں اختلافات سلجھانے کے لئے اصول

کاروباری معاملوں میں اختلافات سلجھانے کے لئے اصول

پولس رسول نے ۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱-‏۸ میں مسیحیوں کے درمیان ہونے والی مقدمہ‌بازی کے بارے میں لکھا۔‏ وہ اِس بات سے پریشان تھا کہ شہر کرنتھس کی کلیسیا میں کچھ مسیحی ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ چلاتے اور ’‏فیصلے کے لئے بےدینوں کے پاس جاتے تھے۔‏‘‏ (‏آیت ا‏)‏ خدا کے الہام سے پولس رسول نے کرنتھس کے مسیحیوں کو ٹھوس وجوہات دیں کہ اُنہیں کچہری میں ایک دوسرے کے خلاف مقدمے چلانے کی بجائے اپنے اختلافات خود کیوں سلجھانے چاہئیں۔‏ آئیں ہم اِن وجوہات پر غور کریں۔‏ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ مسیحیوں کے لئے کچہری جانا کب جائز ہوتا ہے۔‏

اگر ہمیں کاروبار کے سلسلے میں اپنے مسیحی بھائی کے ساتھ اختلاف ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏ اِس صورت میں ہمیں اپنی سوچ کے مطابق نہیں بلکہ یہوواہ خدا کی ہدایات کے مطابق اِس مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔‏ (‏امثال ۱۴:‏۱۲‏)‏ یسوع مسیح نے کہا کہ مسیحیوں کو اپنے اختلافات جلد ختم کرنے چاہئیں تاکہ صورتحال مزید بگڑ نہ جائے۔‏ (‏متی ۵:‏۲۳-‏۲۶‏)‏ افسوس کی بات ہے کہ کچھ مسیحی بحث‌وتکرار کرنے پر اُتر آتے ہیں اور اپنے بھائی کے خلاف کچہری میں مقدمہ لڑتے ہیں۔‏ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏دراصل تُم میں بڑا نقص یہ ہے کہ آپس میں مقدمہ‌بازی کرتے ہو۔‏“‏ مسیحی بھائیوں میں مقدمہ‌بازی کیوں غلط ہے؟‏ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف کلیسیا کی بلکہ یہوواہ خدا کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔‏ یہ اِتنی سنگین بات ہے کہ پولس رسول نے مسیحیوں سے کہا:‏ ”‏[‏تُم]‏ ظلم اُٹھانا کیوں نہیں بہتر جانتے؟‏ اپنا نقصان کیوں نہیں قبول کرتے؟‏“‏ (‏آیت ۷‏)‏ ہمیں پولس رسول کی اِس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔‏

پولس رسول نے مسیحیوں کو بتایا کہ خدا نے کلیسیا میں پیدا ہونے والے اختلافات ختم کرنے کا بندوبست بنایا ہے۔‏ خدا نے کلیسیا میں بزرگ مقرر کئے ہیں جو بائبل کی سچائیوں کا گہرا علم رکھنے کی وجہ سے حکمت کے مالک ہیں۔‏ لہٰذا پولس رسول نے کہا کہ یہ بزرگ ’‏دُنیوی معاملوں‘‏ میں ’‏اپنے بھائیوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔‏‘‏ (‏آیت ۳-‏۵‏)‏ کبھی‌کبھار کلیسیا میں کسی سنگین معاملے کے بارے میں اختلاف کھڑے ہو جاتے ہیں،‏ مثلاً اگر کسی نے دھوکابازی کی ہو یا پھر جھوٹے الزام لگا کر کسی کی بدنامی کی ہو وغیرہ۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ ایسے مسئلوں کو حل کرنے کے لئے مسیحیوں کو یہ تین اقدام اُٹھانے چاہئیں:‏ پہلا قدم یہ ہے کہ ایسے مسیحی جن میں اختلاف ہے،‏ اُنہیں اِسے خود حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‏ اگر ایسا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا تو دوسرا قدم یہ ہے کہ اُنہیں  ایک یا دو مسیحیوں کو گواہوں کے طور پر ساتھ لے جانا چاہئے۔‏ اور اگر ایسا کرنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اُنہیں اپنا مسئلہ کلیسیا کے بزرگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے جو کلیسیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔‏—‏متی ۱۸:‏۱۵-‏۱۷‏۔‏

ظاہری بات ہے کہ کلیسیا کے بزرگوں کی ذمہ‌داری یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیں کاروباری یا قانونی معاملوں میں مشورہ دیں۔‏ جب مسیحیوں میں کاروباری معاملوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو کلیسیا کے بزرگ اُن کو یہ نہیں بتائیں گے کہ اُنہیں اپنا مسئلہ کیسے حل کرنا چاہئے۔‏ اِس کی بجائے وہ اُنہیں بتائیں گے کہ بائبل کے کن اصولوں پر عمل کرنے سے وہ اپنے اختلافات کو پُرامن طریقے سے سلجھا سکتے ہیں۔‏ اگر معاملہ بہت ہی پیچیدہ ہے تو بزرگ شاید سفری نگہبان یا پھر یہوواہ کے گواہوں کے برانچ کے دفتر سے اِس سلسلے میں رابطہ کر سکتے ہیں۔‏ البتہ کچھ ایسی بھی صورتحال ہیں جن میں مسیحیوں کے لئے کچہری جانا غلط نہیں ہے۔‏

کبھی‌کبھار کچہری میں مقدمہ درج کروانے سے ہی ایک معاملے کو قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے۔‏ مثال کے طور پر کئی ممالک میں طلاق‌نامہ لینے کے لئے مقدمہ درج کرانا پڑتا ہے۔‏ اِس کے علاوہ یہ فیصلہ کروانے کے لئے کہ طلاق کے بعد والدین میں سے کون بچوں کی نگرانی کرے گا،‏ یہ طے کرنے کے لئے کہ طلاق کے بعد عورت کو کتنا ماہانہ خرچ دیا جائے گا،‏ بیمہ کمپنی سے اپنے نقصان کی تلافی حاصل کرنے کے لئے،‏ ایک کمپنی کے دیوالیہ ہو جانے پر اپنا نام اُس کے قرض‌خواہوں میں شامل کرنے کے لئے یاپھر ورثے میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے بھی مقدمہ درج کروانا پڑتا ہے۔‏ کچھ ایسی بھی صورتحال ہیں جب ایک مسیحی کے خلاف مقدمہ درج کروایا جاتا ہے اور وہ اپنے دفاع میں مخالف پر مقدمہ درج کروانا لازمی سمجھتا ہے۔‏ *

اگر ایسے مقدمے اپنے مسیحی بھائی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے درج نہ کئے جائیں تو اُن اصولوں کی خلاف‌ورزی نہیں ہوگی جو ۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱-‏۸ میں پائے جاتے ہیں۔‏ * مسیحیوں کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہوواہ خدا کے نام کی بڑائی ہو اور کلیسیا میں امن‌واتحاد برقرار رہے۔‏ یاد رکھیں کہ یسوع مسیح کے پیروکاروں کی پہچان محبت ہے اور ”‏محبت .‏ .‏ .‏ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔‏“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴،‏ ۵؛‏ یوحنا ۱۳:‏۳۴،‏ ۳۵‏۔‏

^ پیراگراف 7 حالانکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے لیکن کبھی‌کبھار ایک مسیحی دوسرے مسیحی کے خلاف سنگین جُرم کرتا ہے،‏ مثلاً عصمت‌دری،‏ مارپیٹ،‏ قتل،‏ ڈکیتی وغیرہ۔‏ ایسی صورت میں اگر ایک مسیحی دوسرے کے خلاف ایف‌آئی‌آر درج کرواتا ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا حالانکہ ایسا کرنے سے جُرم کرنے والے مسیحی پر مقدمہ دائر کِیا جا سکتا ہے یا پھر فردِجُرم عائد کِیا جا سکتا ہے۔‏

^ پیراگراف 8 اِس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے مینارِنگہبانی،‏ اپریل ۱،‏ ۱۹۹۷،‏ صفحہ ۱۴-‏۱۹ اور مینارِنگہبانی،‏ مارچ ۱،‏ ۱۹۹۲،‏ صفحہ ۳۰-‏۳۲ کو دیکھیں۔‏