مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب ۱۸

یسوع مسیح کے معجزے

یسوع مسیح کے معجزے

خلاصہ:‏ یسوع مسیح نے معجزے دکھا کر یہ ظاہر کِیا کہ وہ بادشاہ کے طور پر کیا کچھ انجام دے گا۔‏

جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو خدا نے اُسے ایسے کام کرنے کی قوت دی جو عام انسان نہیں کر سکتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے بہت سے عینی شاہدین کے سامنے معجزے دکھائے۔‏ اِن معجزوں سے یسوع مسیح نے دکھایا کہ وہ ایسی رُکاوٹوں کو عبور کرنے اور ایسے مسئلوں کو حل کرنے کے قابل ہے جن کے سامنے انسان بےبس ہیں۔‏ آئیں اِس سلسلے میں کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏

یسوع مسیح نے خوراک مہیا کی۔‏ یسوع مسیح نے اپنے سب سے پہلے معجزے میں پانی کو عمدہ مے میں تبدیل کر دیا۔‏ اِس کے علاوہ اُس نے دو موقعوں پر تھوڑی سی روٹیاں اور مچھلیاں لے کر ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلایا۔‏ اِن دونوں موقعوں پر یسوع مسیح نے اتنا زیادہ کھانا مہیا کِیا کہ جب سب پیٹ بھر کر کھا چکے تھے تب بھی بہت سا کھانا باقی بچ گیا۔‏

یسوع مسیح نے بیماروں کو شفا بخشی۔‏ اُس نے ”‏لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دُور“‏ کِیا۔‏ (‏متی ۴:‏۲۳‏)‏ اندھے،‏ بہرے،‏ اپاہج اور معذور لوگوں کے علاوہ یسوع مسیح نے اُن لوگوں کو بھی شفا دی جو کوڑھ اور مرگی جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔‏ واقعی،‏ یسوع مسیح لوگوں کو ہر طرح کی بیماری اور معذوری سے شفا دلانے کی قابلیت رکھتا ہے۔‏

یسوع مسیح آب‌وہوا پر اختیار رکھتا تھا۔‏ ایک بار جب یسوع مسیح اور اُس کے شاگرد کشتی میں سوار گلیل کی جھیل کو پار کر رہے تھے تو تیز آندھی چلنے لگی۔‏ شاگرد بہت ہی خوف‌زدہ ہو گئے۔‏ لیکن یسوع مسیح نے آندھی سے کہا:‏ ”‏ساکت ہو!‏ تھم جا!‏“‏ اور آندھی تھم گئی۔‏ (‏مرقس ۴:‏۳۷-‏۳۹‏)‏ ایک اَور موقعے پر یسوع مسیح شدید آندھی کے دوران جھیل کے پانی پر چلنے لگا۔‏—‏متی ۱۴:‏۲۴-‏۳۳‏۔‏

یسوع مسیح بدروحوں پر اختیار رکھتا تھا۔‏ پاک صحیفوں میں بدروحوں سے مُراد وہ بُرے فرشتے ہیں جنہوں نے خدا کے خلاف بغاوت کی۔‏ بدروحیں انسانوں سے کہیں زیادہ طاقت‌ور ہیں۔‏ بہت سے لوگ اِن کی گِرفت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے بہت سے موقعوں پر بدروحوں کو لوگوں سے نکلنے کا حکم دیا اور وہ لوگوں سے نکل آئیں۔‏ یسوع مسیح کو بدروحوں سے ہرگز خوف نہ تھا بلکہ بدروحیں اُس سے خوف رکھتی تھیں اور اُس کے اختیار کو مانتی تھیں۔‏

یسوع مسیح کو موت پر اختیار تھا۔‏ پاک صحیفوں میں موت کو ”‏آخری دشمن“‏ کہا گیا ہے کیونکہ انسان اِس سے بچ نہیں سکتے ہیں۔‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۶‏)‏ لیکن یسوع مسیح نے مُردوں کو زندہ کِیا۔‏ ایک موقعے پر اُس نے ایک بیوہ کے جوان بیٹے کو زندہ کر دیا اور دوسرے موقعے پر اُس نے کسی کی اکلوتی بیٹی کو زندہ کر دیا۔‏ یسوع مسیح کا سب سے حیرت‌انگیز معجزہ یہ تھا کہ اُس نے اپنے دوست لعزر کو زندہ کِیا جو چار دن سے مُردہ تھا۔‏ چونکہ یسوع مسیح نے ایک بڑی بِھیڑ کے سامنے یہ معجزہ دکھایا اِس لئے اُس کے دُشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ وہ ایسے معجزے کرنے کے قابل ہے۔‏—‏یوحنا ۱۱:‏۳۸-‏۴۸؛‏ ۱۲:‏۹-‏۱۱‏۔‏

البتہ یسوع مسیح نے معجزوں کے ذریعے جن لوگوں کی مدد کی،‏ آخرکار وہ سب مر گئے۔‏ تو پھر اُس کے معجزوں سے کیا حاصل ہوا؟‏ اِن معجزوں کے ذریعے یسوع مسیح نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح کی حکمرانی کے بارے میں تمام پیشینگوئیاں پوری ہوں گی۔‏ خدا کا مقررہ بادشاہ لوگوں کو خوراک مہیا کرنے اور بیماروں کو شفا بخشنے کے قابل ہے۔‏ اِس کے علاوہ وہ آب‌وہوا،‏ بدروحوں اور موت پر اختیار بھی رکھتا ہے۔‏ خدا ہی نے اُسے یہ سب کچھ انجام دینے کی قوت عطا کی ہے۔‏

​—‏اِن واقعات کا ذکر متی‏،‏ مرقس‏،‏ لوقا اور یوحنا کی کتابوں میں ہوا ہے۔‏