مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مزید معلومات

قومی پرچم کو سلوٹ کرنا،‏ ووٹ ڈالنا اور غیرفوجی خدمت

قومی پرچم کو سلوٹ کرنا،‏ ووٹ ڈالنا اور غیرفوجی خدمت

قومی پرچم کو سلوٹ کرنا۔‏ بہت سے ممالک میں یہ روایت عام ہے کہ قومی ترانہ بجایا جاتا ہے اور لوگ اپنے قومی پرچم کو سلوٹ کرتے ہیں۔‏ یہوواہ کے گواہوں کے نزدیک یہ روایت قومی پرچم کی پرستش کرنے کے برابر ہے کیونکہ لوگ پرچم کو سلوٹ کرنے سے یہ توقع ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کے حکمران اُنہیں نجات دلائیں گے جبکہ دراصل خدا ہی ایسا کر سکتا ہے۔‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۱؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۴؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۲۱‏)‏ اِس سلسلے میں بادشاہ نبوکدنضر کی مثال پر غور کریں جو بابل کا حکمران تھا۔‏ وہ اپنی عوام کو اپنی عظمت اور دینداری سے متاثر کرنا چاہتا تھا۔‏ اِس لئے اُس نے ایک بڑی مورت بنوائی اور عوام کو حکم کِیا کہ موسیقی سنتے ہی وہ اُس کے سامنے سجدہ کریں۔‏ یہ موسیقی ایک قومی ترانے کی طرح تھی۔‏ لیکن سدرک،‏ میسک اور عبدنجو نامی تین عبرانیوں نے اِس مورت کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ بادشاہ کے حکم کو نہ ماننے کی سزا موت تھی۔‏—‏دانی‌ایل باب ۳‏۔‏

تاریخ‌دان کارلٹن ہیز کے مطابق وطن پرستی کو مذہب کا درجہ دیا جاتا ہے۔‏ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏قومی پرچم کی پرستش کی جاتی ہے۔‏“‏ اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے اُنہوں نے آگے بیان کِیا:‏ ”‏جب پرچم اُن کے سامنے سے گزارا جاتا ہے تو مرد احتراماً اپنی ٹوپیاں اُتار دیتے ہیں۔‏ شاعر پرچم کی تعریف میں غزلیں لکھتے ہیں اور بچے اِس کی حمد میں گیت گاتے ہیں۔‏“‏ اِس تاریخ‌دان کا کہنا ہے کہ وطن پرستی کی غرض سے لوگ جشنِ‌آزادی کو ”‏عید کی طرح مناتے ہیں،‏“‏ وہ اپنے بہادروں کو”‏ولی اور شہید“‏ کا درجہ دیتے ہیں اور ایسی عمارتیں جو قومی اہمیت رکھتی ہیں،‏ اُنہیں ”‏درگاہ“‏ جیسا مُقدس خیال کرتے ہیں۔‏ مُلک برازیل کے ایک جنرل  نے تسلیم کِیا:‏ ”‏جس طرح وطن کی پرستش کی جاتی ہے .‏ .‏ .‏ اِسی طرح قومی پرچم کی تعظیم اور پرستش کی جاتی ہے۔‏“‏ دی انسائیکلوپیڈیا امریکانا کے مطابق ”‏صلیب کی طرح قومی پرچم بھی مُقدس ہے۔‏“‏

اِسی انسائیکلوپیڈیا میں بتایا گیا ہے کہ قومی ترانے ”‏وطن پرستی کے جذبے کو ظاہر کرنے کے لئے گائے جاتے ہیں۔‏ اِن ترانوں میں اکثر دُعا کی جاتی ہے کہ خدا عوام یا حکمرانوں کی راہنمائی اور حفاظت کرے۔‏“‏ اِن تمام باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہوواہ کے خادم قومی پرچم کو سلوٹ کرنے اور قومی ترانہ گانے کو ایک قسم کی پرستش خیال کرتے ہیں۔‏ ایک مصنف نے اپنی کتاب ‏(‏دی امریکن کیریکٹر)‏ میں امریکی یہوواہ کے گواہوں کے بچوں کا ذکر کِیا جنہوں نے سکولوں میں قومی پرچم کو سلوٹ کرنے یا پھر اِس کا وفادار رہنے کا حلف اُٹھانے سے انکار کِیا۔‏ کتاب میں بتایا گیا کہ جب بات عدالت تک پہنچی تو ”‏سپریم کورٹ نے آخرکار یہ تسلیم کر لیا کہ اِن رسومات میں مذہبی عنصر پایا جاتا ہے۔‏“‏

یہوواہ کے گواہ ایسے رسم‌ورواج سے گریز کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک بائبل کے اصولوں کے خلاف ہیں۔‏ لیکن اگر دوسرے لوگ ایسے رسم‌ورواج کو اپناتے ہیں تو وہ اُنہیں نہیں روکتے۔‏ یہوواہ کے گواہ قومی پرچم کا احترام کرتے ہیں اور اُن حکومتوں کو ”‏خدا کا خادم“‏ مانتے ہیں جو قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔‏ (‏رومیوں ۱۳:‏۱-‏۴‏)‏ لہٰذا یہوواہ کے گواہ بائبل میں درج اِس تاکید پر عمل کرتے ہیں کہ’‏بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں کے واسطے دُعا کرو۔‏‘‏ ہمیں اُن کے لئے اِس لئے دُعا کرنی چاہئے تاکہ ’‏ہم کمال دینداری اور سنجیدگی سے امن‌وآرام کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔‏‘‏—‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۱،‏ ۲‏۔‏

سیاسی انتخابات میں ووٹ ڈالنا۔‏ یہوواہ کے گواہ نہ تو لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی انتخابات کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔‏ وہ حکومت کے تابعدار رہتے ہیں۔‏ لیکن وہ سیاسی معاملوں میں قطعی حصہ نہیں لیتے۔‏ (‏متی ۲۲:‏۲۱؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۱۶‏)‏ مسیحیوں کو اُن ممالک میں کیا کرنا چاہئے جہاں ووٹ ڈالنا لازمی ہوتا ہے یا پھر جہاں اُن لوگوں کو اذیت پہنچائی جاتی ہے جو ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں جاتے؟‏ یاد کریں کہ سدرک،‏ میسک اور عبدنجو بادشاہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے دورا کے میدان تک گئے تھے۔‏ اِسی طرح ایک مسیحی شاید پولنگ بوتھ تک جانے کا فیصلہ کرے۔‏ البتہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے وہ سیاسی معاملوں میں کسی کی طرفداری کرے۔‏ اِس سلسلے میں اُسے اِن چھ اصولوں کو مدِنظر رکھنا چاہئے:‏

  1.   یسوع مسیح کے پیروکار ”‏دُنیا کے نہیں“‏ ہیں۔‏—‏یوحنا ۱۵:‏۱۹‏۔‏

  2. ہم یسوع مسیح اور اُس کی بادشاہت کے نمائندے ہیں۔‏—‏یوحنا ۱۸:‏۳۶؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۲۰‏۔‏

  3. مسیحی کلیسیا میں تفرقے نہیں پائے جاتے اور اِس کے اراکین ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۴‏۔‏

  4. کسی شخص کے لئے ووٹ ڈالنے سے لوگ اُسے اختیار سونپتے ہیں اور یوں اُس کے کاموں میں شریک ہو جاتے ہیں۔‏ غور کریں کہ یہ اصول ۱-‏سموئیل ۸:‏۵،‏ ۱۰-‏۱۸ اور ۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۲ سے کیسے ظاہر ہوتا ہے۔‏

  5. جب بنی‌اسرائیل نے بادشاہ کے لئے درخواست کی تو یہوواہ کی نظر میں اُنہوں نے اُسے بادشاہ کے طور پر ترک کر دیا۔‏—‏۱-‏سموئیل ۸:‏۷‏۔‏

  6. لوگوں پر یہ ظاہر ہونا چاہئے کہ ہم کسی بھی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،‏ ورنہ ہم صاف دل کے ساتھ اُن سے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔‏—‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹،‏ ۲۰؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۱۸‏۔‏

غیرفوجی خدمت انجام دینا۔‏ بعض ممالک میں کچھ عرصے کے لئے فوج میں بھرتی ہونا لازمی ہوتا ہے۔‏ اِن ممالک میں جو لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرتے ہیں،‏ اِنہیں ایک مخصوص عرصے تک عوام کی فلاح‌وبہبود کے لئے کسی ادارے میں خدمت کرنے کو کہا جاتا ہے۔‏ ایسی غیرفوجی خدمت کے سلسلے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں راہنمائی کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔‏ شاید ہم کسی پُختہ مسیحی سے مشورہ بھی لے سکتے ہیں۔‏ اِس معاملے پر تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے بعد ہمیں اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے۔‏—‏امثال ۲:‏۱-‏۵؛‏ ۱۱:‏۱۴‏۔‏

خدا کے کلام میں مسیحیوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ ’‏حاکموں اور اختیار والوں کا حکم مانیں،‏ ہر نیک کام کے لئے مستعد رہیں اور نرم‌مزاج ہوں۔‏‘‏ (‏ططس ۳:‏۱،‏ ۲‏)‏ اِس اصول کو ذہن میں رکھ کر ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے چاہئیں:‏ ”‏اِس غیرفوجی خدمت کو انجام دینے سے کیا مَیں دُنیا کے سیاسی معاملوں میں حصہ لے رہا ہوں گا یا پھر جھوٹے مذاہب کی حمایت کر رہا ہوں گا؟‏“‏ (‏میکاہ ۴:‏۳،‏ ۵؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۶،‏ ۱۷‏)‏ ”‏اِس غیرفوجی خدمت کو انجام دینے سے کیا میرے لئے اپنی مسیحی ذمہ‌داریوں کو پورا کرنا مشکل یا ناممکن ہو جائے گا؟‏“‏ (‏متی ۲۸:‏۱۹،‏ ۲۰؛‏ افسیوں ۶:‏۴؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴،‏ ۲۵‏)‏ ”‏یا پھر کیا مجھے اِس غیرفوجی خدمت کو انجام دینے سے خدا کی خدمت میں زیادہ وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا؟‏“‏—‏عبرانیوں ۶:‏۱۱،‏ ۱۲‏۔‏

 اگر ایک مسیحی اپنے ضمیر کے مطابق یہ فیصلہ کرے کہ وہ جیل جانے کی بجائے غیرفوجی خدمت انجام دے گا تو دوسرے مسیحیوں کو اُس کی نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہئے۔‏ (‏رومیوں ۱۴:‏۱۰‏)‏ لیکن اگر اُس کا ضمیر اُسے ایسی خدمت انجام دینے کی اجازت نہ دے تو بھی دوسرے مسیحیوں کو اُس کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۲۹؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۴‏۔‏