مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب ۲۰

یسوع مسیح کی موت

یسوع مسیح کی موت

خلاصہ:‏ یسوع مسیح نے ایک نئی تقریب کا آغاز کِیا۔‏ اُسے پکڑوایا گیا اور پھر مار ڈالا گیا۔‏

یسوع مسیح ساڑھے تین سال تک بادشاہت کی خوشخبری سناتا اور لوگوں کو تعلیم دیتا رہا۔‏ وہ جانتا تھا کہ یہودیوں کے مذہبی رہنما اُسے قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔‏ البتہ اُنہیں لوگوں کا ڈر تھا کیونکہ لوگ یسوع مسیح کو نبی خیال کرتے تھے۔‏ پھر شیطان یہوداہ اسکریوتی کو ورغلانے میں کامیاب ہو گیا جو یسوع مسیح کے ۱۲ رسولوں میں سے ایک تھا۔‏ یہوداہ اسکریوتی نے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ طے پایا کہ وہ ۳۰ روپے کے لئے یسوع مسیح کو اُن کے حوالے کر دے گا۔‏

جس رات یسوع مسیح کو پکڑوایا گیا اُس نے اپنے رسولوں کے ساتھ عیدِفسح منائی۔‏ پھر اُس نے یہوداہ اسکریوتی کو باہر بھیج دیا۔‏ اِس کے بعد اُس نے ایک نئی تقریب کا آغاز کِیا جسے عام طور پر عشائےربانی کہا جاتا ہے۔‏ یسوع مسیح نے ایک روٹی لی،‏ دُعا کی اور روٹی اپنے ۱۱ رسولوں کو دی۔‏ اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ میرا بدن ہے جو تمہارے واسطے دیا جاتا ہے۔‏ میری یادگاری کے لئے یہی کِیا کرو۔‏“‏ اِس کے بعد اُس نے ایک پیالہ لیا جس میں مے تھی اور کہا:‏ ”‏یہ پیالہ میرے اُس خون میں نیا عہد ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔‏“‏—‏لوقا ۲۲:‏۱۹،‏ ۲۰‏۔‏

اُس رات یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو بہت سی باتیں سکھائیں۔‏ اُس نے اُنہیں ایک نیا حکم بھی دیا۔‏ حکم یہ تھا کہ ”‏ایک دوسرے سے محبت رکھو۔‏“‏ اِس حکم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔‏“‏ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴،‏ ۳۵‏)‏ یسوع مسیح نے اُنہیں بتایا کہ جب اُسے قتل کِیا جائے گا تو اُنہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔‏ پھر اُس نے اُن کی خاطر دُعا کی۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے مل کر حمد کے گیت گائے اور گتسمنی کے باغ کی طرف روانہ ہو گئے۔‏

وہاں پہنچ کر یسوع مسیح گھٹنے ٹیک کر دل کی گہرائیوں سے دُعا کرنے لگا۔‏ اچانک ہی کئی مذہبی رہنما سپاہیوں کا پلٹن لے کر وہاں پہنچ گئے۔‏ یہوداہ اسکریوتی اُن کے ساتھ تھا۔‏ یسوع مسیح کی نشاندہی کرنے کے لئے اُس نے اُس کا بوسہ لیا۔‏ جب سپاہیوں نے یسوع مسیح کو گرفتار کِیا تو رسول خوف کے مارے وہاں سے بھاگ گئے۔‏

یسوع مسیح کو یہودیوں کی عدالتِ‌عالیہ کے سامنے پیش کِیا گیا۔‏ وہاں اُس نے اقرار کِیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔‏ عدالت نے اُس پر کفر بکنے کا الزام لگایا اور اُسے سزائےموت سنا دی۔‏ پھر یسوع مسیح کو رومی حاکم پُنطیُس پیلاطُس کے سامنے پیش کِیا گیا۔‏ حالانکہ پیلاطُس جانتا تھا کہ یسوع مسیح کے خلاف تمام الزامات جھوٹے ہیں لیکن پھر بھی اُس نے اُسے یہودیوں کے حوالے کر دیا جو اُس کے خون کے پیاسے تھے۔‏

یسوع مسیح کو گلگتا نامی جگہ پہنچایا گیا جہاں رومی سپاہیوں نے اُسے سُولی پر چڑھا دیا۔‏ دوپہر کے وقت اچانک سارے ملک میں اندھیرا چھا گیا۔‏ کچھ دیر بعد یسوع مسیح نے دَم توڑ دیا۔‏ پھر ایک شدید زلزلہ آیا۔‏ اُس کی لاش کو ایک ایسی قبر میں ڈالا گیا جو چٹان میں کھدائی گئی تھی۔‏ اگلے روز یہودی رہنماؤں نے اِس قبر پر مہر لگا دی اور اِس کی نگرانی کے لئے سپاہیوں کی ڈیوٹی لگا دی۔‏ لیکن یسوع مسیح کو اِس قبر میں زیادہ عرصہ نہیں رہنا تھا کیونکہ ایک بہت ہی شاندار معجزہ ہونے والا تھا۔‏

​—‏اِن واقعات کا ذکر متی ۲۶ اور ۲۷ باب‏،‏ مرقس ۱۴ اور ۱۵ باب،‏ لوقا ۲۲ اور ۲۳ باب اور یوحنا ۱۲ تا ۱۹ باب میں ہوا ہے۔‏

^ پیراگراف 15 یسوع مسیح کی موت کی اہمیت کے بارے میں مزید معلومات کے لئے پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں صفحہ ۴۷-‏۵۶ کو دیکھیں۔‏