مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خاتمے کے منتظر رہیں

خاتمے کے منتظر رہیں

‏”‏اگرچہ اِس میں دیر ہو تو بھی اِس کا منتظر رہ۔‏“‏—‏حبق 2:‏3‏۔‏

گیت:‏ 32،‏ 45

1،‏ 2.‏ خدا کی پیش‌گوئیوں کے سلسلے میں اُس کے بندوں نے کیسا رُجحان ظاہر کِیا ہے؟‏

ماضی میں یہوواہ کے بندے پیش‌گوئیوں کی تکمیل کو دیکھنے کے منتظر رہے۔‏ مثال کے طور پر یرمیاہ نے پیش‌گوئی کی کہ ملک یہوداہ بالکل ویران ہو جائے گا۔‏ لیکن اُنہوں نے اِس پیش‌گوئی کی تکمیل کو کئی سال بعد دیکھا۔‏ 607 قبل‌ازمسیح میں بابل کی فوج نے اِس ملک کو واقعی ویران کر دیا۔‏ (‏یرم 25:‏8-‏11‏)‏ پھر یسعیاہ نے پیش‌گوئی کی کہ یہوواہ جلاوطن یہودیوں کو واپس لائے گا۔‏ اُنہوں نے کہا کہ ”‏مبارک ہیں وہ سب جو [‏یہوواہ]‏ کا اِنتظار کرتے ہیں۔‏“‏ (‏یسع 30:‏18‏)‏ میکاہ کو بھی یقین تھا کہ یہوواہ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں [‏یہوواہ]‏ کی راہ دیکھوں گا اور اپنے نجات دینے والے خدا کا اِنتظار کروں گا۔‏“‏ (‏میک 7:‏7‏)‏ کئی صدیوں تک یہوواہ کے بندے اُن پیش‌گوئیوں کی تکمیل کے بھی منتظر رہے جو مسیح کے متعلق کی گئی تھیں۔‏—‏لُو 3:‏15؛‏ 1-‏پطر 1:‏10-‏12‏۔‏ *

2 آج ہم بھی اُن پیش‌گوئیوں کی تکمیل کے منتظر ہیں جو خدا کی بادشاہت کے بارے میں کی گئی ہیں۔‏ اِس بادشاہت کے بادشاہ یسوع مسیح جلد ہی یہوواہ کے بندوں کو اِس بُری دُنیا کے  خاتمے سے بچائیں گے۔‏ وہ تمام بُرے لوگوں اور دُکھ تکلیف کو ختم کر دیں گے۔‏ (‏1-‏یوح 5:‏19‏)‏ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم روحانی طور پر جاگتے رہیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اِس دُنیا کا خاتمہ واقعی بہت نزدیک ہے۔‏

3.‏ اگر آپ کافی سالوں سے خاتمے کا اِنتظار کر رہے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے؟‏

3 ہماری دلی آرزو ہے کہ  خدا  کی  مرضی  ”‏جیسی  آسمان  پر  پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔‏“‏ (‏متی 6:‏10‏)‏ اِس دُنیا کے خاتمے کا کئی سالوں تک اِنتظار کرنے کے بعد شاید ہم سوچیں کہ ”‏کیا خاتمے کے منتظر رہنے کی واقعی ٹھوس وجوہات ہیں؟‏“‏ آئیں،‏ کچھ وجوہات پر غور کریں۔‏

خاتمے کے منتظر رہنے کی وجوہات

4.‏ ہمارے پاس خاتمے کے منتظر رہنے کی ایک اہم وجہ کیا ہے؟‏

4 بائبل میں  صاف  طور  پر  بتایا  گیا  ہے  کہ  اِس  دُنیا  کے  خاتمے کے بارے میں ہمارا رُجحان کیا ہونا چاہیے۔‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی تھی کہ ”‏جاگتے رہو۔‏“‏ (‏متی 24:‏42؛‏ لُو 21:‏34-‏36‏)‏ لہٰذا خاتمے کے منتظر رہنے کی ایک اہم وجہ یہی ہے کہ یسوع مسیح نے ہمیں ایسا کرنے کی نصیحت کی ہے۔‏ اِس سلسلے میں یہوواہ کی تنظیم نے بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔‏ ہماری مطبوعات میں لگاتار یہ تاکید کی جاتی ہے کہ ہمیں نئی دُنیا کے بارے میں خدا کے وعدوں کی تکمیل اور اُس کے ’‏دن کے آنے کے منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔‏‘‏‏—‏2-‏پطرس 3:‏11-‏13 کو پڑھیں۔‏

5.‏ خاتمے کے منتظر رہنے کی ایک اَور وجہ کیا ہے؟‏

5 اگر صدیوں پہلے مسیح کے شاگردوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ یہوواہ کے دن کے منتظر رہیں تو پھر آج ہمارے لیے یہ اَور بھی زیادہ ضروری ہے۔‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ وجہ یہ ہے کہ یسوع مسیح 1914ء سے بادشاہ بن چکے ہیں۔‏ اُس سال سے ہم ”‏دُنیا کے آخر“‏ میں رہ رہے ہیں۔‏ اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ  تب سے مسیح کی پیش‌گوئی کے مطابق حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور پوری دُنیا میں بادشاہت کی مُنادی ہو رہی ہے۔‏ (‏متی 24:‏3،‏ 7-‏14‏)‏ یسوع مسیح نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ’‏دُنیا کا آخر‘‏ کتنا طویل ہوگا اِس لیے ہمیں ہر وقت جاگتے اور ہوشیار رہنا چاہیے۔‏

6.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ مستقبل میں حالات آج سے کہیں زیادہ خراب ہو جائیں گے؟‏

6 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ’‏اخیر زمانے‘‏ میں بدکاری بہت بڑھ جائے گی۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏1،‏ 13؛‏ متی 24:‏21؛‏ مکا 12:‏12‏)‏ یہ سچ ہے کہ آج بھی حالات خراب ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ مستقبل میں یہ اَور زیادہ خراب ہو جائیں گے۔‏ اِس وجہ سے شاید بعض سوچیں کہ ’‏دُنیا کا آخر‘‏ اُس وقت کی طرف اِشارہ کرتا ہے جب حالات آج سے کہیں زیادہ خراب ہوں گے۔‏

7.‏ متی 24:‏37-‏39 سے آخری زمانے میں حالات کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

7 لیکن آپ کے خیال میں ”‏بڑی مصیبت“‏ سے پہلے حالات کس حد تک خراب ہوں گے؟‏ (‏مکا 7:‏14‏)‏ مثال کے طور پر کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ ہر ملک میں جنگ ہوگی،‏ ہر گھر میں کھانے کی قلت ہوگی اور ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد بیمار ہوگا؟‏ ایسی صورت میں تو بائبل پر شک کرنے والے بھی مان لیں گے کہ بائبل کی پیش‌گوئی پوری ہو رہی ہے۔‏ لیکن یسوع نے کہا تھا کہ زیادہ‌تر لوگوں کو اُن کی موجودگی کی ”‏خبر نہ“‏ ہوگی یعنی وہ اُن کی موجودگی کے ثبوت پر توجہ نہیں دیں گے اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مگن رہیں گے جب تک کہ خاتمہ نہیں آ جاتا۔‏ ‏(‏متی 24:‏37-‏39 کو پڑھیں۔‏)‏ لہٰذا پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ دُنیا کے حالات اِس حد تک خراب نہیں ہوں گے کہ لوگ یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں کہ خاتمہ نزدیک ہے۔‏—‏لُو 17:‏20؛‏ 2-‏پطر 3:‏3،‏ 4‏۔‏

8.‏ مسیح کے پیروکاروں کے لیے کون سی بات واضح ہے؟‏

 8 اِس کے برعکس یسوع مسیح نے جو نشان دیا وہ اِتنا واضح تو ہونا ہی تھا کہ اُن کے پیروکار اِس نشان کو پہچان سکیں اور یوں جاگتے رہیں۔‏ (‏متی 24:‏27،‏ 42‏)‏ 1914ء سے اِس نشان کے مختلف پہلو دِکھائی دے رہے ہیں۔‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا زمانہ ہی ’‏دُنیا کا آخر‘‏ ہے یعنی وہ عرصہ جو اِس بُری دُنیا کی تباہی پر ختم ہوگا۔‏

9.‏ ہمیں دُنیا کے خاتمے کے منتظر کیوں رہنا چاہیے؟‏

9 لہٰذا ہمیں دُنیا کے خاتمے کا منتظر کیوں رہنا چاہیے؟‏ پہلی وجہ یہ ہے کہ یسوع مسیح نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔‏ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج اُس نشان کے مختلف پہلو صاف نظر آ رہے ہیں جو اُنہوں نے آخری زمانے کے بارے میں دیا تھا۔‏ ہم نے خاتمے کی نزدیکی پر محض آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کر لیا بلکہ اِس لیے یقین کِیا ہے کیونکہ اِس کے بارے میں بائبل کی پیش‌گوئیاں پوری ہو رہی ہیں۔‏ اِس لیے ہم جاگتے اور ہوشیار رہتے ہیں۔‏ اور ہاں،‏ اِس دُنیا کے خاتمے کے منتظر رہتے ہیں!‏

اِنتظار کب تک؟‏

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع نے اپنے آنے کے بارے میں کس بات سے آگاہ کِیا؟‏ (‏ب)‏ اگر ہم کافی عرصے سے خاتمے کا اِنتظار کر رہے ہیں تو ہمیں یسوع کی کس ہدایت کو یاد رکھنا چاہیے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلے تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

10 ہمارے بہت سے بہن بھائی ایک لمبے عرصے سے روحانی طور پر جاگ رہے ہیں۔‏ لیکن ہم چاہے جتنے بھی عرصے سے ایسا کر رہے ہوں،‏ ہمیں اپنا یہ عزم کمزور نہیں پڑنے دینا چاہیے کہ ہم یہوواہ کے دن کے منتظر اور مشتاق رہیں گے۔‏ ہمیں اُس وقت کے لیے بالکل تیار رہنا چاہیے جب یسوع مسیح اِس بُری دُنیا کو تباہ کرنے آئیں گے۔‏ یسوع مسیح کی اِس تاکید کو یاد رکھیں:‏ ”‏خبردار!‏ جاگتے اور دُعا کرتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔‏ یہ اُس آدمی کا سا حال ہے جو پردیس گیا اور اُس نے گھر سے رُخصت ہوتے وقت اپنے نوکروں کو اِختیار دیا یعنی ہر ایک کو اُس کا کام بتا دیا اور دربان کو حکم دیا کہ جاگتا رہے۔‏ پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا۔‏ شام کو یا آدھی رات کو یا مُرغ کے بانگ دیتے وقت یا صبح کو۔‏ ایسا نہ ہو کہ اچانک آ کر وہ تُم کو سوتے پائے۔‏ اور جو کچھ مَیں تُم سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں کہ جاگتے رہو۔‏“‏—‏مر 13:‏33-‏37‏۔‏

11 جب یسوع کے پیروکاروں نے سمجھ لیا کہ یسوع 1914ء میں بادشاہ بن گئے ہیں تو وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ خاتمہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔‏ لہٰذا اُنہوں نے بادشاہت کی زیادہ سے زیادہ مُنادی کرنے سے ظاہر کِیا کہ وہ خاتمے کے لیے تیار ہیں۔‏ یسوع نے بتایا کہ وہ شاید ”‏مُرغ کے بانگ دیتے وقت یا صبح کو“‏ آئیں یعنی اُن کے آنے میں کچھ دیر ہو سکتی ہے۔‏ ایسی صورت میں اُن کے پیروکاروں کو کیا کرنا ہوگا؟‏ یسوع نے کہا کہ ”‏جاگتے رہو۔‏“‏ لہٰذا اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم کافی عرصے سے خاتمے کا اِنتظار کر رہے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خاتمہ ابھی بہت دُور ہے یا پھر یہ ہماری زندگی میں نہیں آئے گا۔‏

12.‏ حبقوق نبی نے یہوواہ سے کیا پوچھا اور یہوواہ نے کیا جواب دیا؟‏

12 ذرا حبقوق نبی کی مثال پر  غور  کریں۔‏  خدا  کے  حکم  کے  مطابق اُنہوں نے یروشلیم کی تباہی کا اِعلان کِیا۔‏ اُن سے پہلے کئی سال تک دوسرے نبی بھی یہ اِعلان کرتے رہے تھے۔‏ حالات اِتنے خراب ہو گئے تھے کہ شریر لوگ صادقوں سے بڑھ گئے تھے اور اِنصاف کا خون ہو رہا تھا۔‏ اِس لیے حبقوق نے خدا سے پوچھا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ مَیں کب تک نالہ کروں گا“‏؟‏ یہوواہ نے یہ بتانے کی بجائے کہ یروشلیم کی تباہی میں کتنا وقت باقی ہے،‏ اُس نے اپنے نبی کو یقین دِلایا کہ آنے والی تباہی ”‏تاخیر نہ کرے گی۔‏“‏ خدا نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِس کا منتظر رہ۔‏“‏‏—‏حبقوق 1:‏1-‏4؛‏ 2:‏3 کو پڑھیں۔‏

13.‏ حبقوق کے ذہن میں کیا بات آ سکتی تھی اور اِس سے اُنہیں کیا نقصان ہو سکتا تھا؟‏

 13 تصور کریں کہ حبقوق اِنتظار کرتے  کرتے  تھک  گئے  ہیں اور یہ سوچتے ہیں:‏ ”‏مَیں کئی سالوں سے یروشلیم کی تباہی کے بارے میں سُن رہا ہوں۔‏ اگر اِس کے آنے میں ابھی بھی بہت وقت ہے تو پھر لوگوں کو یہ بتانے کا کیا فائدہ ہے کہ یروشلیم جلد تباہ ہو جائے گا؟‏ یہ پیغام سنانے کا کام دوسرے نبی ہی کرتے رہیں تو اچھا ہے۔‏“‏ اگر حبقوق نے ایسا سوچا ہوتا تو وہ نہ صرف یہوواہ کی خوشنودی کھو دیتے بلکہ یروشلیم کی تباہی کے دوران شاید اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے۔‏

14.‏ مستقبل میں ہم اِس بات کے لیے یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہوں گے کہ اُس نے ہمیں خاتمے کا منتظر رہنے کی ہدایت کی تھی؟‏

14 اب تصور کریں کہ آپ نئی دُنیا میں پہنچ گئے ہیں۔‏ وہ سب پیش‌گوئیاں پوری ہو چکی ہیں جو یہوواہ نے آخری زمانے کے بارے میں کی تھیں۔‏ آپ یہوواہ پر پہلے سے زیادہ بھروسا کرنے لگے ہیں اور مستقبل کے بارے میں یہوواہ کے وعدوں پر آپ کا اِعتماد اَور پکا ہو گیا ہے۔‏ ‏(‏یشوع 23:‏14 کو پڑھیں۔‏)‏ آپ ’‏وقتوں اور میعادوں کو اپنے ہی اِختیار میں رکھنے والے‘‏ خدا کے شکرگزار ہیں کہ اُس نے آپ کو اِس بات سے خبردار کِیا کہ ”‏سب چیزوں کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے۔‏“‏—‏اعما 1:‏7؛‏ 1-‏پطر 4:‏7‏۔‏

منتظر رہنے کا مطلب فارغ رہنا نہیں

کیا آپ مُنادی میں دل‌وجان سے حصہ لیتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 15 کو دیکھیں۔‏)‏

15،‏ 16.‏ ہمیں اب مُنادی کے کام میں دل‌وجان سے حصہ کیوں لینا چاہیے؟‏

15 ہمیں یقین ہے کہ یہوواہ  کی  تنظیم  لگن  سے  مُنادی  کا  کام کرنے کے سلسلے میں ہماری حوصلہ‌افزائی کرتی رہے گی۔‏ وہ نہ صرف ہمیں خدا کی خدمت میں مشغول رکھنا چاہتی ہے بلکہ ہمیں اِس بات سے بھی باخبر رکھنا چاہتی ہے کہ مسیح نے حکمرانی شروع کر دی ہے اور وہ جلد ہی اِس بُری دُنیا کو ختم کر دیں گے۔‏ لہٰذا اب کون سا قدم اُٹھانا سب سے اہم ہے؟‏ اہم قدم یہ ہے کہ ہم خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلے مقام پر رکھیں اور دل‌وجان سے خوش‌خبری سناتے رہیں۔‏—‏متی 6:‏33؛‏ مر 13:‏10‏۔‏

16 اِس سلسلے میں ایک بہن نے  کہا:‏  ”‏بادشاہت  کی  مُنادی کرنے سے ہم لوگوں کو اِس دُنیا کے خاتمے میں ہلاک ہونے سے بچا سکتے ہیں۔‏“‏ یہ بہن جان بچانے کی اہمیت سے خوب واقف ہے کیونکہ اُسے اور اُس کے شوہر کو ایک خوف‌ناک حادثے سے بچایا گیا تھا۔‏ وہ دونوں 1945ء میں ایک بحری جہاز میں سوار تھے جس کا نام ولہلم گوستلوف تھا۔‏ جب یہ جہاز ڈوبا تو ہزاروں لوگ مارے گئے۔‏ اِس حادثے کے دوران اِس بہن نے دیکھا کہ کچھ لوگ خطرناک صورتحال میں بھی یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اُن کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے۔‏ اِس بہن نے بتایا کہ ایک عورت چلا چلا کر کہہ رہی تھی کہ ”‏ہائے میرے سوٹ کیس!‏ میرے سوٹ کیس!‏ ہائے میرے زیور!‏ وہ سب تو نیچے ہی رہ گئے۔‏ میرا سب کچھ لٹ گیا!‏“‏ لیکن کچھ مسافروں  کی نظر میں سب سے اہم چیز لوگوں کی زندگی تھی اِس لیے وہ یخ پانی میں گِرے ہوئے لوگوں کو بچانے میں لگ گئے۔‏ آج بھی لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے۔‏ ہم بھی اُن مسافروں کی طرح لوگوں کی جان بچانا چاہتے ہیں۔‏ اِس لیے ہم مُنادی کے کام میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ اِس دُنیا کے خاتمے سے بچ سکیں۔‏

کیا آپ کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مُنادی کے کام کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 17 کو دیکھیں۔‏)‏

17.‏ ہم یہ یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خاتمہ کسی بھی لمحے آ سکتا ہے؟‏

17 دُنیا میں ہونے والے واقعات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بہت سی پیش‌گوئیاں آج پوری ہو رہی ہیں اور اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک ہے۔‏ اِس لیے ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ وقت ابھی دُور ہے جب ”‏دس سینگ“‏ اور ”‏حیوان“‏ بڑے شہر بابل یعنی تمام جھوٹے مذاہب پر حملہ کریں گے۔‏ (‏مکا 17:‏16‏)‏ یاد رکھیں کہ ”‏خدا اُن کے دلوں میں“‏ ایسا کرنے کا خیال ڈالے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے۔‏ (‏مکا 17:‏17‏)‏ اِس دُنیا کا خاتمہ اب دُور نہیں۔‏ اِس لیے ہمیں یسوع مسیح کی اِس نصیحت پر عمل کرنا چاہیے:‏ ”‏خبردار رہو۔‏ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہ‌بازی اور اِس زندگی کی فکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دن تُم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔‏“‏ (‏لُو 21:‏34،‏ 35؛‏ مکا 16:‏15‏)‏ آئیں،‏ ہم جاگتے رہیں اور یہوواہ کی خدمت میں مشغول رہیں۔‏ اِس بات پر بھروسا رکھیں کہ یہوواہ ’‏اپنے اِنتظار کرنے والوں کے لئے کچھ کر دِکھائے گا۔‏‘‏—‏یسع 64:‏4‏۔‏

18.‏ اگلے مضمون میں ہم کس سوال پر غور کریں گے؟‏

18 اِس بُری دُنیا کے خاتمے کا اِنتظار کرنے کے ساتھ ساتھ آئیں،‏ ہم شاگرد یہوداہ کی اِس نصیحت پر عمل کرتے رہیں:‏ ”‏اَے  پیارو!‏ اپنے پاک‌ترین ایمان میں اپنی ترقی کر کے اور روحُ‌القدس میں دُعا کر کے اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کی رحمت کے منتظر رہو۔‏“‏ (‏یہوداہ 20،‏ 21‏)‏ لیکن ہم اپنے طرزِزندگی سے یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم نئی دُنیا کے منتظر اور مشتاق ہیں؟‏ اِس سوال پر ہم اگلے مضمون میں غور کریں گے۔‏

^ پیراگراف 1 مسیح کے بارے میں کچھ پیش‌گوئیاں جاننے کے لیے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے صفحہ 200 کو دیکھیں۔‏