مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا آپ یہوواہ کا قوی ہاتھ دیکھ سکتے ہیں؟‏

کیا آپ یہوواہ کا قوی ہاتھ دیکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏[‏یہوواہ]‏ کا ہاتھ اپنے بندوں پر ظاہر ہوگا۔‏“‏—‏یسع 66:‏14‏۔‏

گیت:‏ 32،‏ 26

1،‏ 2.‏ کچھ لوگ خدا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟‏

بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ وہ جو بھی کریں،‏ خدا کو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‏ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے ساتھ چاہے کچھ بھی ہو،‏ خدا کو اُس کی کوئی پرواہ نہیں۔‏ مثال کے طور پر نومبر 2013ء میں فلپائن میں سمندری طوفان ”‏ہیان“‏ آیا۔‏ اِس طوفان نے بڑی تباہی مچائی جس کے بعد ایک شہر کے گورنر نے کہا:‏ ”‏اُس وقت خدا کہاں تھا!‏“‏

2 کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سوچتے ہیں کہ خدا اُن کے کاموں کو نہیں دیکھتا۔‏ (‏یسع 26:‏10،‏ 11؛‏ 3-‏یوح 11‏)‏ پولُس رسول کے زمانے میں بھی کچھ لوگ ایسی ہی سوچ رکھتے تھے۔‏ اُن کے بارے میں پولُس نے لکھا:‏ ”‏اُنہوں نے خدا کو پہچاننا ناپسند کِیا۔‏“‏ یہ لوگ ”‏ہر طرح کی ناراستی بدی لالچ اور بدخواہی“‏ سے بھرے ہوئے تھے۔‏—‏روم 1:‏28،‏ 29‏۔‏

3.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏ (‏ب)‏ جب بائبل میں خدا کے ”‏ہاتھ“‏ کا ذکر آتا ہے تو یہ کس کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟‏

3 دُنیا کے لوگوں کے برعکس ہم یہ مانتے ہیں کہ خدا سب کچھ دیکھتا ہے۔‏ لیکن کیا ہم یہ مانتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہماری پرواہ کرتا ہے؟‏ کیا ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُس کا ہاتھ ہم پر ہے؟‏ جب بائبل میں خدا کے ”‏ہاتھ“‏ کا ذکر آتا ہے تو یہ اکثر اُس کی طاقت کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏ وہ اپنی طاقت کو اپنے بندوں  کو بچانے اور اپنے دُشمنوں کو مات دینے کے لیے اِستعمال کرتا ہے۔‏ ‏(‏اِستثنا 26:‏8 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ کچھ لوگ ”‏خدا کو دیکھیں گے۔‏“‏ (‏متی 5:‏8‏)‏ کیا ہم اِن لوگوں میں شامل ہیں؟‏ ہم خدا کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‏ آئیں،‏ بائبل سے کچھ ایسے لوگوں کی مثالوں پر غور کریں جن میں سے بعض نے دیکھا کہ خدا کا ہاتھ اُس کے بندوں پر ہے جبکہ بعض نے اِس حقیقت کو نظرانداز کِیا۔‏ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ ہم اپنے ایمان کی آنکھوں سے خدا کے قوی ہاتھ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں۔‏

اُنہوں نے خدا کا قوی ہاتھ نہ دیکھا

4.‏ بنی‌اِسرائیل کے دُشمن خدا کے ہاتھ کو کیوں نہیں دیکھ پائے؟‏

4 ماضی میں بہت سے لوگوں نے دیکھا اور سنا کہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کی خاطر کیا کیا کِیا۔‏ خدا اپنے بندوں کو بڑے بڑے معجزے کر کے مصر کی غلامی سے چھڑا لایا اور پھر ایک کے بعد ایک قوم بنی‌اِسرائیل کے آگے زیر ہوتی چلی گئی۔‏ (‏یشو 9:‏3،‏ 9،‏ 10‏)‏ اگرچہ یردن کے مغرب کے تقریباً تمام بادشاہوں نے دیکھا اور سنا تھا کہ یہوواہ کا ہاتھ بنی‌اِسرائیل پر ہے پھر بھی ”‏وہ سب کے سب فراہم ہوئے تاکہ متفق ہو کر یشوؔع اور بنی‌اِسرائیل سے جنگ کریں۔‏“‏ (‏یشو 9:‏1،‏ 2‏)‏ جب اِن بادشاہوں نے جنگ شروع کر دی تو وہ تب بھی دیکھ سکتے تھے کہ خدا کا ہاتھ بنی‌اِسرائیل پر ہے۔‏ یہوواہ کے حکم سے ”‏سورج ٹھہر گیا اور چاند تھما رہا جب تک [‏بنی‌اِسرائیل]‏ نے اپنے دُشمنوں سے اپنا اِنتقام نہ لے لیا۔‏“‏ (‏یشو 10:‏13‏)‏ یہوواہ خدا نے دُشمنوں کے ”‏دلوں کو سخت“‏ رہنے دیا تاکہ وہ جنگ میں اِسرائیل کا مقابلہ کریں۔‏ (‏یشو 11:‏20‏)‏ اِس لیے اِن دُشمنوں نے اِس حقیقت کو نظرانداز کِیا کہ خدا بنی‌اِسرائیل کی طرف سے لڑ رہا ہے۔‏ اور اِسی لیے اِنہیں شکست کا مُنہ دیکھنا پڑا۔‏

5.‏ اخی‌اب نے کس حقیقت کو تسلیم نہ کِیا؟‏

5 شریر بادشاہ اخی‌اب کے زمانے میں بھی یہوواہ نے کچھ معجزے کیے جن سے اخی‌اب کو خدا کا قوی ہاتھ دیکھنے کا موقع ملا۔‏ ایلیاہ نبی نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏آنے والے سالوں میں نہ اوس،‏ نہ بارش پڑے گی جب تک مَیں نہ کہوں۔‏“‏ (‏1-‏سلا 17:‏1‏)‏  ایلیاہ نے یہوواہ خدا کے کہنے پر یہ پیش‌گوئی کی تھی لیکن اخی‌اب نے اُن کی بات کا یقین نہ کِیا۔‏ بعد میں جب خدا نے ایلیاہ کی دُعا کے جواب میں آسمان سے آگ نازل کی تو اخی‌اب نے اُسے بھی دیکھا۔‏ پھر ایلیاہ نے اخی‌اب کو بتایا کہ یہوواہ خدا اب بارش برسائے گا۔‏ اُنہوں نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏نیچے اُتر جا تاکہ بارش تجھے روک نہ لے۔‏“‏ (‏1-‏سلا 18:‏22-‏45‏)‏ اخی‌اب نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر یہ تسلیم نہ کِیا کہ اِن معجزوں کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔‏ بنی‌اِسرائیل کے دُشمنوں اور بادشاہ اخی‌اب کی مثال سے ہم کون سی اہم بات سیکھتے ہیں؟‏ ہمیں اِس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ خدا کا قوی ہاتھ اُس کے بندوں پر ہے۔‏

اُنہوں نے خدا کا قوی ہاتھ دیکھا

6،‏ 7.‏ جبعونیوں اور راحب نے کیا تسلیم کِیا؟‏

6 بنی‌اِسرائیل سے جنگ کرنے والے بادشاہوں کے برعکس کچھ لوگوں نے دیکھ لیا کہ خدا کا قوی ہاتھ بنی‌اِسرائیل پر ہے حالانکہ یہ لوگ بھی اُن کے دُشمن تھے۔‏ مثال کے طور پر جبعونیوں نے بنی‌اِسرائیل سے جنگ کرنے کی بجائے اُن سے صلح کر لی۔‏ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏ اُنہوں نے یشوع سے کہا:‏ ’‏تیرے خادم بہت دُور ملک سے یہوواہ تیرے خدا کے نام کے باعث آئے ہیں کیونکہ ہم نے اُس کی شہرت اور جو کچھ اُس نے کِیا،‏ سب سنا ہے۔‏‘‏ (‏یشو 9:‏3،‏ 9،‏ 10‏)‏ اُنہوں نے مان لیا کہ سچا خدا یہوواہ ہی بنی‌اِسرائیل کی پُشت پر ہے۔‏

7 راحب نے بنی‌اِسرائیل کے بارے میں جو کچھ سنا تھا،‏ اُس سے اُنہیں یقین ہو گیا تھا کہ بنی‌اِسرائیل پر یہوواہ کا ہاتھ ہے۔‏ وہ جانتی تھیں کہ یہوواہ نے اپنے بندوں کو مصر سے کیسے چھڑایا۔‏ اِس لیے جب دو اِسرائیلی جاسوس اُن کے گھر آئے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے یقین ہے کہ [‏یہوواہ]‏ نے یہ ملک تُم کو دیا ہے۔‏“‏ راحب نے یہوواہ خدا پر مضبوط ایمان ظاہر کِیا حالانکہ ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔‏ مگر اُنہیں یقین تھا کہ یہوواہ اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو بچا سکتا ہے۔‏—‏یشو 2:‏9-‏13؛‏ 4:‏23،‏ 24‏۔‏

8.‏ ایلیاہ کے زمانے میں کچھ اِسرائیلیوں نے یہوواہ خدا کے قوی ہاتھ کو کیسے دیکھ لیا؟‏

 8 جب ایلیاہ کے کہنے پر آگ نازل ہوئی تو اِسے بادشاہ اخی‌اب کے علاوہ اَور لوگوں نے بھی دیکھا۔‏ اخی‌اب نے تو نہیں مگر کچھ دوسرے اِسرائیلیوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔‏ اِس لیے وہ کہہ اُٹھے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ ہی خدا ہے!‏“‏ (‏1-‏سلا 18:‏39‏)‏ اُنہوں نے اِس سارے معاملے میں یہوواہ خدا کے قوی ہاتھ کو دیکھ لیا تھا۔‏

9.‏ ہم خدا اور اُس کے ہاتھ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‏

9 ہم نے جن مثالوں پر غور کِیا ہے،‏ اُن سے ہم نے سیکھا ہے کہ ’‏خدا کو دیکھنے‘‏ یا اُس کے ہاتھ کو دیکھنے کا کیا مطلب ہے۔‏ جب ہم یہوواہ خدا اور اُس کی صفات کو جان جاتے ہیں تو ہم اپنے ’‏دل کی آنکھوں‘‏ سے اُس کے قوی ہاتھ کو دیکھ سکتے ہیں۔‏ (‏اِفس 1:‏18‏)‏ بِلاشُبہ ہم بھی اُن لوگوں کی طرح بننا چاہتے ہیں جنہوں نے یہ دیکھ لیا کہ خدا کا ہاتھ اُس کے بندوں پر ہے۔‏ لیکن کیا اِس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ خدا آج بھی اپنے قوی ہاتھ سے لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔‏

آج‌کل خدا کے ہاتھ کی طاقت کا ثبوت

10.‏ اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا آج بھی لوگوں کی مدد کر رہا ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

10 اِس بات کے کئی ثبوت ہیں کہ خدا آج بھی لوگوں کی مدد کر رہا ہے۔‏ اکثر ہم ایسے لوگوں کے بارے میں سنتے ہیں جنہوں نے خدا سے مدد مانگی اور اُنہیں اُن کی دُعا کا جواب ملا۔‏ (‏زبور 53:‏2‏)‏ اِس سلسلے میں ملک فلپائن سے ایک مثال پر غور کریں۔‏ بھائی ایلن وہاں ایک جزیرے پر گھر گھر مُنادی کر رہے تھے۔‏ اِس دوران اُن کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی جو اُن سے مل کر رونے لگی۔‏ بھائی ایلن نے بتایا:‏ ”‏اُس عورت نے اُس دن صبح یہوواہ سے دُعا کی تھی کہ اُس کے گواہ اُس سے ملنے آئیں۔‏ جب وہ عورت نوجوان تھی تو وہ گواہوں سے بائبل کورس کرتی تھی۔‏ لیکن پھر وہ شادی کے بعد اِس جزیرے پر آ گئی اور یوں بائبل کورس جاری نہ رکھ پائی۔‏ اِس عورت کے دل پر اِس بات کا بہت گہرا اثر ہوا کہ خدا نے اُس کی دُعا فوراً سُن لی ہے۔‏“‏ ایک سال کے اندر اندر اُس عورت نے بپتسمہ لے لیا۔‏

اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا کا قوی ہاتھ آج بھی اُس کے بندوں پر ہے؟‏ (‏پیراگراف 11-‏13 کو دیکھیں۔‏)‏

11،‏ 12.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا اپنے بندوں کی مدد کیسے کر رہا ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ نے ایک بہن کی مدد کیسے کی؟‏

11 خدا کے بہت سے خادم سگریٹ پینے،‏ منشیات اِستعمال کرنے اور فحش مواد دیکھنے کی لت میں پڑے ہوئے تھے۔‏ لیکن اُنہوں نے دیکھا کہ اِن بُری عادتوں سے چھٹکارا پانے میں یہوواہ خدا نے اپنے قوی ہاتھ سے اُن کی مدد کی۔‏ اُن میں سے بعض نے پہلے خود اِن عادتوں پر قابو پانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔‏ لیکن جب اُنہوں نے یہوواہ خدا سے مدد مانگی تو اُس نے اُنہیں ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ عطا کی اور یوں وہ بُری عادت کے خلاف اپنی جنگ جیت پائے۔‏—‏2-‏کُر 4:‏7؛‏ زبور 37:‏23،‏ 24‏۔‏

12 یہوواہ خدا نے مشکلات پر قابو پانے میں بھی اپنے بہت سے بندوں کی مدد کی ہے۔‏ ذرا بہن ایمی کی مثال پر غور کریں۔‏ وہ بحراُلکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر کنگڈم ہال اور مشنریوں کے لیے گھر بنانے گئیں۔‏ وہاں اُنہیں کچھ مشکلات سے گزرنا پڑا جیسے کہ وہاں لوگوں کا رہن‌سہن بہت فرق تھا؛‏ اکثر پانی نہیں آتا تھا؛‏ آئے دن بجلی جاتی رہتی تھی اور گلیوں میں پانی کھڑا رہتا تھا۔‏ اِس کے علاوہ اُنہیں ایک چھوٹے سے ہوٹل میں رہنا پڑا اور اُنہیں اکثر اپنے گھر والوں کی یاد ستاتی تھی۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏پہلے ہی اِتنی مشکلیں تھیں کہ ایک دن مَیں اپنے ساتھ کام کرنے والی بہن پر بھی برس پڑی۔‏ جب مَیں کمرے میں لوٹی تو مجھے اپنے کیے پر بہت شرمندگی ہو رہی تھی۔‏ مَیں نے اندھیرے میں گھپ کمرے میں اپنا دل یہوواہ کے آگے اُنڈیل دیا اور اُس سے مدد مانگی۔‏“‏ جب بجلی آئی تو ایمی نے ایک مینارِنگہبانی میں گلئیڈ گریجویشن کے حوالے سے ایک مضمون پڑھا۔‏ اِس میں اُنہی مسئلوں پر بات کی گئی تھی جن کا ایمی کو سامنا تھا،‏ مثلاً نئی ثقافت،‏ نئے لوگ اور گھر والوں کی یاد۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مضمون کو پڑھ کر مجھے لگا جیسے یہوواہ مجھ سے بات کر رہا ہے۔‏ اِس سے مجھے حوصلہ ملا کہ مَیں اُس کام کو جاری رکھوں جس کے لیے مَیں یہاں آئی ہوں۔‏“‏—‏زبور 44:‏25،‏ 26؛‏ یسع 41:‏10،‏ 13‏۔‏

13.‏ اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہوواہ خدا نے ”‏خوش‌خبری کا دِفاع کرنے اور اِسے قانونی حیثیت دینے“‏ میں اپنے بندوں کا ساتھ دیا ہے؟‏

 13 ہم ”‏خوش‌خبری کا دِفاع کرنے اور اِسے قانونی حیثیت دینے“‏ میں کامیاب رہے ہیں۔‏ یہ بھی اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہوواہ کا ہاتھ ہم پر ہے۔‏ (‏فل 1:‏7‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ بعض حکومتوں نے ہمارے کام کو بند کرنے کی کوشش کی ہے۔‏ لیکن ہم نے عدالت میں اپنا دِفاع کِیا۔‏ ہم نے 2000ء سے لے کر اب تک ہائی‌کورٹ میں تقریباً 268 مُقدمے جیتے ہیں جن میں سے 24 مُقدمے اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت میں جیتے گئے۔‏ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی یہوواہ کا ہاتھ روک نہیں سکتا۔‏—‏یسع 54:‏17؛‏ یسعیاہ 59:‏1 کو پڑھیں۔‏

14.‏ اِس بات کے اَور کیا ثبوت ہیں کہ خدا کا ہاتھ اُس کے بندوں پر ہے؟‏

14 یہوواہ کے قوی ہاتھ کی بدولت ہی ہم پوری دُنیا میں خوش‌خبری سنا رہے ہیں۔‏ (‏متی 24:‏14؛‏ اعما 1:‏8‏)‏ ہماری عالم‌گیر برادری کے اِتحاد کے پیچھے بھی خدا کا ہی ہاتھ ہے۔‏ ایسا اِتحاد دُنیا کے لوگوں میں نہیں پایا جاتا۔‏ ہمارے اِتحاد کی گواہی تو وہ لوگ بھی دیتے ہیں جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے۔‏ وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ”‏بےشک خدا تُم میں ہے۔‏“‏ (‏1-‏کُر 14:‏25‏)‏ لہٰذا ہمارے پاس اِس بات کے بےشمار ثبوت ہیں کہ یہوواہ کا ہاتھ اُس کے بندوں پر ہے۔‏ ‏(‏یسعیاہ 66:‏14 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن کیا خدا کو آپ کی فکر ہے؟‏ کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ آپ پر ہے؟‏

کیا آپ یہوواہ کا ہاتھ دیکھ سکتے ہیں؟‏

15.‏ کبھی کبھار ہم خدا کے ہاتھ کو محسوس کیوں نہیں کر پاتے؟‏

15 کبھی کبھار ہماری مشکلات ہم پر اِتنی حاوی ہو جاتی ہیں کہ ہم یہ محسوس نہیں کر پاتے کہ خدا کا ہاتھ ہم پر ہے۔‏ ایسی صورت میں ہم یہ بھول سکتے ہیں کہ خدا نے پہلے ہماری مدد کیسے کی ہے۔‏ ذرا ایلیاہ نبی کی مثال پر غور کریں۔‏ جب ملکہ اِیزِبل نے اُن کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تو وہ وقتی طور پر بھول گئے کہ خدا نے اُن کی خاطر کیا کچھ کِیا ہے۔‏ وہ اِتنے مایوس ہو گئے کہ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ میری جان کو لے لے۔‏“‏ (‏1-‏سلا 19:‏1-‏4‏)‏ اِس صورتحال میں ایلیاہ کیا کر سکتے تھے؟‏ اُنہیں مدد اور حوصلہ پانے کے لیے خدا پر بھروسا رکھنے کی ضرورت تھی۔‏—‏1-‏سلا 19:‏14-‏18‏۔‏

16.‏ جب ہمیں مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے تو ہم خدا کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‏

16 ایوب نبی کی مثال پر بھی غور کریں۔‏ وہ اپنی مشکلوں پر اِتنی  توجہ دینے لگے کہ وہ صورتحال کو خدا کی نظر سے نہ دیکھ پائے۔‏ (‏ایو 42:‏3-‏6‏)‏ بعض اوقات ہم بھی اپنے مسئلوں اور پریشانیوں تلے اِتنا دب جاتے ہیں کہ ہمیں کچھ اَور دِکھائی نہیں دیتا۔‏ لیکن ایوب کی طرح ہمیں بھی مشکل صورتحال میں خدا کے ہاتھ کو محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏ بائبل کے ذریعے ہم اِس بات پر سوچ بچار کر سکتے ہیں کہ خدا اب ہمارے لیے کیا کر رہا ہے۔‏ یوں ہم خدا کی مدد کو محسوس کریں گے اور ایوب کی طرح کہہ سکیں گے:‏ ”‏مَیں نے تیری خبر کان سے سنی تھی پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔‏“‏

کیا آپ دوسروں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کو دیکھ سکیں؟‏ (‏پیراگراف 17 اور 18 کو دیکھیں۔‏)‏

17،‏ 18.‏ ‏(‏الف)‏ اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا کا قوی ہاتھ آپ پر ہے؟‏ (‏ب)‏ مثال دے کر بتائیں کہ خدا کا ہاتھ آج بھی اُس کے بندوں پر ہے۔‏

17 اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا کا قوی ہاتھ آپ پر ہے؟‏ آئیں،‏ کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏ شاید جس طرح آپ کو سچائی ملی،‏ اُس سے آپ کو لگتا ہے کہ اِس میں خدا ہی کا ہاتھ ہے۔‏ شاید آپ نے اِجلاس پر کوئی تقریر سُن کر کہا:‏ ”‏یہ میرے ہی لیے تھی!‏“‏ شاید آپ نے دیکھا کہ یہوواہ خدا نے آپ کی کسی دُعا کا جواب دیا۔‏ شاید آپ نے خدا کی خدمت کے حوالے سے کوئی منصوبہ بنایا اور اِسے پورا کرنے میں خدا نے آپ کا ساتھ دیا۔‏ شاید آپ نے ایک ملازمت اِس لیے چھوڑ دی کیونکہ آپ کو خدا کی خدمت کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔‏ لیکن آپ نے محسوس کِیا کہ یہوواہ نے آپ کو سنبھالا اور اپنا یہ وعدہ نبھایا:‏ ”‏مَیں .‏ .‏ .‏ کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔‏“‏ (‏عبر 13:‏5‏)‏ اگر خدا کے ساتھ ہماری دوستی مضبوط ہے تو ہم ہر معاملے میں اُس کے قوی ہاتھ کو دیکھیں گے۔‏

18 ذرا بہن سارہ کی مثال پر غور کریں جو کینیا سے ہیں۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مَیں ایک عورت کو بائبل کورس کرا رہی تھی۔‏ مجھے لگا کہ اُسے اِس کورس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔‏ مَیں نے یہوواہ سے دُعا کی کہ آیا مجھے اِس عورت کے ساتھ کورس جاری رکھنا چاہیے یا نہیں؟‏ جیسے ہی مَیں نے آمین کہا،‏ میرا فون بجا۔‏ یہ اُس عورت کا فون تھا۔‏ اُس نے کہا کہ وہ اِجلاس پر جانا چاہتی ہے۔‏ یہ سُن کر میری حیرت کا ٹھکانا نہ رہا۔‏“‏ اگر ہم اُن کاموں پر دھیان دیں گے جو خدا نے ہمارے لیے کیے ہیں تو ہم خدا کے قوی ہاتھ کو دیکھنے سے کبھی نہیں چوکیں گے۔‏ ایشیا میں رہنے والی بہن رہونا نے کہا:‏ ”‏ہمیں یہ دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ خدا کس کس طرح ہماری مدد کر رہا ہے۔‏ جب ہم نے یہ دیکھ لیا تو ہم یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ وہ ہماری کتنی پرواہ کرتا ہے۔‏“‏

19.‏ ہمیں اَور کیا کرنا ہوگا تاکہ ہم خدا کو دیکھ سکیں؟‏

19 یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو پاک‌دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔‏“‏ (‏متی 5:‏8‏)‏ ہم ”‏پاک‌دل“‏ کیسے بن سکتے ہیں؟‏ ہمیں اپنے خیالات کو پاک رکھنا چاہیے اور ہر طرح کے بُرے کام سے دُور رہنا چاہیے۔‏ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏2 کو پڑھیں۔‏)‏ ہم خدا کی قربت میں رہنے اور اپنا چال‌چلن پاک رکھنے سے اُن لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جو خدا کو دیکھ سکتے ہیں۔‏ اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اپنے ایمان کے ذریعے خدا کے قوی ہاتھ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں۔‏