مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 11

حقیقی ایمان رکھنے والوں کی پہچان

حقیقی ایمان رکھنے والوں کی پہچان

آج‌کل بہت سے لوگ ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‏ لیکن یسوع مسیح نے کہا تھا کہ کم ہی لوگ حقیقی ایمان رکھتے ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔‏ کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔‏“‏—‏متی 7:‏13،‏ 14‏۔‏

لیکن حقیقی ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان کیا ہے؟‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اُن کے پھلوں سے تُم اُن کو پہچان لو گے۔‏ .‏ .‏ .‏ ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔‏“‏ (‏متی 7:‏16،‏ 17‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ حقیقی ایمان رکھتے ہیں وہ ”‏اچھا پھل“‏ لاتے ہیں یعنی ایسی خوبیاں پیدا کرتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں۔‏ وہ اِن خوبیوں کو کیسے ظاہر کرتے ہیں؟‏

وہ قوت‌واختیار کا صحیح استعمال کرتے ہیں

ایسے لوگ جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں وہ اپنی قوت‌واختیار کو خدا کی بڑائی کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے یہ درس دیا:‏ ”‏جو تُم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادم بنے۔‏“‏ (‏مرقس 10:‏43‏)‏ حقیقی ایمان رکھنے والے مرد نہ تو اپنے گھروالوں اور نہ ہی باہر والوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔‏ وہ اپنی بیویوں سے محبت کرتے ہیں،‏ اُن سے احترام سے پیش آتے ہیں اور اُن کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔‏ پاک صحیفوں میں لکھا ہے:‏ ”‏اَے شوہرو!‏ اپنی بیویوں سے محبت رکھو اور اُن سے تلخ‌مزاجی نہ کرو۔‏“‏ (‏کلسیوں 3:‏19‏)‏ اِن میں یہ بھی تاکید کی گئی ہے:‏ ”‏اَے شوہرو!‏ تُم بھی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں تاکہ تمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔‏“‏—‏1-‏پطرس 3:‏7‏۔‏

جو بیوی حقیقی ایمان رکھتی ہے،‏ ’‏وہ اپنے شوہر سے ادب سے پیش آتی ہے۔‏‘‏ (‏افسیوں 5:‏33‏،‏ کتابِ‌مُقدس کا نیا اُردو ترجمہ‏)‏ پاک صحیفوں کے مطابق بیویوں کو چاہئے کہ وہ ’‏اپنے شوہروں اور بچوں سے پیار کریں۔‏‘‏ (‏ططس 2:‏4‏)‏ ایسے والدین جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے بچوں کو خدا کے احکام اور اصولوں کے بارے میں سکھاتے ہیں۔‏ وہ گھر میں اور گھر سے باہر ہر کسی کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں اور اِس آیت پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏عزت کے رُو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔‏“‏—‏رومیوں 12:‏10‏۔‏

خدا کے خادم پاک صحیفوں میں پائے جانے والے اِس حکم پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏تُو رشوت نہ لینا۔‏“‏ (‏خروج 23:‏8‏)‏ وہ اپنے مرتبے یا اختیار کا غلط استعمال نہیں کرتے۔‏ اِس کے برعکس وہ دوسروں اور خاص طور پر ضرورت‌مند لوگوں کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔‏ وہ اِس ہدایت پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اِس لئے کہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔‏“‏ (‏عبرانیوں 13:‏16‏)‏ اِس طرح اُنہیں خوشی ملتی ہے جیسے کہ یسوع مسیح نے بھی کہا تھا کہ ”‏دینا لینے سے مبارک ہے۔‏“‏—‏اعمال 20:‏35‏۔‏

وہ انصاف‌پسند ہیں

حقیقی ایمان رکھنے والے لوگ خوشی سے خدا کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور اُن کی نظروں میں ”‏اُس کے حکم سخت نہیں۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 5:‏3‏)‏ وہ جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا کی ”‏شریعت کامل ہے۔‏ .‏ .‏ .‏ [‏یہوواہ]‏ کے قوانین راست ہیں۔‏ وہ دل کو فرحت پہنچاتے ہیں۔‏ [‏یہوواہ]‏ کا حکم بےعیب ہے۔‏ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔‏“‏—‏زبور 19:‏7،‏ 8‏۔‏

ایسے لوگ کسی بھی طرح کا تعصب نہیں برتتے۔‏ وہ کسی قوم،‏ نسل یا طبقے کے لوگوں کو دوسروں سے افضل نہیں سمجھتے۔‏ وہ جانتے ہیں کہ ”‏خدا کسی کا طرفدار نہیں۔‏ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست‌بازی  کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔‏“‏ (‏اعمال 10:‏34،‏ 35‏)‏ لہٰذا وہ بھی کسی کی طرفداری نہیں کرتے۔‏

جو لوگ حقیقی ایمان رکھتے ہیں،‏ وہ اِس اصول پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏ہم ہر بات میں نیکی کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔‏“‏ (‏عبرانیوں 13:‏18‏)‏ ایسے لوگ دوسروں کی پیٹھ پیچھے اُن کی بُرائیاں نہیں کرتے اور نہ ہی اُن کی بدنامی کرتے ہیں۔‏ داؤد بادشاہ نے زبور میں لکھا کہ جس شخص کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے وہ ”‏اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سنتا۔‏“‏—‏زبور 15:‏3‏۔‏

وہ خدا کی حکمت سے سیکھتے ہیں

حقیقی ایمان رکھنے والے لوگوں کے عقائد پاک صحیفوں پر مبنی ہیں۔‏ وہ اِس بات پر پکا ایمان رکھتے ہیں کہ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راست‌بازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ‌مند بھی ہے۔‏“‏ (‏2-‏تیمتھیس 3:‏16‏)‏ دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتے وقت وہ ’‏اُوپر سے آنے والی حکمت‘‏ ظاہر کرتے ہیں جو ’‏پاک،‏ ملنسار،‏ حلیم،‏ تربیت‌پذیر اور رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔‏‘‏ (‏یعقوب 3:‏17‏)‏ وہ ایسے رسم‌ورواج سے گریز کرتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں ہیں اور ہر طرح کے جادوٹونے سے دُور رہتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ وہ ’‏اپنے آپ کو بُتوں سے بچائے رکھتے ہیں۔‏‘‏—‏1-‏یوحنا 5:‏21‏۔‏

وہ سچی محبت رکھتے ہیں

موسیٰ نبی نے کہا:‏ ”‏تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے محبت رکھ۔‏“‏ (‏استثنا 6:‏5‏)‏ حقیقی ایمان رکھنے والے لوگ خدا سے سچی محبت رکھتے ہیں۔‏ وہ خدا کے ذاتی نام کی عزت کرتے ہیں۔‏ وہ ’‏یہوواہ کا شکر کرتے ہیں اور اُس کے نام سے دُعا کرتے ہیں۔‏‘‏ (‏زبور 105:‏1‏)‏ خدا کے خادم اُس کے اِس حکم پر بھی عمل کرتے ہیں:‏ ”‏تُو اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔‏“‏ (‏احبار 19:‏18‏)‏ اِس لئے وہ کسی پر ظلم‌وتشدد نہیں کرتے بلکہ ’‏ہر انسان کے ساتھ صلح سے رہتے ہیں۔‏‘‏ (‏رومیوں 12:‏18‏،‏ کتابِ‌مُقدس کا نیا اُردو ترجمہ‏)‏ چونکہ وہ امن‌پسند ہیں اِس لئے ’‏وہ جنگ کرنا نہیں سیکھتے۔‏‘‏ (‏یسعیاہ 2:‏4‏)‏ وہ ’‏آپس میں محبت رکھتے ہیں‘‏ اور پوری دُنیا میں اپنے بھائی‌چارے کے لئے مشہور ہیں۔‏ (‏یوحنا 13:‏35‏)‏ کیا آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں؟‏