مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب ۱۰

سلیمان بادشاہ کی شاندار حکمرانی

سلیمان بادشاہ کی شاندار حکمرانی

خلاصہ:‏ یہوواہ خدا نے سلیمان کو غیرمعمولی حکمت عطا کی۔‏ سلیمان کا دورِحکومت بنی‌اسرائیل کے لئے امن اور خوشحالی لایا۔‏

ذرا سوچیں کہ ایک ایسے ملک کے حالات کیسے ہوتے جس کے تمام باشندے یہوواہ خدا کو اپنے حاکم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔‏ سلیمان بادشاہ کی ۴۰ سالہ حکمرانی پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔‏

اپنی موت سے پہلے داؤد بادشاہ نے اپنے بیٹے سلیمان کو بادشاہ کے عہدے پر فائز کِیا۔‏ ایک خواب میں خدا نے سلیمان سے کہا کہ جو کچھ بھی تُو چاہتا ہے مجھ سے مانگ لے۔‏ سلیمان نے حکمت اور سمجھ مانگی تاکہ وہ انصاف سے حکمرانی کر سکے۔‏ یہوواہ خدا اُس کی درخواست سے بہت خوش ہوا۔‏ اُس نے اِس درخواست کو پورا کِیا اور سلیمان سے یہ وعدہ بھی کِیا کہ اگر وہ اُس کا فرمانبردار رہے گا تو اُسے دولت،‏ عزت اور لمبی عمر بھی بخشی جائے گی۔‏

سلیمان بادشاہ دانشمندی سے عدالت کرنے کے لئے مشہور ہو گیا۔‏ ایک موقعے پر دو عورتیں ایک چھوٹے بچے کے ساتھ اُس کے دربار میں حاضر ہوئیں۔‏ دونوں اِس بات کا دعویٰ کر رہی تھیں کہ وہ اُس بچے کی ماں ہیں۔‏ سلیمان بادشاہ نے حکم دیا کہ بچے کو تلوار سے کاٹ کر اُس کے دو ٹکڑے کر دئے جائیں اور دونوں عورتوں کو ایک‌ایک ٹکڑا دے دیا جائے۔‏ یہ سُن کر ایک عورت نے اِس تجویز کو قبول کر لیا لیکن بچے کی اصلی ماں نے مِنت کی کہ بچہ دوسری عورت کو دے دیا جائے۔‏ اِس طرح سلیمان بادشاہ جان گیا کہ رحم‌دل عورت بچے کی اصلی ماں ہے اور اُس نے بچے کو اُس کے حوالے کر دیا۔‏ جلد ہی اِس فیصلے کا چرچا پورے اسرائیل میں ہو گیا اور لوگ جان گئے کہ خدا ہی نے سلیمان کو حکمت بخشی ہے۔‏

سلیمان بادشاہ کا سب سے بڑا کارنامہ ہیکل کی تعمیر تھا۔‏ یہ شاندار عبادت‌گاہ شہر یروشلیم میں تعمیر کی گئی اور تمام اسرائیلی وہاں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کو آتے۔‏ جب ہیکل کی تعمیر ختم ہو گئی تو سلیمان نے خدا سے یوں دُعا کی:‏ ”‏دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی تُو سما نہیں سکتا تو یہ گھر تو کچھ بھی نہیں جِسے مَیں نے بنایا۔‏“‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۲۷‏۔‏

سلیمان بادشاہ کی حکمت کا چرچا دُوردراز ممالک میں بھی ہوا۔‏ مثال کے طور پر عرب میں سبا نامی ایک سلطنت تھی جس کی ملکہ نے بھی سلیمان بادشاہ کے بارے میں سنا تھا۔‏ سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کی عظمت اور شان‌وشوکت کو دیکھنے اور اُس کی حکمت کو پرکھنے کے لئے یروشلیم کا سفر کِیا۔‏ وہ سلیمان کی حکمت اور بنی‌اسرائیل کی خوشحالی دیکھ کر بہت متاثر ہوئی۔‏ اُس نے یہوواہ خدا کی حمد کی جس نے ایک ایسے دانشمند بادشاہ کو چُنا تھا۔‏ اور واقعی،‏ یہوواہ خدا کی برکت سے ہی سلیمان کا دورِحکومت اسرائیل کی تاریخ کا سب سے خوشحال اور پُرامن دَور ثابت ہوا۔‏

افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا وقت آیا جب سلیمان نے حکمت سے کام لینا چھوڑ دیا۔‏ خدا کے حکم کی خلاف‌ورزی کرتے ہوئے اُس نے سینکڑوں عورتوں کے ساتھ شادی کی۔‏ اِن میں سے بہتیری عورتیں بُت‌پرست تھیں۔‏ آہستہ‌آہستہ اُس کی بیویوں نے اُسے بُت‌پرستی کی طرف مائل کر دیا۔‏ اِس طرح وہ یہوواہ خدا سے دُور ہو گیا۔‏ اِس کے نتیجے میں یہوواہ خدا نے اُس سے کہا کہ اُس کی سلطنت اُس سے چھین لی جائے گی۔‏ لیکن خدا داؤد سے کئے گئے اپنے وعدے پر قائم رہا اور اِس لئے اُس نے سلیمان کی اولاد کو اِس سلطنت کے ایک چھوٹے سے حصے پر حکمرانی کرنے دی۔‏ ذرا سوچیں،‏ سلیمان بادشاہ کی نافرمانی کے باوجود یہوواہ خدا نے داؤد کے ساتھ کئے گئے اپنے عہد کو قائم رکھا۔‏

​—‏اِن واقعات کا ذکر ۱-‏سلاطین ۱ تا ۱۱ باب،‏ ۲-‏تواریخ ۱ تا ۹ باب اور استثنا ۱۷:‏۱۷ میں ہوا ہے۔‏