مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ کی ذات محبت ہے

یہوواہ کی ذات محبت ہے

‏”‏خدا محبت ہے۔‏“‏—‏1-‏یوح 4:‏8،‏ 16‏۔‏

گیت:‏ 18،‏ 51

1.‏ ‏(‏الف)‏ خدا کی سب سے نمایاں خوبی کون سی ہے؟‏ (‏ب)‏ خدا کی ذات کے بارے میں جان کر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏خدا محبت ہے۔‏“‏ اِس میں صرف یہ نہیں بتایا گیا کہ محبت خدا کی شان‌دار خوبیوں میں سے ایک ہے۔‏ (‏1-‏یوح 4:‏8‏)‏ دراصل محبت خدا کی سب سے اہم اور نمایاں خوبی ہے۔‏ محبت خدا کی ذات کا محض حصہ نہیں ہے بلکہ اُس کی ذات ہی محبت ہے۔‏ ہمیں یہ جان کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ کائنات اور تمام جان‌داروں کا خالق اِتنا محبت کرنے والا خدا ہے۔‏ اُس کے ہر کام سے اُس کی محبت نظر آتی ہے۔‏

2.‏ خدا کی محبت سے ہمیں کس بات کا یقین ہوتا ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

2 خدا کو اِنسانوں سے بہت محبت ہے۔‏ اِس لیے ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ اِنسانوں کے لیے اُس کا مقصد ضرور پورا ہوگا۔‏ اور جس طرح سے وہ اپنا مقصد پورا کرے گا،‏ اُس سے وفادار  اِنسانوں کو ڈھیروں خوشیاں ملیں گی۔‏ محبت کی بِنا پر یہوواہ خدا نے ”‏ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت اُس آدمی کی معرفت کرے گا جسے اُس نے مقرر کِیا ہے۔‏“‏ (‏اعما 17:‏31‏)‏ ہمیں پورا یقین ہے کہ یسوع مسیح اِس دُنیا کی عدالت ضرور کریں گے۔‏ جو لوگ وفادار ثابت ہوں گے،‏ اُن کا مستقبل روشن ہوگا اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏

تاریخ سے کیا ثابت ہو چُکا ہے؟‏

3.‏ اگر خدا کو اِنسانوں سے محبت نہ ہوتی تو ہمارا مستقبل کیسا ہوتا؟‏

3 ذرا سوچیں،‏ اگر خدا کو ہم سے محبت نہ ہوتی تو ہمارا مستقبل کیسا ہوتا؟‏ پھر تو زمین پر اُن اِنسانوں کی حکمرانی چلتی رہتی جو اِس دُنیا کے ظالم اور وحشی خدا یعنی شیطان کے قبضے میں ہیں۔‏ (‏2-‏کُر 4:‏4؛‏ 1-‏یوح 5:‏19؛‏ مکاشفہ 12:‏9،‏ 12 کو پڑھیں۔‏‏)‏ واقعی اگر خدا نے ہمارے لیے محبت ظاہر نہ کی ہوتی تو ہمارا مستقبل بہت ہی ہول‌ناک ہوتا!‏

4.‏ یہوواہ خدا نے شیطان کی بغاوت کا سر فوراً کیوں نہیں کچلا؟‏

4 جب شیطان نے خدا کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کی تو اُس نے آدم اور حوا کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔‏ شیطان نے دعویٰ کِیا کہ خدا حکمرانی کرنے کا حق نہیں رکھتا۔‏ اُس نے تو یہ دعویٰ بھی کِیا کہ اُس کی حکمرانی خدا کی حکمرانی سے بہتر ثابت ہوگی۔‏ (‏پید 3:‏1-‏5‏)‏ یہوواہ خدا نے شیطان کو دُنیا کا حاکم بننے کی اِجازت دے دی۔‏ اُس نے شیطان کو اِتنا وقت دیا جتنا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہو کہ آیا اُس کا دعویٰ صحیح ہے یا نہیں۔‏ اور اِنسانی تاریخ سے ظاہر ہوا ہے کہ نہ ہی اِنسان اور نہ ہی شیطان حکمرانی کرنے کے لائق ہیں۔‏

5.‏ اِنسانی تاریخ سے کیا ظاہر ہوا ہے؟‏

5 پچھلے 100 سالوں میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگ جنگوں میں ہلاک ہوئے۔‏ آج‌کل دُنیا کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔‏ خدا کے کلام میں پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ”‏اخیر زمانہ“‏ میں ”‏بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائیں گے۔‏“‏ (‏2-‏تیم 3:‏1،‏ 13‏)‏ تاریخ سے ثابت ہوا ہے کہ بائبل میں لکھی یہ بات واقعی سچ ہے:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ مَیں جانتا ہوں کہ اِنسان کی راہ اُس کے اِختیار میں نہیں۔‏ اِنسان اپنی روِش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔‏“‏ (‏یرم 10:‏23‏)‏ یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو ایک دوسرے پر حکومت کرنے کی نہ تو صلاحیت دی ہے اور نہ ہی اِختیار۔‏

6.‏ خدا نے ابھی تک بُرائی کو ختم کیوں نہیں کِیا؟‏

6 خدا نے ابھی تک بُرائی کو اِس لیے بھی ختم نہیں کِیا کیونکہ وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ صرف اُسی کی حکمرانی سے اِنسانوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔‏ لیکن وہ وقت دُور نہیں جب خدا تمام بُرائی کو ختم کر دے گا۔‏ اِس کے بعد اگر کوئی خدا کی حکمرانی کرنے کے طریقے پر اُنگلی اُٹھائے گا تو وہ فوراً کارروائی کرے گا۔‏ وہ اِنسانی تاریخ میں ہونے والی بُرائی کو ثبوت کے طور پر اِستعمال کرے گا اور باغیوں کو فوراً سزا دے گا تاکہ زمین پر دوبارہ بُرائی نہ پھیلے۔‏

خدا نے محبت کیسے ظاہر کی؟‏

7،‏ 8.‏ یہوواہ خدا نے اَور کن طریقوں سے اپنی محبت ظاہر کی ہے؟‏

7 یہوواہ خدا نے مختلف طریقوں سے اپنی محبت ظاہر کی ہے۔‏ مثال کے طور پر ذرا حیرت‌انگیز کائنات پر غور کریں۔‏ اِس میں اربوں کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اور سیارے ہیں۔‏ ہماری کہکشاں میں ایک ستارہ سورج ہے جس کے بغیر زمین پر زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔‏ کائنات سے یہوواہ خدا کی خدائی اور اُس کی صفات ظاہر ہوتی ہیں جیسے کہ اُس کی قدرت،‏ حکمت اور محبت۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏خدا]‏ کی اَن‌دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قدرت اور الوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔‏“‏—‏روم 1:‏20‏۔‏

8 خدا نے جس طرح سے زمین اور جان‌داروں کو بنایا ہے،‏  اُس سے بھی اُس کی محبت ظاہر ہوتی ہے۔‏ اُس نے آدم اور حوا کے لیے ایک خوب‌صورت باغ بنایا اور اُنہیں بےعیب جسم عطا کیے تاکہ وہ ہمیشہ تک زندہ رہ سکیں۔‏ ‏(‏مکاشفہ 4:‏11 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس کے علاوہ یہوواہ خدا ”‏تمام جان‌داروں کو خوراک مہیا کرتا ہے .‏ .‏ .‏ کیونکہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔‏“‏—‏زبور 136:‏25‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

9.‏ ہمارا شفیق باپ یہوواہ کن سے نفرت کرتا ہے اور کیوں؟‏

9 ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ محبت کرنے والا خدا ہے لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُسے ہر چیز سے محبت ہے۔‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ اُسے بُرائی سے نفرت ہے۔‏ مثال کے طور پر زبور 5:‏4-‏6 میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو ایسا خدا نہیں جو شرارت سے خوش ہو۔‏ .‏ .‏ .‏ تجھے سب بدکرداروں سے نفرت ہے۔‏“‏ یہوواہ خدا کو ’‏خون‌خوار اور دغاباز آدمی سے بھی کراہیت ہے۔‏‘‏

بُرائی کا خاتمہ نزدیک ہے

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ بُرے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا اپنے وفادار بندوں کو کیا اجر دے گا؟‏

10 چونکہ یہوواہ محبت کرنے والا خدا ہے اور اُسے بُرائی سے نفرت ہے اِس لیے وہ زمین سے بُرائی کا نام‌ونشان مٹا دے گا۔‏ وہ ایسا تب کرے گا جب اُسے لگے گا کہ اُس کی حکمرانی کے خلاف اُٹھائے گئے اِعتراضات پوری طرح جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔‏ خدا کے کلام میں وعدہ کِیا گیا ہے کہ ”‏بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کو [‏یہوواہ]‏ کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا۔‏“‏ یہوواہ کے دُشمن ”‏چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہوں گے۔‏ وہ فنا ہو جائیں گے۔‏ وہ دُھوئیں کی طرح جاتے رہیں گے۔‏“‏—‏زبور 37:‏9،‏ 10،‏ 20‏۔‏

11 خدا کے کلام میں یہ بھی وعدہ کِیا گیا ہے کہ ”‏صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔‏“‏ (‏زبور 37:‏29‏)‏ خدا کے وفادار بندے ”‏سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔‏“‏ (‏زبور 37:‏11‏)‏ ہمیں یقین ہے کہ ایسا ضرور ہوگا کیونکہ یہوواہ خدا ہمیشہ وہی کام کرتا ہے جس میں اُس کے بندوں کی بھلائی ہوتی ہے۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔‏ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔‏ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔‏ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔‏“‏ (‏مکا 21:‏4‏)‏ اُن لوگوں کا مستقبل واقعی بہت شان‌دار ہوگا جو خدا کی محبت کی قدر کرتے ہیں اور اُسے اپنا حکمران تسلیم کرتے ہیں۔‏

12.‏ کس کو ”‏کامل آدمی“‏ خیال کِیا جا سکتا ہے؟‏

12 بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏کامل آدمی پر نگاہ کر اور راست‌باز کو دیکھ کیونکہ صلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے۔‏ لیکن خطاکار اِکٹھے مر مٹیں گے۔‏ شریروں کا انجام ہلاکت ہے۔‏“‏ (‏زبور 37:‏37،‏ 38‏)‏ ایک ”‏کامل آدمی“‏ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے بارے میں سیکھتا ہے اور خدا کی مرضی کے مطابق چلتا ہے۔‏ ‏(‏یوحنا 17:‏3 کو پڑھیں۔‏)‏ وہ بائبل میں لکھی اِس بات پر پکا یقین رکھتا ہے:‏ ”‏دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔‏“‏ (‏1-‏یوح 2:‏17‏)‏ چونکہ اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک ہے اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ’‏یہوواہ پر آس رکھیں اور اُسی کی راہ پر چلتے رہیں۔‏‘‏—‏زبور 37:‏34‏۔‏

خدا کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت

13.‏ یہوواہ خدا نے گُناہ‌گار اِنسانوں کے لیے محبت کیسے ظاہر کی؟‏

13 اگرچہ ہم عیب‌دار ہیں تو بھی ہم یہوواہ خدا کی ’‏راہوں پر چل‘‏ سکتے ہیں۔‏ ہم یہوواہ خدا کی قربت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔‏ یہ سب یہوواہ خدا کی محبت کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔‏ اُس نے ہماری خاطر اپنے عزیز بیٹے یسوع مسیح کو قربان کر دیا تاکہ ہم گُناہ اور موت سے چھٹکارا پا سکیں۔‏ ‏(‏رومیوں 5:‏12؛‏ 6:‏ 23 کو پڑھیں۔‏)‏ چونکہ یسوع مسیح آسمان پر یہوواہ کے وفادار رہے اِس لیے یہوواہ خدا کو پورا یقین تھا کہ اُس کا بیٹا زمین پر بھی اُس کا وفادار رہے گا۔‏ یہوواہ خدا کو اُس وقت بہت دُکھ ہوا جب لوگوں نے یسوع مسیح پر ظلم ڈھائے۔‏ لیکن یسوع مسیح خدا کے وفادار رہے اور یہ ثابت کِیا کہ بےعیب اِنسان مشکل سے مشکل وقت میں بھی یہوواہ خدا کے وفادار رہ سکتے ہیں۔‏

اِنسانوں سے محبت کی وجہ سے خدا نے اپنے عزیز بیٹے کو زمین پر بھیجا۔‏ (‏پیراگراف 13 کو دیکھیں۔‏)‏

14،‏ 15.‏ یسوع مسیح کی موت سے اِنسانوں کو کیا فائدہ ہوا ہے؟‏

14 یسوع مسیح مرتے دم تک یہوواہ خدا کے وفادار رہے اور اُس کی حکمرانی کی حمایت کی۔‏ ہم بہت شکرگزار ہیں کہ اُنہوں نے ہمارا فدیہ دیا اور یوں نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی راہ کھول دی۔‏ پولُس رسول نے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی عظیم محبت کے بارے میں کہا:‏ ”‏جب ہم کمزور ہی تھے تو عین وقت پر مسیح بےدینوں کی خاطر مؤا۔‏ کسی راست‌باز کی خاطر بھی مشکل سے کوئی اپنی جان دے گا مگر شاید کسی نیک آدمی کے لئے کوئی اپنی جان تک دے دینے کی جُرأت کرے۔‏ لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔‏“‏ (‏روم 5:‏6-‏8‏)‏ اِس سلسلے میں یوحنا رسول نے بھی لکھا:‏ ”‏جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اِس سے ظاہر ہوئی کہ  خدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اُس کے سبب سے زندہ رہیں۔‏ محبت اِس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اِس میں ہے کہ اُس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گُناہوں کے کفارہ کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔‏“‏—‏1-‏یوح 4:‏9،‏ 10‏۔‏

15 یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‏“‏ (‏یوح 3:‏16‏)‏ یہوواہ خدا کو اِنسانوں سے اِتنی محبت تھی کہ اُس نے اُن کی خاطر اپنا عزیز بیٹا قربان کر دیا۔‏ اِنسانوں کے لیے اُس کی محبت کبھی ختم نہیں ہوگی۔‏ اِس لیے ہم بھی پولُس رسول کی طرح یہ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی نہ زندگی۔‏ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔‏ نہ حال کی نہ اِستقبال کی چیزیں۔‏ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اَور مخلوق۔‏“‏—‏روم 8:‏38،‏ 39‏۔‏

خدا کی بادشاہت حکمرانی کر رہی ہے

16.‏ خدا کی بادشاہت کیا ہے اور خدا نے اِس کا بادشاہ کسے بنایا ہے؟‏

16 یہوواہ خدا نے ایک بادشاہت کا بندوبست کرنے سے بھی اِنسانوں کے لیے اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے۔‏ یہ بادشاہت ایک آسمانی حکومت ہے۔‏ اُس نے یہ بادشاہت اپنے بیٹے کے ہاتھ میں سونپ دی ہے جو اِنسانوں سے بہت پیار کرتا ہے اور پوری طرح سے حکمرانی کرنے کے لائق ہے۔‏ (‏امثا 8:‏31‏)‏ خدا نے 1 لاکھ 44 ہزار اشخاص کو آسمان پر مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔‏ یہ اشخاص چونکہ خود زمین پر مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہوں گے اِس لیے وہ بہت ہمدرد حکمران ثابت ہوں گے۔‏ (‏مکا 14:‏1‏)‏ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے خاص طور پر خدا کی بادشاہت کے بارے میں تعلیم دی اور اپنے شاگردوں کو اِس کے بارے میں دُعا کرنا سکھایا۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏پس تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔‏ تیری بادشاہی آئے۔‏ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔‏“‏ (‏متی 6:‏9،‏ 10‏)‏ ہم اُس وقت کے بہت منتظر ہیں جب یہ دُعا پوری ہوگی اور خدا کی بادشاہت اِنسانوں کو برکتوں سے مالا مال کرے گی۔‏

17.‏ بادشاہ یسوع اور اِنسانی حکمرانوں میں کیا فرق ہے؟‏

17 ہمارے حکمران یسوع مسیح اور دُنیا کے حکمرانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‏ اِنسانی حکمرانوں کی وجہ سے بہت سی جنگیں لڑی گئیں جن میں بہت سارے لوگ ہلاک ہوئے۔‏ لیکن ہمارا حکمران یسوع مسیح ہماری بڑی فکر رکھتا ہے اور ویسی ہی صفات ظاہر کرتا ہے جو یہوواہ میں ہیں،‏ خاص طور پر محبت۔‏ (‏مکا 7:‏10،‏ 16،‏ 17‏)‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔‏ مَیں تُم کو آرام دوں گا۔‏ میرا جؤا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔‏ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔‏ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔‏ کیونکہ میرا جؤا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔‏“‏ (‏متی 11:‏28-‏30‏)‏ واقعی اِس بات سے ہمیں بڑی تسلی ملتی ہے۔‏

18.‏ ‏(‏الف)‏ 1914ء سے خدا کی بادشاہت کیا کر رہی ہے؟‏ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

18 بائبل کی پیش‌گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہت نے 1914ء میں حکمرانی شروع کی۔‏ تب سے باقی ممسوح مسیحیوں کو جمع کِیا جا رہا ہے جو آسمان پر یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کریں گے۔‏ اِس کے علاوہ ”‏بڑی بِھیڑ“‏ کو بھی جمع کِیا جا رہا ہے جو دُنیا کے خاتمے سے بچ کر نئی دُنیا میں داخل ہوگی۔‏ (‏مکا 7:‏9،‏ 13،‏ 14‏)‏ آج‌کل اِس ”‏بڑی بِھیڑ“‏ میں کتنے لوگ شامل ہیں؟‏ اور خدا اُن سے کیا توقع کرتا ہے؟‏ اگلے مضمون میں ہم اِن سوالوں پر غور کریں گے۔‏