مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

آخری زمانے میں سوچ سمجھ کر دوست بنائیں

آخری زمانے میں سوچ سمجھ کر دوست بنائیں

‏”‏بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔‏“‏—‏1-‏کُر 15:‏33‏۔‏

گیت:‏ 25،‏ 20

1.‏ ہم کس دَور میں رہ رہے ہیں؟‏

ہم بہت ہی مشکل دَور سے گزر رہے ہیں۔‏ بائبل میں اِس دَور کو ”‏اخیر زمانہ“‏ کہا گیا ہے جس کا آغاز 1914ء میں ہوا تھا۔‏ اِس زمانے میں حالات جتنے بُرے ہیں اُتنے 1914ء سے پہلے کبھی نہیں تھے۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏1-‏5‏)‏ یہ حالات اَور بھی خراب ہوتے جائیں گے کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏بُرے اور دھوکاباز آدمی .‏ .‏ .‏ بگڑتے چلے جائیں گے۔‏“‏—‏2-‏تیم 3:‏13‏۔‏

2.‏ آج‌کل بہت سے لوگ کس طرح کی تفریح پسند کرتے ہیں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

2 آج‌کل بہت سے لوگ محض تفریح کی خاطر تشدد،‏ جادوگری یا غیراخلاقی حرکتیں کرتے ہیں یا پھر وہ ایسے پروگرام دیکھتے ہیں جن میں یہ کام دِکھائے جاتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر اِنٹرنیٹ،‏ ٹی‌وی پروگراموں،‏ فلموں،‏ کتابوں اور رسالوں کے ذریعے اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ماردھاڑ اور بدکاری میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔‏ پہلے کبھی جن کاموں کو دیکھ کر لوگوں کو دھچکا لگتا تھا آج اُن ہی کاموں کو لوگ بُرا خیال نہیں کرتے،‏ یہاں تک کہ بعض ملکوں میں اُنہیں جائز قرار دے دیا گیا ہے۔‏ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا بھی اُن کاموں کو اچھا سمجھتا ہے۔‏‏—‏رومیوں 1:‏28-‏32 کو پڑھیں۔‏

3.‏ خدا کی مرضی پر چلنے والوں کو اکثر کیسا خیال کِیا جاتا ہے؟‏

 3 پہلی صدی میں یسوع مسیح کے شاگردوں نے غیراخلاقی کھیل تماشوں کو رد کِیا تھا۔‏ چونکہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلتے تھے اِس لیے لوگ اُن کا مذاق اُڑاتے اور اُنہیں اذیت پہنچاتے تھے۔‏ پطرس رسول نے اُن لوگوں کے بارے میں لکھا کہ ”‏وہ تعجب کرتے ہیں کہ تُم [‏یعنی مسیحی]‏ اُسی سخت بدچلنی تک اُن کا ساتھ نہیں دیتے اور لعن‌طعن کرتے ہیں۔‏“‏ (‏1-‏پطر 4:‏4‏)‏ آج بھی لوگ سچے مسیحیوں کو عجیب خیال کرتے ہیں کیونکہ وہ بائبل کے اصولوں پر چلتے ہیں۔‏ پاک کلام ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ”‏جتنے مسیح یسوؔع میں دین‌داری کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے۔‏“‏—‏2-‏تیم 3:‏12‏۔‏

‏”‏بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں“‏

4.‏ پاک کلام ہمیں اِس دُنیا کے حوالے سے کیا نصیحت کرتا ہے؟‏

4 جو لوگ خدا کی مرضی پر چلنا چاہتے ہیں،‏ اُنہیں پاک کلام میں نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اِس دُنیا اور اِس کی چیزوں سے محبت نہ کریں۔‏ ‏(‏1-‏یوحنا 2:‏15،‏ 16 کو پڑھیں۔‏)‏ شیطان ’‏اِس جہان کا خدا‘‏ ہے۔‏ وہ مذہبی،‏ سیاسی اور کاروباری نظام اور ذرائع‌ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔‏ (‏2-‏کُر 4:‏4؛‏ 1-‏یوح 5:‏19‏)‏ لیکن ہم نہیں چاہتے کہ شیطان کی دُنیا کسی بھی طرح ہم پر اثرانداز ہو۔‏ اِس لیے ہمیں اپنے دوستوں کا اِنتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔‏ خدا کا کلام ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ”‏فریب نہ کھاؤ۔‏ بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔‏“‏—‏1-‏کُر 15:‏33‏۔‏

5،‏ 6.‏ ہمیں کن لوگوں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے اور کیوں؟‏

5 اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اچھی عادتیں خراب نہ ہوں تو ہمیں بُرے کام کرنے والوں سے دوستی نہیں کرنی چاہیے۔‏ اِن میں صرف دُنیا کے لوگ ہی شامل نہیں بلکہ وہ مسیحی بھی شامل ہیں جو یہوواہ کی عبادت کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر جان بُوجھ کر اُس کے قانون توڑتے ہیں۔‏ اگر ایسے مسیحی سنگین گُناہ کرنے سے توبہ نہیں کرتے تو ہمیں اُن کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا چاہیے۔‏—‏روم 16:‏17،‏ 18‏۔‏

6 اگر ہم ایسے لوگوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے ہیں  جو  خدا  کے حکموں پر نہیں چلتے تو شاید ہم بھی اُنہیں خوش رکھنے کے لیے اُن  جیسے کام کرنے لگیں۔‏ مثال کے طور پر اگر ہماری دوستی بدکار لوگوں  کے ساتھ ہے تو شاید ہم بھی بدکاری کرنے لگیں۔‏ کچھ بپتسمہ‌یافتہ مسیحیوں نے ایسا ہی کِیا اور اُن میں سے جنہوں نے توبہ نہ کی اُنہیں کلیسیا سے خارج کر دیا گیا۔‏ (‏1-‏کُر 5:‏11-‏13‏)‏ اگر یہ لوگ یہوواہ کی طرف نہیں لوٹیں گے تو اُن کا حال ویسا ہی ہوگا جیسا پطرس رسول نے بتایا۔‏‏—‏2-‏پطرس 2:‏20-‏22 کو پڑھیں۔‏

7.‏ ہمارے پکے دوست کون ہونے چاہئیں؟‏

7 یہ سچ ہے کہ ہم اُن لوگوں  کے  ساتھ  بھی  مہربانی  سے  پیش آنا چاہتے ہیں جو خدا کی مرضی پر نہیں چلتے۔‏ لیکن ہمیں اُن کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے۔‏ اِس لیے یہوواہ کے ایک گواہ کا کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کے اِرادے سے گھومنا پھرنا غلط ہے جو بپتسمہ‌یافتہ گواہ نہیں ہے اور جو یہوواہ کے اصولوں کا احترام نہیں کرتا۔‏ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہوواہ کے ساتھ دوستی قائم رکھیں نہ کہ اُن لوگوں کے ساتھ جو اُس کے اصولوں کے مطابق نہیں چلتے۔‏ ہمارے پکے دوست وہ ہونے چاہئیں جو خدا کی مرضی پر چلتے ہیں۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏جو کوئی خدا کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے۔‏“‏—‏مر 3:‏35‏۔‏

8.‏ بنی‌اِسرائیل کو بُرے لوگوں سے دوستی رکھنے کا کیا نقصان ہوا؟‏

8 بُرے لوگوں سے دوستی بڑی خطرناک  ثابت  ہوتی  ہے۔‏ اِس سلسلے میں بنی‌اِسرائیل کی مثال پر غور کریں۔‏ یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل کو ملک کنعان میں داخل ہونے سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ”‏تُو اُن کے معبودوں کو سجدہ نہ کرنا نہ اُن کی عبادت کرنا نہ اُن کے سے کام کرنا بلکہ تُو اُن کو بالکل اُلٹ دینا اور اُن کے ستونوں کو  ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنا۔‏ اور تُم [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا کی عبادت  کرنا۔‏“‏ (‏خر 23:‏24،‏ 25‏)‏ لیکن زیادہ‌تر اِسرائیلیوں نے خدا کی ہدایات کو نہ مانا۔‏ (‏زبور 106:‏35-‏39‏)‏ اِس کا انجام کیا ہوا؟‏ آخرکار یہوواہ نے اُنہیں ایک قوم کے طور پر رد کر دیا۔‏ جب یسوع زمین پر آئے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔‏“‏ (‏متی 23:‏38‏)‏ یہوواہ نے مسیح کے پیروکاروں کو اپنی قوم بنا لیا۔‏—‏اعما 2:‏1-‏4‏۔‏

احتیاط برتیں کہ آپ کیا پڑھتے اور دیکھتے ہیں

9.‏ ذرائع‌ابلاغ سے ملنے والا مواد کیوں خطرناک ہو سکتا ہے؟‏

9 بہت سے ٹیلیویژن پروگرام،‏  ویب‌سائٹس  اور  کتابیں  یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‏ اِن ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات یہوواہ اور اُس کے وعدوں پر ایمان کو مضبوط نہیں کرتیں۔‏ اِس کی بجائے یہ اِس بُری دُنیا کی سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔‏ اِس لیے ہمیں احتیاط برتنی چاہیے کہ ہم ایسا کچھ بھی نہ تو دیکھیں،‏ نہ سنیں اور نہ پڑھیں جو ہمارے اندر ”‏دُنیوی خواہشوں“‏ کو اُبھار سکتا ہے۔‏—‏طط 2:‏12‏۔‏

10.‏ اِس دُنیا کی نقصان‌دہ کتابوں،‏ ویب‌سائٹس اور ٹی‌وی پروگراموں کے ساتھ کیا ہوگا؟‏

10 جلد ہی نقصان‌دہ کتابیں،‏ ویب‌سائٹس اور ٹی‌وی پروگرام وغیرہ نہیں رہیں گے۔‏ شیطان کی دُنیا کے ساتھ یہ سب بھی ختم ہو جائیں گے۔‏ خدا کے کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔‏“‏ (‏1-‏یوح 2:‏17‏)‏ زبورنویس نے بھی لکھا:‏ ”‏بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کو [‏یہوواہ]‏ کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے۔‏ .‏ .‏ .‏ حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔‏“‏ وہ کب تک شادمان رہیں گے؟‏ پاک کلام میں وعدہ کِیا گیا ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔‏“‏—‏زبور 37:‏9،‏ 11،‏ 29‏۔‏

11.‏ یہوواہ خدا اپنے بندوں کو روحانی خوراک کیسے فراہم کرتا ہے؟‏

11 شیطان کی دُنیا کے برعکس یہوواہ کی تنظیم ایسا مواد فراہم کر رہی ہے جو ہمیں نیک چال‌چلن اِختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ ہم ہمیشہ کی زندگی پا سکیں۔‏ یسوع مسیح نے دُعا میں کہا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔‏“‏ (‏یوح 17:‏3‏)‏ یہوواہ خدا اپنی تنظیم کے ذریعے ہمیں بکثرت روحانی خوراک دے رہا ہے۔‏ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے پاس ایسے رسالے،‏ کتابیں،‏ بروشر،‏ ویڈیوز اور ویب‌سائٹ ہے جو یہوواہ کی عبادت کو فروغ دیتے ہیں۔‏ خدا کی تنظیم پوری دُنیا میں 1 لاکھ 10 ہزار سے بھی زیادہ کلیسیاؤں میں اِجلاس منعقد کرتی ہے۔‏ ایسے اِجلاسوں اور اِجتماعوں پر ہم بائبل سے جو کچھ سیکھتے ہیں،‏ اُس سے یہوواہ خدا اور اُس کے وعدوں پر ہمارا ایمان اَور مضبوط ہوتا ہے۔‏—‏عبر 10:‏24،‏ 25‏۔‏

‏”‏صرف خداوند میں“‏ شادی کریں

12.‏ ‏”‏صرف خداوند میں“‏ شادی کرنے سے کیا مراد ہے؟‏

12 ایسے مسیحی جو شادی کرنا چاہتے ہیں،‏ اُنہیں خاص طور پر دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ کن لوگوں سے میل جول رکھتے ہیں۔‏ خدا کے کلام میں مسیحیوں کو ہدایت کی گئی ہے:‏ ”‏بےایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جتو کیونکہ راست‌بازی اور بےدینی میں کیا میل‌جول؟‏ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟‏“‏ (‏2-‏کُر 6:‏14‏)‏ بائبل میں مسیحیوں کو یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ”‏صرف خداوند میں“‏ شادی کریں۔‏ اِس کا مطلب ہے کہ اُنہیں ایسے بپتسمہ‌یافتہ گواہ سے شادی کرنی چاہیے جو یہوواہ خدا کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتا ہو۔‏ (‏1-‏کُر 7:‏39‏)‏ یوں اُنہیں ایسا جیون ساتھی ملے گا جو یہوواہ خدا سے محبت کرتا ہے اور اُس کے وفادار رہنے میں اُن کی بھی مدد کر سکتا ہے۔‏

13.‏ یہوواہ خدا نے شادی کے بارے میں بنی‌اِسرائیل کو کیا حکم دیا تھا؟‏

13 یہوواہ جانتا ہے کہ اُس کے خادموں کے لیے کیا اچھا ہے  اور کیا بُرا۔‏ شادی کے سلسلے میں اُس کی نصیحت کبھی نہیں بدلی۔‏ مثال کے طور پر اُس نے موسیٰ کے ذریعے بنی‌اِسرائیل کو آس‌پاس کی قوموں کے حوالے سے یہ حکم دیا:‏ ”‏تُو اُن سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔‏ نہ اُن کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے اُن کی بیٹیاں لینا۔‏ کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اَور معبودوں کی عبادت کریں۔‏ یوں [‏یہوواہ]‏ کا غضب تُم پر بھڑکے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔‏“‏—‏اِست 7:‏3،‏ 4‏۔‏

14،‏ 15.‏ شادی کے سلسلے میں یہوواہ کے حکم کو نظرانداز کرنے سے سلیمان کے ساتھ کیا ہوا؟‏

14 جب سلیمان بادشاہ نے جوانی میں حکومت شروع کی تو اُنہوں نے یہوواہ خدا سے حکمت مانگی اور یہوواہ خدا نے بھی اُنہیں فیاضی سے حکمت بخشی۔‏ اِس وجہ سے اُن کی حکومت میں بڑی خوش‌حالی تھی اور اُن کی شہرت دُوردراز ملکوں تک بھی پہنچی۔‏ جب سبا کی ملکہ اُن سے ملنے آئیں تو ملکہ نے کہا:‏ ”‏مَیں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آ کر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لیا اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اِقبال‌مندی اُس شہرت سے جو مَیں نے سنی بہت زیادہ ہے۔‏“‏ (‏1-‏سلا 10:‏7‏)‏ لیکن سلیمان کی زندگی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہوواہ کی عبادت نہ کرنے والے شخص سے شادی کرنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔‏—‏واعظ 4:‏13‏۔‏

15 یہوواہ خدا کی تمام مہربانیوں کے باوجود سلیمان نے شادی کے سلسلے میں اُس کے حکم کو نظرانداز کِیا۔‏ یہوواہ نے اُن لوگوں سے شادی کرنے سے منع کِیا تھا جو اُس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔‏ لیکن سلیمان ’‏بہت سی اجنبی عورتوں سے محبت کرنے لگے۔‏‘‏ یہاں تک کہ اُنہوں نے 700 عورتوں سے شادی کی اور 300 کو اپنی حرمیں بنایا۔‏ اِس کا نتیجہ کیا نکلا؟‏ سلیمان کے بڑھاپے میں ”‏اُس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیرمعبودوں کی طرف مائل کر لیا .‏ .‏ .‏ اور سلیماؔن نے [‏یہوواہ]‏ کے آگے بدی کی۔‏“‏ (‏1-‏سلا 11:‏1-‏6‏)‏ یہوواہ کی عبادت نہ کرنے والی بیویوں کے بُرے اثر کی وجہ سے سلیمان نے یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دی۔‏ اگر یہ سلیمان کے ساتھ ہو سکتا ہے تو پھر یہ ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‏ اِس لیے ہمیں کسی ایسے شخص سے شادی کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے جو یہوواہ خدا کی خدمت نہیں کرتا۔‏

16.‏ بائبل میں اُن لوگوں کو کیا نصیحت کی گئی ہے جن کا جیون ساتھی یہوواہ کا گواہ نہیں ہے؟‏

16 ہو سکتا ہے کہ آپ شادی‌شُدہ ہیں اور آپ یہوواہ کے گواہ بن جاتے ہیں مگر آپ کا جیون ساتھی سچائی قبول نہیں کرتا۔‏ ایسی صورتحال کے بارے میں بائبل بتاتی ہے:‏ ”‏اَے بیویو!‏ تُم بھی اپنےاپنے شوہر کے تابع رہو۔‏ اِس لئے کہ اگر بعض اُن میں سے کلام کو نہ مانتے ہوں تو بھی تمہارے پاکیزہ چال‌چلن اور خوف کو دیکھ کر بغیر کلام کے اپنی‌اپنی بیوی کے چال‌چلن سے خدا کی طرف کھنچ جائیں۔‏“‏ (‏1-‏پطر 3:‏1،‏ 2‏)‏ یہ بات مسیحی بیویوں سے کہی گئی ہے مگر یہ اُن شوہروں پر بھی لاگو ہوتی ہے جن کی بیویاں یہوواہ کی گواہ نہیں ہیں۔‏ پاک کلام کی ہدایت یہ ہے کہ آپ اچھے جیون ساتھی ثابت ہوں اور ازدواجی زندگی کے بارے میں یہوواہ کے اصولوں پر عمل کریں۔‏ بہت سے لوگوں نے اِس لیے سچائی قبول کر لی کیونکہ اُن کے جیون ساتھی نے پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے رویے اور طورطریقے کو بدل لیا۔‏

یہوواہ سے محبت کرنے والوں کو دوست بنائیں

17،‏ 18.‏ ‏(‏الف)‏ نوح طوفان سے کیوں بچ گئے؟‏ (‏ب)‏ پہلی صدی کے مسیحی یروشلیم کی تباہی سے کیوں بچے؟‏

17 بُرے لوگوں کی دوستی آپ کی اچھی عادتوں کو بگاڑتی ہے جبکہ یہوواہ کی عبادت کرنے والوں کی دوستی آپ پر اچھا اثر ڈالتی  ہے۔‏ نوح ایک بُری دُنیا میں رہتے تھے مگر وہ اِس کے لوگوں کے ساتھ گہری دوستی نہیں کرنا چاہتے تھے۔‏ اُس وقت ”‏[‏یہوواہ]‏ نے دیکھا کہ زمین پر اِنسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اُس کے دل کے تصور اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں۔‏“‏ (‏پید 6:‏5‏)‏ اِس لیے خدا نے فیصلہ کِیا کہ وہ اُس بُری دُنیا کو ایک بڑے طوفان کے ذریعے تباہ کر دے گا۔‏ لیکن نوح اُس زمانے کے لوگوں سے بالکل فرق تھے۔‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ وہ راست‌باز تھے اور خدا کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔‏—‏پید 6:‏7-‏9‏۔‏

18 نوح کا اُن لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا نہیں تھا جو یہوواہ کے دوست نہیں تھے۔‏ وہ اور اُن کے گھر والے کشتی بنانے میں  مشغول رہے۔‏ اِس کے ساتھ ساتھ نوح ’‏راست‌بازی کی مُنادی‘‏ بھی کرتے رہے۔‏ (‏2-‏پطر 2:‏5‏)‏ لہٰذا نوح کا زیادہ‌تر وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ اور کشتی بنانے اور مُنادی کرنے میں گزرتا تھا۔‏ اِس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اور اُن کے گھر والے طوفان سے بچ گئے۔‏ ہم سب اُن ہی کی اولاد ہیں۔‏ ہم اُن کے شکرگزار ہیں کہ وہ یہوواہ کے وفادار رہے اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بچے۔‏ پہلی صدی کے مسیحی بھی اُن لوگوں سے دوستی نہیں رکھتے تھے جو یہوواہ کی خدمت نہیں کرتے تھے۔‏ وہ مسیحی بھی یہوواہ کے وفادار رہے اور 70ء میں یروشلیم کی تباہی سے بچ گئے۔‏—‏لُو 21:‏20-‏22‏۔‏

یہوواہ سے محبت کرنے والوں کے ساتھ وقت گزارنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی دُنیا میں زندگی کیسی ہوگی۔‏ (‏پیراگراف 19 کو دیکھیں۔‏)‏

19.‏ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

19 ہمیں بھی نوح،‏ اُن کے گھر والوں اور پہلی صدی کے مسیحیوں کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔‏ ہمیں اُن لوگوں سے دوستی نہیں کرنی چاہیے جو یہوواہ سے پیار نہیں کرتے۔‏ ہماری اپنی تنظیم میں لاکھوں وفادار بہن بھائی ہیں جن سے ہم دوستی کر سکتے ہیں۔‏ وہ ”‏ایمان میں قائم“‏ رہنے میں یقیناً ہماری مدد کریں گے۔‏ (‏1-‏کُر 16:‏13؛‏ امثا 13:‏20‏)‏ ذرا سوچیں کہ ہمیں اُس وقت کتنی خوشی ہوگی جب ہم اِس دُنیا کے خاتمے سے بچ کر نئی دُنیا میں چلے جائیں گے۔‏ لیکن ایسا تبھی ہوگا جب ہم اِس آخری زمانے میں اپنے دوستوں کا اِنتخاب سوچ سمجھ کر کریں گے۔‏