مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا گُناہ گار اِنسان خدا کو خوش کر سکتے ہیں؟‏

کیا گُناہ گار اِنسان خدا کو خوش کر سکتے ہیں؟‏

جب آپ ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جن کی پاک کلام میں تعریف کی گئی ہے تو شاید آپ سوچیں کہ ”‏مَیں کبھی بھی اُن کی طرح نہیں بن سکتا۔‏ مَیں نہ تو راست‌باز ہوں اور نہ ہی صادق۔‏ مَیں اکثر وہ کام نہیں کر پاتا جو خدا کی نظر میں صحیح ہے۔‏“‏

ایوب ’‏کامل اور راست‌باز تھے۔‏‘‏—‏ایوب 1:‏1‏۔‏

پاک کلام میں ایوب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ”‏وہ شخص کامل اور راست‌باز تھا۔‏“‏ (‏ایوب 1:‏1‏)‏ لُوط کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ ”‏وہ راست‌باز“‏ تھے۔‏ (‏2-‏پطرس 2:‏8‏)‏ اور داؤد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے ’‏وہی کِیا جو خدا کی نظر میں ٹھیک تھا۔‏‘‏ (‏1-‏سلاطین 14:‏8‏)‏ آئیں،‏ اِن لوگوں کی زندگی پر مختصراً غور کریں۔‏ ایسا کرنے سے ہمیں یہ تین باتیں پتہ چلیں گی:‏ (‏1)‏ اُنہوں نے غلطیاں کیں۔‏ (‏2)‏ اُنہوں نے غلطیوں کو کیسے سدھارا۔‏ (‏3)‏ گُناہ‌گار اِنسان خدا کو خوش کر سکتے ہیں۔‏

اُنہوں نے غلطیاں کیں

خدا نے ’‏راست‌باز لُوط کو جو بےدینوں کے ناپاک چال‌چلن سے دِق تھے رِہائی بخشی۔‏‘‏—‏2-‏پطرس 2:‏7‏۔‏

ایوب پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جس کی وجہ سے اُنہیں لگا کہ اُن کے ساتھ نااِنصافی ہو رہی ہے۔‏ اُن کا خیال تھا کہ خدا کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔‏ (‏ایوب 9:‏20-‏22‏)‏ اُنہیں اپنی راست‌بازی پر اِتنا مان تھا کہ دیکھنے والوں کو لگا کہ وہ خود کو خدا سے زیادہ راست‌باز خیال کرتے ہیں۔‏—‏ایوب 32:‏1،‏ 2؛‏ 35:‏1،‏ 2‏۔‏

لُوط شہر سدوم اور عمورہ کے لوگوں کی بدچلنی کی وجہ سے نہایت پریشان تھے،‏  یہاں تک کہ اُن کا ”‏پاک دل اندر ہی اندر کڑھتا رہتا تھا۔‏“‏ (‏2-‏پطرس 2:‏8‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ پھر خدا نے اُن کو بتایا کہ وہ اِن بُرے شہروں کو تباہ کرنے والا ہے اور یوں اُس نے لُوط اور اُن کے گھر والوں کو اِس عذاب سے بچنے کا موقع دیا۔‏ اصل میں تو لُوط کو اِس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے فوراً وہاں سے نکل جانا چاہیے تھا۔‏ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اِس اہم موڑ پر اُنہوں نے خدا کے حکم پر عمل کرنے میں دیر لگائی،‏ یہاں تک کہ فرشتوں کو لُوط اور اُن کے گھر والوں کے ہاتھ پکڑ کر وہاں سے باہر لانا پڑا تاکہ وہ ہلاک نہ ہو جائیں۔‏—‏پیدایش 19:‏15،‏ 16‏۔‏

داؤد نے ’‏اپنے سارے دل سے خدا کی پیروی کی تاکہ فقط وہی کریں جو خدا کی نظر میں ٹھیک تھا۔‏‘‏—‏1-‏سلاطین 14:‏8‏۔‏

داؤد نے ایک شادی‌شُدہ عورت کے ساتھ زِناکاری کی اور اِس گُناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اُس کے شوہر کو مروا ڈالا۔‏ (‏2-‏سموئیل 11 باب)‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ داؤد کی ”‏یہ حرکت رب کو نہایت بُری لگی۔‏“‏—‏2-‏سموئیل 11:‏27‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

اِس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کے بندوں سے بھی غلطیاں ہوئیں اور کچھ کی غلطیاں تو بہت سنگین تھیں۔‏ لیکن ایوب،‏ لُوط اور داؤد دل سے خدا کی مرضی بجا لانا چاہتے تھے۔‏ اُنہوں نے توبہ کی،‏ وہ اپنی روِش میں تبدیلیاں لائے اور سیدھی راہ پر لوٹ آئے۔‏ اِس لیے خدا اُن سے خوش تھا اور پاک کلام میں اُنہیں خدا کے وفادار بندوں میں شمار کِیا گیا ہے۔‏

ہمارے لیے سبق

گُناہ‌گار اِنسانوں کے طور پر ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔‏ (‏رومیوں 3:‏23‏)‏ لیکن جب ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو ہمیں توبہ کرنی چاہیے اور پھر جہاں تک ممکن ہو اپنی غلطی کی تلافی کرنی چاہیے۔‏

ایوب،‏ لُوط اور داؤد نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ اپنی غلطی پر پشیمان ہیں؟‏ ایوب دل کے اچھے تھے اِس لیے جب خدا نے اُن کی اِصلاح کی تو اُنہوں نے اپنی سوچ کو  درست کِیا اور خدا سے معافی مانگی۔‏ (‏ایوب 42:‏6‏)‏ لُوط کو خدا کے معیاروں کا علم تھا اِس لیے وہ سدوم اور عمورہ کے لوگوں کی بُری حرکتوں کی وجہ سے تنگ تھے۔‏ لیکن اُن کی غلطی یہ تھی کہ اُنہوں نے خدا کے حکم پر عمل کرنے میں دیر لگائی۔‏ مگر آخرکار وہ وہاں سے بھاگ گئے اور اُن شہروں کے لوگوں کے ساتھ ہلاک ہونے سے بچ گئے۔‏ خدا کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اُنہوں نے بھاگتے وقت پیچھے مُڑ کر بھی نہیں دیکھا۔‏ داؤد نے سنگین غلطی کی لیکن اُنہوں نے دل سے توبہ کی اور خود کو خدا کے رحم‌وکرم پر چھوڑ دیا جس سے ظاہر ہوا کہ وہ دل کے اچھے ہیں۔‏—‏زبور 51‏۔‏

خدا گُناہ‌گار اِنسانوں سے اِس بات کی توقع نہیں کرتا کہ وہ غلطیاں نہ کریں۔‏ اِس لیے ایوب،‏ لُوط اور داؤد اُس کی نظر میں راست‌باز تھے۔‏ دراصل خدا ”‏ہماری سرِشت سے واقف ہے۔‏ اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔‏“‏ (‏زبور 103:‏14‏)‏ لیکن وہ گُناہ‌گار اِنسانوں سے ایک بات کی توقع ضرور کرتا ہے۔‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔‏

خدا ”‏ہماری سرِشت سے واقف ہے۔‏ اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔‏“‏—‏زبور 103:‏14‏۔‏

گُناہ‌گار اِنسان خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں؟‏

ذرا اُس ہدایت پر غور کریں جو داؤد نے اپنے بیٹے سلیمان کو دی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تُو اَے میرے بیٹے سلیماؔن اپنے باپ کے خدا کو پہچان اور پورے دل .‏ .‏ .‏ سے اُس کی عبادت کر۔‏“‏ (‏1-‏تواریخ 28:‏9‏)‏ پورے دل سے خدا کی عبادت کرنے کا کیا مطلب ہے؟‏ اِس کا مطلب ہے کہ ہم دل سے خدا سے محبت کریں اور اُس کی مرضی کو جاننے اور اِس کے مطابق چلنے کی پوری کوشش کریں۔‏ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سے کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہماری دلی خواہش ہونی چاہیے کہ ہم خدا کے فرمانبردار رہیں اور اُس کی طرف سے اِصلاح قبول کریں۔‏ ایوب،‏ لُوط اور داؤد خدا سے دل سے محبت کرتے تھے اور اُس کے فرمانبردار رہنا چاہتے تھے۔‏ اِسی وجہ سے پاک کلام میں ایوب اور لُوط کو راست‌باز کہا گیا ہے اور داؤد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے ’‏وہی کِیا جو خدا کی نظر میں ٹھیک تھا۔‏‘‏ اِن لوگوں نے غلطیاں ضرور کیں لیکن اِس کے باوجود وہ خدا کو خوش کر پائے۔‏

پورے دل سے خدا کی عبادت کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی مرضی کو جاننے اور اِس کے مطابق چلنے کی پوری کوشش کریں۔‏

لہٰذا اگر ہمارے دل میں بُرے خیال آتے ہیں یا ہم نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس پر ہم پچھتا رہے ہیں یا پھر ہم نے کوئی غلط کام کِیا ہے تو ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ ایوب،‏ لُوط اور داؤد کی مثال کو یاد رکھنا چاہیے۔‏ یاد رکھیں کہ خدا ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم غلطیاں نہ کریں۔‏ لیکن وہ ہم سے یہ توقع ضرور کرتا ہے کہ ہم اُس سے محبت کریں اور اُس کے فرمانبردار رہنے کی پوری کوشش کریں۔‏ اگر ہم پورے دل سے خدا کی عبادت کریں گے تو ہم بھی اُس کو خوش کر پائیں گے۔‏