مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا کی بادشاہت کے وفادار رہیں

خدا کی بادشاہت کے وفادار رہیں

وہ دُنیا کے نہیں۔‏‘‏—‏یوح 17:‏16‏۔‏

گیت:‏ 18‏،‏ 54

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ سچے مسیحیوں کی نظر میں خدا کے وفادار رہنا کیوں اہم ہے؟‏ (‏ب)‏ خدا کے لیے وفاداری کو قائم رکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏ (‏ج)‏ آج‌کل بہت سے لوگ کن کی وفاداری کرتے ہیں اور اِس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‏

سچے مسیحیوں کے طور پر ہم دُنیا کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہیں اور یہوواہ خدا کے وفادار رہتے ہیں۔‏ ہم نہ صرف جنگ کے دنوں میں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی ایسا کرتے ہیں۔‏ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟‏ کیونکہ ہم نے خدا سے وعدہ کِیا ہے کہ ہم اُسی سے محبت کریں گے اور اُسی کے تابع اور وفادار رہیں گے۔‏ (‏1-‏یوح 5:‏3‏)‏ ہمارا تعلق چاہے جس بھی ملک،‏ قوم یا ثقافت سے ہو،‏ ہم ہمیشہ یہوواہ خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔‏ ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم یہوواہ خدا اور اُس کی بادشاہت کے وفادار رہیں۔‏ (‏متی 6:‏33‏)‏ خدا کے لیے وفاداری کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کے سیاسی معاملات اور فسادات سے دُور رہیں۔‏—‏یسع 2:‏4؛‏ یوحنا 17:‏11،‏ 15،‏ 16 کو پڑھیں۔‏

2 آج‌کل بہت سے لوگ اپنے ملک اور قبیلے کے بڑے وفادار ہوتے ہیں اور وہ اپنی ثقافت یا پھر قومی ٹیموں کی دل‌وجان سے حمایت کرتے ہیں۔‏ اِس کی وجہ سے لوگوں میں مقابلہ‌بازی اور نفرت  کا رُجحان بڑھتا ہے۔‏ اور کبھی کبھار یہ خون‌خرابے یہاں تک کہ نسل‌کُشی کا باعث بنتا ہے۔‏ اگرچہ ہم ایسے معاملات میں کسی طرح سے شامل نہیں ہوتے پھر بھی ہم اور ہمارے گھر والے اِن سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‏ چونکہ خدا نے ہمیں اچھائی اور بُرائی میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی ہے اِس لیے جب حکومتیں نااِنصافی کرتی ہیں تو ہم اُن کے خلاف کچھ کہنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔‏ (‏پید 1:‏27؛‏ اِست 32:‏4‏)‏ جب آپ نااِنصافی کا نشانہ بنتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‏ ایسی صورتحال میں آپ بڑی آسانی سے دُنیا کے معاملات میں اُلجھ سکتے ہیں۔‏

3،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ سچے مسیحی اِس دُنیا کے معاملات میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟‏ (‏ب)‏ ہم اِس مضمون میں کیا سیکھیں گے؟‏

3 اکثر حکومتیں اپنے شہریوں سے توقع کرتی ہیں کہ وہ سیاسی معاملات میں حصہ لیں۔‏ لیکن سچے مسیحی نہ تو سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی ہتھیار اُٹھاتے ہیں۔‏ (‏متی 26:‏52‏)‏ ہم اِس جھانسے میں نہیں آتے کہ ایک حکومت دوسری حکومت سے بہتر ہے۔‏ (‏2-‏کُر 2:‏11‏)‏ چونکہ ہم دُنیا کا حصہ نہیں اِس لیے ہم اِس کے معاملات اور مسائل میں نہیں اُلجھتے۔‏‏—‏یوحنا 15:‏18،‏ 19 کو پڑھیں۔‏

4 ہم سب عیب‌دار ہیں اِس لیے شاید ابھی بھی ہم  دوسری قوم یا نسل کے لوگوں کو کم‌تر خیال کرتے ہیں۔‏ (‏یرم 17:‏9؛‏ اِفس 4:‏22-‏24‏)‏ لہٰذا اِس مضمون میں ہم کچھ ایسے اصولوں پر بات کریں گے جن پر غور کرنے سے ہم دوسری قوم یا نسل کے لوگوں کے بارے میں غلط نظریات پر قابو پا سکتے ہیں۔‏ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ ہم خدا کی بادشاہت کے وفادار رہنے کے لیے اپنے ضمیر کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔‏

ہم اِنسانی حکومتوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے؟‏

5،‏ 6.‏ یسوع مسیح نے اپنے زمانے میں پائے جانے والے تعصب کے بارے میں کیسا ردِعمل دِکھایا اور اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏

5 اگر آپ کو کسی صورتحال میں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ آپ کو دُنیا کا حصہ نہ بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏اگر میری جگہ یسوع مسیح ہوتے تو وہ کیا کرتے؟‏“‏ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو یہودیہ،‏ گلیل اور سامریہ کے لوگوں میں اِختلافات پائے جاتے تھے۔‏ مثال کے طور پر یہودیوں اور سامریوں کا آپس میں کوئی میل جول نہیں تھا۔‏ (‏یوح 4:‏9‏)‏ اِس کے علاوہ فریسیوں اور صدوقیوں میں بڑی کشیدگی تھی۔‏ (‏اعما 23:‏6-‏9‏)‏ لوگ ٹیکس لینے والوں سے نفرت کرتے تھے۔‏ (‏متی 9:‏11‏)‏ ربّیوں کے مدرسوں سے تعلیم پانے والے اُن لوگوں کو حقیر سمجھتے تھے جنہوں نے ربیوں سے تعلیم نہیں پائی تھی۔‏ (‏یوح 7:‏49‏)‏ پہلی صدی میں اِسرائیل پر روم کی حکومت تھی اور اِسرائیلی،‏ رومیوں سے بڑی نفرت کرتے تھے۔‏ لیکن یسوع مسیح اِن تمام معاملات سے دُور رہے۔‏ حالانکہ وہ ہمیشہ سچائی کا دِفاع کرتے تھے اور جانتے تھے کہ ”‏نجات یہودیوں میں سے ہے“‏ پھر بھی اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو کبھی یہ نہیں سکھایا تھا کہ وہ دوسروں سے بہتر ہیں۔‏ (‏یوح 4:‏22‏)‏ اِس کی بجائے یسوع نے ہمیشہ اُنہیں سکھایا کہ وہ سب لوگوں سے محبت کریں۔‏—‏لُو 10:‏27‏۔‏

6 یسوع مسیح تعصب سے پاک کیوں تھے؟‏ کیونکہ اُن کی اور اُن کے باپ یہوواہ کی نظر میں سب اِنسان برابر ہیں۔‏ جب یہوواہ نے اپنے بیٹے کے ذریعے آدم اور حوا کو بنایا تو وہ چاہتا تھا کہ پوری زمین اُن کی اولاد سے بھر جائے۔‏ (‏پید 1:‏27،‏ 28‏)‏ خدا نے اِنسانوں کو فرق فرق رنگ اور نسل کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت دی تھی۔‏ اِس لیے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کسی ایک نسل،‏ قوم یا زبان کے لوگوں کو دوسرے لوگوں پر ترجیح نہیں دیتے۔‏ (‏اعما 10:‏34،‏ 35؛‏ مکا 7:‏9،‏ 13،‏ 14‏)‏ ہمیں بھی اُن کی اِس بہترین مثال پر عمل کرنا چاہیے۔‏—‏متی 5:‏43-‏48‏۔‏

7،‏ 8.‏ ‏(‏الف)‏ ہم کس کی حمایت کرتے ہیں اور کیوں؟‏ (‏ب)‏ دُنیا کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں مسیحیوں کو کون سی بات یاد رکھنی چاہیے؟‏

7 یہ سچ ہے کہ ہم اِنسانی حکومتوں کی حمایت نہیں کرتے  لیکن ایک حکومت ہے جس کی ہم پوری پوری حمایت کرتے ہیں۔‏ وہ  حکومت خدا کی بادشاہت ہے۔‏ باغِ‌عدن میں شیطان نے دعویٰ کِیا تھا کہ یہوواہ خدا اچھا حکمران نہیں ہے۔‏ وہ چاہتا تھا کہ اِنسان اُسے بہتر حکمران خیال کریں۔‏ لہٰذا اب تمام اِنسانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی حکمرانی کی حمایت کریں گے یا پھر شیطان کی۔‏ ذرا صاف‌دلی سے اپنا جائزہ لیں اور خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں یہوواہ کے معیاروں پر چلنے سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ مَیں اُس کا وفادار ہوں یا پھر مَیں اپنے معیاروں پر چلتا ہوں؟‏ کیا مَیں یہ مانتا ہوں کہ دُنیا کے تمام مسائل کا حل صرف خدا کی بادشاہت ہے؟‏ یا کیا مَیں یہ مانتا ہوں کہ اِنسان اپنے اچھے بُرے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں؟‏“‏—‏پید 3:‏4،‏ 5‏۔‏

8 اِن سوالوں کے لیے آپ کا جواب یہ ظاہر کرے گا کہ جب لوگ سیاسی معاملات کے بارے میں آپ کی رائے پوچھیں گے تو اُس وقت آپ کا ردِعمل کیسا ہوگا۔‏ سیاست‌دان اور سماجی کارکُن بڑے عرصے سے اِس دُنیا کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔‏ کچھ تو بڑی محنت سے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی بھلائی چاہتے ہیں۔‏ لیکن ہم جانتے ہیں کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی اِنسان کے تمام مسائل کو حل کر سکتی ہے اور حقیقی اِنصاف قائم کر سکتی ہے۔‏ اِس لیے ہمیں دُنیا کے معاملات کو خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دینا چاہیے۔‏ ہمیں کلیسیا کے معاملات کو بھی یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑنا چاہیے۔‏ ذرا سوچیں کہ اگر ہر مسیحی اپنے طریقے سے کلیسیا کے معاملات نپٹانے کی کوشش کرے تو کلیسیا کے اِتحاد کو کتنا زیادہ نقصان پہنچے گا۔‏

9.‏ کُرنتھس کی کلیسیا میں کیا مسئلہ تھا اور پولُس نے اِس کا کیا حل بتایا؟‏

9 پہلی صدی میں کُرنتھس کے مسیحیوں کا اِتحاد خطرے میں تھا۔‏ اُن میں سے کچھ اپنے آپ کو پولُس کا،‏ کچھ اپلّوس کا،‏ کچھ کیفا کا اور کچھ مسیح کا کہتے تھے۔‏ اِس کی وجہ چاہے جو بھی تھی،‏ پولُس اِس پر بہت ناراض تھے۔‏ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏کیا مسیح بٹ گیا؟‏“‏ چونکہ پولُس کو کلیسیا کے اِتحاد کی فکر تھی اِس لیے اُنہوں نے کُرنتھس کے مسیحیوں کو یہ نصیحت کی:‏ ”‏اب اَے بھائیو!‏ یسوؔع مسیح جو ہمارا خداوند ہے اُس کے نام کے وسیلہ سے مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہوں کہ سب ایک ہی بات کہو اور تُم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یک‌دل اور یک‌رای ہو کر کامل بنے رہو۔‏“‏ یہ نصیحت ہم پر بھی لاگو ہوتی ہے۔‏ ہماری کلیسیاؤں میں بھی کوئی تفرقہ نہیں ہونا چاہیے۔‏—‏1-‏کُر 1:‏10-‏13؛‏ رومیوں 16:‏17،‏ 18 کو پڑھیں۔‏

10.‏ پولُس رسول نے کیسے ظاہر کِیا کہ مسیحیوں کو دُنیا کے معاملات سے الگ رہنا چاہیے؟‏

10 پولُس رسول نے ممسوح مسیحیوں کو ہدایت کی کہ  وہ  دُنیا  کی چیزوں کے خیال میں نہ رہیں بلکہ اپنے وطن یعنی آسمان پر دھیان لگائے رکھیں۔‏ (‏فل 3:‏17-‏20‏)‏ * ممسوح مسیحی دراصل یسوع کی جگہ سفیر ہیں۔‏ اور سفیر کو جس ملک بھیجا جاتا ہے،‏ وہ وہاں کے معاملات میں دخل نہیں دیتا۔‏ وہ اپنے ملک کا وفادار ہوتا ہے۔‏ اِسی طرح ممسوح مسیحی بھی اِس دُنیا کے معاملات میں دخل نہیں دیتے۔‏ (‏2-‏کُر 5:‏20‏)‏ زمین پر ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھنے والے مسیحی بھی خدا کی بادشاہت کے وفادار رہتے ہیں اور اِس دُنیا کا حصہ نہیں بنتے۔‏

خدا کے وفادار رہنے کے لیے اپنی تربیت کریں

11،‏ 12.‏ ‏(‏الف)‏ اگر ہم خدا کی بادشاہت کے وفادار رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کس رُجحان سے بچنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ ایک بہن کا مسئلہ کیا تھا اور وہ اِس پر کیسے غالب آئی؟‏

11 اکثر لوگ اپنی قوم،‏ ملک،‏ زبان یا ثقافت کے لوگوں سے لگاؤ محسوس کرتے ہیں۔‏ اُنہیں اپنے آبائی علاقے پر بڑا ناز ہوتا ہے۔‏ لیکن ہمیں ایسا محسوس نہیں کرنا چاہیے۔‏ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا چاہیے اور اپنے ضمیر کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ ہم کسی بھی طرح اِس دُنیا کا حصہ نظر نہ آئیں۔‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

 12 ذرا مریٹا * کی مثال پر غور کریں۔‏ اُن  کا  تعلق  سابقہ یوگوسلاویہ سے ہے۔‏ اُنہوں نے جس علاقے میں پرورش پائی وہاں سربیا کے لوگوں سے بڑی نفرت کی جاتی تھی۔‏ جب اُنہوں نے سچائی سیکھی تو وہ جان گئیں کہ یہوواہ کسی کا طرف‌دار نہیں ہے اور نسلی تعصب کو شیطان ہوا دیتا ہے۔‏ لہٰذا اُنہوں نے اپنے دل سے تعصب نکالنے کی پوری کوشش کی۔‏ لیکن جب اُن کے علاقے میں نسلی فسادات شروع ہوئے تو اُن کے دل میں سربیا کے لوگوں کے لیے پھر سے نفرت جاگ اُٹھی۔‏ وہ تو اُنہیں خوش‌خبری بھی نہیں سنانا چاہتی تھیں۔‏ اُنہیں معلوم تھا کہ یہ نفرت اپنے آپ اُن کے دل سے نہیں نکلے گی۔‏ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ تعصب پر غالب آنے میں اُن کی مدد کرے۔‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے پہل‌کار کے طور پر خدمت شروع کرنے کے لیے بھی یہوواہ سے مدد مانگی۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مَیں نے دیکھا ہے کہ مُنادی کے کام میں زیادہ حصہ لینا تعصب پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔‏ مَیں مُنادی کے دوران یہوواہ جیسی محبت ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‏ ایسا کرنے سے میرا دل تعصب اور نفرت سے پاک ہو گیا ہے۔‏“‏

13.‏ ‏(‏الف)‏ بہن توئلہ کو کس مشکل کا سامنا ہوا اور اُنہوں نے کیسا ردِعمل ظاہر کِیا؟‏ (‏ب)‏ ہم بہن توئلہ کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

13 بہن توئلہ کی مثال پر بھی غور کریں۔‏ اُن کا تعلق  میکسیکو سے ہے مگر اب وہ یورپ کی ایک کلیسیا سے منسلک ہیں۔‏ اُسی کلیسیا میں کچھ بہن بھائی لاطینی امریکہ سے بھی تھے۔‏ وہ بہن توئلہ کے ملک،‏ رسم‌ورواج اور موسیقی کا مذاق اُڑاتے تھے۔‏ اگر آپ بہن توئلہ کی جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟‏ ظاہری سی بات ہے کہ بہن توئلہ کو یہ باتیں بُری لگتی تھیں۔‏ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ اُنہوں نے دُعا کی کہ وہ اُن بہن بھائیوں کے لیے اپنے دل میں رنجش پیدا نہ ہونے دیں۔‏ شاید ہمیں بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔‏ جب لوگ ہمارے ملک کے بارے میں کوئی بُری بات کہتے ہیں تو ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل لگ سکتا ہے۔‏ پھر بھی ہم ایسی باتوں یا کاموں سے گریز کرنا چاہیں گے جن سے دوسروں کو لگے کہ ہم کسی ایک قوم کو دوسری قوم سے بہتر سمجھتے ہیں۔‏ ہم اپنی کلیسیا اور دوسرے  لوگوں کے اِتحاد کو توڑنا نہیں چاہیں گے۔‏—‏روم 14:‏19؛‏ 2-‏کُر 6:‏3‏۔‏

14.‏ آپ دوسری قوم یا ثقافت کے لوگوں کے بارے میں یہوواہ کا نظریہ کیسے اپنا سکتے ہیں؟‏

14 کیا آپ کو بچپن سے یہ سکھایا گیا ہے کہ آپ کا ملک یا قوم دوسروں سے بہتر ہے؟‏ کیا آپ اب بھی کسی حد تک ایسا محسوس کرتے ہیں؟‏ مسیحیوں کو قوم‌پرستی یا وطن‌پرستی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔‏ لیکن اگر آپ کو لگے کہ آپ دوسری قوم،‏ ثقافت یا زبان کے لوگوں کو کم‌تر خیال کرتے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ ایسی صورت میں اِس بات پر غور کرنا اچھا ہوگا کہ یہوواہ تعصب اور قوم‌پرستی کو کیسا خیال کرتا ہے۔‏ اِس بات پر آپ اپنے ذاتی مطالعے یا خاندانی عبادت کے دوران مزید تحقیق بھی کر سکتے ہیں۔‏ اور پھر آپ یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ آپ اِس معاملے میں یہوواہ کا نظریہ اپنائیں۔‏‏—‏رومیوں 12:‏2 کو پڑھیں۔‏

خدا سے وفاداری میں یہ شامل ہے کہ ہم کٹھن حالات میں ثابت‌قدم رہیں۔‏ (‏پیراگراف 15 اور 16 کو دیکھیں۔‏)‏

15،‏ 16.‏ ‏(‏الف)‏ دُنیا کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کی طرف  سے کیسے سلوک کی توقع کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ والدین یہوواہ کے وفادار رہنے میں اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

15 آج نہیں تو کل،‏ ہم سب کو ایسی صورتحال کا سامنا ہوگا جس میں دوسروں سے الگ نظر آنا ہمارے لیے ایک چیلنج ہوگا۔‏ شاید ہمیں وہ کام کرنے سے اِنکار کرنا پڑے جو ہمارے رشتےدار،‏ پڑوسی یا پھر سکول یا کام کے ساتھی وغیرہ ہم سے کرانا چاہیں گے۔‏ (‏1-‏پطر 2:‏19‏)‏ ایسا کرنا شاید مشکل ہو مگر یہ خدا کے وفادار رہنے کے لیے ضروری ہوگا۔‏ اگر لوگ ہم سے صرف اِس لیے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ہم اِس دُنیا کا حصہ نہیں تو حیران نہ ہوں۔‏ یسوع نے بتایا تھا کہ لوگ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کریں گے۔‏ یاد رکھیں کہ جو لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں،‏ وہ خدا کی بادشاہت کے وفادار رہنے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔‏ مگر ہم اِس کی اہمیت سے واقف ہیں اور اِسی لیے دُنیا کا حصہ نہیں بنتے۔‏

 16 خدا سے وفاداری میں یہ شامل ہے کہ ہم کٹھن  حالات  میں ثابت‌قدم رہیں۔‏ (‏دان 3:‏16-‏18‏)‏ دوسروں سے فرق نظر آنا یوں تو سب کے لیے مشکل ہوتا ہے مگر بچوں اور نوجوانوں کے لیے عموماً یہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔‏ اگر آپ کے بچوں پر جھنڈے کو سلامی دینے یا قومی تہواروں میں حصہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو اُن کی مدد ضرور کریں۔‏ اپنی خاندانی عبادت میں بچوں کو سمجھائیں کہ یہوواہ خدا اِن کاموں کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے۔‏ اُنہیں سکھائیں کہ وہ کیسے دلیری مگر احترام سے اپنے اساتذہ اور ہم‌جماعتوں کو اپنے ایمان کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔‏ (‏روم 1:‏16‏)‏ اگر ضروری ہو تو اپنے بچوں کے اساتذہ سے خود بھی بات کریں۔‏

یہوواہ کی ساری تخلیق سے لطف اُٹھائیں

17.‏ ہمیں کیا نہیں سوچنا چاہیے اور کیوں نہیں؟‏

17 یہ سچ ہے کہ ہم اپنے ملک،‏ ثقافت،‏ زبان اور  کھانے  سے کچھ لگاؤ تو رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہی سب سے اچھے ہیں۔‏ یہوواہ نے اِس دُنیا میں فرق فرق چیزیں پیدا کی ہیں تاکہ ہم زندگی کا لطف اُٹھا سکیں۔‏ (‏زبور 104:‏24؛‏ مکا 4:‏11‏)‏ اِس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا ملک،‏ قوم یا کھانا ہی سب سے بہتر ہے۔‏

18.‏ یہوواہ خدا کا نظریہ اپنانے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟‏

18 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ سب طرح کے لوگ سچائی  کو  جانیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں۔‏ (‏یوح 3:‏16؛‏ 1-‏تیم 2:‏3،‏ 4‏)‏ اگر ہم دوسروں کے اچھے نظریات کو سننے اور مان لینے کو تیار رہتے ہیں تو اِس سے ہمیں خوشی ملتی ہے اور کلیسیا کا اِتحاد قائم رہتا ہے۔‏ چونکہ ہم نے خدا کے وفادار رہنے کا وعدہ کِیا ہے اِس لیے ہم دُنیا کے معاملات میں شامل نہیں ہوتے۔‏ ہم مقابلہ‌بازی اور غرور سے نفرت کرتے ہیں۔‏ ہم یہوواہ خدا کے بڑے شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں امن اور خاکساری سے رہنا سکھایا ہے۔‏ آئیں،‏ ہم اپنا اِتحاد کبھی ٹوٹنے نہ دیں اور زبور نویس کی یہ بات یاد رکھیں:‏ ”‏دیکھو!‏ کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں۔‏“‏—‏زبور 133:‏1‏۔‏

^ پیراگراف 10 فِلپّیوں 3:‏20 میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏وطن“‏ کِیا گیا ہے،‏ وہ شہریت کے معنی بھی رکھتا ہے۔‏ فِلپّی کے بعض مسیحیوں کے پاس رومی شہریت تھی اور اِس وجہ سے اُنہیں دوسرے مسیحیوں کی نسبت زیادہ حقوق حاصل تھے۔‏ اِس لیے پولُس نے اُنہیں نصیحت کی کہ وہ دُنیا کے معاملات میں پڑنے سے بچیں اور اپنی آسمانی شہریت پر دھیان دیں۔‏

^ پیراگراف 12 کچھ نام فرضی ہیں۔‏