مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 آپ‌بیتی

مَیں یہوواہ خدا اور اپنی امی کے قریب آ گئی ہوں

مَیں یہوواہ خدا اور اپنی امی کے قریب آ گئی ہوں

میری امی نے مجھ سے کہا:‏ ”‏تُم اپنے باپ‌دادا کی پرستش کیوں نہیں کرو گی؟‏ تمہیں ذرا بھی احساس نہیں کہ آج ہم اِس دُنیا میں اُن ہی کی وجہ سے ہیں۔‏ کیا تمہارے دل میں اُن کے لیے کوئی عزت نہیں؟‏ تُم اُن رسموں رواجوں کو کیسے چھوڑ سکتی ہو جو صدیوں سے چلے آ رہے ہیں؟‏ اپنے باپ‌دادا کا احترام نہ کرنے سے تُم یہ ظاہر کر رہی ہو کہ ہم سب بےوقوف ہیں جو ایسا کر رہے ہیں۔‏“‏ یہ کہہ کر میری امی رونے لگیں۔‏

دراصل کچھ مہینے پہلے یہوواہ کے گواہوں نے میری امی کو بائبل کورس کی پیشکش کی تھی۔‏ امی یہ کورس نہیں کرنا چاہتی تھیں۔‏ لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ اُن کا اِنکار یہوواہ کے گواہوں کو بُرا لگے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اُن سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو مجھے یہ کورس کرا سکتے ہیں۔‏ لیکن اب وہ اِس بات پر غصہ تھیں کہ مَیں اپنے مذہب سے دُور ہو رہی ہوں۔‏ مَیں اپنی امی کی ہر بات مانتی تھی۔‏ لیکن مَیں یہوواہ کو خوش کرنا چاہتی تھی اِس لیے مَیں اُن کی یہ بات نہیں مان سکتی تھی کہ مَیں اپنے باپ‌دادا کی پرستش کروں۔‏ میرے لیے ایسا کرنا آسان تو نہیں تھا لیکن یہوواہ کی مدد سے مَیں ایسا کر پائی۔‏

یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھنا

جاپان میں زیادہ‌تر لوگوں کی طرح ہم بھی بدھ‌مت مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔‏ لیکن یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ صرف دو مہینے بائبل کورس کرنے کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ بائبل سچی کتاب ہے۔‏ جب مجھے پتہ چلا کہ میرا ایک آسمانی باپ بھی ہے تو میرے دل میں اُسے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی۔‏ شروع شروع میں جب مَیں امی کو بتاتی تھی کہ مَیں کیا سیکھ رہی ہوں تو وہ بڑی خوشی سے سنتی تھیں۔‏ مَیں ہر اِتوار کو کنگڈم ہال جایا کرتی تھی۔‏ مَیں نے بائبل سے بہت سی باتیں سیکھ لی تھیں اِس لیے مَیں نے امی سے کہا کہ اب مَیں بدھ‌متوں کے رسم‌ورواج نہیں مناؤں گی۔‏ اُن کا رویہ ایک دم بدل گیا۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ ہمارے لیے بڑے شرم کی بات ہے کہ ہمارے گھر کا ایک فرد ہمارے باپ‌دادا کی عزت نہیں کرتا۔‏“‏ اُنہوں نے اِصرار کِیا کہ مَیں بائبل کورس کرنا اور اِجلاسوں پر جانا چھوڑ دوں۔‏ مَیں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ امی ایسا کہیں گی۔‏ وہ بالکل بدل گئی تھیں۔‏

ابو نے بھی امی کا ساتھ دیا۔‏ مَیں نے اِفسیوں 6 باب سے سیکھا تھا کہ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ مَیں اپنے والدین کا کہنا مانوں۔‏ اِس لیے مَیں نے سوچا کہ مجھے اُن کی بات مان لینی چاہیے۔‏ یوں وہ میری بات بھی مانیں گے اور گھر کا ماحول بھی ٹھیک ہو جائے گا۔‏ اِس کے علاوہ میرے کالج کے اِمتحان بھی سر پر تھے اور مجھے اُن کی تیاری کرنے کے لیے وقت کی ضرورت تھی۔‏ اِس لیے مَیں تین مہینے تک اپنے امی ابو کی یہ بات ماننے کو تیار ہو گئی کہ مَیں اِجلاسوں پر نہ جاؤں۔‏ لیکن مَیں نے یہوواہ خدا سے وعدہ کِیا کہ جیسے ہی یہ تین مہینے گزر جائیں گے،‏ مَیں پھر سے اِجلاسوں پر جانا شروع کر دوں گی۔‏

مَیں نے جو فیصلہ کِیا،‏ وہ دو لحاظ سے غلط ثابت ہوا۔‏ مَیں نے سوچا تھا کہ اِن تین مہینوں میں میرے دل سے یہوواہ کے لیے محبت کم نہیں ہوگی۔‏ لیکن جلد ہی یہوواہ خدا کے ساتھ میرا رشتہ کمزور ہونے لگا۔‏ اِس کے علاوہ مَیں نے سوچا تھا کہ اگر مَیں امی ابو کی بات مانوں گی تو وہ بھی میری بات ماننے کو تیار ہو جائیں گے۔‏  لیکن وہ تو مجھ پر پہلے سے بھی زیادہ دباؤ ڈالنے لگے کہ مَیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دوں۔‏

مخالفت اور مدد

کنگڈم ہال میں مَیں بہت سے ایسے گواہوں سے ملی جن کے گھر والے اُن کی مخالفت کرتے تھے۔‏ اُنہوں نے مجھے یقین دِلایا کہ یہوواہ خدا مجھے مخالفت کو برداشت کرنے کی طاقت دے گا۔‏ (‏متی 10:‏34-‏37‏)‏ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اگر مَیں یہوواہ کی وفادار رہوں گی تو میرے گھر والے بھی اُس کے بارے میں سیکھ پائیں گے۔‏ مَیں دل کھول کر یہوواہ سے اِلتجائیں کرنے لگی تاکہ اُس پر میرا بھروسا مضبوط ہو۔‏

میرے والدین نے طرح طرح سے میری مخالفت کی۔‏ میری امی میری بڑی منتیں کرتی تھیں اور مجھے سمجھانے کی بہت کوششیں کرتی تھیں۔‏ کئی دفعہ تو مَیں بس چپ کر کے اُن کی باتیں سنتی رہتی تھی۔‏ لیکن جب کبھی مَیں بات کرتی تو اکثر ہم اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بحث کرنے لگتے۔‏ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ اگر مَیں امی کے احساسات اور عقیدوں کے لیے تھوڑا اَور احترام دِکھاتی تو ہمارا اِتنا جھگڑا نہ ہوتا۔‏ امی ابو مجھے گھر کا بہت سا کام‌کاج دے دیتے تھے تاکہ مَیں گھر سے زیادہ باہر نہ جاؤں۔‏ اور جب مَیں مُنادی یا اِجلاسوں کے لیے جاتی تھی تو کبھی کبھار وہ مجھے گھر میں آنے ہی نہیں دیتے تھے یا کھانا نہیں دیتے تھے۔‏

میری امی نے دوسروں کو بھی کہا کہ وہ مجھے سمجھائیں۔‏ اُنہوں نے میرے ٹیچر سے بات کی جنہوں نے ہم دونوں میں سے کسی کی سائیڈ نہیں لی۔‏ امی مجھے اپنے کام کی جگہ پر بھی لے گئیں تاکہ اُن کا مینیجر مجھے سمجھائے کہ کسی بھی مذہب پر چلنے کا فائدہ نہیں۔‏ امی نے تو بہت سے رشتےداروں کو بھی فون کِیا اور رو رو کر اُن سے کہا کہ وہ مجھے سمجھائیں۔‏ اِن سب باتوں کی وجہ سے مَیں بہت پریشان ہو گئی۔‏ لیکن جب مَیں اِجلاسوں پر جاتی تھی تو بزرگ مجھ سے کہتے تھے کہ ”‏جب آپ کی امی دوسروں سے بات کرتی ہیں تو ایک طرح سے وہ اُن کو گواہی دے رہی ہوتی ہیں۔‏“‏

 میرے امی ابو چاہتے تھے کہ مَیں یونیورسٹی جاؤں تاکہ مجھے اچھی نوکری مل سکے۔‏ اِس معاملے پر بات کرتے وقت ہم تینوں ہی غصے میں آ جاتے تھے۔‏ اِس لیے مَیں نے اُنہیں کئی خط لکھے جن میں مَیں نے اُنہیں بتایا کہ مَیں کیا کرنا چاہتی ہوں۔‏ اِس بات سے ابو بہت طیش میں آ گئے اور مجھ سے کہا:‏ ”‏اگر تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں نوکری مل جائے گی تو کل تک ڈھونڈ لو ورنہ اِس گھر سے نکل جاؤ۔‏“‏ مَیں نے اِس بارے میں یہوواہ سے دُعا کی۔‏ اگلے دن جب میں مُنادی کر رہی تھی تو دو بہنوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں اُن کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاؤں۔‏ میرے ابو اِس نوکری اِس سے خوش نہیں تھے اِس لیے اُنہوں نے مجھ سے بات کرنا بالکل چھوڑ دی۔‏ یہاں تک کہ وہ مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔‏ امی نے مجھ سے کہا کہ ”‏یہوواہ کا گواہ بننے سے تو اچھا تھا کہ تُم چور ڈاکو بن جاتی۔‏“‏

یہوواہ خدا نے درست سوچ اپنانے اور صحیح فیصلے کرنے میں میری مدد کی۔‏

کبھی کبھار تو مَیں سوچتی تھی کہ کیا یہوواہ خدا واقعی چاہتا ہے کہ مَیں اِس حد تک اپنے ماں باپ کے خلاف جاؤں۔‏ لیکن مَیں نے یہوواہ سے بہت دُعا کی اور کئی بار اُن آیتوں پر غور کِیا جو اُس کی محبت کی خوبی کو ظاہر کرتی ہیں۔‏ یوں مَیں سمجھ گئی کہ مجھے بےحوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔‏ مَیں یہ بھی سمجھ پائی کہ میرے امی ابو اِس لیے میری مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں میری فکر ہے۔‏ یہوواہ خدا نے درست سوچ اپنانے اور صحیح فیصلے کرنے میں میری مدد کی۔‏ مجھے مُنادی کے کام سے بڑی خوشی ملتی تھی اِس لیے مَیں نے پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏

پہل‌کار کے طور پر خدمت

جب کچھ بہنوں نے سنا کہ مَیں پہل‌کار بننا چاہتی ہوں تو اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے اُس وقت تک پہل‌کار نہیں بننا چاہیے جب تک میرے امی ابو کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔‏ مَیں نے اِس سلسلے میں یہوواہ خدا سے حکمت مانگی،‏ ہماری کتابوں اور رسالوں میں سے تحقیق کی اور پُختہ مسیحیوں سے بات کی۔‏ مَیں نے اِس بات پر بھی غور کِیا کہ مَیں پہل‌کار کیوں بننا چاہتی ہوں۔‏ مَیں نے دیکھا کہ مَیں یہوواہ خدا کو خوش کرنے کے لیے ایسا کرنا چاہتی ہوں۔‏ اِس کے علاوہ مَیں نے سوچا کہ اگر مَیں پہل‌کار بننے کے لیے کچھ عرصہ اِنتظار کرتی بھی ہوں تو اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ میرے امی ابو کا رویہ بدل جائے گا۔‏

جب کالج میں میرا آخری سال تھا تو مَیں نے پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنا شروع کی۔‏ کچھ عرصے بعد میرے دل میں کسی ایسے علاقے میں جا کر خدمت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جہاں مبشروں کی تعداد کم ہے۔‏ لیکن امی ابو نہیں چاہتے تھے کہ مَیں کہیں دُور جاؤں۔‏ اِس لیے مَیں نے 20 سال کی عمر تک اِنتظار کِیا۔‏ پھر امی کی تسلی کے لیے مَیں نے برانچ سے جنوبی جاپان کے اُس علاقے میں خدمت کرنے کی اِجازت مانگی جہاں ہمارے رشتےدار رہتے تھے۔‏

اُس علاقے میں خدمت کر کے مجھے بڑی خوشی ملی کیونکہ جن لوگوں کو مَیں نے بائبل سے تعلیم دی،‏ اُن میں سے کئی نے بپتسمہ لے لیا۔‏ اِس عرصے میں مَیں نے انگریزی بھی سیکھی تاکہ مَیں یہوواہ خدا کی خدمت میں اَور بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکوں۔‏ مَیں جس کلیسیا میں تھی،‏ وہاں دو بھائی خصوصی پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرتے تھے۔‏ اُن دونوں بھائیوں میں مُنادی کرنے اور دوسروں کی خدمت کرنے کا بڑا جذبہ تھا۔‏ اُن کا جذبہ دیکھ کر میرے دل میں بھی خصوصی پہل‌کار بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔‏ اِس دوران امی دو بار بہت سخت بیمار ہو گئیں۔‏ دونوں بار مَیں اُن کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے گھر گئی جس پر وہ بہت خوش ہوئیں اور اُن کے رویے میں تھوڑی نرمی آ گئی۔‏

ڈھیروں ڈھیر برکتیں

جن دو خصوصی پہل‌کار بھائیوں کا مَیں نے پہلے ذکر کِیا،‏ اُن میں سے ایک کا نام آتسوشی تھا۔‏ سات سال بعد مجھے آتسوشی کی طرف سے ایک خط ملا جس میں اُنہوں نے مجھ سے شادی کی خواہش کا اِظہار کِیا۔‏ مَیں نے آتسوشی کے لیے کبھی محبت بھرے جذبات محسوس نہیں کیے تھے اور پتہ نہیں،‏ اُن کے دل میں میرے لیے چاہت کب پیدا ہوئی۔‏ مَیں نے ایک مہینے تک اِس بارے میں کافی سوچا۔‏ اور پھر مَیں اِس بات پر راضی ہو گئی کہ ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر جانیں۔‏ ہم نے دیکھا کہ ہم دونوں کی پسند ناپسند کافی ملتی جلتی ہے۔‏ اِس کے علاوہ ہم دونوں ہی کُلوقتی خدمت جاری رکھنا چاہتے تھے اور تنظیم کی طرف سے ملنے والی کسی بھی ذمےداری کو نبھانے کے لیے تیار تھے۔‏ کچھ عرصے بعد ہم نے شادی کر لی۔‏ مجھے اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ شادی میں میرے امی ابو اور کئی رشتےدار بھی آئے۔‏

نیپال

 شادی کے بعد ہم دونوں پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرنے لگے۔‏ کچھ عرصے بعد آتسوشی سے کہا گیا کہ وہ وقتاًفوقتاً حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کریں۔‏ پھر کچھ عرصے بعد ہم خصوصی پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرنے لگے اور بعد میں آتسوشی کو کُلوقتی طور پر حلقے کا نگہبان مقرر کِیا گیا۔‏ جب ہم نے اپنے حلقے کی تمام کلیسیاؤں کا ایک بار دورہ کر لیا تو ہمیں برانچ کی طرف سے فون آیا۔‏ اُنہوں نے آتسوشی سے پوچھا کہ کیا وہ نیپال میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کر سکتے ہیں۔‏

مختلف ملکوں میں خدمت کرتے وقت مَیں نے یہوواہ خدا کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‏

مَیں سوچ رہی تھی کہ جب امی ابو کو پتہ چلے گا کہ مَیں اِتنی دُور جا رہی ہوں تو اُنہیں کیسا محسوس ہوگا۔‏ اِس لیے مَیں نے اُنہیں فون کِیا۔‏ ابو نے مجھ سے کہا:‏ ”‏نیپال تو بہت اچھی جگہ ہے۔‏“‏ ایک ہفتہ پہلے ابو کے ایک دوست نے اُنہیں نیپال کے بارے میں ایک کتاب دی تھی اور ابو وہاں گھومنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔‏

نیپال کے لوگ بہت ملنسار ہیں اِس لیے وہاں ہمارا دل لگ گیا۔‏ بعد میں ہمارے حلقے میں بنگلہ‌دیش کی کلیسیاؤں کو بھی شامل کر دیا گیا۔‏ اگرچہ بنگلہ‌دیش،‏ نیپال کے قریب ہے لیکن وہاں کی ثقافت اور رسم‌ورواج بالکل فرق ہیں۔‏ اِس لیے ہماری ملاقات طرح طرح کے لوگوں سے ہوئی۔‏ پانچ سال بعد ہمیں دوبارہ جاپان جانے کو کہا گیا جہاں آتسوشی حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرتے رہے۔‏

جاپان،‏ نیپال اور بنگلہ‌دیش میں خدمت کرتے وقت مَیں نے یہوواہ خدا کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔‏ اِن ملکوں میں رہنے والے لوگوں کی ثقافت،‏ طورطریقے اور رسم‌ورواج ایک دوسرے سے بالکل فرق ہیں،‏ یہاں تک کہ ایک ملک کے لوگ بھی ایک دوسرے سے فرق ہیں۔‏ مَیں نے دیکھا کہ یہوواہ خدا ہر شخص کی فکر رکھتا ہے،‏ اُسے قبول کرتا ہے،‏ اُس کی مدد کرتا ہے اور اُسے برکت دیتا ہے۔‏

یہوواہ خدا نے مجھے اِتنی برکتیں دی ہیں کہ مَیں اُس کا جتنا بھی شکر ادا کروں،‏ کم ہے۔‏ اُس نے مجھے موقع دیا کہ مَیں اُسے جان سکوں اور اُس کی خدمت کر سکوں۔‏ اُس نے مجھے بہت اچھا شوہر بھی دیا ہے۔‏ اُس نے اچھے فیصلے کرنے میں میری مدد کی ہے۔‏ اب امی ابو کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے ہو گئے ہیں۔‏ مَیں یہوواہ کی بہت شکرگزار ہوں کہ مَیں اُس کے اور اپنی امی دونوں کے قریب آ گئی ہوں۔‏

جب ہم کلیسیاؤں کا دورہ کرتے ہیں تو ہمیں بہت خوشی ملتی ہے۔‏