مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ آپ کو سنبھالے گا

یہوواہ آپ کو سنبھالے گا

‏”‏[‏یہوواہ]‏ اُسے بیماری کے بستر پر سنبھالے گا۔‏“‏—‏زبور 41:‏3‏۔‏

گیت:‏ 23،‏ 1

1،‏ 2.‏ بعض اوقات ہمارے ذہن میں کیا سوچ آ سکتی ہے؟‏ اِس سلسلے میں قدیم زمانے کے کچھ لوگوں کی مثالیں دیں۔‏

اگر آپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو شاید آپ نے سوچا ہو:‏ ”‏پتہ نہیں مَیں ٹھیک ہوں گا بھی یا نہیں؟‏“‏ یا شاید آپ کے گھر کا کوئی فرد یا دوست بہت بیمار ہو اور آپ نے سوچا ہو کہ ”‏پتہ نہیں اُسے اِس بیماری سے شفا ملے گی یا نہیں؟‏“‏ ایسی صورتحال میں یہ سوچ ذہن میں آ ہی جاتی ہے۔‏ مثال کے طور پر ایلیاہ اور اِلیشع کے زمانے میں رہنے والے دو بادشاہوں کے ذہن میں بھی یہ سوچ آئی تھی۔‏ ایک مرتبہ اخی‌اب اور اِیزِبل کے بیٹے بادشاہ اخزیاہ شدید بیمار ہو گئے۔‏ اُنہیں یہ فکر ستا رہی تھی کہ آیا اُنہیں ”‏اِس بیماری سے شفا ہو جائے گی یا نہیں؟‏“‏ بعد میں ملک ارام کے بادشاہ بِن‌ہدو بہت سخت بیمار ہو گئے۔‏ اُنہوں نے یہوواہ خدا سے دریافت کِیا کہ ”‏مَیں اِس بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہیں؟‏“‏—‏2-‏سلا 1:‏2؛‏ 8:‏7،‏ 8‏۔‏

2 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں خدا نے کبھی کبھار معجزانہ طور پر لوگوں کو شفا دی،‏ یہاں تک کہ کچھ مُردوں کو بھی زندہ کِیا۔‏ (‏1-‏سلا 17:‏17-‏24؛‏ 2-‏سلا 4:‏17-‏20،‏ 32-‏35‏)‏ آج‌کل بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ خدا اُنہیں اور اُن کے عزیزوں کو بھی معجزانہ طور پر شفا دے گا۔‏ لیکن کیا خدا آج بھی ایسا کرتا ہے؟‏

3-‏5.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے پاس کیا کرنے کی طاقت ہے؟‏ (‏ب)‏ ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

3 اِس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کسی کو بیماری میں مبتلا کرنے یا شفا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔‏  بائبل میں اِس کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔‏ بعض اوقات خدا نے کچھ لوگوں کو سزا دینے کے لیے اُنہیں بیماری میں مبتلا کر دیا۔‏ مثال کے طور پر اُس نے ابراہام کے زمانے میں ”‏فرعون اور اُس کے گھرانے میں سخت قسم کے امراض پھیلائے۔‏“‏ (‏پید 12:‏17‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ اِس کے علاوہ اُس نے موسیٰ کی بہن مریم کو کوڑھ کی بیماری میں مبتلا کر دیا۔‏ (‏گن 12:‏9،‏ 10؛‏ 2-‏سمو 24:‏15‏)‏ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو خبردار کِیا کہ اگر وہ اُس کے وفادار نہیں رہیں گے تو وہ اُن پر ’‏بیماریاں اور آفتیں‘‏ لائے گا۔‏ (‏اِست 28:‏58-‏61‏)‏ لیکن خدا بیماریوں کو روکنے اور اِن سے محفوظ رکھنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔‏ (‏خر 23:‏25؛‏ اِست 7:‏15‏)‏ وہ لوگوں کو شفا بھی دے سکتا ہے۔‏ ایک بار ایوب اِتنے سخت بیمار ہو گئے کہ وہ مرنا چاہتے تھے مگر خدا نے اُنہیں شفا دی۔‏—‏ایو 2:‏7؛‏ 3:‏11-‏13؛‏ 42:‏10،‏ 16‏۔‏

4 خدا کی طرح اُس کا بیٹا یسوع بھی شفا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔‏ بائبل میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے کوڑھیوں،‏ مرگی میں مبتلا لوگوں،‏ اندھوں اور مفلوجوں کو شفا دی۔‏ (‏متی 4:‏23،‏ 24 کو پڑھیں؛‏ یوح 9:‏1-‏7‏)‏ اِن معجزوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل میں یسوع مسیح تمام بیماریوں کو ختم کر دیں گے۔‏ ذرا سوچیں،‏ وہ وقت کتنا شان‌دار ہوگا جب ”‏کوئی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہوں۔‏“‏—‏یسع 33:‏24‏۔‏

5 مگر فی‌الحال اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو کیا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح ہمیں معجزانہ طور پر شفا دیں گے؟‏ اِس کے علاوہ علاج کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت ہمیں کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏

یہوواہ اپنے بندوں کو اُن کی بیماری میں سنبھالتا ہے

6.‏ بائبل میں اُن نعمتوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے جو پہلی صدی میں مسیحیوں کو ملیں؟‏

6 بائبل سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پہلی صدی میں خدا نے کچھ ممسوح مسیحیوں کو معجزے کرنے کی طاقت دی۔‏ (‏اعما 3:‏2-‏7؛‏ 9:‏36-‏42‏)‏ پاک روح کی بدولت اِن مسیحیوں کو ’‏طرح طرح کی نعمتیں‘‏ ملیں جن میں ”‏شفا دینے کی نعمت“‏ بھی شامل تھی۔‏ (‏1-‏کُر 12:‏4-‏11‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ لیکن یہ نعمت اور دیگر نعمتیں جیسے کہ فرق فرق زبانیں بولنے کی نعمت اور نبوّت کرنے کی نعمت وقت آنے پر ختم ہو گئیں۔‏ (‏1-‏کُر 13:‏8‏)‏ چونکہ آج خدا اپنے بندوں کو اِن نعمتوں سے نہیں نوازتا اِس لیے ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں یا ہمارے عزیزوں کو معجزانہ طور پر شفا ملے گی۔‏

7.‏ ہمیں زبور 41:‏3 سے کیا حوصلہ ملتا ہے؟‏

7 اگرچہ یہوواہ خدا آج‌کل شفائیں تو نہیں دیتا لیکن ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ بیماری میں مبتلا لوگوں کو تسلی،‏ حکمت اور مدد ضرور فراہم کرتا ہے۔‏ بادشاہ داؤد نے لکھا:‏ ”‏مبارک ہے وہ جو غریب کا خیال رکھتا ہے۔‏ [‏یہوواہ]‏ مصیبت کے دن اُسے چھڑائے گا۔‏ [‏یہوواہ]‏ اُسے محفوظ اور جیتا رکھے گا۔‏“‏ (‏زبور 41:‏1،‏ 2‏)‏ بِلاشُبہ اِس آیت میں داؤد یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ جو شخص غریبوں کا خیال رکھتا ہے،‏ وہ کبھی نہیں مرے گا۔‏ ظاہری بات ہے،‏ داؤد کے زمانے میں جن لوگوں نے غریبوں کا خیال رکھا،‏ وہ آخرکار مر گئے۔‏ دراصل اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا ایسے شخص کی مدد کرتا ہے۔‏ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟‏ داؤد نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اُسے بیماری کے بستر پر سنبھالے گا۔‏ تُو اُس کی بیماری میں اُس کے پورے بستر کو ٹھیک کرتا ہے۔‏“‏ (‏زبور 41:‏3‏)‏ یہوواہ خدا جانتا ہے کہ اُس کے بندے کن تکلیفوں سے گزر رہے ہیں۔‏ اور وہ اُنہیں یہ تکلیفیں سہنے کے لیے ہمت اور حکمت دے سکتا ہے۔‏ اِس کے علاوہ یہوواہ خدا نے اِنسانی جسم کو اِس طرح سے بنایا ہے کہ اِس میں خودبخود ٹھیک ہونے کی صلاحیت ہے۔‏

8.‏ زبور 41:‏4 کے مطابق داؤد نے یہوواہ خدا سے کیا دُعا مانگی؟‏

8 زبور 41 میں بادشاہ داؤد نے اُس وقت کا ذکر کِیا جب وہ شدید بیمار تھے۔‏ اِس دوران اُنہیں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔‏ اُن کے بیٹے ابی‌سلوم اُن کے تخت پر قبضہ جمانے کی کوشش میں لگے تھے۔‏ داؤد جسمانی طور پر اِتنے کمزور ہو گئے تھے کہ اُن میں ابی‌سلوم کو روکنے کی طاقت نہیں تھی۔‏ وہ جانتے تھے کہ اُن کے گھر میں اِتنے زیادہ مسئلے اِس لیے ہیں کیونکہ اُنہوں نے بت‌سبع کے ساتھ گُناہ کِیا تھا۔‏ (‏2-‏سمو 12:‏7-‏14‏)‏ اِس لیے اُنہوں نے دُعا کی:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ مجھ پر رحم کر۔‏  میری جان کو شفا دے کیونکہ مَیں تیرا گنہگار ہوں۔‏“‏ (‏زبور 41:‏4‏)‏ داؤد کو پورا یقین تھا کہ یہوواہ خدا نے اُنہیں معاف کر دیا ہے اِس لیے اُنہوں نے بیماری میں اُس پر آس لگائی۔‏ لیکن کیا داؤد یہ چاہتے تھے کہ یہوواہ خدا اُنہیں معجزانہ طور پر ٹھیک کر دے؟‏

9.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا نے بادشاہ حِزقیاہ کے لیے کیا کِیا؟‏ (‏ب)‏ داؤد کیا چاہتے تھے؟‏

9 بِلاشُبہ خدا نے کبھی کبھار لوگوں کو شفا بھی دی۔‏ مثال کے طور پر جب بادشاہ حِزقیاہ ’‏ایسے بیمار پڑے کہ مرنے کے قریب ہو گئے‘‏ تو یہوواہ خدا نے اُنہیں صحت‌یاب کر دیا۔‏ اِس کے بعد حِزقیاہ 15 سال اَور زندہ رہے۔‏ (‏2-‏سلا 20:‏1-‏6‏)‏ لیکن داؤد نے خدا سے یہ دُعا نہیں کی کہ وہ اُنہیں معجزانہ طور پر شفا دے۔‏ زبور 41 کے سیاق‌وسباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ داؤد یہ درخواست کر رہے تھے کہ یہوواہ خدا اُنہیں ”‏بیماری کے بستر پر سنبھالے“‏ اور اُن کی اُس طرح مدد کرے جس طرح وہ اُس شخص کی مدد کرتا ہے ”‏جو غریب کا خیال رکھتا ہے۔‏“‏ چونکہ یہوواہ نے داؤد کا گُناہ معاف کر دیا تھا اِس لیے داؤد نے یہوواہ سے یہ درخواست کی کہ وہ اُنہیں تسلی دے اور اُن کے جسم میں خودبخود ٹھیک ہونے کی جو صلاحیت موجود ہے،‏ اُس کی بدولت اُن کی صحت بحال ہو جائے۔‏ (‏زبور 103:‏3‏)‏ ہم بھی یہوواہ خدا سے ایسی ہی دُعا کر سکتے ہیں۔‏

10.‏ ترفمس اور اِپَفردِتُس کے ساتھ کیا ہوا اور اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

10 داؤد کی طرح پہلی صدی میں بھی بہت سے مسیحی معجزانہ طور پر شفایاب نہیں ہوئے تھے۔‏ ہم جانتے ہیں کہ پولُس رسول کو معجزے کرنے کی طاقت دی گئی تھی۔‏ ‏(‏اعمال 14:‏8-‏10 کو پڑھیں۔‏)‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے پُبلیُس کے باپ کو شفا دی جو ’‏بخار اور پیچش کی وجہ سے بیمار پڑے تھے۔‏‘‏ پولُس رسول نے ’‏اُن کے پاس جا کر دُعا کی اور اُن پر ہاتھ رکھ کر شفا دی۔‏‘‏ (‏اعما 28:‏8‏)‏ لیکن اُنہوں نے ترفمس کو شفا نہیں دی جو اُن کے ساتھ مختلف علاقوں میں مُنادی کا کام کر رہے تھے۔‏ (‏اعما 20:‏3-‏5،‏ 22؛‏ 21:‏29‏)‏ جب ترفمس بیمار ہونے کی وجہ سے پولُس کے ساتھ مُنادی کا کام جاری نہ رکھ سکے تو پولُس نے اُنہیں شفا دینے کی بجائے میلیتُس میں رہنے دیا تاکہ وہاں اُن کی صحت بہتر ہو سکے۔‏ (‏2-‏تیم 4:‏20‏)‏ اِسی طرح جب اِپَفردِتُس ’‏بیماری سے مرنے کو تھے‘‏ تو بائبل میں کہیں بھی یہ اِشارہ نہیں ملتا کہ پولُس رسول نے اپنے اِس دوست کو معجزانہ طور پر شفا دی تھی۔‏—‏فل 2:‏25-‏27،‏ 30‏۔‏

مشورے پر عمل کرنے سے پہلے سوچیں

11،‏ 12.‏ ہم لُوقا کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور غالباً اُنہوں نے پولُس رسول کی کس طرح سے مدد کی ہوگی؟‏

11 لُوقا ایک معالج تھے اور اُنہوں نے پولُس کے ساتھ مختلف علاقوں میں مُنادی کی۔‏ (‏کُل 4:‏14؛‏ اعما 16:‏10-‏12؛‏ 20:‏5،‏ 6‏)‏ اِس دوران جب پولُس اور اُن کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر بھائی بیمار ہوئے ہوں گے تو لُوقا نے یقیناً علاج کے سلسلے میں اُن کی مدد کی ہوگی۔‏ (‏گل 4:‏13‏)‏ لُوقا نے جو کچھ کِیا،‏ وہ یسوع مسیح کے اِن الفاظ کے مطابق تھا:‏ ”‏تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں بلکہ بیماروں کو۔‏“‏—‏لُو 5:‏31‏۔‏

12 لُوقا علاج کے سلسلے میں ایسے ہی مشورے نہیں دے دیتے تھے بلکہ وہ پیشہ‌ور معالج تھے۔‏ بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لُوقا نے کب اور کہاں سے معالج کے طور پر تربیت حاصل کی تھی۔‏ لیکن اِس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پولُس نے کُلسّیوں کی کلیسیا کو لُوقا کی طرف سے سلام بھیجا۔‏ اِس سے لگتا ہے کہ لُوقا نے شہر لودیکیہ کے ایک مشہور میڈیکل سکول سے تربیت حاصل کی تھی جو کہ کُلسّے کے قریب واقع تھا۔‏ اِس کے علاوہ لُوقا نے اِنجیل اور اعمال کی کتاب لکھتے وقت ایسی طبّی اِصطلاحیں اِستعمال کیں جو صرف معالج ہی اِستعمال کرتے ہیں۔‏ معالج ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے اِنجیل میں بہت سے ایسے واقعات درج کیے جن میں یسوع مسیح نے لوگوں کو شفا دی۔‏

13.‏ علاج کے سلسلے میں کسی کو مشورہ دینے سے پہلے یا مشورے پر عمل کرنے سے پہلے ہمیں کیا ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏

13 پہلی صدی کے مسیحیوں کی طرح ہمیں شفا دینے کی نعمت نہیں ملی ہے۔‏ لیکن کچھ بہن بھائی دوسروں کی مدد کرنے کی نیت سے اُنہیں صحت یا علاج کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں۔‏ بِلاشُبہ کچھ مشورے فائدہ‌مند ثابت ہوتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر پولُس رسول نے تیمُتھیُس  کو صحت کے حوالے سے مفید مشورہ دیا۔‏ چونکہ تیمُتھیُس کا پیٹ خراب رہتا تھا اِس لیے پولُس نے اُن سے کہا کہ وہ صرف پانی نہ پیا کریں بلکہ تھوڑی سی مے بھی پیا کریں۔‏ شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ جہاں تیمُتھیُس رہ رہے تھے،‏ وہاں کا پانی آلودہ تھا۔‏ * ‏(‏1-‏تیمُتھیُس 5:‏23 کو پڑھیں۔‏)‏ دوسروں کو مشورہ دیتے وقت ہمیں محتاط رہنا چاہیے اور اُن پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔‏ ہو سکتا ہے کہ ایک بھائی یا بہن دوسروں کو کوئی خاص قسم کی دوا،‏ غذا یا جڑی‌بوٹی کھانے پر زور دے۔‏ شاید ایسا کرتے وقت وہ کہے:‏ ”‏میرے کزن کو بھی یہی بیماری تھی اور اُس نے یہ دوائی اِستعمال کی۔‏ اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔‏“‏ اگر کوئی ہمارے بھلے کے لیے بھی ہمیں کوئی مشورہ دیتا ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ فلاں دوائی یا علاج سے ہمیں بھی اُتنا ہی فائدہ ہو۔‏ اِس کے علاوہ اُس دوائی یا علاج سے ہمیں نقصان بھی پہنچ سکتا ہے،‏ چاہے یہ کتنا ہی عام کیوں نہ ہو۔‏‏—‏امثال 27:‏12 کو پڑھیں۔‏

سمجھ‌داری سے کام لیں

14،‏ 15.‏ ‏(‏الف)‏ بعض لوگ دوسروں کی بیماری کا کیا فائدہ اُٹھاتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم علاج کے سلسلے میں امثال 14:‏15 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

14 ہم سب صحت‌مند رہنا چاہتے ہیں تاکہ ہم زندگی سے لطف اُٹھا سکیں اور خدا کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔‏ لیکن چونکہ ہم عیب‌دار ہیں اِس لیے ہم بیماریوں سے بچ نہیں سکتے۔‏ جب ہم کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو شاید اُس بیماری کے کئی علاج دستیاب ہوں۔‏ ہمیں اِن میں سے کسی بھی علاج کا اِنتخاب کرنے کا پورا حق ہے۔‏ افسوس کی بات ہے کہ کچھ لالچی لوگ پیسہ ٹھگنے کے لیے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فلاں بیماری کا علاج کر سکتے ہیں۔‏ شاید وہ ایسی من‌گھڑت باتیں کہیں کہ بہت سے لوگ اُن کے طریقۂ‌علاج کو اپنانے سے بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں۔‏ بعض لوگ یا دوائی والی کمپنیاں مہنگی دوائیاں اِستعمال کرنے پر زور دیتی ہے تاکہ اُنہیں زیادہ منافع ہو۔‏ شاید ایک بیمار شخص کو ایسی باتیں بہت بھائیں کیونکہ وہ اپنی بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی بھی علاج آزمانے کو تیار ہوتا ہے۔‏ لیکن ہمیں بائبل میں درج اِس نصیحت کو یاد رکھنا چاہیے:‏ ”‏نادان ہر بات کا یقین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روِش کو دیکھتا بھالتا ہے۔‏“‏—‏امثا 14:‏15‏۔‏

15 اگر ہم ہوشیار اور سمجھ‌دار ہیں تو ہم بِلاسوچے سمجھے ہر کسی کی بات کا یقین نہیں کریں گے،‏ خاص طور پر اُس صورت میں جب مشورہ دینے والے نے کسی بیماری کے علاج کے سلسلے میں تربیت حاصل نہیں کی۔‏ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏اُس نے کہا تھا کہ اِس وِٹامن،‏ جڑی‌بوٹی یا خوراک سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔‏ لیکن اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اِن لوگوں کو واقعی فائدہ ہوا ہے؟‏ اور اگر اِنہیں فائدہ ہوا بھی ہے تو کیا ضروری ہے کہ مجھے بھی فائدہ ہو؟‏ کیا مجھے اِس بات پر اَور تحقیق کرنی چاہیے یا کسی ایسے شخص سے صلاح مشورہ لینا چاہیے جس نے میری بیماری کے علاج کے حوالے سے تربیت حاصل کی ہے؟‏“‏—‏اِست 17:‏6‏۔‏

16.‏ علاج کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت کن سوالوں پر غور کرنا سمجھ‌داری کی بات ہوگی؟‏

16 خدا کے کلام میں ہمیں نصیحت کی گئی ہے کہ ’‏اِس زمانے میں سمجھ‌داری اور نیکی سے زندگی گزاریں۔‏‘‏ (‏طط 2:‏12‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ جب ہم کوئی ٹیسٹ یا علاج کرانے کے سلسلے میں فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں ”‏سمجھ‌داری“‏ سے کام لینا چاہیے۔‏ ایسا کرنا اُس صورت میں اَور بھی لازمی ہوتا ہے جب کوئی ٹیسٹ یا علاج عجیب لگتا ہے۔‏ جب ایک شخص ہمیں کوئی علاج کرانے کا مشورہ دیتا ہے تو اُس سے پوچھیں کہ اِس علاج سے کیسے فائدہ پہنچتا ہے؟‏ اِس سلسلے میں وہ جو وضاحت پیش کرتا ہے،‏ کیا وہ سننے میں عجیب لگتی ہے؟‏ کیا بہت سے ڈاکٹر اِس بات پر متفق ہیں کہ اِس علاج سے بیماری دُور ہو سکتی ہے؟‏ (‏امثا 22:‏29‏)‏ شاید کچھ لوگ کہیں کہ فلاں علاج کسی دُوردراز علاقے میں دریافت ہوا ہے اور ابھی بہت سے ڈاکٹر اِس سے واقف نہیں ہیں۔‏ لیکن کیا اِس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ علاج مؤثر ہے؟‏ بعض لوگ تو شاید تعویذ گنڈوں سے علاج کرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔‏ لیکن ایسے علاج خطرے سے خالی نہیں ہوتے۔‏ خدا کے کلام میں ہمیں جادومنتر سے خبردار کِیا گیا ہے۔‏—‏احبا 19:‏26؛‏ اِست 18:‏10-‏12‏۔‏

 ‏’‏سلامت رہیں‘‏

17.‏ ہماری کیا خواہش ہے؟‏

17 پہلی صدی میں گورننگ باڈی نے کلیسیاؤں کو ایک خط بھیجا جس میں ایسی باتوں کا ذکر کِیا گیا جن سے مسیحیوں کو گریز کرنا چاہیے۔‏ خط کے آخر میں گورننگ باڈی نے لکھا:‏ ”‏اگر تُم اِن چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو گے تو سلامت رہو گے۔‏ والسلام۔‏“‏ (‏اعما 15:‏29‏)‏ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏والسلام“‏ کِیا گیا ہے وہ صحت کی سلامتی کے معنی رکھتا ہے۔‏ بِلاشُبہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صحت سلامت رہے تاکہ ہم یہوواہ خدا کی خدمت کر سکیں۔‏

ہم صحت‌مند رہنا چاہتے ہیں تاکہ ہم خدا کی خدمت کر سکیں۔‏ (‏پیراگراف 17 کو دیکھیں۔‏)‏

18،‏ 19.‏ ہم کس بات کے منتظر ہیں؟‏

18 جب تک ہم عیب‌دار ہیں تب تک ہمیں بیماری کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔‏ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ہمیں اِس بات کی توقع نہیں کرنی چاہیے کہ یہوواہ خدا ہمیں معجزانہ طور پر شفا دے۔‏ لیکن مکاشفہ 22:‏1،‏ 2 میں اُس وقت کا ذکر کِیا گیا ہے جب ہمیں بیماریوں سے مکمل طور پر شفا مل جائے گی۔‏ یوحنا رسول نے رویا میں ”‏آبِ‌حیات کا ایک دریا“‏ اور ’‏زندگی کے درخت‘‏ دیکھے۔‏ اِن درختوں کے ”‏پتوں سے قوموں کو شفا“‏ ملے گی۔‏ یہ ’‏پتے‘‏ ایسی جڑی‌بوٹیوں کی طرف اِشارہ نہیں کرتے جن سے ہم اب شفا حاصل کر سکتے ہیں یا نئی دُنیا میں شفا حاصل کریں گے۔‏ اِس کی بجائے یہ اُس بندوبست کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جو یہوواہ خدا یسوع مسیح کے ذریعے ہمارے لیے کرے گا تاکہ ہم ہمیشہ تک زندہ رہ سکیں۔‏—‏یسع 35:‏5،‏ 6‏۔‏

19 ہم اُس وقت کے منتظر ہیں۔‏ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا تب تک ہم اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کو ہم میں سے ہر ایک کی فکر ہے اور وہ ہماری تکلیفوں کو سمجھتا ہے۔‏ اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو داؤد کی طرح ہم بھی پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہمیں نہیں چھوڑے گا۔‏ ہم بھی داؤد کی طرح یہ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏مجھے تو تُو ہی میری راستی میں قیام بخشتا ہے اور مجھے ہمیشہ اپنے حضور قائم رکھتا ہے۔‏“‏—‏زبور 41:‏12‏۔‏

^ پیراگراف 13 مے کی قدیم تاریخ اور اِس کی شروعات کے بارے میں ایک کتاب میں لکھا ہے:‏ ”‏تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر ٹائیفائیڈ کے جراثیموں یا دیگر خطرناک جراثیموں کو مے میں شامل کِیا جائے تو یہ جلد ہلاک ہو جاتے ہیں۔‏“‏