مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

کیا آثارِقدیمہ کی دریافتوں سے اُن لوگوں کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے جن کا پاک کلام میں ذکر کِیا گیا ہے؟‏

اسور کا بادشاہ سرجون (‏سارگن)‏ دوم جس کا ذکر یسعیاہ 20:‏1 میں ملتا ہے۔‏

آثارِقدیمہ پر مضامین شائع کرنے والے ایک رسالے میں بتایا گیا ہے کہ کتابِ‌مُقدس کے عبرانی صحیفوں میں جن لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے اُن میں سے ”‏کم از کم 50“‏ لوگوں کی تصدیق آثارِقدیمہ کی دریافتوں سے کی جا سکتی ہے۔‏ اِن لوگوں میں سے 14 اشخاص ملک یہوداہ اور اِسرائیل کے بادشاہ تھے۔‏ اِن بادشاہوں میں سے بعض بہت جانے مانے ہیں جیسے کہ داؤد اور حِزقیاہ جبکہ کچھ اِتنے جانے مانے نہیں جیسے کہ مناحم اور فقح۔‏ اِن 50 لوگوں کی فہرست میں مصر کے 5 فرعون اور اسور،‏ بابل،‏ موآب،‏ فارس اور ارام کے 19 بادشاہ بھی شامل ہیں۔‏ اِس فہرست میں صرف بادشاہ ہی شامل نہیں بلکہ بادشاہ سے کم درجے کے لوگ بھی شامل ہیں جیسے کہ سردار کاہن،‏ فقیہ اور کچھ اہلکار وغیرہ۔‏

اِس رسالے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اِن لوگوں کی شناخت پر ”‏بیشتر عالم متفق ہیں۔‏“‏ کتابِ‌مُقدس کے یونانی صحیفوں میں بھی بہت سی تاریخی ہستیوں کا ذکر کِیا گیا ہے جیسے کہ ہیرودیس،‏ پُنطیُس پیلاطُس،‏ تِبریُس،‏ کائفا اور سرگِیُس پولُس۔‏ آثارِقدیمہ کی دریافتوں سے اِن کی بھی تصدیق کی جا سکتی ہے۔‏

ملک اِسرائیل اور اِس کے آس‌پاس کے ملکوں سے شیر کب ختم ہوئے؟‏

قدیم شہر بابل کی رنگین دیوار کا ایک ٹکڑا۔‏

اِن ملکوں کے جنگلوں میں آج ایک بھی شیر نہیں ہے۔‏ لیکن پاک کلام میں اِس جانور کا تقریباً 150 بار ذکر ہوا ہے۔‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ پاک کلام لکھنے والے اِس جانور سے واقف تھے۔‏ زیادہ‌تر آیتوں میں شیر کا مجازی معنوں میں ذکر کِیا گیا ہے لیکن کچھ آیتوں میں اصلی شیر کا ذکر ملتا ہے۔‏ مثال کے طور پر سمسون،‏ داؤد اور بنایاہ نے شیروں کو مارا تھا۔‏ (‏قضاة 14:‏5،‏ 6؛‏ 1-‏سموئیل 17:‏34،‏ 35؛‏ 2-‏سموئیل 23:‏20‏)‏ لیکن کچھ لوگوں کو شیروں نے مارا تھا۔‏—‏1-‏سلاطین 13:‏24؛‏ 2-‏سلاطین 17:‏25‏۔‏

قدیم زمانے میں ایشیائے کوچک اور یونان سے لے کر فلسطین،‏ شام،‏ مسوپتامیہ اور شمال مغربی اِنڈیا تک جنگلوں میں ببرشیر پائے جاتے تھے۔‏ پُرانے زمانے کے مغربی ایشیا کے آرٹ میں بھی شیروں کی بہت سی تصویریں ملتی ہیں۔‏ مثال کے طور پر قدیم شہر بابل میں جس راستے سے نئے سال کے جشن کا جلوس گزرتا تھا،‏ اُس راستے کی دونوں طرف رنگین دیواروں پر شیر بنائے گئے تھے۔‏

بعض عالموں کا کہنا ہے کہ جو صلیبی جنگ 12ویں صدی کے آخر پر ہوئی تھی،‏ اُس کے دوران سپاہی فلسطین میں شیروں کا شکار کرتے تھے۔‏ ایسا لگتا ہے کہ 13ویں صدی کے تھوڑی دیر بعد اِس علاقے سے شیر ختم ہو گئے تھے۔‏ لیکن مسوپتامیہ اور شام میں 19ویں صدی تک اور ایران اور عراق میں 20ویں صدی کے شروع تک اِکا دُکا شیر نظر آتے رہے۔‏