مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 آپ‌بیتی

اُنہیں اپنے فیصلے پر ناز تھا

اُنہیں اپنے فیصلے پر ناز تھا

یہ کہانی میری دادی کے بڑے بھائی نیکولائی ڈبوون‌سکی کی ہے۔‏ وہ 1926ء میں یوکرین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔‏ اُس وقت یوکرین سوویت یونین کا حصہ تھا۔‏ انکل نیکولائی نوجوانی سے لے کر موت تک خدا کے وفادار رہے۔‏ اُن کی زندگی کے زیادہ‌تر عرصے کے دوران سوویت یونین میں ہمارے کام پر پابندی رہی۔‏ اپنی موت سے کچھ سال پہلے اُنہوں نے اپنی آپ‌بیتی لکھی۔‏ انکل نیکولائی کی بڑی خواہش تھی کہ نوجوان اُن کی آپ‌بیتی سنیں۔‏ اِس لیے مَیں اُن کی زندگی کی کچھ باتیں آپ کو بتاتی ہوں۔‏

اُنہیں سچائی کیسے ملی؟‏

انکل نیکولائی نے اپنی آپ‌بیتی یوں شروع کی:‏ ”‏1941ء کو ایک دن میرا بڑا بھائی آئی‌ون کتاب دی ہارپ آف گاڈ اور دی ڈیوائن پلان آف دی ایجزز،‏ کچھ مینارِنگہبانی کے رسالے اور کئی کتابچے گھر لے کر آیا۔‏ مَیں نے اِن سب کو پڑھ لیا۔‏ مَیں تو یہ سمجھتا تھا کہ ساری مصیبتوں کا ذمےدار خدا ہے مگر اِن کتابوں وغیرہ کو پڑھ کر مجھے پتہ چلا کہ دراصل اِن سب کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہے۔‏ اِن کتابوں کے ساتھ ساتھ مَیں نے اِنجیلوں کو بھی پڑھا اور مجھے احساس ہوا کہ مجھے سچائی مل گئی ہے۔‏ مَیں بڑے جوش سے دوسروں کو بھی خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتانے لگا۔‏ جوں‌جوں مَیں کتابوں کو پڑھتا گیا،‏ مَیں بائبل کی تعلیمات کو اچھی طرح سمجھتا گیا۔‏ یوں میرے دل میں خدا کی خدمت کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔‏

مَیں جانتا تھا کہ مجھے میرے ایمان کی وجہ سے اذیتیں سہنی پڑیں گی۔‏ اُس وقت دوسری عالمی جنگ ہو رہی تھی اور مجھے پتہ تھا کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کو کہا جائے گا۔‏ لیکن مَیں نے سیکھ لیا تھا کہ کسی کی جان لینا غلط ہے۔‏ لہٰذا آنے والی اذیتوں کا سامنا کرنے کے لیے مَیں نے بائبل کی کچھ آیتیں یاد کرنا شروع کر دیں جیسے کہ متی 10:‏28 اور متی 26:‏52‏۔‏ مَیں نے ٹھان لیا تھا کہ مَیں ہمیشہ یہوواہ کا وفادار رہوں گا چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔‏

جب 1944ء میں مَیں 18 سال کا ہوا تو مجھے فوج میں بھرتی ہونے کے لیے بلایا گیا۔‏ جب مَیں اُس جگہ پہنچا جہاں بھرتی ہو رہی تھی تو مَیں وہاں دوسرے نوجوان یہوواہ کے گواہوں سے ملا۔‏ یہ یہوواہ کے گواہوں سے میری پہلی ملاقات تھی۔‏ ہم سب نے پُرعزم ہو کر افسروں کو بتایا کہ ہم جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔‏ اِس پر افسر طیش میں آ گئے اور ہمیں دھمکی دی کہ وہ ہمیں بھوکا رکھیں گے،‏ ہم سے سخت مشقت کرائیں گے یا پھر ہمیں گولی سے اُڑا دیں گے۔‏ ہم نے نڈر ہو کر جواب دیا:‏ ”‏خدا کا حکم ہے کہ ”‏تُو خون نہ کرنا۔‏“‏ اِس لیے آپ چاہے کچھ بھی کر لیں،‏ ہم خدا کا یہ حکم نہیں توڑیں گے۔‏“‏—‏خر 20:‏13‏۔‏

اِس پر افسروں نے مجھے اور دو اَور بھائیوں کو ملک بیلاروس میں کھیتوں میں کام کرنے اور ٹوٹے پھوٹے گھروں کی مرمت کرنے بھیج دیا۔‏ (‏بیلاروس اُس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا۔‏)‏ مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جنگ کی وجہ سے شہر منسک کے آس‌پاس کتنی تباہی ہوئی تھی۔‏ سٹرکوں کی دونوں طرف جلے ہوئے درخت تھے اور لوگوں اور گھوڑوں کی لاشیں  جنگلوں میں پڑی ہوئی تھیں۔‏ مَیں نے فوجیوں کی ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں،‏ توپیں یہاں تک کہ جہاز کا ملبہ بھی دیکھا۔‏ مَیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ خدا کا حکم توڑنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔‏

1945ء میں جنگ ختم ہو گئی۔‏ مگر ہمیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی کیونکہ ہم نے جنگ میں حصہ لینے سے اِنکار کر دیا تھا۔‏ پہلے تین سالوں میں ہم نہ تو اِجلاس منعقد کر سکتے تھے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی روحانی خوراک تھی۔‏ ہم نے خط کے ذریعے کچھ بہنوں سے رابطہ کِیا لیکن اُنہیں بھی گِرفتار کر لیا گیا اور اُنہیں 25 سال بیگار کیمپ میں رہنے کی سزا دی گئی۔‏

پھر 1950ء میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو سزا ختم ہونے سے پہلے رہا کر دیا گیا اور ہم اپنے اپنے گھر چلے گئے۔‏ جب مَیں قید میں تھا تو میری والدہ اور میری چھوٹی بہن ماریہ یہوواہ کی گواہ بن گئیں۔‏ میرے تین بڑے بھائی اُس وقت یہوواہ کے گواہ نہیں تھے لیکن وہ بائبل کورس کر رہے تھے۔‏ چونکہ مَیں رہا ہونے کے بعد مُنادی کرنے لگا اِس لیے خفیہ پولیس مجھے دوبارہ سے قید میں ڈالنا چاہتی تھی۔‏ پھر ایک دن سوویت یونین میں مُنادی کے کام کی نگرانی کرنے والے بھائی نے مجھ سے کہا کہ مَیں چھپ کر کتابوں کو چھاپنے میں حصہ لوں۔‏ اُس وقت مَیں 24 سال کا تھا۔‏“‏

کتابوں اور رسالوں کی چھپائی

‏”‏گواہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ”‏اگر ہم کُھلے عام بادشاہت کا پیغام نہیں پھیلا سکتے تو پھر ہم خفیہ طور پر ایسا کریں گے۔‏“‏ (‏امثا 28:‏28‏)‏ اُس وقت ہماری زیادہ‌تر کتابیں اور رسالے زیرِزمین خفیہ جگہوں پر چھاپے جاتے تھے۔‏ سب سے پہلے مَیں نے ایک تہہ‌خانے میں چھپائی کا کام شروع کِیا جو میرے بڑے بھائی دمتری کے گھر کے نیچے تھا۔‏ بعض اوقات تو مَیں دو دو ہفتے تک تہہ‌خانے سے نہیں نکلتا تھا۔‏ جب کبھی آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لالٹین بجھ جاتی تھی تو مَیں وہیں لیٹ جاتا تھا اور اُس وقت تک اِنتظار کرتا رہتا تھا جب تک کمرا تازی ہوا سے بھر نہیں جاتا تھا۔‏

اُس تہہ‌خانے کی تصویر جہاں نیکولائی کتابیں اور رسالے چھاپتے تھے۔‏

 جس بھائی کے ساتھ مَیں کام کرتا تھا،‏ ایک دن اُس نے مجھ سے پوچھا:‏ ”‏نیکولائی،‏ کیا تمہارا بپتسمہ ہو گیا ہے؟‏“‏ حالانکہ مَیں 11 سال سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہا تھا لیکن میرا بپتسمہ نہیں ہوا تھا۔‏ اُس بھائی نے مجھ سے اِس کے بارے میں بات‌چیت کی اور اُسی رات ایک جھیل میں میرا بپتسمہ ہوا۔‏ اُس وقت میں 26 سال کا تھا۔‏ تین سال بعد مجھے ایک بھاری ذمےداری سونپی گئی۔‏ مجھے سوویت یونین میں اُس کمیٹی کا رُکن بنا دیا گیا جو وہاں ہمارے کام کی نگرانی کر رہی تھی۔‏ اُس وقت جب اِس کمیٹی کا کوئی رُکن گِرفتار ہو جاتا تھا تو اُس کی جگہ کسی اَور بھائی کو مقرر کر دیا جاتا تھا تاکہ مُنادی کا کام جاری رہے۔‏“‏

خفیہ طور پر کام کرنے کی مشکلات

‏”‏خفیہ طور پر چھپائی کرنا جیل میں رہنے سے بھی مشکل تھا۔‏ سات سال تک مجھے خفیہ پولیس سے چھپ کر کام کرنا پڑا۔‏ مَیں اِجلاسوں پر نہیں جا سکتا تھا اِس لیے مجھے اپنے ایمان کو مضبوط رکھنے کے لیے خود ہی کچھ اِقدام اُٹھانے پڑے۔‏ مَیں اپنے گھر والوں سے بہت ہی کم مل پاتا تھا۔‏ لیکن وہ میری صورتحال کو سمجھتے تھے جس سے مجھے حوصلہ ملتا تھا۔‏ ہر وقت پریشان اور چوکس رہ رہ کر مَیں تھک گیا تھا۔‏ میرے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔‏ مثال کے طور پر ایک شام دو پولیس والے اُس گھر آئے جہاں مَیں چھپا ہوا تھا۔‏ مَیں گھر کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر جنگل کی طرف بھاگنے لگا۔‏ بھاگتے بھاگتے مَیں ایک کھیت میں آ نکلا۔‏ مجھے اپنے پیچھے سے گولیاں چلنے کی آواز آ رہی تھی۔‏ ایک پولیس والا گھوڑے پر سوار ہو گیا اور مجھ پر اُس وقت تک گولیاں برساتا رہا جب تک وہ ختم نہ ہو گئیں۔‏ ایک گولی میرے بازو میں لگی۔‏ 5 کلومیٹر (‏3 میل)‏ تک بھاگنے کے بعد آخرکار مَیں ایک اَور جنگل میں چھپ گیا اور یوں پولیس والوں سے بچ گیا۔‏ کچھ سال بعد جب مجھے گِرفتار کر لیا گیا تو مُقدمے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ پولیس والوں نے مجھ پر 32 گولیاں چلائی تھیں۔‏

تہہ‌خانے میں رہ رہ کر میرا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔‏ مجھے ڈر تھا کہ میری رنگت سے لوگوں کو مجھ پر شک نہ ہو جائے اِس لیے میں زیادہ سے زیادہ دھوپ میں رہنے کی کوشش کرتا تھا۔‏ تہہ‌خانے میں رہنے کی وجہ سے میری صحت بھی خراب ہو گئی تھی۔‏ ایک مرتبہ مجھے دوسرے بھائیوں سے ایک اہم اِجلاس کے لیے ملنا تھا۔‏ مگر مَیں وہاں نہ جا سکا کیونکہ اُس دن میرے مُنہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا۔‏“‏

گِرفتاری

1963ء میں ایک بیگار کیمپ کے سامنے

‏”‏26 جنوری 1957ء میں مجھے گِرفتار کر لیا گیا۔‏ چھ مہینے بعد یوکرین کی سپریم کورٹ نے مجھے سزائےموت سنائی۔‏ لیکن اُس وقت ملک میں موت کی سزا کو ختم کر دیا گیا تھا۔‏ لہٰذا اِس سزا کو بدل کر مجھے 25 سال قید کی سزا دی گئی۔‏ ہم آٹھ بھائیوں کو فرق فرق مُدت کے لیے بیگار کیمپوں میں رہنے کی سزا دی گئی۔‏ ہماری سزائیں کُل ملا کر 130 سال کی تھیں۔‏ ہمیں ایسے  کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں تقریباً 500 سے زیادہ گواہ تھے۔‏ ہم چھپ کر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں مینارِنگہبانی کا مطالعہ کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔‏ جب بھی سپاہی ہمارے پاس کوئی رسالہ دیکھتے تھے تو وہ اِسے چھین لیا کرتے تھے۔‏ ایک سپاہی نے ہمارے ایک رسالے کو پڑھنے کے بعد کہا:‏ ”‏جب تک تُم لوگ یہ رسالے پڑھتے رہو گے تب تک ہم تمہارا ایمان کمزور نہیں کر پائیں گے۔‏“‏ ہم ہر دن بڑی لگن سے کام کرتے تھے۔‏ اور جو کام ہمیں دیا جاتا تھا،‏ ہم اکثر اُس سے زیادہ کرتے تھے۔‏ یہ سب دیکھنے کے باوجود کام کی نگرانی کرنے والا افسر ہم سے خوش نہیں تھا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏ہماری نظر میں یہ اہم نہیں کہ تُم کتنی محنت سے کام کر رہے ہو۔‏ ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ تُم اپنے مذہب سے وفاداری کرنے کی بجائے حکومت سے وفاداری کرو۔‏“‏“‏

ہم ہر دن بڑی لگن سے کام کرتے تھے۔‏ اور جو کام ہمیں دیا جاتا تھا،‏ ہم اکثر اُس سے زیادہ کرتے تھے۔‏

آخری سانس تک وفاداری

شہر ولکے لوکی میں کنگڈم ہال

انکل نیکولائی 1967ء میں بیگار کیمپ سے رہا ہو گئے۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے ایسٹونیا اور روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کلیسیاؤں کو قائم کرنے میں بھائیوں کی مدد کی۔‏ 1991ء کے شروع میں عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اُس فیصلے کو خارج کر دیا جو 1957ء میں اُن کے خلاف سنایا گیا تھا۔‏ 1991ء سے اُن بہت سے گواہوں کے خلاف مُقدموں کو خارج کِیا جانے لگا جو ماضی میں حکومت کے ہاتھوں تکلیف سہہ رہے تھے۔‏ 1996ء میں انکل شہر ولکے لوکی منتقل ہو گئے جو سینٹ پیٹرزبرگ سے 500 کلومیٹر (‏300 میل)‏ دُور تھا۔‏ وہاں اُنہوں نے ایک چھوٹا سا گھر اور زمین خرید لی۔‏ 2003ء میں اُن کی زمین پر ایک کنگڈم ہال تعمیر کِیا گیا۔‏ آج دو کلیسیائیں اِس کنگڈم ہال کو اِستعمال کرتی ہیں۔‏

مَیں اور میرے شوہر روس کے بیت‌ایل میں خدمت کرتے ہیں۔‏ انکل نیکولائی مارچ 2011ء میں اپنی موت سے کچھ مہینے پہلے ہم سے آخری بار ملنے آئے۔‏ اُنہوں نے ہم سے ایک ایسی بات کہی جس نے ہمارا دل چُھو لیا۔‏ مجھے آج بھی اُن کی آنکھوں میں وہ چمک یاد ہے جب اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ایک لحاظ سے تو اب یریحو کے گِرد چکر لگانے کا ساتواں دن شروع ہو گیا ہے۔‏“‏ (‏یشو 6:‏15‏)‏ انکل 85 سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔‏ حالانکہ اُن کو زندگی میں بہت سی مشکلیں سہنی پڑیں پھر بھی اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے بڑی خوشی ہے کہ مَیں نے نوجوانی میں یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏ مجھے اپنے اِس فیصلے پر ناز ہے۔‏“‏