مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 یہوواہ کے گواہوں سے بات‌چیت

خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے؟‏

خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے؟‏

اِس مضمون میں دِکھایا گیا ہے کہ یہوواہ کے گواہ پاک کلام کے کسی موضوع پر لوگوں کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ نادیہ نامی ایک یہوواہ کی گواہ،‏ اِرم نامی ایک عورت کے گھر جا کر اُن سے کیسے بات کرتی ہیں۔‏

ہمیں تکلیف میں دیکھ کر خدا کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‏

نادیہ:‏ سلام،‏ اِرم۔‏ کیسی ہیں،‏ آپ؟‏

اِرم:‏ مَیں ٹھیک ہوں۔‏

نادیہ:‏ پچھلی بار ہم نے اِس بارے میں بات کی تھی کہ خدا ہمیں تکلیف میں دیکھ کر کیسا محسوس کرتا ہے۔‏ * آپ نے بتایا تھا کہ آپ کو سمجھ نہیں آتا کہ خدا ہم پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے،‏ خاص طور پر کیونکہ آپ کی امی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔‏ ویسے،‏ ابھی آپ کی امی کی طبیعت کیسی ہے؟‏

اِرم:‏ کبھی ٹھیک ہوتی ہیں،‏ کبھی نہیں۔‏ آج وہ کچھ بہتر ہیں۔‏

نادیہ:‏ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔‏ یقیناً اُنہیں بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے۔‏

اِرم:‏ جی۔‏ کبھی‌کبھی مَیں سوچتی ہوں کہ اُنہیں اِس تکلیف سے کب نجات ملے گی؟‏

نادیہ:‏ مَیں سمجھ سکتی ہوں۔‏ شاید آپ کو یاد ہو،‏ جب مَیں پچھلی بار آئی تھی تو مَیں نے وعدہ کِیا تھا کہ مَیں اِس سوال کا جواب دوں گی کہ خدا نے ابھی تک ہماری تکلیفوں کو ختم کیوں نہیں کِیا حالانکہ وہ ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔‏

اِرم:‏ جی،‏ جی،‏ مجھے یاد ہے۔‏

نادیہ:‏ مَیں آپ کو دِکھانا چاہتی ہوں کہ پاک کلام میں اِس کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔‏ لیکن آئیں،‏ پہلے ہم اُن باتوں کی دُہرائی کریں جن پر ہم نے پچھلی بار بات کی تھی۔‏

اِرم:‏ ٹھیک ہے۔‏

نادیہ:‏ آپ کو یاد ہے،‏ پُرانے زمانے میں خدا کے ایک نبی نے بھی یہ سوال اُٹھایا تھا کہ خدا اُن پر مصیبتیں کیوں آنے دیتا ہے۔‏ لیکن خدا اُن سے نہ تو ناراض ہوا اور نہ ہی اُن سے کہا کہ ”‏تمہارا ایمان کمزور ہے۔‏“‏

اِرم:‏ جی،‏ مَیں اِس کے بارے میں پہلے نہیں جانتی تھی۔‏

نادیہ:‏ ہم نے یہ بھی سیکھا تھا کہ ہمیں تکلیف میں دیکھ کر خدا کو بہت دُکھ ہوتا ہے۔‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ جب خدا نے اپنی قوم کو مصیبت میں دیکھا تو وہ خود بھی ”‏مصیبت‌زدہ ہوا۔‏“‏ * کیا ہمیں یہ جان کر تسلی نہیں ملتی کہ خدا ہماری تکلیفوں میں ہمارا ہمدرد ہے؟‏

اِرم:‏ جی،‏ بالکل۔‏

نادیہ:‏ ہم نے اِس بارے میں بھی بات کی تھی کہ خدا کائنات کا خالق ہے اور اِس لیے اُس کے پاس اِتنی طاقت ہے کہ وہ ہماری مصیبتوں کو ختم کر سکے۔‏

اِرم:‏ یہی بات تو میری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر خدا کے پاس اِتنی طاقت ہے تو پھر وہ ہماری مصیبتوں کو ختم کیوں نہیں کرتا؟‏

کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟‏

نادیہ:‏ پاک کلام میں اِس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آدم اور حوا نے باغِ‌عدن میں کیا کِیا تھا؟‏

اِرم:‏ جی،‏ مجھے پتہ ہے۔‏ خدا نے اُنہیں ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کِیا تھا لیکن اُنہوں نے پھر بھی وہ پھل کھایا۔‏

نادیہ:‏ جی،‏ بالکل۔‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ کس نے آدم اور حوا کو گُناہ کرنے پر اُکسایا  تھا۔‏ اِس پر غور کرنے سے ہم سمجھ جائیں گے کہ ہمیں تکلیفیں کیوں سہنی پڑتی ہیں۔‏ کیا آپ پیدایش تیسرے باب کی 1 سے 5 آیت کو پڑھ سکتی ہیں؟‏

اِرم:‏ جی۔‏ ”‏سانپ کُل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تُم نہ کھانا؟‏ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔‏ پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تُم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چُھونا ورنہ مر جاؤ گے۔‏ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تُم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تُم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائیں گی اور تُم خدا کی مانند نیک‌وبد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔‏“‏

نادیہ:‏ شکریہ۔‏ ذرا اِن آیتوں پر دوبارہ غور کریں۔‏ شروع میں بتایا گیا ہے کہ سانپ نے عورت یعنی حوا سے بات کی۔‏ پاک کلام کی ایک دوسری آیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دراصل شیطان تھا جو سانپ کے روپ میں حوا سے بات کر رہا تھا۔‏ * اُس نے حوا سے پوچھا کہ خدا نے باغ کے ایک درخت کے بارے میں کیا حکم دیا۔‏ کیا آپ نے دیکھا کہ خدا نے آدم اور حوا کو کیا بتایا تھا؟‏ اگر اُنہوں نے اِس درخت کا پھل کھایا تو اُن کی سزا کیا ہوگی؟‏

اِرم:‏ خدا نے کہا تھا کہ وہ مر جائیں گے۔‏

نادیہ:‏ بالکل صحیح۔‏ لیکن شیطان نے کہا:‏ ”‏تُم ہرگز نہ مرو گے۔‏“‏ یوں اُس نے خدا پر اِلزام لگایا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔‏

اِرم:‏ یہ بات تو مَیں نے کبھی نہیں سنی۔‏

نادیہ:‏ جب شیطان نے خدا کو جھوٹا کہا تو اُس نے ایک ایسا دعویٰ کِیا جسے فوراً ہی غلط ثابت نہیں کِیا جا سکتا تھا۔‏ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ایسا کیوں تھا؟‏

اِرم:‏ نہیں۔‏ آپ مجھے بتائیں۔‏

نادیہ:‏ چلیں،‏ مَیں آپ کو ایک مثال دیتی ہوں۔‏ فرض کریں کہ ایک دن مَیں آپ سے کہتی ہوں کہ مَیں آپ سے زیادہ طاقت‌ور ہوں۔‏ آپ میرے اِس دعوے کو کیسے غلط ثابت کریں گی؟‏

اِرم:‏ شاید کسی طرح کے مقابلے کے ذریعے۔‏

نادیہ:‏ جی‌ہاں۔‏ شاید مقابلہ یہ ہو کہ ہم کوئی بھاری چیز اُٹھانے کی کوشش کریں۔‏ جو اِسے اُٹھا لے گا،‏ وہ زیادہ طاقت‌ور نکلے گا۔‏ یوں فوراً ہی پتہ چل جائے گا کہ کون زیادہ طاقت‌ور ہے۔‏

اِرم:‏ جی،‏ بالکل صحیح۔‏

نادیہ:‏ لیکن فرض کریں کہ میرا دعویٰ یہ نہیں کہ مَیں آپ سے زیادہ طاقت‌ور ہوں بلکہ یہ ہے کہ مَیں آپ سے زیادہ دیانت‌دار ہوں۔‏ یہ دعویٰ ثابت کرنا اِتنا آسان نہیں ہوگا،‏ ہےنا؟‏

اِرم:‏ جی۔‏

نادیہ:‏ دیانت‌داری کو کسی مقابلے کے ذریعے ثابت نہیں کی جا سکتا۔‏

اِرم:‏ ہاں،‏ یہ بات تو ہے۔‏

نادیہ:‏ اِس دعوے کو صرف اِس طرح ثابت کِیا جا سکتا ہے کہ ہم دونوں کو کچھ وقت دیا جائے تاکہ دوسرے لوگ دیکھ سکیں کہ ہم میں سے کون زیادہ دیانت‌دار ہے۔‏

اِرم:‏ ہاں،‏ اب مجھے آپ کی بات سمجھ میں آ رہی ہے۔‏

نادیہ:‏ ذرا اُس واقعے پر دوبارہ غور کریں جو ہم نے پیدایش کی کتاب میں پڑھا ہے۔‏ کیا شیطان نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ وہ خدا سے زیادہ طاقت‌ور ہے؟‏

اِرم:‏ نہیں۔‏

نادیہ:‏ اگر شیطان یہ دعویٰ کرتا تو خدا اُسے فوراً ہی غلط ثابت کر دیتا۔‏ لیکن شیطان نے دعویٰ کِیا کہ وہ خدا سے زیادہ دیانت‌دار ہے۔‏ دراصل اُس نے حوا سے کہا کہ ”‏خدا جھوٹ بولتا ہے پر مَیں سچ بول رہا ہوں۔‏“‏

اِرم:‏ اچھا،‏ اب مَیں آپ کی بات سمجھ رہی ہوں۔‏

نادیہ:‏ خدا جانتا تھا کہ شیطان کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کچھ وقت گزر جائے۔‏ آخرکار یہ ظاہر ہو جائے گا کہ کون سچ بول رہا تھا اور کون جھوٹ۔‏

خدا کی حکمرانی پر اِعتراض

اِرم:‏ لیکن جب حوا مر گئیں تو یہ ثابت تو ہو گیا کہ خدا نے سچ بولا تھا۔‏

نادیہ:‏ ہاں،‏ ایک لحاظ سے تو یہ ثابت ہو گیا تھا۔‏ لیکن شیطان نے ایک اَور دعویٰ کِیا تھا۔‏ دوبارہ سے 5 آیت کو دیکھیں۔‏ شیطان نے حوا سے اَور کیا کہا؟‏

اِرم:‏ اُس نے کہا کہ ’‏جس دن تُم اُس پھل کو کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائیں گی۔‏‘‏

 نادیہ:‏ جی۔‏ اُس نے یہ بھی کہا کہ ”‏تُم خدا کی مانند نیک‌وبد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔‏“‏ شیطان کا دعویٰ تھا کہ خدا اِنسانوں کو ایک اچھی چیز سے محروم رکھ رہا ہے۔‏

اِرم:‏ اوہ،‏ اچھا۔‏

نادیہ:‏ یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ تھا۔‏

اِرم:‏ لیکن کیوں؟‏

نادیہ:‏ دراصل شیطان کہہ رہا تھا کہ خدا کی حکمرانی سے آزاد ہو کر حوا کی زندگی (‏اور باقی اِنسانوں کی زندگی بھی)‏ زیادہ اچھی ہوگی۔‏ یہوواہ خدا جانتا تھا کہ اِس معاملے سے نپٹنے کے لیے ضروری ہے کہ شیطان کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔‏ اِس لیے خدا نے شیطان کو کچھ عرصے کے لیے اِس دُنیا پر حکمرانی کرنے کی اِجازت دے دی۔‏ اِس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ دُنیا میں اِس قدر دُکھ اور تکلیف کیوں ہے .‏ .‏ .‏ کیونکہ اِس دُنیا پر خدا نہیں بلکہ شیطان حکمرانی کر رہا ہے۔‏ * مگر خدا نے ہمیں بےسہارا نہیں چھوڑا۔‏

اِرم:‏ کیا مطلب؟‏

نادیہ:‏ پاک کلام سے ہمیں خدا کے بارے میں دو بہت اہم باتیں پتہ چلتی ہیں۔‏ پہلی یہ کہ جب ہم کسی تکلیف سے گزرتے ہیں تو خدا ہمارے درد کو سمجھتا ہے۔‏ مثال کے طور پر زبور 31 کی 7 آیت پر غور کریں جسے داؤد بادشاہ نے لکھا۔‏ داؤد اپنی زندگی میں بہت سی مشکلوں سے گزرے۔‏ ذرا دیکھیں کہ اُنہوں نے دُعا میں خدا سے کیا کہا۔‏ کیا آپ اِس آیت کو پڑھ سکتی ہیں؟‏

اِرم:‏ جی۔‏ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏مَیں تیری رحمت سے خوش‌وخرم رہوں گا کیونکہ تُو نے میرا دُکھ دیکھ لیا ہے۔‏ تُو میری جان کی مصیبتوں سے واقف ہے۔‏“‏

نادیہ:‏ داؤد کو دُکھ اور مصیبتوں کا سامنا تھا لیکن اُنہیں اِس بات سے بڑی تسلی ملی کہ یہوواہ خدا اُن کی ہر ایک پریشانی سے واقف ہے۔‏ کیا آپ کو بھی اِس بات سے تسلی نہیں ملتی کہ خدا آپ کی ہر تکلیف سے واقف ہے اور آپ کی ہر پریشانی کو سمجھتا ہے حالانکہ شاید دوسرے اِنسان اِسے پوری طرح سمجھ نہیں سکتے؟‏

اِرم:‏ جی،‏ واقعی یہ بڑی تسلی کی بات ہے۔‏

نادیہ:‏ دوسری بات جو ہم خدا کے بارے میں سیکھتے ہیں،‏ یہ ہے کہ وہ دُکھ اور تکلیف کو ہمیشہ تک دُنیا میں رہنے نہیں دے گا۔‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ وہ جلد ہی شیطان کی حکمرانی کو ختم کر دے گا۔‏ اور وہ اُس تمام نقصان کو ٹھیک کر دے گا جو شیطان کی حکمرانی کی وجہ سے ہوا ہے۔‏ اِس کا مطلب ہے کہ جس تکلیف سے آپ اور آپ کی امی گزر رہی ہیں،‏ اُسے بھی ختم کِیا جائے گا۔‏ کیا مَیں اگلے ہفتے پھر سے آپ سے مل سکتی ہوں؟‏ مَیں آپ کو دِکھانا چاہتی ہوں کہ ہم اِس بات پر بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خدا بہت جلد تمام دُکھ اور تکلیف کو ختم کر دے گا۔‏ *

اِرم:‏ جی،‏ ضرور۔‏

کیا آپ پاک کلام سے متعلق کسی موضوع کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟‏ یا کیا آپ یہوواہ کے گواہوں کے عقیدوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟‏ اگر ایسا ہے تو یہوواہ کے گواہوں سے رابطہ کریں۔‏ وہ خوشی سے آپ کے سوالوں کے جواب دیں گے۔‏

^ پیراگراف 7 اِس رسالے کے اکتوبر-‏دسمبر 2013ء کے شمارے میں مضمون ”‏یہوواہ کے گواہوں سے بات‌چیت—‏کیا ہمیں تکلیف میں دیکھ کر خدا کو دُکھ ہوتا ہے؟‏“‏ کو دیکھیں۔‏ یہ رسالہ ہماری ویب‌سائٹ www.jw.org پر بھی دستیاب ہے۔‏

^ پیراگراف 17 یسعیاہ 63:‏9 کو دیکھیں۔‏