مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا کے مطابق زندگی گزاریں—‏پہلا حصہ

یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا کے مطابق زندگی گزاریں—‏پہلا حصہ

‏”‏تیرا نام پاک مانا جائے۔‏“‏—‏متی 6:‏9‏۔‏

1.‏ ہم مُنادی کے دوران متی 6:‏9-‏13 میں درج دُعا کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟‏

بہت سے لوگوں کو وہ دُعا زبانی یاد ہے جسے دُعائےربانی کہا جاتا ہے۔‏ گھر گھر مُنادی کے دوران ہم اکثر اِس دُعا کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ خدا کی بادشاہت ایک حقیقی حکومت ہے جو زمین کو فردوس بنائے گی۔‏ ہم اُس وقت بھی اِس دُعا کا حوالہ دیتے ہیں جب ہم لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا کا ایک ذاتی نام ہے جسے ہمیں ’‏پاک ماننا چاہیے۔‏‘‏—‏متی 6:‏9‏۔‏

2.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یسوع مسیح یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم اُن کی سکھائی ہوئی دُعا کو لفظ بہ‌لفظ یاد کر کے دُہراتے رہیں؟‏

2 کیا یسوع مسیح یہ چاہتے تھے کہ ہم اُن کی سکھائی ہوئی دُعا کو لفظ بہ‌لفظ یاد کر کے دُہراتے رہیں جیسا کہ بہت سے لوگ کرتے ہیں؟‏ جی نہیں۔‏ غور کریں کہ جب یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو دُعا کرنا سکھایا تو اِس سے پہلے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب تُم دُعا کرو تو .‏ .‏ .‏ محض رٹے رٹائے جملے ہی نہ دُہراتے رہا کرو۔‏“‏ (‏متی 6:‏7‏؛‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ بعد میں ایک اَور موقعے پر یسوع مسیح نے  اپنے شاگردوں کو یہی دُعا سکھائی لیکن اُنہوں نے فرق الفاظ اِستعمال کیے۔‏ (‏لُو 11:‏1-‏4‏)‏ لہٰذا دونوں ہی موقعوں پر یسوع مسیح یہ سکھانا چاہتے تھے کہ اُن کے پیروکاروں کو کن باتوں کے بارے میں درخواست کرنی چاہیے اور دُعا میں کون سی باتوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔‏

3.‏ یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا پر غور کرتے وقت ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

3 اِس اور اگلے مضمون میں ہم اُن باتوں پر غور کریں گے جو یسوع مسیح نے دُعا میں سکھائیں۔‏ ایسا کرتے وقت خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا پر غور کرنے سے مَیں اپنی دُعاؤں کو اَور پُرمعنی کیسے بنا سکتا ہوں؟‏ سب سے بڑھ کر کیا مَیں اِس دُعا کے مطابق زندگی گزارتا ہوں؟‏“‏

‏”‏اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے“‏

4.‏ ‏(‏الف)‏ اِصطلاح ”‏ہمارے باپ“‏ سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‏ (‏ب)‏ جو لوگ زمین پر زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہیں،‏ وہ کس لحاظ سے خدا کو باپ کہہ سکتے ہیں؟‏

4 غور کریں کہ دُعا کے آغاز میں اِصطلاح ”‏میرے باپ“‏ نہیں بلکہ ”‏ہمارے باپ“‏ اِستعمال کی گئی ہے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا پوری دُنیا میں ہم سب بہن بھائیوں کا باپ ہے۔‏ (‏1-‏پطر 2:‏17‏)‏ ہمارے لیے اِس عالم‌گیر برادری کا حصہ ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے۔‏ ممسوح مسیحی حقیقی معنوں میں یہوواہ خدا کو ”‏باپ“‏ کہہ کر مخاطب کر سکتے ہیں۔‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہوواہ خدا نے اُنہیں گود لیا ہے تاکہ وہ آسمان پر زندگی حاصل کر سکیں۔‏ (‏روم 8:‏15-‏17‏)‏ لیکن جو مسیحی زمین پر زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہیں،‏ وہ بھی یہوواہ خدا کو ”‏باپ“‏ کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہوواہ خدا نے اُنہیں زندگی دی ہے اور وہ بڑے پیار سے اپنے اِن بندوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔‏ زمین پر زندگی پانے کی اُمید رکھنے والے لوگ اُس وقت حقیقی معنوں میں خدا کے بیٹے بن جائیں گے جب وہ گُناہ سے پاک ہوں گے اور آخری اِمتحان میں خدا کے وفادار ثابت ہوں گے۔‏—‏روم 8:‏21؛‏ مکا 20:‏7،‏ 8‏۔‏

5،‏ 6.‏ ‏(‏الف)‏ والدین اپنے بچوں کو کون سا شان‌دار تحفہ دے سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہر بچے کی کیا ذمےداری ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

5 جب والدین اپنے بچوں کو دُعا کرنا سکھاتے ہیں اور اُن کی مدد کرتے ہیں کہ وہ یہوواہ خدا کو شفیق باپ خیال کریں تو وہ اپنے بچوں کو ایک شان‌دار تحفہ دے رہے ہوتے ہیں۔‏ ایک بھائی جو جنوبی افریقہ میں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کر رہا ہے،‏ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنی بیٹیوں کی پیدائش ہی سے اُن کے ساتھ ہر رات دُعا کِیا کرتا تھا۔‏ صرف اُسی وقت مَیں اُن کے ساتھ دُعا نہیں کر پاتا تھا جب مَیں گھر سے دُور ہوتا تھا۔‏ میرے بیٹیاں اکثر یہ کہتی ہیں کہ اُنہیں وہ باتیں تو ٹھیک سے یاد نہیں ہیں جو مَیں دُعا میں کہا کرتا تھا البتہ اُنہیں یہ اب بھی یاد ہے کہ دُعائیں کرتے وقت ماحول خوش‌گوار ہوتا تھا،‏ اُنہیں آسمانی باپ یہوواہ کے ساتھ بات کرنا بہت بڑا اعزاز لگتا تھا اور اُنہیں سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔‏ جیسے ہی مجھے لگا کہ اب میری بیٹیاں خود سے دُعا کرنے کے قابل ہو گئی ہیں تو مَیں نے اُن سے بڑے پیار سے کہا کہ وہ اُونچی آواز میں دُعا کریں۔‏ مَیں دیکھنا چاہتا تھا کہ میری بیٹیاں یہوواہ خدا کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں اور اُن کے دل میں کیا ہے۔‏ اُن کی دُعائیں سننے کے بعد مَیں نے اُن کی مدد کی کہ وہ اپنی دُعاؤں میں اُن اہم باتوں کو بھی شامل کریں جو یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو دُعا سکھاتے وقت بتائی تھیں۔‏ یوں مَیں نے اُن کی مدد کی تاکہ اُن کی دُعائیں زیادہ پُر معنی ہوں۔‏“‏

6 اِس بھائی کی بیٹیوں نے بڑے ہو کر بھی خدا کی خدمت میں بہت ترقی کی۔‏ ابھی وہ ایک خوش‌گوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اور اپنے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کُلوقتی خدمت کر رہی ہیں۔‏ بچوں کے لیے اِس سے بڑا تحفہ اَور کیا ہو سکتا ہے کہ اُن کے والدین اُن کے دل میں یہوواہ خدا کے لیے محبت پیدا کریں اور اُنہیں یہوواہ خدا کا دوست بننا سکھائیں؟‏ لیکن یہ ہر بچے کی ذمےداری ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنی دوستی برقرار رکھے۔‏ اِس میں یہ شامل ہے کہ بچے خدا کے نام سے محبت کریں اور اِس کے لیے گہرا احترام ظاہر کریں۔‏—‏زبور 5:‏11،‏ 12؛‏ 91:‏14‏۔‏

 ‏”‏تیرا نام پاک مانا جائے“‏

7.‏ خدا کے بندوں کے طور پر ہمیں کیا اعزاز ملا ہے اور ہم پر کیا ذمےداری آتی ہے؟‏

7 ہمارے لیے صرف یہی اعزاز کی بات نہیں ہے کہ ہم یہوواہ خدا کا ذاتی نام جانتے ہیں بلکہ ہمیں اُس کے نام سے کہلانے کا شرف بھی حاصل ہے۔‏ (‏اعما 15:‏14؛‏ یسع 43:‏10‏)‏ ہم اپنے آسمانی باپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ”‏تیرا نام پاک مانا جائے۔‏“‏ چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا کے نام پر کوئی حرف نہ آئے اِس لیے ہم اُس سے یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے تاکہ ہم کوئی بھی ایسا کام نہ کریں یا ایسی بات نہ کہیں جس سے اُس کی بدنامی ہو۔‏ ہم پہلی صدی کے اُن مسیحیوں کی طرح نہیں بننا چاہتے جو دوسروں کو تو نیکی کا درس دیتے تھے لیکن خود اُس پر عمل نہیں کرتے تھے۔‏ پولُس رسول نے اِن مسیحیوں کے بارے میں کہا:‏ ”‏تمہارے سبب سے غیرقوموں میں خدا کے نام پر کفر بکا جاتا ہے۔‏“‏—‏روم 2:‏21-‏24‏۔‏

8،‏ 9.‏ مثال سے واضح کریں کہ یہوواہ خدا اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اُس کے نام کو پاک ٹھہرانا چاہتے ہیں۔‏

8 ہماری دلی خواہش ہے کہ یہوواہ خدا کا نام پاک ٹھہرے۔‏ ذرا ناروے میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں۔‏ ایک دن اُس کا شوہر اچانک فوت ہو گیا۔‏ اُس وقت اِس بہن کے بیٹے کی عمر دو سال تھی۔‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏یہ میری زندگی کا بہت ہی کٹھن دَور تھا۔‏ مَیں ہر روز بلکہ تقریباً ہر گھنٹے ہی یہوواہ خدا سے دُعا کرتی۔‏ مَیں اُس سے طاقت مانگتی کہ مَیں صدمے سے نڈھال نہ ہو جاؤں اور کوئی ایسا کام یا فیصلہ نہ کر بیٹھوں جس سے شیطان کو خدا کو طعنے دینے کا موقع ملے۔‏ مَیں یہوواہ خدا کے نام کو پاک ٹھہرانا چاہتی تھی اور یہ چاہتی تھی کہ میرا بیٹا اپنے باپ سے دوبارہ فردوس میں ملے۔‏“‏—‏امثا 27:‏11‏۔‏

9 کیا یہوواہ خدا نے اِس بہن کی دُعا کا جواب دیا؟‏ جی ہاں۔‏ اِس بہن کو باقاعدگی سے کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بڑی تسلی ملی۔‏ پانچ سال بعد اِس بہن کی شادی ایک بزرگ سے ہوئی۔‏ اب اِس بہن کا بیٹا 20 سال کا ہے اور بپتسمہ‌یافتہ مبشر کے طور پر خدا کی خدمت کر رہا ہے۔‏ یہ بہن کہتی ہے:‏ ”‏مَیں بہت خوش ہوں کہ میرے شوہر نے میرے بیٹے کی پرورش کرنے میں میری مدد کی۔‏“‏

10.‏ یہوواہ خدا اپنے نام کو مکمل طور پر کب پاک ٹھہرائے گا؟‏

10 یہوواہ خدا اپنے نام کو مکمل طور پر پاک اُس وقت ٹھہرائے گا جب وہ اُن سب لوگوں کو ختم کر دے گا جو اُس کی حکمرانی کو رد کرتے ہیں۔‏ ‏(‏حِزقی‌ایل 38:‏22،‏ 23 کو پڑھیں۔‏)‏ پھر اِنسانوں کو آہستہ آہستہ گُناہ سے پاک کر دیا جائے گا۔‏ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب سب فرشتوں کے ساتھ ساتھ سب اِنسان بھی یہوواہ خدا کے نام کو پاک ٹھہرائیں گے۔‏ پھر ہمارا شفیق آسمانی باپ ہی سب کا حاکم ہوگا۔‏—‏1-‏کُر 15:‏28‏۔‏

‏”‏تیری بادشاہی آئے“‏

11،‏ 12.‏ سن 1876ء میں یہوواہ خدا نے اپنے بندوں کو کس بات کی سمجھ عطا کی؟‏

11 یسوع مسیح کے آسمان پر جانے سے پہلے اُن کے رسولوں نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏اَے خداوند!‏ کیا تُو اِسی وقت اِؔسرائیل کو پھر بادشاہی عطا کرے گا؟‏“‏ یسوع مسیح نے اُنہیں بتایا کہ ابھی اُنہیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ خدا کی بادشاہت کب حکمرانی شروع کرے گی۔‏ اُنہوں نے شاگردوں کو گواہی دینے کے اہم کام پر توجہ رکھنے کے لیے کہا۔‏ ‏(‏اعمال 1:‏6-‏8 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو یہ بھی سکھایا کہ وہ خدا کی بادشاہت کے آنے کے منتظر رہیں۔‏ لہٰذا رسولوں کے زمانے سے لے کر اب تک سچے مسیحی خدا کی بادشاہت کے آنے کے لیے دُعا کرتے ہیں۔‏

12 پھر جب وہ وقت آیا کہ یسوع مسیح آسمان پر حکمرانی شروع کریں تو یہوواہ خدا نے اپنے بندوں کو سمجھ عطا کی کہ یہ اہم واقعہ کب ہوگا۔‏ 1876ء میں بھائی چارلس ٹیز رسل نے مضمون ”‏غیرقوموں کی معیاد کب ختم ہوگی؟‏“‏ لکھا۔‏ اِس میں اُنہوں نے بتایا کہ دانی‌ایل نبی کی پیش‌گوئی میں درج ”‏سات دَور“‏ اور یسوع مسیح کی پیش‌گوئی میں درج ”‏غیرقوموں کی میعاد“‏ ایک ہی عرصے کی طرف اِشارہ کرتے  ہیں۔‏ اِس مضمون میں یہ بتایا گیا کہ اِس عرصے کا اِختتام 1914ء میں ہوگا۔‏ *‏—‏دان 4:‏16؛‏ لُو 21:‏24‏۔‏

13.‏ سن 1914ء میں کیا ہوا اور تب سے دُنیا کے حالات سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟‏

13 سن 1914ء میں یورپ میں جنگ شروع ہوئی اور بہت جلد یہ جنگ پوری دُنیا میں پھیل گئی۔‏ اِس کے نتیجے میں بعض ملکوں میں خوراک کی سخت قلت ہو گئی۔‏ پھر 1918ء میں جنگ ختم ہونے سے پہلے دُنیا بھر میں فلو کی وبا پھیل گئی۔‏ اِتنے زیادہ لوگ جنگ میں بھی نہیں مارے گئے جتنے زیادہ اِس ہول‌ناک فلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔‏ یہ سب باتیں اُس ”‏نشان“‏ کا حصہ تھیں جو یسوع مسیح نے اپنی موجودگی کے بارے میں دیا تھا۔‏ اِس سے ثابت ہوا کہ یسوع مسیح 1914ء میں آسمان پر بادشاہ بن گئے ہیں۔‏ (‏متی 24:‏3-‏8؛‏ لُو 21:‏10،‏ 11‏)‏ اِسی سال ’‏وہ فتح کرتے ہوئے نکلے تاکہ اَور بھی فتح کریں۔‏‘‏ (‏مکا 6:‏2‏)‏ یسوع مسیح نے شیطان اور شیاطین کو آسمان سے نکال کر زمین پر پھینک دیا۔‏ اِس کے بعد سے یہ پیش‌گوئی پوری ہو رہی ہے:‏ ”‏اَے خشکی اور تری تُم پر افسوس!‏ کیونکہ اِبلیسؔ بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔‏ اِس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔‏“‏—‏مکا 12:‏7-‏12‏۔‏

14.‏ ‏(‏الف)‏ یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم ابھی بھی خدا کی بادشاہت کے آنے کے لیے دُعا کریں؟‏ (‏ب)‏ ہمیں کون سا کام کرنے کا اعزاز ملا ہے؟‏

14 مکاشفہ 12:‏7-‏12 میں درج پیش‌گوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب آسمان پر خدا کی بادشاہت قائم ہوئی تو زمین پر بُرے حالات کا سلسلہ کیوں شروع ہوا۔‏ اگرچہ یسوع مسیح آسمان پر  بادشاہ کے طور پر حکمرانی کر رہے ہیں لیکن اُن کے دُشمن ابھی بھی زمین پر حکمرانی کر رہے ہیں۔‏ جب تک یسوع مسیح فتح مکمل نہیں کر لیتے اور زمین سے بُرائی کا نام‌ونشان نہیں مٹا دیتے،‏ ہم خدا کی بادشاہت کے آنے کے لیے دُعا کرتے رہیں گے۔‏ اِس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی دُعا کے مطابق عمل کرتے ہوئے اِس بادشاہت کے بارے میں دوسروں کو بھی بتاتے رہیں گے۔‏ یوں ہم یسوع مسیح کی اِس پیش‌گوئی کو پورا کرنے میں حصہ لے رہے ہوں گے:‏ ”‏بادشاہی کی اِس خوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔‏ تب خاتمہ ہوگا۔‏“‏—‏متی 24:‏14‏۔‏

‏”‏تیری مرضی .‏ .‏ .‏ زمین پر بھی ہو“‏

15،‏ 16.‏ ہم اِس دُعا کے مطابق کیسے عمل کر سکتے ہیں کہ ’‏خدا کی مرضی زمین پر بھی ہو‘‏؟‏

15 تقریباً 6000 سال پہلے زمین پر خدا کی مرضی پوری ہو رہی تھی۔‏ یہی وجہ ہے کہ جب یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو بنا کر فردوس میں رکھا تو اُس نے کہا کہ ”‏بہت اچھا ہے۔‏“‏ (‏پید 1:‏31‏)‏ لیکن پھر شیطان نے بغاوت کی اور تب سے کم ہی لوگ خدا کی مرضی کے مطابق چل رہے ہیں۔‏ لیکن آج ہم ایک ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب تقریباً 80 لاکھ یہوواہ کے گواہ اُس کی عبادت کر رہے ہیں۔‏ ہم سب نہ صرف یہ دُعا کرتے ہیں کہ زمین پر خدا کی مرضی ہو بلکہ اِس دُعا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لیتے ہیں۔‏

کیا آپ اپنے بچوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ اِس دُعا کے مطابق زندگی گزار سکیں کہ ’‏خدا کی مرضی زمین پر بھی ہو‘‏؟‏ (‏پیراگراف 16 کو دیکھیں۔‏)‏

16 مثال کے طور پر افریقہ میں مشنری کے طور پر خدمت کرنے والی ایک 80 سالہ بہن کے بیان پر غور کریں۔‏ اِس بہن نے 1948ء میں بپتسمہ لیا۔‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏مَیں اکثر یہ دُعا کرتی ہوں کہ جو لوگ سچائی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں،‏ اُن کی ملاقات یہوواہ کے گواہوں سے ہو۔‏ مَیں چاہتی ہوں کہ یہ لوگ یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھیں اِس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‏ اِس کے علاوہ مَیں کسی بھی شخص کو گواہی دینے سے پہلے یہوواہ خدا سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے سمجھ عطا کرے تاکہ مَیں اِس شخص کے دل تک پہنچ سکوں۔‏ اور جو لوگ ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتے ہیں،‏ اُن کے بارے میں مَیں یہ دُعا کرتی ہوں کہ یہوواہ خدا ہماری مدد کرے تاکہ ہم اِن لوگوں کی سچائی سیکھنے میں مدد کرتے رہیں۔‏“‏ اِس عمررسیدہ بہن نے بہت سے لوگوں کی یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھنے میں مدد کی ہے۔‏ کیا آپ کے ذہن میں کچھ اَور ایسے عمررسیدہ بہن بھائی آتے ہیں جو بڑے جوش سے یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں؟‏‏—‏فِلپّیوں 2:‏17 کو پڑھیں۔‏

17.‏ خدا اِنسانوں کے لیے جو کچھ کرے گا،‏ آپ اُس کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

17 جب تک خدا کے دُشمن زمین سے ختم نہیں ہو جاتے تب تک ہم یہ دُعا کرتے رہیں گے کہ زمین پر خدا کی مرضی ہو۔‏ بہت جلد زمین پر خدا کی مرضی صحیح معنوں میں پوری ہوگی۔‏ پوری زمین فردوس بن جائے گی اور اربوں مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اِس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں [‏میری]‏ آواز سُن کر نکلیں گے۔‏“‏ (‏یوح 5:‏28،‏ 29‏)‏ ذرا سوچیں کہ ہم اُس وقت کتنے خوش ہوں گے جب ہم اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملیں گے جو فوت ہو گئے ہیں!‏ خدا ہماری ”‏آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔‏“‏ (‏مکا 21:‏4‏)‏ جن مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا،‏ اُن میں سے زیادہ‌تر لوگ ایسے ہوں گے جو ’‏ناراست‘‏ تھے۔‏ اِن لوگوں کو پہلے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے بارے میں سیکھنے کا موقع نہیں ملا۔‏ ہمارے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہوگی کہ ہم اِن لوگوں کو یہوواہ خدا کے بارے میں سکھائیں گے تاکہ یہ لوگ ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ حاصل کر سکیں۔‏—‏اعما 24:‏15؛‏ یوح 17:‏3‏۔‏

18.‏ اِنسانوں کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟‏

18 جب خدا کی بادشاہت آئے گی تو خدا کا نام پاک ٹھہرے گا۔‏ پھر کائنات کی ہر مخلوق مل کر خدا کی عبادت کرے گی اور ہر سُو امن‌وسلامتی ہوگی۔‏ یہ اِنسانوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔‏ بِلاشُبہ یہوواہ خدا،‏ یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا کی پہلی تین درخواستوں کو پورا کرنے سے اِس ضرورت کو پورا کرے گا۔‏ اگلے مضمون میں ہم یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی دُعا کی باقی چار درخواستوں پر غور کریں گے۔‏

^ پیراگراف 12 اِس بارے میں مزید جاننے کے لیے کہ دانی‌ایل اور یسوع مسیح کی پیش‌گوئی 1914ء میں کیسے پوری ہوئی،‏ کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے صفحہ 215-‏218 کو دیکھیں۔‏