مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سرِورق کا موضوع:‏ آخر کیوں؟‏—‏اچھے لوگوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟‏

اچھے لوگوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟‏

اچھے لوگوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟‏

یہوواہ * ساری کائنات کا خالق اور قادرِمطلق خدا ہے۔‏ اِس لیے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا میں جو بھی ہوتا ہے،‏ وہ خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔‏ یہاں تک کہ لوگ دُنیا میں پھیلی ہوئی بُرائی کا ذمےدار بھی خدا کو ہی ٹھہراتے ہیں۔‏ لیکن آئیں،‏ دیکھیں کہ پاک کلام میں سچے خدا یہوواہ کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے:‏

  •  ‏”‏[‏یہوواہ]‏ اپنی سب راہوں میں صادق“‏ ہے۔‏—‏زبور 145:‏17‏۔‏

  •  ‏”‏[‏خدا]‏ کی سب راہیں اِنصاف کی ہیں۔‏ وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔‏ وہ منصف اور برحق ہے۔‏“‏—‏استثنا 32:‏4‏۔‏

  •  ‏”‏[‏یہوواہ]‏ کس قدر رحم‌دل اور مہربان ہے۔‏“‏—‏یعقوب 5:‏11‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

بُرائی کے پیچھے خدا کا ہاتھ نہیں ہے۔‏ تو پھر کیا وہ لوگوں کو بُرے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟‏ ہرگز نہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏جب کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمایش خدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔‏“‏ (‏یعقوب 1:‏13‏)‏ خدا کسی کو آزمانے کے لیے اُسے بُرے کام کرنے کی ترغیب نہیں دیتا۔‏ لہٰذا اگر خدا کسی پر مصیبت نہیں لاتا اور کسی کو بُرے کام کرنے پر اُکساتا بھی نہیں تو پھر دُنیا میں بُرائی اور مصیبتیں کیوں ہیں؟‏

غلط وقت پر غلط جگہ ہونا

ایک وجہ جس کی بِنا پر اِنسانوں کو دُکھ اور تکلیف کا سامنا ہوتا ہے،‏ وہ یہ ہے کہ ”‏سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔‏“‏ (‏واعظ 9:‏11‏)‏ مگر کون حادثے کا شکار ہوتا ہے اور کون نہیں،‏ اِس کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ حادثے کے وقت اور جگہ پر کون موجود ہوتا ہے۔‏ تقریباً 2000 سال پہلے یسوع مسیح نے ایک حادثے کا ذکر کِیا۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ ایک مینار کے گِرنے سے 18 لوگ ہلاک ہو گئے۔‏ (‏لوقا 13:‏1-‏5‏)‏ وہ لوگ اپنے بُرے کاموں کی وجہ سے اِس حادثے کا شکار نہیں ہوئے تھے۔‏ بات صرف اِتنی تھی کہ وہ حادثے کے وقت مینار کے نیچے کھڑے تھے۔‏ جنوری 2010ء میں ملک ہیٹی میں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا جس میں تقریباً 3 لاکھ لوگوں کی جان گئی۔‏ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے۔‏ آفتوں کی طرح بیماری بھی کسی اِنسان پر کسی بھی وقت حملہ‌آور ہو سکتی ہے۔‏

خدا اچھے لوگوں کو آفتوں سے کیوں نہیں بچاتا؟‏

بعض لوگ شاید سوال اُٹھائیں کہ ”‏کیا خدا ہول‌ناک حادثوں اور آفتوں کو روک نہیں سکتا؟‏ کیا وہ اچھے لوگوں کو مصیبتوں سے بچا نہیں سکتا؟‏“‏ اگر خدا ایسا کرے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُسے بُرے واقعات کی پہلے ہی سے خبر ہوتی ہے۔‏ یہ سچ ہے کہ خدا مستقبل کے بارے میں جاننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ مستقبل کے ہر واقعے کو جاننے کے لیے اِس صلاحیت کو اِستعمال کرتا ہے؟‏—‏یسعیاہ 42:‏9‏۔‏

خدا کے کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا تو آسمان پر ہے؛‏  وہ  جو  چاہتا  ہے  وہی  کرتا ہے۔‏“‏ (‏زبور 115:‏3‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ یوں تو خدا ہر کام کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر وہ وہی کام کرتا ہے جو اُس کی نظر میں ضروری ہوتا ہے۔‏ اِسی طرح  خدا مستقبل کے بارے میں جاننے کی صلاحیت کو ہمیشہ  اِستعمال  نہیں  کرتا۔‏ مثال کے طور پر جب دو قدیم شہروں سدوم اور عمورہ کے لوگوں میں بُرائی حد سے زیادہ بڑھ گئی تو خدا نے ابراہام نبی سے فرمایا:‏ ”‏مَیں اب جا کر دیکھوں گا کہ کیا اُنہوں نے سراسر ویسا ہی کِیا ہے جیسا شور میرے کان تک پہنچا ہے اور اگر نہیں کِیا تو مَیں معلوم کر لوں گا۔‏“‏ (‏پیدایش 18:‏20،‏ 21‏)‏ خدا نے یہ اِنتخاب کِیا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے یہ معلوم نہیں کرے گا کہ اِن شہروں میں بُرائی کس حد تک پھیل گئی ہے۔‏ اِسی طرح خدا اِنتخاب کر سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں ہونے والے ہر واقعے کو پہلے سے معلوم کرے گا یا نہیں۔‏ (‏پیدایش 22:‏12‏)‏ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا میں کوئی خامی یا کمی ہے۔‏ چونکہ خدا کا ہر ”‏کام کامل ہے“‏ اِس لیے وہ مستقبل کے بارے میں جاننے کی صلاحیت کا ناجائز اِستعمال نہیں کرتا بلکہ وہ اِسے ہمیشہ اپنے مقصد کے مطابق اِستعمال کرتا ہے۔‏ * (‏استثنا 32:‏4‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ وہ اِنسانوں کو اپنی مرضی پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔‏ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنی اِس صلاحیت کو تبھی اِستعمال کرتا ہے جب وہ ایسا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔‏

خدا اچھے لوگوں کو جُرم کا شکار کیوں ہونے دیتا ہے؟‏

اِنسانوں کے بُرے کام

کسی حد تک اِنسان خود اُن مصیبتوں کے ذمےدار ہیں جو اُن پر آتی ہیں۔‏ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ اِنسان ایسے بُرے کاموں میں کیسے پڑ جاتا ہے جن سے نہ صرف اُس کو بلکہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‏ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔‏ پھر خواہش حاملہ ہو کر گُناہ کو جنتی ہے اور گُناہ جب بڑھ چُکا تو موت پیدا کرتا ہے۔‏“‏ (‏یعقوب 1:‏14،‏ 15‏)‏ جب لوگ اپنی غلط خواہشوں کو پورا کرتے ہیں تو اُنہیں بُرے نتائج کا سامنا بھی ہوتا ہے۔‏ (‏رومیوں 7:‏21-‏23‏)‏ تاریخ گواہ ہے کہ اِنسانوں نے بڑے گھناؤنے کام کیے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو سخت مصیبتیں سہنی پڑی ہیں۔‏ اِس کے علاوہ بُرے لوگ دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور یوں بُرائی کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔‏—‏امثال 1:‏10-‏16‏۔‏

اِنسانوں نے بڑے گھناؤنے کام کیے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو سخت مصیبتیں سہنی پڑی ہیں۔‏

خدا اِنسانوں کو بُرے کام کرنے سے کیوں  نہیں  روکتا؟‏  دراصل  اُس  کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ اُس نے اِنسان کو اپنی شبیہ پر خلق کِیا ہے۔‏ اِس لیے اِنسان خدا جیسی خوبیاں ظاہر کر سکتے ہیں۔‏ (‏پیدایش 1:‏26‏)‏ اُس نے اِنسانوں کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی بخشی ہے۔‏ اِس لیے اِنسان اُس کی فرمانبرداری کرنے سے یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے وفادار ہیں۔‏ (‏استثنا 30:‏19،‏ 20‏)‏ اگر خدا اِنسانوں کو مجبور کرتا کہ وہ اُس کی مرضی پر چلیں تو دراصل وہ اُسی آزادی کو چھین رہا ہوتا جو اُس نے اُنہیں دی تھی۔‏ اِنسان بس ایک مشین کی طرح ہوتے جو ایک طےشُدہ پروگرام سے چلتی ہے۔‏ اِسی طرح اگر خدا نے ہماری قسمت پہلے ہی لکھ دی ہوتی تو ہم ایک  کٹھ‌پتلی کی طرح ہوتے۔‏ ہمیں خوشی ہے کہ خدا نے ہمیں اپنی مرضی سے  زندگی  گزارنے کی آزادی دی ہے۔‏ لیکن اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں  کہ اِنسانوں کے بُرے فیصلوں اور کاموں کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ تکلیف اُٹھانی پڑے گی۔‏

کرما کا عقیدہ

اگر آپ ہندو مذہب یا بدھ مذہب کے لوگوں سے وہ سوال پوچھیں گے جو اِس رسالے کے پہلے صفحے پر دیا گیا ہے تو غالباً آپ کو یہ جواب ملے گا:‏ ”‏اچھے لوگوں پر مصیبتیں کرما کی وجہ سے آتی ہیں۔‏ اُنہیں پچھلے جنم کے کاموں کا پھل موجودہ جنم میں ملتا ہے۔‏“‏ *

آئیں،‏ موت کے بارے میں بائبل کی تعلیم پر غور کریں اور پھر اِس کا موازنہ کرما کے عقیدے سے کریں۔‏ خدا نے پہلے اِنسان آدم کو ایک باغ میں رکھا جس کا نام عدن تھا۔‏ اُس نے آدم سے کہا:‏ ”‏تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بےروک‌ٹوک کھا سکتا ہے۔‏ لیکن نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔‏“‏ (‏پیدایش 2:‏16،‏ 17‏)‏ اگر آدم خدا کی نافرمانی نہ کرتے تو وہ ہمیشہ تک زندہ رہتے۔‏ اُنہیں نافرمانی کی سزا موت ملی۔‏ جب آدم کی اولاد ہوئی تو ”‏موت سب آدمیوں میں پھیل گئی۔‏“‏ (‏رومیوں 5:‏12‏)‏ اِس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”‏گُناہ کی مزدوری موت ہے۔‏“‏ (‏رومیوں 6:‏23‏)‏ خدا کے کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ”‏جو مؤا وہ گُناہ سے بَری ہوا۔‏“‏ (‏رومیوں 6:‏7‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ مرنے کے بعد اِنسان کو اپنے گُناہوں کی سزا مسلسل بھگتنی نہیں پڑتی۔‏

آج‌کل لاکھوں لوگ یہ کہتے ہیں کہ دُکھ تکلیف کا سبب کرما ہے۔‏ وہ سمجھتے ہیں کہ تکلیفیں اور مصیبتیں زندگی کا حصہ ہیں۔‏ اِس لیے وہ اِن کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔‏ لیکن اُنہیں اِس بات کی کوئی اُمید نہیں کہ دُکھ تکلیف کا سلسلہ کبھی ختم ہوگا۔‏ وہ مانتے ہیں کہ اِنسان کو نیک چال‌چلن اور خاص علم کے ذریعے ہی باربار مرنے جینے کے چکر سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔‏ ایسے نظریات پاک صحیفوں کی تعلیم کے بالکل اُلٹ ہیں۔‏ *

مصیبتوں کی اصل جڑ

کیا آپ جانتے تھے کہ مصیبتوں کی اصل جڑ شیطان اِبلیس ہے جو اِس ”‏دُنیا کا سردار“‏ ہے؟‏—‏یوحنا 14:‏30‏۔‏

مصیبتوں اور بُرائی کی اصل جڑ اِنسان نہیں بلکہ شیطان اِبلیس ہے۔‏ وہ پہلے خدا کا ایک فرشتہ تھا مگر وہ ”‏سچائی پر قائم نہیں رہا۔‏“‏ (‏یوحنا 8:‏44‏)‏ اُس نے دُنیا میں گُناہ کی شروعات کی۔‏ اُس نے عدن کے باغ میں رہنے والے پہلے اِنسانوں کو خدا کے خلاف بغاوت کرنے پر اُکسایا۔‏ (‏پیدایش 3:‏1-‏5‏)‏ یسوع مسیح نے اُسے ”‏شریر“‏ اور ”‏دُنیا کا سردار“‏ کہا۔‏ (‏یوحنا 17:‏15؛‏ 14:‏30‏)‏ بہت سے اِنسان،‏ شیطان کے بہکاوے میں آ کر یہوواہ خدا کے حکموں کو نہیں مانتے۔‏ (‏1-‏یوحنا 2:‏15،‏ 16‏)‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏ساری دُنیا .‏ .‏ .‏ شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 5:‏19‏)‏ شیطان کے علاوہ اَور بہت سے فرشتے بھی شرارت کرنے پر اُتر آئے اور اُس کے ساتھ مل گئے۔‏ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ شیطان اور اُس کے شیاطین ”‏سارے جہان کو گمراہ“‏ کر رہے ہیں۔‏ یہ زمین پر رہنے والوں کے لیے واقعی ایک مصیبت ہے۔‏ (‏مکاشفہ 12:‏9،‏ 12‏)‏ لہٰذا مصیبتوں اور بُرائی کا اصل ذمےدار شیطان اِبلیس ہے۔‏

ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بُرائی کے پیچھے خدا کا ہاتھ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اِنسانوں پر مصیبتیں لاتا ہے۔‏ اُس نے تو وعدہ کِیا ہے کہ وہ بُرائی اور دُکھ تکلیف کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔‏ اِس کے بارے میں جاننے کے لیے اگلا مضمون پڑھیں۔‏

^ پیراگراف 3 یہوواہ پاک کلام کے مطابق خدا کا ذاتی نام ہے۔‏

^ پیراگراف 11 یہ جاننے کے لیے کہ خدا نے بُرائی کو ابھی تک ختم کیوں نہیں کِیا،‏ کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب 11 کو دیکھیں۔‏ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔‏

^ پیراگراف 16 کرما کے عقیدے کی اِبتدا کے بارے میں جاننے کے لیے کتاب مرنے پر ہمارے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟‏ کے صفحہ 8-‏12 کو دیکھیں۔‏ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔‏

^ پیراگراف 18 مُردوں کی حالت اور اُن کے دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں بائبل کی تعلیم جاننے کے لیے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب 6 اور 7 کو دیکھیں۔‏