مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

قرضہ اُٹھانا—‏کیا یہ سمجھ‌داری کی بات ہے؟‏

قرضہ اُٹھانا—‏کیا یہ سمجھ‌داری کی بات ہے؟‏

‏”‏قرضہ لینا شادی کی تقریب کی طرح ہے اور قرضہ چُکانا ماتم کی طرح۔‏“‏—‏سواحلی زبان کی کہاوت۔‏

یہ کہاوت مشرقی افریقہ میں کافی مشہور ہے۔‏ بِلاشُبہ پوری دُنیا میں لوگ اِس بات سے اِتفاق کریں گے کہ یہ کہاوت واقعی سچی ہے۔‏ کیا قرضہ لینے کے بارے میں آپ کے احساسات بھی ایسے ہی ہیں جیسے اِس کہاوت میں بتائے گئے ہیں،‏ پھر چاہے آپ قرضہ کسی دوست سے لیں یا کہیں اَور سے؟‏ ہو سکتا ہے کہ بعض صورتوں میں لگے کہ قرضہ لے لینا بہتر ہے۔‏ لیکن کیا یہ واقعی سمجھ‌داری کی بات ہے؟‏ اور قرضہ لینے کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟‏

سواحلی زبان کی ایک اَور کہاوت سے پتہ چلتا ہے کہ قرضہ لینے کا کیا  نقصان ہو سکتا ہے۔‏ یہ کہاوت ہے:‏ ”‏قرض لینے اور قرض دینے سے دوستی خراب ہو جاتی ہے۔‏“‏ اور واقعی ایسا ہوتا بھی ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ قرض لیتے وقت ایک شخص سوچے کہ وہ اِسے ضرور واپس کرے گا اور اِس سلسلے میں وہ بہت اچھا منصوبہ بھی بنائے۔‏ لیکن پھر شاید کسی وجہ سے وہ وقت پر قرض ادا نہ کر پائے۔‏ ایسی صورت میں دوستی اور رشتوں میں بڑی آسانی سے دراڑ پڑ سکتی ہے۔‏ مثال کے طور پر اگر وقت پر قرضہ ادا نہ کِیا جائے تو قرضہ دینے والا غصے میں آ سکتا ہے۔‏ اُس کے دل میں ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے اور اُس کے اور قرضہ لینے والے کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔‏ یہاں تک کہ اُن کے خاندانوں میں بھی دراڑ پڑ سکتی ہے۔‏ چونکہ قرضے کی وجہ سے اِختلافات پیدا ہو سکتے ہیں اِس لیے بہتر ہے کہ ہم اپنے مالی مسئلوں کو حل کرنے کے لیے پہلے کوئی اَور راستہ تلاش کریں،‏ نہ کہ فوراً قرضہ اُٹھا لیں۔‏

قرضہ لینے سے ایک شخص کا رشتہ خدا کے ساتھ بھی خراب ہو سکتا ہے۔‏ وہ کیسے؟‏ پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ جان بُوجھ کر قرض ادا نہیں کرتے،‏ وہ خدا کی نظر میں بُرے ہیں۔‏ (‏زبور 37:‏21‏)‏ پاک کلام میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔‏“‏ (‏امثال 22:‏7‏)‏ جو شخص قرض لیتا ہے،‏ اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک وہ اِسے ادا نہیں کر دیتا،‏ وہ قرض دینے والے کا پابند ہے۔‏ ایک اَور افریقی کہاوت ہے کہ ”‏جب آپ ایک شخص کی ٹانگیں اُدھار لیتے ہیں تو آپ اُسی جگہ جائیں گے جہاں وہ شخص آپ کو لے کر جائے گا۔‏“‏ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرض تلے دبا ہوتا ہے،‏ وہ اپنی مرضی سے کچھ کرنے کی آزادی کھو دیتا ہے۔‏

اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے قرضہ چُکا دینا چاہیے۔‏ کیونکہ اگر ایسا نہیں کِیا جاتا تو اِس سے بہت سی مشکلیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔‏ جو شخص قرضے میں ڈوبا ہوتا ہے،‏ اُسے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسے کہ اُس کی راتوں کی نیند حرام ہو سکتی ہے؛‏ اُسے اوورٹائم کرنا پڑ سکتا ہے؛‏ میاں بیوی میں تُو تُو مَیں مَیں ہو سکتی ہے،‏ یہاں تک کہ خاندان بھی ٹوٹ سکتا ہے۔‏ کبھی کبھار تو ایسا ہوتا ہے کہ قرضہ لینے والے کو  کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے ہیں یا اُسے جیل ہو جاتی ہے۔‏ اِس لیے پاک کلام کی اِس نصیحت پر عمل کرنا بہت ضروری ہے:‏ ”‏آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرض‌دار نہ ہو۔‏“‏—‏رومیوں 13:‏8‏۔‏

کیا قرضہ لینا واقعی ضروری ہے؟‏

اِن باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اچھا ہوگا کہ قرض اُٹھانے کے سلسلے میں سوچ سمجھ سے کام لیا جائے۔‏ اِس لیے خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا قرضہ لینا واقعی ضروری ہے؟‏ کیا مَیں یہ قرضہ اپنا کاروبار بچانے کے لیے لے رہا ہوں تاکہ مَیں اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرتا رہوں؟‏ یا کیا میرے دل میں کوئی ایسی چیز خریدنے کا لالچ ہے جس کی میری جیب اِجازت نہیں دیتی؟‏“‏ بہت سی صورتوں میں بہتر ہوتا ہے کہ اِنسان قرضہ لینے کی بجائے اُسی پر خوش رہے جو اُس کے پاس ہے۔‏

بےشک کبھی کبھار ایمرجنسی میں قرضہ لینا پڑتا ہے  کیونکہ  کوئی  اَور  راستہ  نہیں بچتا۔‏ ایسی صورتحال میں اگر آپ قرضہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ثابت کریں کہ آپ  ایک دیانت‌دار شخص ہیں اور اپنی زبان کے پکے ہیں۔‏ لیکن آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

سب سے پہلے تو کبھی بھی ایسے شخص کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھائیں جو مال‌دار دِکھتا ہے۔‏ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جس شخص کے پاس پیسہ ہے،‏ اُس کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہماری مالی مدد کرے۔‏ نہ ہی ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے شخص سے قرضہ لے کر واپس کرنا ضروری نہیں ہے۔‏ ہمیں کبھی بھی دوسروں کے پیسے کا لالچ نہیں کرنا چاہیے۔‏

دوسری بات یہ کہ اگر آپ قرضہ لے لیتے ہیں تو جتنی  جلدی  ہو  سکے،‏  اِسے واپس کریں۔‏ اگر قرضہ دینے والا شخص یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو کب تک اِسے واپس کرنا ہے تو آپ کو خود اُسے کوئی تاریخ بتانی چاہیے اور پھر اُس تاریخ تک قرضہ واپس کر دینا چاہیے۔‏ بہتر ہے کہ آپ دونوں مل کر قرضے کے حوالے سے تمام باتوں کو لکھ لیں تاکہ کوئی غلط‌فہمی پیدا نہ ہو۔‏ (‏یرمیاہ 32:‏9،‏ 10‏)‏ اگر ممکن ہو تو خود جا کر قرضہ واپس کریں تاکہ آپ قرضہ دینے والا شکریہ بھی ادا کر سکیں۔‏ اگر آپ قرض کی ادائیگی میں ایمان‌داری سے کام لیتے ہیں تو قرضہ دینے والے کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے رہتے ہیں۔‏ غور کریں کہ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو۔‏“‏ (‏متی 5:‏37‏)‏ اِس کے علاوہ یسوع مسیح کے اِس سنہری اصول کو ہمیشہ یاد رکھیں:‏ ”‏جو کچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو۔‏“‏—‏متی 7:‏12‏۔‏

پاک کلام کا عمدہ مشورہ

خدا کے کلام میں قرض سے بچنے کا ایک آسان سا حل بتایا  گیا  ہے۔‏  اِس  میں لکھا ہے:‏ ”‏دین‌داری قناعت کے ساتھ بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔‏“‏ (‏1-‏تیمتھیس 6:‏6‏)‏ دوسرے لفظوں میں کہیں تو اگر اِنسان اُنہی چیزوں پر خوش رہے جو اُس کے پاس ہیں تو وہ قرضہ اُٹھانے کے نقصان سے بچ سکتا ہے۔‏ لیکن چونکہ آج کے زمانے میں زیادہ‌تر لوگ اپنی پسند کی چیز فوراً حاصل کرنا چاہتے ہیں اِس لیے ایک شخص کے لیے یہ مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ تھوڑے پر ہی خوش رہے۔‏ ایسی صورت میں اِس شخص کو ”‏دین‌داری“‏ سے کام لینا چاہیے۔‏ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟‏

اِس سلسلے میں ایشیا میں رہنے والے ایک میاں بیوی  کی  مثال  پر  غور  کریں۔‏ جب وہ جوان تھے تو اُنہیں ایسے لوگوں پر رشک آتا تھا کہ جن کا اپنا گھر تھا۔‏ اِس لیے اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اپنی جمع‌پونجی سے اور بینک اور رشتےداروں سے قرضہ اُٹھا کر اپنا گھر خریدیں گے۔‏ لیکن پھر جلد ہی اُنہیں احساس ہوا کہ ہر مہینے قرضے کی قسط ادا کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔‏ اب اُنہیں پہلے سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا اور اِس وجہ سے وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتے تھے۔‏ شوہر کہتا ہے:‏ ”‏ذہنی دباؤ،‏ جسمانی تھکاوٹ اور نیند کی کمی کی وجہ سے مجھے ایسے لگتا تھا جیسے کسی نے میرے سر پر بھاری بوجھ رکھا ہو۔‏ مجھے بہت گھٹن محسوس ہوتی تھی۔‏“‏

‏”‏جب آپ مال‌ودولت کے بارے میں خدا کا نظریہ اپناتے ہیں تو آپ بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں۔‏“‏

لیکن پھر اِن میاں بیوی کو پاک کلام میں لکھی یہ بات یاد آئی:‏ ”‏دین‌داری قناعت کے ساتھ بڑے نفع کا ذریعہ ہے“‏ اور اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اپنا گھر بیچ دیں گے۔‏ اپنا سارا قرضہ اُتارنے میں اُنہیں دو سال لگ گئے۔‏ اِس سب سے اِن میاں بیوی نے کیا سیکھا؟‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏جب آپ مال‌ودولت کے بارے میں خدا کا نظریہ اپناتے ہیں تو آپ بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں۔‏“‏

مضمون کے شروع میں سواحلی زبان کی جس کہاوت کا ذکر کِیا گیا ہے،‏ اُس سے بہت سے لوگ واقف تو ہیں لیکن وہ پھر بھی قرضہ لیتے ہیں۔‏ مگر پاک کلام کے جن اصولوں پر ہم نے غور کِیا ہے،‏ اُن کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا اچھا نہیں ہوگا کہ ہم خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏کیا مجھے قرضہ لینا چاہیے؟‏“‏