مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 اِن جیسا ایمان پیدا کریں | حنوک

‏’‏خدا اُن سے خوش تھا‘‏

‏’‏خدا اُن سے خوش تھا‘‏

حنوک ایک لمبے عرصے تک زندہ رہے۔‏ شاید ہمیں اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگے لیکن اُن کی عمر تقریباً 365 سال تھی۔‏ اُن کی عمر آج‌کل کے اِنسانوں کی اوسط عمر سے چار گُنا زیادہ تھی۔‏ پھر بھی اپنے زمانے کے لحاظ سے وہ بوڑھے نہیں تھے کیونکہ آج سے 5000 سال پہلے لوگوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں۔‏ جب حنوک پیدا ہوئے تو آدم کی عمر 600 سال سے زیادہ تھی اور اِس کے بعد بھی وہ 300 سال تک زندہ رہے۔‏ آدم کی نسل سے پیدا ہونے والے کچھ لوگوں کی عمریں تو اِس سے بھی زیادہ تھیں۔‏ لہٰذا 365 سال کی عمر میں بھی حنوک کافی چست اور صحت‌مند ہوں گے اور لگتا ہوگا کہ وہ اَور کئی سال جئیں گے۔‏ لیکن ایسا نہیں ہوا۔‏

دراصل حنوک کی جان خطرے میں تھی۔‏ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے لوگوں کو خدا کا پیغام سنایا جسے سُن کر وہ لوگ غصے سے پاگل ہو گئے اور حنوک سے نفرت کرنے لگے۔‏ اُنہوں نے اُس خدا کی توہین بھی کی جس نے حنوک کو بھیجا تھا۔‏ وہ حنوک کے خدا یہوواہ کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے تھے لیکن وہ حنوک کو ضرور نقصان پہنچا سکتے تھے۔‏ اِس لیے حنوک اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔‏ شاید حنوک سوچ رہے ہوں کہ وہ اپنے گھر والوں کو دوبارہ دیکھ پائیں گے یا نہیں۔‏ شاید اُن کے ذہن میں اُن کی بیوی،‏ بیٹیاں،‏ بیٹا متوسلح اور پوتا لمک آئے ہوں۔‏ (‏پیدایش 5:‏21-‏23،‏ 25‏)‏ کیا حنوک اپنے دُشمنوں سے بچ پائے؟‏

پاک کلام میں حنوک کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا گیا۔‏ اِس میں صرف تین ایسے بیانات ہیں جن میں حنوک کا ذکر ملتا ہے۔‏ (‏پیدایش 5:‏21-‏24؛‏ عبرانیوں 11:‏5؛‏ یہوداہ 14،‏ 15‏)‏ لیکن اِن بیانات سے ہمیں اِتنی معلومات مل جاتی ہیں کہ ہم تصور کر سکیں کہ وہ کیسے اِنسان تھے اور اُن کا ایمان کتنا مضبوط تھا۔‏ کیا آپ پر اپنے گھرانے کی ضروریات پوری کرنے کی ذمےداری ہے؟‏ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کو سچائی پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے مشکلا‌ت کا سامنا کرنا پڑا؟‏ اگر ایسا ہے تو آپ حنوک کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏

‏’‏حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے‘‏

حنوک کے زمانے میں لوگ بہت بُرے تھے۔‏ یہ لوگ آدم کی ساتویں پُشت تھے۔‏ چونکہ آدم اور حوا کو گُناہ کیے اِتنی دیر نہیں ہوئی تھی اِس لیے اُس زمانے کے لوگوں کی عمریں آج کی نسبت زیادہ لمبی تھیں۔‏ لیکن وہ بہت سے بُرے کام کرتے تھے اور خدا سے دُور تھے۔‏ ظلم و تشدد بھی بہت عام تھا جس کا آغاز آدم کی دوسری پُشت سے ہوا جب قائن نے ہابل کو قتل کر دیا۔‏ قائن کی اولاد میں سے ایک شخص کو تو اِس بات پر بڑا فخر تھا کہ وہ قائن سے زیادہ ظالم ہے۔‏ آدم کی تیسری پُشت سے ایک اَور بُرائی کا آغاز ہوا۔‏ لوگ یہوواہ کا نام لے کر دُعا کرنے لگے۔‏ لیکن وہ اُس کی عبادت کرنے کے لیے ایسا نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ خدا کے مُقدس نام پر کفر بک رہے تھے اور اِس کی بےحُرمتی کر رہے تھے۔‏—‏پیدایش 4:‏8،‏ 23-‏26‏۔‏

حنوک کے زمانے میں اِس طرح کی عبادت بہت عام تھی۔‏ جب حنوک بڑے ہوئے تو اُنہیں ایک اہم فیصلہ کرنا پڑا۔‏ کیا وہ اپنے زمانے کے لوگوں کا ساتھ دیں گے یا کیا وہ سچے خدا یہوواہ کی عبادت کریں گے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا ہے؟‏ یقیناً وہ ہابل کی مثال سے بہت متاثر ہوئے ہوں گے۔‏ ہابل کو اِس وجہ سے شہید کر دیا گیا تھا کہ وہ یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کرنا چاہتے تھے۔‏ حنوک نے ہابل کے نقشِ‌قدم پر چلنے کا فیصلہ کِیا۔‏ پیدایش 5:‏22 میں لکھا ہے:‏ ”‏حنوکؔ .‏ .‏ .‏ خدا کے  ساتھ ساتھ چلتا رہا۔‏“‏ حنوک وہ پہلے اِنسان ہیں جن کے بارے میں پاک کلام میں ایسی بات لکھی گئی۔‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ حنوک ایک بُری دُنیا میں بھی خدا کی مرضی پر چلتے رہے۔‏

پیدایش 5:‏22 میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حنوک اپنے بیٹے متوسلح کی پیدائش کے بعد بھی یہوواہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔‏ لہٰذا حنوک کے بارے میں ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ متوسلح کی پیدائش کے وقت اُن کی عمر 65 سال تھی،‏ اُن کی ایک بیوی تھی جس کا نام پاک کلام میں نہیں بتایا گیا اور اُن کے بہت سے ”‏بیٹے اور بیٹیاں“‏ بھی تھیں۔‏ اگر ایک باپ خدا کے ساتھ ساتھ چلنا چاہتا ہے تو اُسے خدا کے اصولوں کے مطابق اپنے گھرانے کی دیکھ‌بھال کرنی چاہیے اور اِس کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔‏ حنوک جانتے تھے کہ یہوواہ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے وفادار رہیں۔‏ (‏پیدایش 2:‏24‏)‏ اور یقیناً اُنہوں نے اپنے بچوں کو بھی یہوواہ خدا کے بارے میں تعلیم دی ہوگی۔‏ اِس کا نتیجہ کیا نکلا؟‏

پاک کلام میں اِس سلسلے میں زیادہ تفصیل نہیں بتائی گئی۔‏ اِس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حنوک کے بیٹے متوسلح،‏ یہوواہ خدا پر کتنا ایمان رکھتے تھے۔‏ متوسلح کی عمر اُن سب لوگوں سے زیادہ تھی جن کا پاک کلام میں ذکر کِیا گیا ہے اور اُن کی زندگی کا اِختتام اُسی سال میں ہوا جب طوفانِ‌نوح آیا۔‏ متوسلح کے ایک بیٹے کا نام لمک تھا۔‏ لمک کی پیدائش کے بعد حنوک 100 سال اَور زندہ رہے۔‏ لمک نے خدا پر مضبوط ایمان ظاہر کِیا۔‏ اُنہوں نے یہوواہ خدا کی ہدایت سے اپنے بیٹے نوح کے بارے میں ایک پیش‌گوئی کی۔‏ یہ پیش‌گوئی طوفان آنے کے بعد پوری ہوئی۔‏ نوح اپنے پردادا حنوک کی طرح خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے حالانکہ وہ حنوک سے کبھی نہیں ملے تھے۔‏ لیکن حنوک نے آنے والی نسلوں کے لیے بہت عمدہ مثال قائم کی تھی۔‏ اِس لیے شاید نوح نے اپنے باپ لمک یا اپنے دادا متوسلح سے خدا کے بارے میں سیکھا ہو۔‏ یا پھر شاید حنوک کے باپ،‏ یارِد نے اُنہیں خدا کے بارے میں تعلیم دی ہو جن کی وفات کے وقت نوح کی عمر 366 سال تھی۔‏—‏پیدایش 5:‏25-‏29؛‏ 6:‏9؛‏ 9:‏1‏۔‏

ذرا سوچیں کہ آدم اور حنوک میں کیا فرق تھا۔‏ آدم ایک بےعیب اِنسان تھے لیکن اُنہوں نے یہوواہ خدا کے خلا‌ف گُناہ کِیا اور اپنی اولاد کو وہ مصیبتیں سہنے کے لیے چھوڑ دیا جو اُن کی بغاوت کی وجہ سے آئیں۔‏ اِس کے برعکس حنوک عیب‌دار اِنسان تھے لیکن وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور خدا پر ایمان رکھنے کے سلسلے میں اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی۔‏ آدم کی وفات کے وقت حنوک کی عمر 308 سال تھی۔‏ آدم کی وفات پر اُن کے خاندان نے ماتم کِیا یا نہیں،‏ اِس بارے میں ہم نہیں جانتے۔‏ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ حنوک ’‏خدا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔‏‘‏—‏پیدایش 5:‏24‏۔‏

اگر آپ پر اپنے گھرانے کی ضروریات پوری کرنے کی ذمےداری ہے تو آپ حنوک کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ اپنے بیوی بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنا اہم ہے لیکن اِس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ خدا کی قربت میں رہنے کے لیے اُن کی مدد کریں۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 5:‏8‏)‏ آپ نہ صرف اپنی باتوں سے بلکہ اپنے کاموں سے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔‏ اگر آپ حنوک کی طرح خدا کے ساتھ ساتھ چلنے کا فیصلہ کریں گے اور اُس کے معیاروں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو آپ بھی اپنے گھرانے کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کریں گے۔‏

‏’‏حنوک نے پیش‌گوئی کی‘‏

شاید حنوک کبھی کبھار خود کو تنہا محسوس کرتے ہوں کیونکہ اُن کے زمانے کے لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے جبکہ وہ خدا کے وفادار تھے۔‏ لیکن کیا یہوواہ خدا نے اُن کی  وفاداری پر دھیان دیا؟‏ جی ہاں۔‏ ایک دن یہوواہ خدا نے اپنے اِس وفادار بندے سے بات کی۔‏ اُس نے حنوک کو لوگوں کے لیے ایک پیغام دیا۔‏ یوں اُس نے حنوک کو ایک نبی مقرر کِیا۔‏ حنوک وہ پہلے شخص ہیں جن کے پیغام کا پاک کلام میں ذکر کِیا گیا ہے۔‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ کیونکہ صدیوں بعد یسوع مسیح کے بھائی یہوداہ نے خدا کے اِلہام سے حنوک کے پیغام کو لکھا۔‏ *

حنوک کا پیغام کیا تھا؟‏ ”‏دیکھو،‏ یہوواہ اپنے ہزاروں مُقدس فرشتوں کے ساتھ آیا تاکہ سب لوگوں کی عدالت کرے اور اُن لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اُس کی توہین کی کیونکہ اُن گُناہ‌گاروں نے بُرے کام کیے اور اُس کے خلا‌ف بےہودہ باتیں بکیں۔‏“‏ (‏یہوداہ 14،‏ 15‏)‏ اِن آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حنوک نے یہ پیش‌گوئی اِس طرح کی کہ جیسے یہ پہلے سے پوری ہو چُکی ہو۔‏ اُنہوں نے ایسا اِس لیے کِیا کیونکہ وہ ایک ایسی بات کی پیش‌گوئی کر رہے تھے جس کی تکمیل یقینی تھی۔‏ اِس کے بعد بھی پاک کلام کی بہت سی پیش‌گوئیاں اِسی انداز میں کی گئیں۔‏—‏یسعیاہ 46:‏10‏۔‏

حنوک نے بڑی دلیری سے ایک بُری دُنیا میں لوگوں کو خدا کا پیغام سنایا۔‏

حنوک کے لیے لوگوں کو یہ پیغام سنانا خاصا مشکل تھا۔‏ غور کریں کہ حنوک نے کتنے سخت الفاظ اِستعمال کیے!‏ اُنہوں نے کہا کہ لوگوں نے خدا کی ”‏توہین کی،‏“‏ ”‏بُرے کام کیے“‏ اور ”‏بےہودہ باتیں بکیں۔‏“‏ لہٰذا اِس پیش‌گوئی سے تمام اِنسانوں کو پتہ چل گیا کہ باغِ‌عدن سے باہر نکا‌لے جانے کے بعد اُنہوں نے جو دُنیا بنائی ہے،‏ وہ بُرائی سے بھری ہوئی ہے۔‏ اور جب خدا اپنے ”‏مُقدس فرشتوں“‏ کے ساتھ آئے گا تو وہ اِسے تباہ کر دے گا۔‏ حنوک نے اکیلے ہی بڑی دلیری سے لوگوں کو خدا کا پیغام سنایا۔‏ شاید لمک نے بھی اپنے دادا کی اِس دلیری کو دیکھا ہو اور اِس سے بہت متاثر ہوئے ہوں۔‏ اگر ایسا ہوا ہو تو اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔‏

حنوک کے مضبوط ایمان کو دیکھ کر شاید ہمیں یہ سوچنے کی ترغیب ملے کہ آیا ہم بھی اِس دُنیا کے بارے میں ویسا ہی نظریہ رکھتے ہیں جیسا خدا رکھتا ہے۔‏ حنوک نے جو پیغام سنایا،‏ وہ ہمارے زمانے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔‏ حنوک کی پیش‌گوئی کے مطابق یہوواہ خدا نے نوح کے زمانے میں طوفان کے ذریعے اُس بُری دُنیا کو تباہ کر دیا۔‏ اور یہ تباہی اُس بڑی تباہی کا عکس پیش کرتی ہے جو بہت جلد آنے والی ہے۔‏ (‏متی 24:‏38،‏ 39؛‏ 2-‏پطرس 2:‏4-‏6‏)‏ آج بھی خدا اپنے مُقدس فرشتوں کے ساتھ اِس بُری دُنیا کو سزا دینے کے لیے تیار کھڑا ہے۔‏ لہٰذا ہم سب کو حنوک کی پیش‌گوئی پر دھیان دینا چاہیے اور دوسروں کو بھی اِس کے بارے میں بتانا چاہیے۔‏ شاید ہمارے عزیز اور رشتےدار ہمارا ساتھ چھوڑ دیں۔‏ شاید کبھی کبھار ہم خود کو تنہا محسوس کریں۔‏ لیکن یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا نے حنوک کو تنہا نہیں چھوڑا تھا اور وہ آج بھی اپنے وفادار بندوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔‏

‏”‏حنوک کو منتقل کِیا گیا تاکہ وہ موت کو نہ دیکھیں“‏

حنوک کی زندگی کا اِختتام کیسے ہوا؟‏ اُن کی موت اُن کی زندگی سے زیادہ دلچسپ تھی۔‏ پیدائش کی کتاب میں لکھا ہے:‏ ”‏حنوکؔ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اُسے اُٹھا لیا۔‏“‏ (‏پیدایش 5:‏24‏)‏ خدا نے کس لحاظ سے حنوک کو اُٹھا لیا؟‏ خدا کے بندے پولُس نے کہا:‏ ”‏ایمان کی بدولت حنوک کو منتقل کِیا گیا تاکہ وہ موت کو نہ دیکھیں اور وہ غائب ہو گئے کیونکہ خدا نے اُن کو منتقل کر دیا۔‏ لیکن منتقل ہونے سے پہلے اُن کو گواہی ملی کہ خدا اُن سے خوش ہے۔‏“‏ (‏عبرانیوں 11:‏5‏)‏ پولُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”‏حنوک کو منتقل کِیا گیا تاکہ وہ موت کو نہ دیکھیں“‏؟‏ بائبل کے کچھ ترجموں میں لکھا ہے کہ خدا حنوک کو آسمان پر لے گیا۔‏ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ پاک کلام سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح سے پہلے کوئی بھی آسمان پر نہیں گیا تھا۔‏—‏یوحنا 3:‏13‏۔‏

تو پھر اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”‏حنوک کو منتقل کِیا گیا تاکہ وہ موت کو نہ دیکھیں“‏؟‏ غالباً یہوواہ خدا نے حنوک کو آرام سے موت کی نیند سلا دیا جس کی وجہ سے اُنہیں اپنے دُشمنوں کے ہاتھوں مرنا نہیں پڑا۔‏ لیکن اِس سے پہلے حنوک کو ”‏گواہی ملی  کہ خدا اُن سے خوش ہے۔‏“‏ ہو سکتا ہے کہ خدا نے حنوک کو اُن کی موت سے پہلے ایک رُویا میں دِکھایا ہو کہ زمین فردوس بن چُکی ہے۔‏ اِس طرح یہوواہ خدا نے اُنہیں یہ یقین دِلایا کہ وہ اُن سے خوش ہے۔‏ پھر حنوک موت کی نیند سو گئے۔‏ پولُس نے حنوک اور خدا کے دوسرے وفادار بندوں کے بارے میں لکھا:‏ ”‏یہ سب لوگ مرتے دم تک اپنے ایمان پر قائم رہے۔‏“‏ (‏عبرانیوں 11:‏13‏)‏ ہو سکتا ہے کہ حنوک کی موت کے بعد اُن کے دُشمنوں نے اُن کی لاش کو ڈھونڈا ہو لیکن اُنہیں اِس کا کوئی پتہ نہیں ملا۔‏ شاید اِس لیے کہ یہوواہ خدا نے اُن کی لاش کو غائب کر دیا ہو تاکہ اِس کی بےحُرمتی نہ کی جا سکے یا اِسے جھوٹے مذہب کو فروغ دینے کے لیے اِستعمال نہ کِیا جا سکے۔‏ *

پاک کلام کی اِس بات کے پیشِ‌نظر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حنوک کی موت کیسے ہوئی۔‏ ذرا اِس منظر کا تصور کریں اور یاد رکھیں کہ بہت ممکن ہے کہ اُن کی موت اِسی طرح ہوئی ہو۔‏ حنوک کے دُشمن اُن کے پیغام کو سُن کر سخت غصے میں تھے اور اُن کا پیچھا کر رہے تھے۔‏ حنوک بھاگتے بھاگتے تھک چُکے تھے۔‏ اچانک اُنہیں چھپنے کے لیے ایک جگہ ملی۔‏ لیکن وہ جانتے تھے کہ وہ زیادہ دیر تک اپنے مخالفوں سے بچ نہیں سکیں گے۔‏ ایک بھیانک موت اُن کے سر پر منڈلا رہی تھی۔‏ اِس دوران اُنہوں نے خدا سے دُعا کی۔‏ اور پھر اُن پر گہرا سکون طاری ہو گیا۔‏ اِس کے بعد اُنہیں ایک رُویا دِکھائی گئی جو اِتنی واضح تھی کہ اُنہیں لگا کہ وہ خود اِس رُویا کا حصہ ہیں۔‏

یہوواہ خدا نے حنوک کو اُن کے مخالفوں سے بچا لیا۔‏

اِس رُویا میں اُنہوں نے ایک ایسی جگہ دیکھی جو اُس جگہ سے بالکل فرق تھی جہاں وہ رہتے تھے۔‏ وہ جگہ باغِ‌عدن کی طرح خوب‌صورت تھی لیکن وہاں کوئی فرشتے نہیں تھے جو اِنسانوں کو اِس میں جانے سے روکتے۔‏ وہاں بےشمار اِنسان تھے اور وہ سب تندرست اور توانا تھے۔‏ اُن کے بیچ کوئی نفرت نہیں تھی بلکہ وہ امن و اِتحاد سے رہ رہے تھے۔‏ وہاں کسی کو مذہب کی بنیاد پر اذیت نہیں دی جا رہی تھی جیسے حنوک کو دی جا رہی تھی۔‏ حنوک کو محسوس ہوا کہ یہوواہ خدا اُنہیں یہ یقین دِلا رہا ہے کہ وہ اُن سے پیار کرتا ہے اور اُن سے خوش ہے۔‏ اُنہیں یہ احساس ملا کہ یہ اُن کا اپنا گھر ہے۔‏ جیسے جیسے اُن پر سکون طاری ہوتا گیا،‏ اُن کی آنکھیں بند ہوتی گئیں اور وہ گہری نیند میں چلے گئے۔‏

اور ابھی تک وہ موت کی نیند سو رہے ہیں۔‏ یہوواہ خدا اُنہیں بھولا نہیں ہے۔‏ یسوع مسیح نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب سب لوگ جو قبروں میں ہیں،‏ اُن کی آواز سنیں گے اور نکل آئیں گے۔‏ جب وہ لوگ زندہ ہوں گے تو وہ ایک خوب‌صورت اور پُرامن دُنیا میں ہوں گے۔‏—‏یوحنا 5:‏28،‏ 29‏۔‏

کیا آپ بھی اُس دُنیا میں جانا چاہتے ہیں؟‏ ذرا سوچیں کہ آپ حنوک سے مل پائیں گے اور اُن سے بہت سی شان‌دار باتیں سیکھ پائیں گے۔‏ وہ ہمیں بتا سکیں گے کہ اُن کی زندگی کے آخری لمحات کے بارے میں ہمارا اندازہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‏ لیکن آج بھی ہم اُن سے ایک اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔‏ وہ سبق کیا ہے؟‏ حنوک کے بارے میں بات کرنے کے بعد پولُس نے لکھا:‏ ”‏ایمان کے بغیر خدا کو خوش کرنا ممکن نہیں ہے۔‏“‏ (‏عبرانیوں 11:‏6‏)‏ لہٰذا ہم سب کو حنوک کی طرح دلیر بننا چاہیے اور اُن جیسا ایمان پیدا کرنا چاہیے۔‏

^ پیراگراف 14 بائبل کے کچھ عالموں کا کہنا ہے کہ یہوداہ نے یہ پیغام فرضی کہانیوں کی ایک کتاب سے لیا جسے حنوک کی کتاب کہا جاتا ہے۔‏ اِس کتاب کو حنوک کے ساتھ منسوب کِیا گیا حالانکہ یہ نہیں پتہ کہ یہ کتاب کہاں سے آئی۔‏ اِس میں حنوک کی پیش‌گوئی شامل ہے جسے غالباً کسی قدیم دستاویز یا زبانی روایت سے لیا گیا تھا لیکن اب اِن کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔‏ یہوداہ نے شاید اِنہی سے حنوک کی پیش‌گوئی لی ہو۔‏ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُنہیں یسوع مسیح سے حنوک کے بارے میں پتہ چلا ہو جنہوں نے آسمان سے حنوک کو اِس پیغام کی مُنادی کرتے دیکھا تھا۔‏

^ پیراگراف 20 غالباً اِسی مقصد کے لیے خدا نے موسیٰ اور یسوع مسیح کی لاشوں کو بھی غائب کِیا ہوگا۔‏—‏اِستثنا 34:‏5،‏ 6؛‏ لُوقا 24:‏3-‏6؛‏ یہوداہ 9‏۔‏