مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 دوسرا باب

آپ صاف ضمیر کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

آپ صاف ضمیر کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏ضمیر صاف رکھو۔‏“‏—‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۶‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔‏

۱،‏ ۲.‏ (‏ا)‏ ایک ایسے ہم‌سفر کی راہنمائی قبول کرنا کیوں فائدہ‌مند ہوتا ہے جو صحیح راستے سے واقف ہے؟‏ (‏ب)‏ ہمارا ضمیر کس لحاظ سے اِس ہم‌سفر کی طرح ہے؟‏

تصور کریں کہ آپ کسی ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں آپ پہلے کبھی نہیں گئے ہیں۔‏ آپ کا ایک ہم‌سفر ہے جو اُس راستے سے خوب واقف ہے۔‏ وہ آپ کو صحیح راستہ دکھائے گا تاکہ آپ اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔‏ اگر آپ اُس کی راہنمائی کو قبول کریں گے تو آپ صحیح راستے سے نہیں بھٹکیں گے۔‏

۲ یہوواہ خدا نے ہمیں زندگی کی راہ کے لئے ایک ایسا ہی ہم‌سفر عطا کِیا ہے۔‏ یہ ہم‌سفر ہمارا ضمیر ہے۔‏ (‏یعقوب ۱:‏۱۷‏)‏ ضمیر کے بغیر ہم صحیح راہ سے بھٹکنے کے خطرے میں ہوں گے۔‏ اِس کے برعکس اگر ہم اپنے ضمیر کو استعمال میں لائیں گے تو ہم صحیح راہ کو تلاش کرکے اِس پر چل سکیں گے۔‏ آئیں دیکھیں کہ ضمیر کیا ہے اور ہم اِس کو کیسے کام میں لا سکتے ہیں۔‏ اِس کے بعد ہم اِن نکات پر غور کریں گے:‏ (‏۱)‏ ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏ (‏۲)‏ ہمیں دوسروں کے ضمیر کا لحاظ کیوں کرنا چاہئے؟‏ (‏۳)‏ صاف ضمیر رکھنے سے ہمیں کونسی برکات ملتی ہیں؟‏

ضمیر کیا ہے؟‏

۳.‏ (‏ا)‏ بائبل میں جو یونانی لفظ ”‏ضمیر“‏ کے لئے استعمال ہوا ہے اِس کا لفظی مطلب کیا ہے؟‏ (‏ب)‏ ضمیر کی بدولت ہم کیا کرنے کے قابل ہیں؟‏

۳ بائبل میں جو یونانی لفظ ”‏ضمیر“‏ کے لئے استعمال ہوا ہے اِس کا لفظی مطلب ہے ”‏اپنے  بارے میں علم رکھنا۔‏“‏ خدا نے تمام زمینی مخلوقات میں سے صرف انسان کو ضمیر عطا کِیا ہے۔‏ ضمیر کی بدولت ہم اپنی سوچ اور اپنے اعمال کو جانچ سکتے ہیں اور اچھے اور بُرے میں امتیاز کر سکتے ہیں۔‏ ضمیر ہماری سوچ اور ہمارے چال‌چلن کے بارے میں گواہی دیتا ہے۔‏ یہ اچھے فیصلے کرنے میں ہماری راہنمائی کرتا ہے اور ہمیں بُرے فیصلے کرنے سے خبردار کرتا ہے۔‏ اگر ہم اچھا فیصلہ کرتے ہیں تو ضمیر ہمیں شاباش دیتا ہے اور اگر ہم غلط فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں ملامت کرتا ہے۔‏

۴،‏ ۵.‏ (‏ا)‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو ضمیر کے ساتھ خلق کِیا تھا؟‏ (‏ب)‏ جب آدم اور حوا نے خدا کے حکم کی خلاف‌ورزی کی تو اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟‏ (‏ج)‏ خدا کے دو ایسے خادموں کے بارے میں بتائیں جنہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق عمل کِیا۔‏

۴ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو ضمیر کے ساتھ خلق کِیا۔‏ یہ اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گُناہ کرنے کے بعد اُن میں شرم کا احساس بیدار ہوا۔‏ (‏پیدایش ۳:‏۷،‏ ۸‏)‏ حالانکہ اُن کا ضمیر اُن کو پریشان کرنے لگا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔‏ اُنہوں نے جان‌بوجھ کر خدا کے حکم کی خلاف‌ورزی کی تھی اور خدا کے خلاف بغاوت کرنے کا فیصلہ کِیا تھا۔‏ وہ فطری طور پر گُناہ کی طرف مائل نہیں تھے۔‏ لہٰذا وہ جانتے تھے کہ وہ غلط کام کر رہے ہیں۔‏ اِس لئے خدا اُنہیں معاف کرنے کو تیار نہیں تھا۔‏

۵ آدم اور حوا کے برعکس اُن کی اولاد پیدائش سے گُناہ کی طرف مائل ہے۔‏ اِس کے باوجود اُن میں سے بہتیرے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق عمل کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر ایوب خدا کا وفادار رہا اور اِس لئے وہ یہ کہہ سکتا تھا کہ ”‏مَیں اپنی صداقت پر قائم ہوں اور اُسے نہ چھوڑوں گا۔‏ جب تک میری زندگی ہے میرا دل مجھے ملامت نہ کرے گا۔‏“‏ * (‏ایوب ۲۷:‏۶‏)‏  ایوب نے اپنے ضمیر کی آواز کو سنا اور اِس کے مطابق عمل کِیا۔‏ اِس لئے وہ کہہ سکتا تھا کہ اُس کا ضمیر اُس کو ملامت نہیں کرتا۔‏ اب ذرا داؤد کی مثال پر غور کریں۔‏ ایک موقعے پر اُس نے یہوواہ خدا کے ممسوح بادشاہ ساؤل کے لئے احترام ظاہر نہ کِیا۔‏ اِس کے بعد ”‏داؤد کے ضمیر نے اُسے ملامت کی۔‏“‏ (‏۱-‏سموئیل ۲۴:‏۵‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اِس سے داؤد کو فائدہ ہوا کیونکہ اُس نے ارادہ کر لیا کہ وہ آئندہ ایسا کام نہ کرے گا۔‏

۶.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ خدا نے تمام انسانوں کو ضمیر عطا کِیا ہے؟‏

۶ کیا ضمیر ایک ایسی بخشش ہے جو صرف خدا کے خادموں کو عطا کی گئی ہے؟‏ پولس رسول نے خدا کے الہام سے لکھا:‏ ”‏جب وہ قومیں جو شریعت نہیں رکھتیں اپنی طبیعت سے شریعت کے کام کرتی ہیں تو باوجود شریعت نہ رکھنے کے وہ اپنے لئے خود ایک شریعت ہیں۔‏ چُنانچہ وہ شریعت کی باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہوئی دکھاتی ہیں اور اُن کا دل بھی اُن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور اُن کے باہمی خیالات یا تو اُن پر الزام لگاتے ہیں یا اُن کو معذور رکھتے ہیں۔‏“‏ (‏رومیوں ۲:‏۱۴،‏ ۱۵‏)‏ جو لوگ خدا کے قوانین سے واقف نہیں ہیں،‏ وہ بھی اپنے ضمیر کی بدولت کبھی‌کبھار ایسے کام کرتے ہیں جن سے خدا خوش ہے۔‏

۷.‏ کبھی‌کبھار ہمارا ضمیر ہمیں غلط راہ کیوں دکھاتا ہے؟‏

۷ کبھی‌کبھار ہمارا ضمیر ہمیں غلط راہ بھی دکھاتا ہے۔‏ وہ کیسے؟‏ ذرا اُس تمثیل پر دوبارہ سے غور کریں جو پہلے پیراگراف میں بتائی گئی ہے۔‏ اگر آپ کا ہم‌سفر راستہ بھول جاتا ہے تو شاید وہ آپ کو غلط راہ پر لے جائے۔‏ یا پھر اگر آپ اُس کے ساتھ بحث کرنے لگتے ہیں اور اُس کی راہنمائی کو رد کر دیتے ہیں تو شاید آپ غلط راستے پر چل دیں۔‏ اِسی طرح جب ہمارے دل میں غلط خواہشات اُبھرتی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ضمیر کی آواز کو نظرانداز کر دیں۔‏ اور اگر ہم خدا کے کلام کے معیاروں سے واقف نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ ہمارا ضمیر ہمیں غلط راہ دکھائے۔‏ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم خدا کی پاک روح سے راہنمائی حاصل کریں تاکہ ہمارا ضمیر ہمیں صحیح راہ دکھائے۔‏ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏میرا ضمیر بھی پاک روح کے تابع ہو کر گواہی دیتا  ہے۔‏“‏ (‏رومیوں ۹:‏۱‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہمارا ضمیر خدا کی پاک روح کے تابع ہو؟‏ ہمیں اِس کی تربیت کرنی چاہئے۔‏

اپنے ضمیر کی تربیت کریں

۸.‏ (‏ا)‏ ہمارا ضمیر ہماری خواہشات سے کیسے متاثر ہو سکتا ہے؟‏ (‏ب)‏ صحیح فیصلے کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏ (‏ج)‏ مسیحیوں کے لئے صاف دل رکھنا کافی کیوں نہیں ہوتا؟‏ (‏فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏)‏

۸ ہم کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اپنے ضمیر کو کیسے کام میں لا سکتے ہیں؟‏ کچھ لوگ وہی کرتے ہیں جو اُن کا دل چاہتا ہے اور جو اُنہیں صحیح لگتا ہے۔‏ پھر وہ کہتے ہیں کہ ”‏میرا دل صاف ہے۔‏“‏ لیکن کبھی‌کبھار ہمارے دل میں ایسی خواہشات اُبھرتی ہیں جو ہمارے ضمیر پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔‏ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ‌باز اور لاعلاج ہے۔‏ اُس کو کون دریافت کر سکتا ہے؟‏“‏ (‏یرمیاہ ۱۷:‏۹‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا دل ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔‏ لہٰذا ہمیں اِس بات کو اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ ہمارا دل کیا چاہتا ہے۔‏ اِس کی بجائے ہمیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہوواہ خدا کی مرضی جان لینی چاہئے۔‏ *

۹.‏ (‏ا)‏ خدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏ (‏ب)‏ اگر ہم خدا کا خوف رکھتے ہیں تو ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے کیا کریں گے؟‏

۹ اگر ہم خدا کے کلام کی بِنا پر اپنے ضمیر کی تربیت کرتے ہیں تو ہمارے فیصلوں سے ظاہر ہوگا کہ ہم خدا کا خوف رکھتے ہیں۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ نحمیاہ یروشلیم کا حاکم تھا اور اِس لئے وہ یروشلیم کے لوگوں سے اُجرت لے سکتا تھا۔‏ لیکن اُس نے ایسا نہ کِیا کیونکہ  وہ خدا کی قوم پر بوجھ ڈال کر خدا کی خوشنودی نہیں کھونا چاہتا تھا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں نے خدا کے خوف کے سبب سے ایسا نہ کِیا۔‏“‏ (‏نحمیاہ ۵:‏۱۵‏)‏ خدا کا خوف رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُسے ناراض کرنے سے ڈریں۔‏ اگر ہم ایسا خوف رکھتے ہیں تو ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے خدا کے کلام کی راہنمائی حاصل کریں گے۔‏

۱۰،‏ ۱۱.‏ (‏ا)‏ بائبل میں شراب پینے کے سلسلے میں کونسے اصول دئے گئے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم صحیح فیصلے کرنے کے لئے خدا کی راہنمائی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

۱۰ اِس سلسلے میں ذرا شراب پینے کے معاملے پر غور کریں۔‏ کسی دعوت میں شریک ہونے سے پہلے شاید ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ آیا ہم وہاں شراب پئیں گے یا نہیں۔‏ ایسی صورتحال میں صحیح فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنے ضمیر کی تربیت کرنی چاہئے۔‏ پہلے تو ہمیں اِس بات پر غور کرنا چاہئے کہ بائبل میں اِس معاملے کے بارے میں کونسے اصول پائے جاتے ہیں۔‏ بائبل میں حد میں رہ کر شراب پینے سے منع نہیں کِیا گیا ہے۔‏ یہاں تک کہ اِس میں مے کو یہوواہ خدا کی نعمت قرار دیا گیا ہے۔‏ (‏زبور ۱۰۴:‏۱۴،‏ ۱۵‏)‏ لیکن بائبل میں نشہ‌بازی اور حد سے زیادہ شراب پینے سے سختی سے منع کِیا گیا ہے۔‏ (‏لوقا ۲۱:‏۳۴؛‏ رومیوں ۱۳:‏۱۳‏)‏ اِس کے علاوہ بائبل کے مطابق نشہ‌بازی اِتنا ہی سنگین گُناہ ہے جتنا کہ حرامکاری اور زِناکاری۔‏ * —‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹،‏ ۱۰‏۔‏

۱۱ بائبل کے اِن اصولوں پر غور کرنے سے ہمارے ضمیر کی تربیت ہوتی ہے اور وہ زیادہ ہوشیار ہو جاتا ہے۔‏ لہٰذا اگر ہمیں ایک ایسی دعوت میں شریک ہونے کو کہا جائے جہاں شراب بھی پیش کی جائے گی تو ہمیں خود سے ایسے سوال پوچھنے چاہئیں:‏ ”‏یہ کیسی دعوت ہے؟‏ کیا اِس میں نشہ‌بازی ہونے کا خطرہ ہے؟‏ شراب کے سلسلے میں میرا اپنا رویہ کیا ہے؟‏ کیا مَیں شراب کے لئے ترستا ہوں؟‏ کیا مَیں اپنے غم بھلانے کے لئے پیتا ہوں؟‏ یاپھر کیا مجھے خود پر  اِتنا ضبط ہے کہ مَیں حد میں رہ کر شراب پی سکتا ہوں؟‏“‏ کسی معاملے کے بارے میں بائبل کے اصولوں پر غور کرنے کے ساتھ‌ساتھ ہمیں یہوواہ خدا کی راہنمائی کے لئے دُعا بھی کرنی چاہئے۔‏ (‏زبور ۱۳۹:‏۲۳،‏ ۲۴‏)‏ اِس طرح ہم اُس کی پاک روح کی مدد حاصل کرتے ہیں اور اپنے ضمیر کو بائبل کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔‏ البتہ کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ہمیں ایک اَور بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔‏ آئیں دیکھیں کہ یہ کیا ہے۔‏

دوسروں کے ضمیر کا لحاظ کریں

بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کرنے سے ہم یہ فیصلہ کر پائیں گے کہ آیا ہمیں شراب پینی چاہئے یا نہیں

۱۲،‏ ۱۳.‏ (‏ا)‏ مسیحی فرق فرق نظریے کیوں رکھتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ اگر ایک مسیحی کا نظریہ آپ سے فرق ہے تو آپ کا کیا ردِعمل ہونا چاہئے؟‏

۱۲ شاید آپ اِس بات پر حیران ہوں کہ مسیحی اپنے ضمیر کی بِنا پر ایک دوسرے سے بالکل فرق فیصلے کرتے ہیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ ایک مسیحی کسی کام یا رواج کو پسند کرتا ہے اور اِس میں کوئی ہرج نہیں دیکھتا جبکہ دوسرا مسیحی اِسے غلط خیال کرتا ہے اور اِس سے گریز کرتا ہے۔‏ مثال کے طور پر ایک مسیحی شاید دوستوں کی محفل میں شراب پینے کو پسند کرے جبکہ دوسرا مسیحی ایسا کرنے کو غلط خیال کرے۔‏ مسیحی اپنے ضمیر کی بِنا پر اِس قدر فرق فیصلے کیوں کرتے ہیں؟‏ اور ہمیں دوسروں کے احساسات کا لحاظ کیوں کرنا چاہئے؟‏

۱۳ مسیحی مختلف وجوہات کی بِنا پر ایک دوسرے سے فرق نظریے رکھتے ہیں۔‏ اُن کا پس‌منظر اور اُن کے تجربات اکثر اُن کے نظریے پر اثر کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر شاید ایک شخص ماضی میں شراب پینے کی عادت میں مبتلا تھا اور اِس وجہ سے اُس نے شراب پینے سے بالکل پرہیز کرنے کا فیصلہ کِیا ہو۔‏ اگر ایسا مسیحی آپ کے گھر آئے اور آپ اُسے شراب پیش کریں تو وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سُن کر اِس سے انکار کرے گا۔‏ اِس پر آپ کا ردِعمل کیا ہوگا؟‏ کیا آپ اُس کے انکار کو بُرا مان لیں گے؟‏ کیا آپ اِس بات پر اصرار کریں گے کہ وہ شراب پئے؟‏ ایسا کرنا غلط ہوگا۔‏ ہمیں شاید معلوم نہیں کہ وہ شراب پینے سے کیوں انکار کرتا ہے۔‏ لیکن چونکہ  ہمیں اِس مسیحی سے محبت ہے اِس لئے ہم اُس کے احساسات کا لحاظ رکھیں گے۔‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۳۸،‏ ۳۹‏۔‏

۱۴،‏ ۱۵.‏ (‏ا)‏ پولس رسول کے زمانے میں مسیحی کس معاملے میں فرق فرق نظریے رکھتے تھے؟‏ (‏ب)‏ پولس رسول نے اِس سلسلے میں کونسی ہدایت دی؟‏

۱۴ پولس رسول اِس بات سے واقف تھا کہ مسیحی اپنے ضمیر کی بِنا پر فرق فرق فیصلے کرتے ہیں۔‏ اُس زمانے میں کچھ مسیحی ایسا گوشت کھانے کو غلط سمجھتے تھے جو بُتوں کو قربان کِیا گیا تھا۔‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۲۵‏)‏ پولس رسول کی نظر میں جب یہ گوشت بازار میں بکتا تھا تو اِسے کھانے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔‏ اُس کے نزدیک ایک بُت محض بےجان چیز تھی جس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔‏ چاہے گوشت کو بُتوں کے نام قربان کِیا گیا ہو یا نہیں یہ یہوواہ خدا کی ملکیت ہے،‏ کسی بُت کی نہیں۔‏ پولس رسول جانتا تھا کہ بعض مسیحی اُس کے نظریے سے متفق نہیں تھے۔‏ ہو سکتا ہے کہ وہ مسیحی بننے سے پہلے بُت‌پرست تھے۔‏ اِس لئے اُنہیں ہر ایسی چیز بُری لگتی تھی جس کا تعلق بُت‌پرستی سے تھا۔‏ پولس رسول نے اِس سلسلے میں کیا ہدایت دی؟‏

۱۵ اُس نے لکھا:‏ ”‏غرض ہم زورآوروں کو چاہئے کہ ناتوانوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں نہ کہ اپنی خوشی کریں۔‏ کیونکہ مسیح نے بھی اپنی خوشی نہیں کی۔‏“‏ (‏رومیوں ۱۵:‏۱،‏ ۳‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ یسوع مسیح کی طرح ہمیں بھی اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں کے احساسات کو اپنے احساسات سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔‏ ایک اَور موقعے پر پولس رسول نے کہا کہ اِس سے پہلے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے ٹھوکر کا باعث بنے وہ ہرگز گوشت نہ کھائے گا۔‏ وہ اِس لئے کسی مسیحی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا کیونکہ یسوع مسیح نے اُن سب کے لئے اپنی جان قربان کی تھی۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۱۳؛‏ ۱۰:‏۲۳،‏ ۲۴،‏ ۳۱-‏۳۳‏۔‏

۱۶.‏ جن مسیحیوں کا ضمیر زیادہ حساس ہوتا ہے اُنہیں دوسروں کی نکتہ‌چینی کیوں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۱۶ البتہ جن مسیحیوں کا ضمیر کسی معاملے میں زیادہ حساس ہوتا ہے اُنہیں دوسروں کی نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہئے۔‏ اُنہیں دوسروں کو مجبور بھی نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اُن کا نظریہ اپنائیں۔‏  ‏(‏رومیوں ۱۴:‏۱۰‏)‏ ہمیں اپنے ضمیر کو اپنی درستی کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے نہ کہ دوسروں میں عیب نکالنے کے لئے۔‏ یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏عیب‌جوئی نہ کرو کہ تمہاری بھی عیب‌جوئی نہ کی جائے۔‏“‏ (‏متی ۷:‏۱‏)‏ مسیحیوں کو ایسے معاملوں کے سلسلے میں بحث‌وتکرار نہیں کرنی چاہئے جن کے بارے میں ہر ایک اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔‏ ایک دوسرے کی نکتہ‌چینی کرنے کی بجائے وہ کلیسیا میں محبت اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔‏—‏رومیوں ۱۴:‏۱۹‏۔‏

صاف ضمیر رکھنے کی برکات

ضمیر کی اچھی راہنمائی سے ہم زندگی کے سفر میں دلی اطمینان اور خوشی پا سکتے ہیں

۱۷.‏ آجکل بہتیرے لوگوں کے ضمیر کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟‏

۱۷ پطرس رسول نے لکھا:‏ ”‏ضمیر صاف رکھو۔‏“‏ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۶‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ جس شخص کا ضمیر یہوواہ خدا کی نظر میں صاف ہے اُسے بڑی برکتیں ملتی ہیں۔‏ ایسا ضمیر دُنیاوی  لوگوں کے ضمیر کی طرح نہیں ہوتا۔‏ اُن کے بارے میں پولس رسول نے لکھا کہ اُن کا ”‏دل [‏یعنی ضمیر]‏ گویا گرم لوہے سے داغا گیا ہے۔‏“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۲‏)‏ گرم لوہا جِلد کو جلا کر زخمی کر دیتا ہے۔‏ جب یہ زخم بھر جاتا ہے تو اُس جگہ پر جِلد بےحس ہو جاتی ہے۔‏ اِسی طرح بہت سے لوگوں کا ضمیر اِس قدر بےحس ہو گیا ہے کہ وہ اُنہیں خبردار نہیں کرتا۔‏ ایسا ضمیر اُن کو ملامت نہیں کرتا اور اُنہیں اچھے اور بُرے کا احساس نہیں دلاتا۔‏ بہت سے لوگوں کو اِس بات کی فکر نہیں ہے کہ اُن کے ضمیر نے کام کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ اب وہ جو مرضی کر سکتے ہیں۔‏

۱۸،‏ ۱۹.‏ (‏ا)‏ جب ضمیر ہمیں ملامت کرتا ہے تو اِس کا کونسا اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے؟‏ (‏ب)‏ اگر توبہ کرنے کے باوجود ضمیر ہمیں ملامت کرتا ہے تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟‏

۱۸ البتہ ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس تب ہی ہوتا ہے جب ضمیر ہمیں ملامت کرتا ہے۔‏ ایسا  احساس گنہگار شخص کو توبہ کرنے پر مائل کر سکتا ہے جس کی وجہ سے اُس کے سنگین گُناہ بھی معاف کئے جا سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر داؤد بادشاہ نے بڑا سنگین گُناہ کِیا لیکن بعد میں اُس نے دل سے توبہ کر لی۔‏ اُسے اپنی بُری روش سے نفرت تھی اور اُس نے آئندہ یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔‏ اِس لئے خدا نے اُسے معاف کر دیا۔‏ یوں داؤد جان گیا کہ یہوواہ خدا ”‏نیک اور معاف کرنے کو تیار ہے۔‏“‏ (‏زبور ۵۱:‏۱-‏۱۹؛‏ ۸۶:‏۵‏)‏ البتہ کئی لوگوں کا ضمیر تب بھی اُن کو ملامت کرتا ہے جب اُنہوں نے توبہ کرکے اپنی بُری روش کو چھوڑ دیا ہے۔‏

۱۹ ایسی صورت میں ضمیر کی ملامت بےفائدہ ہوتی ہے کیونکہ وہ شخص اپنی بُری روش چھوڑ چکا ہے۔‏ جو شخص ایسے احساسات کا شکار ہے اُسے سمجھ لینا چاہئے کہ ’‏خدا ہمارے ضمیر سے بڑا ہے۔‏‘‏ (‏۱-‏یوحنا ۳:‏۱۹،‏ ۲۰‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اُسے اِس بات پر یقین کرنا چاہئے کہ خدا اُس سے محبت رکھتا ہے اور اُسے معاف کر چکا ہے۔‏ بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے ماضی میں سنگین گُناہ کئے ہیں اب وہ صاف دل کے ساتھ یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں اور اُنہیں دلی سکون اور خوشی حاصل ہے۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۱‏۔‏

۲۰،‏ ۲۱.‏ (‏ا)‏ یہ کتاب کیوں شائع کی گئی ہے؟‏ (‏ب)‏ مسیحیوں کو کونسی آزادی بخشی گئی ہے،‏ اور ہمیں اِس آزادی کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۲۰ یہ کتاب اِس لئے شائع کی گئی ہے تاکہ آپ اِس آخری زمانے میں صاف ضمیر رکھ سکیں اور حقیقی خوشی حاصل کر سکیں۔‏ اِس کتاب میں زندگی میں پیش آنے والی تمام صورتحال کے لئے بائبل کے حکموں اور اصولوں کا ذکر نہیں ہو سکتا ہے۔‏ اِس کے علاوہ بہت سے ایسے معاملے بھی ہیں جن کے بارے میں بائبل میں واضح حکم نہیں پائے جاتے ہیں۔‏ ایسے معاملوں میں ہمیں اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔‏ اِس کتاب میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ بائبل کے اصولوں کے مطابق ہماری راہنمائی کر سکے۔‏ موسیٰ کی شریعت میں لوگوں کو بہت سے حکم دئے گئے تھے۔‏ لیکن”‏مسیح کی شریعت“‏ میں حکم کم اور اصول  زیادہ ہیں۔‏ مسیحیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اِن اصولوں پر غور کرنے کے بعد اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں۔‏ (‏گلتیوں ۶:‏۲‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا نے اپنے خادموں کو بڑی آزادی بخشی ہے۔‏ لیکن اُس کے کلام میں ہمیں خبردار کِیا گیا ہے کہ ہم اِس آزادی کو ”‏بدی کا پردہ“‏ نہ بنائیں۔‏ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۶‏)‏ اِس کی بجائے ہمیں اِس آزادی کو یہوواہ خدا کے لئے محبت ظاہر کرنے کا بہترین موقع خیال کرنا چاہئے۔‏

۲۱ جب آپ نے بائبل کا مطالعہ شروع کِیا تھا تو آپ نے یہ سیکھا کہ آپ بائبل کے اصولوں کو کیسے عمل میں لا سکتے ہیں۔‏ یوں آپ اپنے حواس کو تیز کرنے لگے تاکہ آپ ”‏نیک‌وبد میں امتیاز“‏ کرنے کے قابل ہوں۔‏ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۴‏)‏ اِس عمل کو جاری رکھیں۔‏ اِس طرح آپ کو بہت سی برکتیں حاصل ہوں گی۔‏ اگر آپ کا ضمیر خدا کی نظر میں صاف ہے تو آپ ایسے فیصلے کریں گے جو یہوواہ خدا کو خوش کرتے ہیں۔‏ یوں آپ یہوواہ خدا کی محبت میں قائم رہیں گے۔‏

^ پیراگراف 5 حالانکہ اِس آیت میں لفظ ”‏ضمیر“‏ استعمال نہیں ہوا لیکن لفظ ”‏دل“‏ اِس کے ہم‌معنی ہے۔‏ بائبل کے عبرانی صحیفوں میں لفظ ”‏ضمیر“‏ کی بجائے اکثر لفظ ”‏دل“‏ استعمال ہوا ہے۔‏ بائبل کے یونانی صحیفوں میں جو لفظ ”‏ضمیر“‏ کے لئے استعمال ہوا ہے،‏ اُردو بائبل میں اِس کا ترجمہ ”‏دل،‏“‏ ”‏نیت“‏ اور ”‏امتیاز“‏ کِیا گیا ہے۔‏

^ پیراگراف 8 بائبل ظاہر کرتی ہے کہ صاف دل رکھنا کافی نہیں ہوتا۔‏ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏میرا دل تو مجھے ملامت نہیں کرتا مگر اِس سے مَیں راستباز نہیں ٹھہرتا بلکہ میرا پرکھنے والا [‏یہوواہ]‏ ہے۔‏“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۴‏)‏ یاد رکھیں کہ جب پولس نے مسیحیوں کو اذیت پہنچائی تو اُس کے خیال میں وہ خدا کی نظر میں اچھا کام کر رہا تھا اور اُس کا دل صاف تھا۔‏ لہٰذا ہمارا ضمیر نہ صرف ہماری اپنی نظر میں بلکہ خدا کی نظر میں بھی صاف ہونا چاہئے۔‏—‏اعمال ۲۳:‏۱؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۱:‏۳‏۔‏

^ پیراگراف 10 ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جو شخص ایک زمانے میں شراب پینے کی عادت میں مبتلا تھا اُسے شراب سے بالکل پرہیز کرنا چاہئے،‏ ورنہ وہ دوبارہ سے اِس عادت میں مبتلا ہونے کے خطرے میں ہے۔‏