مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب ۱۱

یہوواہ خدا کی حمد کے گیت

یہوواہ خدا کی حمد کے گیت

خلاصہ:‏ خدا کے دیگر خادموں نے حمد کے گیت لکھے۔‏ اِن میں سے ۱۵۰ گیت زبور کی کتاب میں درج ہیں۔‏

زبور پاک صحیفوں کی سب سے لمبی کتاب ہے اور حمد کے گیتوں پر مشتمل ہے۔‏ اِن گیتوں کو تقریباً ۰۰۰،‏۱ سال کے دوران لکھا گیا۔‏ زبور کی کتاب میں یہوواہ خدا کے خادموں نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنے ایمان کا اظہار کِیا۔‏ اِس میں بہت سے مختلف جذبات کو نمایاں کِیا گیا ہے،‏ مثلاً خوشی،‏ شکرگزاری،‏ رنج‌وغم وغیرہ۔‏ زبور کے لکھنے والے شخص یہوواہ خدا پر دلی بھروسہ کرتے تھے اور اُس کے بہت ہی قریب تھے۔‏ آئیں دیکھیں کہ اِن الہامی گیتوں میں کن موضوعات کا ذکر کِیا گیا ہے۔‏

یہوواہ خدا کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ ہے اور ہماری عبادت کا مستحق ہے۔‏ زبور ۸۳:‏۱۸ میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو ہی جس کا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔‏“‏ کئی گیتوں میں یہوواہ خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرف اشارہ کِیا گیا ہے اور اُس کی بڑائی کی گئی ہے۔‏ مثال کے طور پر اِن میں چاندستاروں،‏ جانوروں اور انسانی جسم کا ذکر ہوا ہے۔‏ (‏زبور ۸،‏ ۱۹،‏ ۱۳۹،‏ ۱۴۸‏)‏ دوسرے گیتوں میں یہوواہ خدا کی اس لئے بڑائی کی گئی ہے کیونکہ وہ اپنے خادموں کو شاندار طریقے سے نجات دلاتا ہے اور اُن کی حفاظت بھی کرتا ہے۔‏ (‏زبور ۱۸،‏ ۹۷،‏ ۱۳۸‏)‏ اِس کے علاوہ کچھ گیتوں میں خدا کے انصاف کو نمایاں کِیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ مظلوموں کو بچاتا اور بدکاروں کو سزا دیتا ہے۔‏—‏زبور ۱۱،‏ ۶۸،‏ ۱۴۶‏۔‏

یہوواہ خدا اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔‏ بہت سے لوگ زبور ۲۳ سے واقف ہیں۔‏ اِس گیت میں داؤد نے یہوواہ خدا کو ایک پُرمحبت چوپان (‏یعنی چرواہے)‏ سے تشبیہ دی ہے جو اپنی بھیڑوں کی راہنمائی،‏ حفاظت اور دیکھ‌بھال کرتا ہے۔‏ زبور ۶۵:‏۲ میں یہوواہ خدا کو ’‏دُعا کا سننے والا‘‏ کہا گیا ہے۔‏ ایسے لوگ جنہوں نے سنگین گُناہ کئے ہیں،‏ وہ زبور ۳۹ اور ۵۱ کو پڑھ کر تسلی پاتے ہیں۔‏ اِن میں داؤد نے ظاہر کِیا کہ وہ اپنے سنگین گُناہوں سے تائب تھا اور اُسے اِس بات پر بھروسہ تھا کہ خدا اُسے معاف کر دے گا۔‏ زبور ۵۵:‏۲۲ میں ہمیں خدا پر بھروسہ رکھنے اور اپنے تمام بوجھ اُس پر ڈالنے کو کہا گیا ہے۔‏

یہوواہ خدا مسیح کی حکمرانی کے ذریعے زمین کے حالات میں بہتری لائے گا۔‏ زبور کی کتاب میں بہت سے گیت خدا کے مقررہ بادشاہ یعنی مسیح کے بارے میں ہیں۔‏ زبور ۲ میں پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہ بادشاہ اُن قوموں کو تباہ کر دے گا جو اُس کی مخالفت کرتے ہیں۔‏ زبور ۷۲ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ بادشاہ ناانصافی،‏ ظلم اور غربت کو مٹا دے گا۔‏ زبور ۴۶:‏۹ کے مطابق خدا مسیح کی حکمرانی کے ذریعے جنگوں کو ختم کر دے گا اور تمام جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر دے گا۔‏ زبور ۳۷ میں ہم پڑھتے ہیں کہ بدکاروں کو ہلاک کر دیا جائے گا اور راستباز لوگ ہمیشہ تک ایک ایسی زمین پر زندہ رہیں گے جس پر امن اور سلامتی کا دَور ہوگا۔‏

​—‏اِن باتوں کا ذکر زبور کی کتاب میں ہوا ہے۔‏