مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا آپ اپنے ضمیر کی تربیت کر رہے ہیں؟‏

کیا آپ اپنے ضمیر کی تربیت کر رہے ہیں؟‏

‏’‏میری اِس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ محبت اُبھر آئے،‏ ایسی محبت جو خالص دل اور صاف ضمیر سے پیدا ہوتی ہے۔‏‘‏—‏1-‏تیم 1:‏5‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

گیت:‏ 22،‏ 48

1،‏ 2.‏ ضمیر کس کی دین ہے اور ہمیں اِس نعمت کے لیے شکرگزار کیوں ہونا چاہیے؟‏

یہوواہ خدا نے اِنسان کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی دی ہے۔‏ اُس نے آدم اور حوا اور اُن کی ہونے والی اولاد کو ایک خاص نعمت سے نوازا۔‏ یہ نعمت ضمیر ہے جس کی بدولت ہم صحیح اور غلط میں فرق کر سکتے ہیں۔‏ اگر ہم ضمیر کو صحیح طریقے سے اِستعمال کرتے ہیں تو ہمیں بُرائی سے دُور رہنے اور اچھے کام کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏ ضمیر کی نعمت عطا کرنے سے یہوواہ خدا نے ظاہر کِیا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ہم اچھے فیصلے کر کے کامیاب زندگی گزاریں۔‏

2 بعض لوگ اگرچہ بائبل میں درج اصولوں کو نہیں جانتے لیکن وہ پھر بھی اچھے کام کرتے  ہیں اور بُرائی سے نفرت کرتے ہیں۔‏ ‏(‏رومیوں 2:‏14،‏ 15 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ دراصل وہ اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہیں۔‏ بہت سے لوگ اپنے ضمیر کی وجہ سے سنگین بُرائیاں کرنے سے باز رہتے ہیں۔‏ ذرا سوچیں،‏ اگر ہمارے پاس ضمیر نہ ہوتا تو آج دُنیا کے حالات کس قدر بُرے ہوتے۔‏ جتنی بُرائیاں ہم آج دیکھتے ہیں،‏ شاید ہمیں اُس سے بھی زیادہ بُرائیاں دیکھنے کو ملتیں۔‏ ہم خدا کے واقعی بہت شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں ضمیر کی شان‌دار نعمت دی۔‏

3.‏ اگر ہم اپنے ضمیر کی تربیت بائبل کے اصولوں کے مطابق کریں گے تو اِس سے کیا فائدے ہوں گے؟‏

 3 دُنیا کے لوگوں کے برعکس ہم اپنے ضمیر کی تربیت  کرنا  چاہتے ہیں۔‏ ہم بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی تربیت کرتے ہیں۔‏ ایسا کرنے سے ہم کلیسیا میں اِتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔‏ لیکن اپنے ضمیر کی تربیت کرنے اور اِسے اِستعمال کرنے کے لیے بائبل کے اصولوں کو سیکھنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں اِن سے محبت بھی رکھنی چاہیے۔‏ اِس کے علاوہ ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ خدا کے اصول ہماری بھلائی کے لیے ہیں۔‏ اِس سلسلے میں پولُس نے لکھا:‏ ”‏میری اِس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ محبت اُبھر آئے،‏ ایسی محبت جو خالص دل،‏ صاف ضمیر اور بےریا ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔‏“‏ (‏1-‏تیم 1:‏5‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صاف ضمیر کا محبت اور ایمان سے گہرا تعلق ہے۔‏ جب ہم اپنے ضمیر کی تربیت کرتے ہیں اور اِس کی آواز سنتے ہیں تو ہمارے دل میں یہوواہ خدا کے لیے محبت اَور گہری ہو جاتی ہے اور ہمارا ایمان اَور مضبوط ہو جاتا ہے۔‏ جس طرح ہم اپنے ضمیر کو اِستعمال کرتے ہیں،‏ اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم یہوواہ خدا  کے کتنے قریب ہیں اور ہمارے دل میں اُسے خوش کرنے کی خواہش کتنی شدید ہے۔‏ اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اصل میں کس طرح کے اِنسان ہیں۔‏

4.‏ ہم اپنے ضمیر کی تربیت بائبل کے اصولوں کے مطابق کیسے کر سکتے ہیں؟‏

4 ہم اپنے ضمیر کی تربیت بائبل کے اصولوں کے مطابق کیسے کر سکتے ہیں؟‏ اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم روزانہ بائبل پڑھیں؛‏ جو کچھ ہم پڑھتے ہیں اُس پر سوچ بچار کریں اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں۔‏ ہمیں بائبل کا مطالعہ محض اِس مقصد سے نہیں کرنا چاہیے کہ ہم بس اصولوں اور واقعات سے واقف ہو جائیں۔‏ اِس کی بجائے ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہوواہ خدا کو اچھی طرح جان لیں۔‏ ہم یہ سیکھ لیں کہ اُس میں کون سی خوبیاں ہیں اور اُسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے۔‏ ہم یہوواہ کو جتنا قریب سے جانیں گے اُتنا ہی ہمارا ضمیر یہوواہ کے معیاروں کے مطابق کام کرے گا۔‏ اور جتنا ہم اپنے ضمیر کی تربیت کریں گے اُتنا ہی ہم یہوواہ کی طرح سوچیں گے۔‏

5.‏ اِس مضمون میں ہم زندگی کے کن تین پہلوؤں پر بات کریں گے؟‏

5 ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏اگر مَیں اپنے ضمیر کی تربیت بائبل کے اصولوں کے مطابق کروں گا تو کوئی فیصلہ کرتے وقت یہ میرے کام کیسے آئے گا؟‏ جب میرے مسیحی بہن بھائی اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں تو مَیں اُن کے فیصلوں کے لیے احترام کیسے ظاہر کر سکتا ہوں؟‏ اور میرا ضمیر مجھے اچھے کام کرنے کی ترغیب کیسے دے سکتا ہے؟‏“‏ اِن سوالوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیں،‏ ہم اپنی زندگی کے تین ایسے پہلوؤں پر بات کریں جن میں ہمیں اپنے ضمیر کی  تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔‏ (‏1)‏ صحت،‏ (‏2)‏ تفریح اور (‏3)‏ مُنادی کا کام۔‏

سمجھ‌داری سے کام لیں

6.‏ بہت سے بہن بھائی اکثر کس بارے میں سوال پوچھتے ہیں؟‏

6 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہم نقصان‌دہ کاموں سے دُور  رہیں اور کھانے پینے اور دیگر معاملات میں اِعتدال سے کام لیں۔‏ (‏امثا 23:‏20؛‏ 2-‏کُر 7:‏1‏)‏ بیمار تو ہم سبھی ہوتے ہیں اور بڑھاپا بھی ہم سب پر آئے گا لیکن بائبل میں درج اصولوں پر عمل کرنے سے ہم کسی حد تک اچھی صحت حاصل کر سکتے ہیں۔‏ بعض ملکوں میں ڈاکٹری علاج اور دوسری قسموں کے علاج دستیاب ہیں۔‏ ہماری برانچوں میں اکثر ایسے بہن بھائیوں کے خط آتے ہیں جو کوئی نہ کوئی علاج کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‏ بہت سے بہن بھائی اکثر یہ پوچھتے ہیں:‏ ”‏کیا فلاں علاج یہوواہ کے گواہوں کے لیے ٹھیک ہوگا؟‏“‏

7.‏ علاج کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت ایک مسیحی کو کیا کرنا چاہیے؟‏

7 برانچوں اور مقامی بزرگوں کے پاس یہ اِختیار نہیں  کہ  وہ  علاج کے سلسلے میں کسی بہن یا بھائی کے لیے کوئی فیصلہ کریں۔‏ اگر کوئی بہن یا بھائی ایسا کرنے کے لیے کہتا بھی ہے تو بھی بزرگوں کو اِس سے گریز کرنا چاہیے۔‏ (‏گل 6:‏5‏)‏ البتہ بزرگ اُس مسیحی کی توجہ بائبل کے اصولوں پر دِلا سکتے ہیں تاکہ وہ مسیحی صحیح فیصلہ کر سکے۔‏ مثال کے طور پر مسیحیوں کو یہوواہ خدا کے اِس حکم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ”‏لہو .‏ .‏ .‏ سے پرہیز کرو۔‏“‏ (‏اعما 15:‏29‏)‏ اِس حکم کی بِنا پر ایک مسیحی ایسا علاج  نہیں کروائے گا جس میں خون یا اِس کے چار بنیادی اجزا کو اِستعمال کِیا جاتا ہے۔‏ لیکن اِن چار بنیادی اجزا کو بھی مزید تقسیم کِیا جا سکتا ہے اور  پھر اِن سے حاصل ہونے والے اجزا کو مختلف طرح کے علاج میں اِستعمال کِیا جاتا ہے۔‏ ایسے علاجوں کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت بھی اعمال 15:‏29 میں درج اصول ہمارے کام آ سکتا ہے۔‏ * لیکن علاج کا اِنتخاب کرنے کے سلسلے میں بائبل کا اَور کون سا اصول ہمارے کام آ سکتا ہے؟‏

8.‏ کوئی علاج کروانے کے سلسلے میں فِلپّیوں 4:‏5 ہمارے کام کیسے آ سکتی ہے؟‏

8 امثال 14:‏15 میں لکھا ہے:‏ ”‏نادان ہر بات کا  یقین  کر  لیتا  ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روِش کو دیکھتا بھالتا ہے۔‏“‏ آج بعض بیماریوں کا علاج دستیاب نہیں ہے۔‏ اِس لیے ہمیں اُس وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے جب بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلاں علاج کروانے سے فلاں بیماری ٹھیک ہو جائے گی حالانکہ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔‏ پولُس رسول نے کہا:‏ ”‏آپ کی سمجھ‌داری سب لوگوں کو دِکھائی دے۔‏“‏ (‏فل 4:‏5‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ اگر ہم سمجھ‌دار ہیں تو ہم ہر وقت اپنی صحت کے بارے میں سوچتے رہنے کی بجائے اپنا دھیان یہوواہ خدا کی خدمت پر رکھیں گے۔‏ (‏فل 2:‏4‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ اِس دُنیا میں مکمل طور پر صحت‌مند رہنا ممکن نہیں ہے۔‏ اِس لیے یہ عزم کریں کہ آپ یہوواہ کی خدمت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔‏‏—‏فِلپّیوں 1:‏10 کو پڑھیں۔‏

کیا آپ اپنے نظریات دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 9 کو دیکھیں۔‏)‏

9.‏ ‏(‏الف)‏ رومیوں 14:‏13،‏ 19 اُن فیصلوں پر کیسے اثر ڈالتی ہیں جو ہم صحت کے حوالے سے کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ کلیسیا کا اِتحاد خطرے میں کیسے پڑ سکتا ہے؟‏

9 ایک سمجھ‌دار مسیحی اپنی رائے دوسروں پر نہیں تھوپتا۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ یورپ کی ایک کلیسیا میں ایک  شادی‌شُدہ جوڑا بہن بھائیوں کو کچھ خاص قسم کی غذا اور کچھ مخصوص وِٹامن کی گولیاں کھانے کی ترغیب دے رہا تھا۔‏ کچھ بہن بھائیوں نے اُن کی بات مان لی اور کچھ نے نہیں مانی۔‏ جو بہن بھائی یہ غذا اور گولیاں کھا رہے تھے اُنہیں کچھ خاص فائدہ نہ ہوا اور اِس وجہ سے وہ اُس جوڑے سے ناراض ہو گئے۔‏ اِس جوڑے کو اپنے لیے یہ فیصلہ کرنے کا حق تھا کہ وہ کون سی غذا اور کون سے وِٹامن کی گولیاں کھائے گا۔‏ لیکن اُنہوں نے صحت کے بارے میں اپنی رائے دوسروں پر تھوپ کر کلیسیا کے اِتحاد کو خطرے میں ڈال دیا جو بالکل سمجھ‌داری کی بات نہیں تھی۔‏ پہلی صدی میں بھی کچھ ایسی صورتحال تھی۔‏ روم کے مسیحی بعض قسموں کے کھانوں اور کچھ تہواروں کے بارے میں فرق فرق رائے رکھتے تھے۔‏ پولُس رسول نے اُنہیں اِس سلسلے میں کیا نصیحت کی؟‏ اُنہوں نے تہواروں کے سلسلے میں مسیحیوں سے کہا:‏ ”‏کوئی تو ایک دن کو دوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے۔‏ ہر ایک اپنے دل میں پورا اِعتقاد رکھے۔‏“‏ پولُس کی اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔‏‏—‏رومیوں 14:‏5،‏ 13،‏ 15،‏ 19،‏ 20 کو پڑھیں۔‏

10.‏ ہمیں دوسروں کے فیصلوں پر نکتہ‌چینی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

10 جب ایک مسیحی کسی ذاتی معاملے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے مگر  ہمیں اُس کے فیصلے کی وجہ سمجھ نہیں آتی تو ہمیں اُس پر نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہیے۔‏ ہمیں اُسے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کرنا  چاہیے۔‏ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ شاید بعض معاملوں میں اُس کا ضمیر ابھی بھی حساس ہے اور اِسے مزید تربیت کی ضرورت ہے۔‏ (‏1-‏کُر 8:‏11،‏ 12‏)‏ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شاید ہمیں بائبل کے اصولوں کے مطابق اپنے ضمیر کی مزید تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔‏ اپنی صحت کے حوالے سے ہمیں خود فیصلہ کرنا چاہیے اور نتائج کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔‏

اچھی تفریح سے لطف‌اندوز ہوں

11،‏ 12.‏ تفریح کا اِنتخاب کرتے وقت ہمیں بائبل کے کس اصول کو یاد رکھنا چاہیے؟‏

11 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ اِنسان خوش رہنے اور تازہ‌دم ہونے کے لیے تفریح کریں۔‏ بادشاہ سلیمان نے لکھا کہ ”‏ہنسنے کا ایک وقت ہے“‏ اور ”‏ناچنے کا ایک وقت ہے۔‏“‏ (‏واعظ 3:‏4‏)‏ لیکن ہر طرح کی تفریح فائدہ‌مند اور تازگیبخش نہیں ہوتی اور حد سے زیادہ تفریح کرنا بھی اچھا نہیں ہوتا۔‏ اچھی اور فائدہ‌مند تفریح کا اِنتخاب کرنے میں ہمارا ضمیر ہماری رہنمائی کیسے کرتا ہے؟‏

12 بائبل میں ہمیں ’‏جسم کے کاموں‘‏ سے خبردار رہنے کو کہا گیا ہے۔‏ جسم کے کاموں میں ’‏حرام‌کاری،‏ ناپاکی،‏ شہوت‌پرستی،‏ بُت‌پرستی،‏ جادوگری،‏ عداوتیں،‏ جھگڑا،‏ حسد،‏ غصہ،‏ تفرقے،‏ جُدائیاں،‏ بدعتیں،‏ بغض،‏ نشہ‌بازی،‏ ناچ رنگ‘‏ وغیرہ شامل ہیں۔‏ پولُس نے لکھا کہ ”‏ایسے کام کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔‏“‏ (‏گل 5:‏19-‏21‏)‏ لہٰذا ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا میرا ضمیر مجھے ایسی کھیلوں کو دیکھنے اور کھیلنے سے منع کرتا ہے جن میں قوم‌پرستی اور تشدد وغیرہ ہوتا ہے؟‏ کیا مَیں کوئی ایسی فلم دیکھنے کا فیصلہ کرتے وقت اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہوں جس میں گندے سین ہو سکتے ہیں یا پھر جس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بدکاری،‏ جادوگری اور حد سے زیادہ شراب پینے میں کوئی حرج نہیں ہے؟‏“‏

13.‏ پہلا تیمُتھیُس 4:‏8 اور امثال 13:‏20 میں درج اصول ورزش اور تفریح کے سلسلے میں ہمارے کام کیسے آ سکتے ہیں؟‏

13 بائبل میں ایسے اصول بھی ہیں جن کی بِنا پر ہم  ورزش  اور تفریح کے سلسلے میں اپنے ضمیر کی تربیت کر سکتے ہیں۔‏ اِن میں سے ایک اصول یہ ہے:‏ ”‏جسمانی ریاضت سے تھوڑا فائدہ تو ہوتا ہے۔‏“‏ (‏1-‏تیم 4:‏8‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اِس لیے بہت سے بہن بھائی سمجھتے ہیں کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے اِنسان صحت‌مند اور تازہ‌دم رہتا ہے۔‏ لیکن اگر ہم ایک گروپ کی صورت میں ورزش کرنا چاہتے ہیں تو کیا کسی بھی گروپ میں شامل ہو جانا ٹھیک ہوگا؟‏ امثال 13:‏20 میں لکھا ہے:‏ ”‏وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائے گا۔‏“‏ لہٰذا جب ہم تفریح اور ورزش کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اپنے ضمیر کو کام میں لانا بہت اہم ہے۔‏

14.‏ ایک نوجوان بہن کو رومیوں 14:‏2-‏4 سے کیا فائدہ ہوا؟‏

14 کرسٹن اور ڈینی‌ایلا کی دو نوجوان  بیٹیاں  ہیں۔‏  کرسٹن بتاتے ہیں:‏ ”‏خاندانی عبادت کے دوران ہم نے تفریح کے موضوع پر بات کی۔‏ ہم سب اِس بات سے متفق تھے کہ تفریح کی کچھ قسمیں اچھی ہیں اور کچھ بُری ہیں۔‏ ہم نے اِس بات پر بھی غور کِیا کہ ہمیں کن کے ساتھ تفریح کرنی چاہیے۔‏ ہماری ایک بیٹی نے بتایا کہ اُس کے سکول میں آدھی چھٹی کے دوران کچھ نوجوان گواہ ایسے کام کرتے ہیں جو اُسے اچھے نہیں لگتے۔‏ اور وہ گواہ اُس پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ اُن جیسے کام کرے۔‏ ہم نے اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ یہوواہ نے ہم سب کو ضمیر عطا کِیا ہے اور ہمیں اِس کی رہنمائی میں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح کی تفریح کریں گے اور کن کے ساتھ کریں گے۔‏“‏‏—‏رومیوں 14:‏2-‏4 کو پڑھیں۔‏

اپنے ضمیر کی تربیت کرنے سے آپ خطروں سے بچ سکتے ہیں۔‏ (‏پیراگراف 14 کو دیکھیں۔‏)‏

15.‏ ہم تفریح کے سلسلے میں متی 6:‏33 میں درج بات پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

15 آپ کب تفریح کرتے ہیں اور اِس میں کتنا وقت  صرف کرتے ہیں؟‏ کیا آپ اِجلاس،‏ مُنادی اور بائبل کا مطالعہ کرنے کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا آپ کی نظر میں  تفریح زیادہ اہم ہے؟‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏پہلے [‏خدا]‏ کی بادشاہی اور اُس کی راست‌بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تُم کو مل جائیں گی۔‏“‏ (‏متی 6:‏33‏)‏ جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ تفریح میں کتنا وقت صرف کریں گے تو کیا آپ کا ضمیر آپ کو یسوع مسیح کی اِس نصیحت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟‏

جوش سے مُنادی کا کام کریں

16.‏ جب ہم مُنادی کرتے ہیں تو ہمارا ضمیر کیا گواہی دیتا ہے؟‏

16 ہمارا ضمیر ہمیں صرف غلط کاموں سے ہی خبردار نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں اچھے کام کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔‏ اِن اچھے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم گھر گھر جا کر اور غیرمنظم طریقے سے لوگوں کو خوش‌خبری سنائیں۔‏ پولُس کے ضمیر نے اُنہیں ایسا کرنے کی ترغیب دی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ’‏خوش‌خبری سنانا تو میرے لیے ضروری بات ہے بلکہ مجھ پر افسوس ہے اگر خوش‌خبری نہ سناؤں۔‏‘‏ (‏1-‏کُر 9:‏16‏)‏ جب ہم پولُس کی مثال پر عمل کرتے ہیں تو ہمارا ضمیر یہ گواہی دیتا ہے کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ ہم اپنے پیغام سے لوگوں کے ضمیر کو جگا سکتے ہیں اور یوں ’‏ہر ایک کے دل میں اپنی نیکی بٹھا سکتے ہیں۔‏‘‏—‏2-‏کُر 4:‏2‏۔‏

17.‏ ایک بہن نے کیسے ظاہر کِیا کہ اُس نے اپنے ضمیر کی آواز سنی؟‏

17 جیک‌لین نامی بہن کی مثال پر غور کریں۔‏ جب  وہ  16 سال کی تھیں تو اُنہوں نے اپنے سکول میں بائیولوجی پڑھی تھی۔‏ اِس کلاس میں طالبِ‌علموں کو اِرتقا کے نظریے کی تعلیم دی  جاتی  تھی۔‏ جیک‌لین کہتی ہیں:‏ ”‏اِس کلاس میں جب مختلف موضوعات پر بات ہوتی تھی تو مَیں کُھل کر حصہ لیتی تھی۔‏ لیکن جب بھی اِرتقا کے موضوع پر بات ہوتی تھی تو مَیں اپنے ضمیر کی وجہ سے اِس کے بارے میں اپنی رائے نہیں دیتی تھی۔‏ مَیں اِرتقا کے نظریے کی حمایت نہیں کرنا چاہتی تھی۔‏ اِس لیے مَیں اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور اُنہیں اپنا مسئلہ بتایا۔‏ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ مجھ سے ناراض نہیں ہوئیں بلکہ اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں پوری کلاس کے سامنے تخلیق کے موضوع پر بات کروں۔‏“‏ جیک‌لین کو اِس بات پر بہت خوشی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ضمیر کی آواز سنی۔‏ کیا آپ کا ضمیر بھی آپ کو اچھے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟‏

18.‏ ہم اپنے ضمیر کی تربیت بائبل کے اصولوں کے مطابق کیوں کرنا چاہتے ہیں؟‏

18 ہمارا عزم ہے کہ ہم یہوواہ خدا کے اصولوں اور معیاروں کے مطابق زندگی گزاریں گے۔‏ اور اِس عزم پر قائم رہنے میں ہمارا ضمیر ہمارے بہت کام آ سکتا ہے۔‏ جب ہم باقاعدگی سے خدا کے کلام کو پڑھتے،‏ اِس پر سوچ بچار کرتے اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں تو ہم اپنے ضمیر کی تربیت کر رہے ہوتے ہیں۔‏ پھر ہمارا ضمیر ہر راہ میں  ہماری رہنمائی کرتا ہے اور یوں ایک شان‌دار نعمت ثابت ہوتا ہے۔‏

^ پیراگراف 7 اِس سلسلے میں مینارِنگہبانی 15 جون 2004ء،‏ صفحہ 29-‏31 میں ”‏سوالات از قارئین“‏ کو دیکھیں۔‏