مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ہوشیار رہیں!‏ شیطان آپ کو ہڑپ کر لینا چاہتا ہے

ہوشیار رہیں!‏ شیطان آپ کو ہڑپ کر لینا چاہتا ہے

‏”‏تُم ہوشیار اور بیدار رہو۔‏ تمہارا مخالف اِبلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔‏“‏—‏1-‏پطر 5:‏8‏۔‏

1.‏ بتائیں کہ ایک فرشتہ،‏ شیطان کیسے بن گیا۔‏

وہ پہلے ایک فرشتہ تھا اور اُسے خدا کی خوشنودی حاصل تھی۔‏ لیکن پھر اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اِنسان اُس کی عبادت کریں۔‏ اُس نے اِس غلط خواہش کو دل سے نکالنے کے بجائے اِسے بڑھنے دیا،‏ یہاں تک کہ گُناہ کر بیٹھا۔‏ (‏یعقو 1:‏14،‏ 15‏)‏ یہ فرشتہ،‏ شیطان کہلاتا ہے۔‏ وہ ”‏سچائی پر قائم نہیں رہا۔‏“‏ اُس نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور ”‏جھوٹ کا باپ“‏ بن گیا۔‏—‏یوح 8:‏44‏۔‏

2،‏ 3.‏ لقب ”‏شیطان،‏“‏ ”‏اِبلیس،‏“‏ ”‏سانپ“‏ اور ”‏اژدہا“‏ سے ہمیں خدا کے دُشمن کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

2 شیطان،‏ یہوواہ خدا کا زبردست دُشمن بن گیا اور وہ اِنسانوں کا بھی کسی لحاظ سے دوست نہیں ہے۔‏ شیطان کو جو لقب دیے گئے ہیں،‏ اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنا بدذات ہے۔‏ شیطان کا مطلب ہے،‏ ”‏مخالف۔‏“‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسی بُری ہستی ہے جو خدا کی حکمرانی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ اِس کی سخت مخالفت کرتی ہے۔‏ اُس کی دلی تمنا ہے کہ یہوواہ کی حکمرانی کا نام‌ونشان مٹ جائے۔‏

 3 مکاشفہ 12:‏9 میں شیطان کو اِبلیس کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے،‏ ”‏جھوٹی باتیں پھیلانے والا۔‏“‏ اِس سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ شیطان نے خدا پر جھوٹ بولنے کا اِلزام لگایا ہے۔‏ شیطان کا ایک لقب ”‏پُرانا سانپ“‏ بھی ہے۔‏ اِس سے ہمیں وہ افسوس‌ناک دن یاد آتا ہے جب باغِ‌عدن میں شیطان نے سانپ کے ذریعے حوا کو بہکایا تھا۔‏ شیطان کو ”‏بڑا اژدہا“‏ بھی کہا گیا ہے۔‏ یہ لقب سُن کر ہمارے ذہن میں ایک بھیانک درندے کی تصویر بنتی ہے۔‏ یہ لقب شیطان کی اُس بےلگام حرص کی طرف اِشارہ کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ یہوواہ خدا کے مقصد اور اُس کے لوگوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔‏

4.‏ ہم اِس مضمون میں کس بات پر غور کریں گے؟‏

4 خدا کے لیے ہماری وفاداری کو شیطان سے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‏ اِسی لیے بائبل میں ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے:‏ ”‏تُم ہوشیار اور بیدار رہو۔‏ تمہارا مخالف اِبلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔‏“‏ (‏1-‏پطر 5:‏8‏)‏ اِس نصیحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اب ہم شیطان کی تین خصوصیات پر غور کریں گے۔‏ اِن سے ظاہر ہوگا کہ ہمیں شیطان سے خبردار  کیوں رہنا چاہیے جو یہوواہ خدا کا اور ہمارا خطرناک دُشمن ہے۔‏

شیطان بڑا طاقت‌ور ہے

5،‏ 6.‏ ‏(‏الف)‏ مثالیں دے کر بتائیں کہ فرشتے ”‏زور میں بڑھ کر“‏ ہیں۔‏ (‏ب)‏ شیطان کو کس لحاظ سے ”‏موت پر قدرت حاصل“‏ ہے؟‏

5 فرشتے ”‏زور میں بڑھ کر“‏ ہیں۔‏ (‏زبور 103:‏20‏)‏ وہ اِنسانوں سے کہیں زیادہ طاقت‌ور اور ذہین ہیں۔‏ بِلاشُبہ اچھے فرشتے اپنی طاقت کو اچھے کاموں کے لیے اِستعمال کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر جب اسور کی فوج نے خدا کے لوگوں پر حملہ کِیا تو ایک فرشتے نے اُس فوج کے 1 لاکھ 85 ہزار فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔‏ یہ ایسا کام تھا جو ایک اِنسان انجام نہیں دے سکتا تھا،‏ یہاں تک کہ ایک بڑی فوج کے لیے بھی مشکل تھا۔‏ (‏2-‏سلا 19:‏35‏)‏ ایک اَور موقعے پر ایک فرشتے نے بڑی ہوشیاری سے اپنی طاقت اِستعمال کرتے ہوئے رسولوں کو جیل سے آزاد کرایا۔‏ اُس فرشتے نے جیل کے دروازوں پر لگے ہوئے تالے کھول دیے،‏ رسولوں کو باہر نکالا اور دروازوں پر پھر سے تالے لگا دیے۔‏ یہ سب دربانوں کی موجودگی میں ہوا مگر اُنہیں کچھ پتہ نہ چلا۔‏—‏اعما 5:‏18-‏23‏۔‏

6 اچھے فرشتے تو اپنی طاقت کو اچھے کاموں کے لیے اِستعمال کرتے ہیں مگر شیطان اپنی طاقت بُرے کاموں کے لیے اِستعمال کرتا ہے۔‏ اور وہ واقعی بڑی طاقت والا ہے!‏ بائبل میں اُسے ”‏دُنیا کا سردار“‏ اور ’‏اِس جہان کا خدا‘‏ کہا گیا ہے۔‏ (‏یوح 12:‏31؛‏ 2-‏کُر 4:‏4‏)‏ اُسے تو ”‏موت پر قدرت حاصل“‏ ہے۔‏ (‏عبر 2:‏14‏)‏ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام اِنسانوں کو موت دیتا ہے۔‏ تو پھر اُسے کس لحاظ سے ”‏موت پر قدرت حاصل“‏ ہے؟‏ پہلی بات یہ ہے کہ شیطان کے بُرے اثر کی وجہ سے اِس دُنیا میں بہت سے لوگ ظلم اور تشدد پر تلے رہتے ہیں۔‏ دوسری بات یہ ہے کہ حوا نے شیطان کے جھوٹ پر اِعتبار کِیا اور آدم نے خدا کی نافرمانی کی اور یوں گُناہ اور موت سب اِنسانوں میں پھیل گئے۔‏ (‏روم 5:‏12‏)‏ جیسا کہ یسوع مسیح نے کہا شیطان ایک ”‏خونی“‏ ہے۔‏ (‏یوح 8:‏44‏)‏ وہ واقعی ہمارا خطرناک اور طاقت‌ور دُشمن ہے۔‏

7.‏ بُرے فرشتوں نے یہ کیسے ثابت کِیا ہے کہ وہ بہت طاقت‌ور ہیں؟‏

7 جب ہم شیطان کی مخالفت کرتے ہیں تو نہ صرف شیطان بلکہ اُس کے ساتھی بھی ہمارے دُشمن بن جاتے ہیں کیونکہ وہ بھی خدا کی حکمرانی کے خلاف ہیں۔‏ شیطان کے ساتھیوں میں بہت سے بُرے فرشتے بھی شامل ہیں جنہیں شیاطین کہا جاتا ہے۔‏ (‏مکا 12:‏3،‏ 4‏)‏ بُرے فرشتوں نے بار بار اِنسانوں کو تکلیفیں اور دُکھ پہنچا کر یہ ثابت کِیا ہے کہ وہ اِنسانوں سے کہیں زیادہ طاقت‌ور ہیں۔‏ (‏متی 8:‏28-‏32؛‏ مر 5:‏1-‏5‏)‏ بُرے فرشتوں اور اُن کے ”‏سردار“‏ کی طاقت کو کبھی بھی نظرانداز نہ کریں۔‏ (‏متی 9:‏34‏)‏ یہوواہ خدا کی مدد کے بغیر ہم شیطان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‏

 شیطان بڑا سفاک ہے

8.‏ ‏(‏الف)‏ شیطان نے کیا ٹھان رکھی ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏ (‏ب)‏ دُنیا میں ہونے والے واقعات سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ شیطان کی طرح سفاک ہیں؟‏

8 پطرس رسول نے کہا کہ شیطان ”‏گرجنے والے شیرببر“‏ کی طرح ہے۔‏ یونانی الفاظ کی ایک لغت کے مطابق جس لفظ کا ترجمہ ”‏گرجنے“‏ کِیا گیا ہے،‏ وہ ایک سخت بھوکے درندے کی غراہٹ کے معنی رکھتا ہے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان کتنی سفاک طبیعت کا مالک ہے۔‏ حالانکہ ساری دُنیا اُس کے قبضے میں ہے پھر بھی شیطان کی بھوک نہیں مٹتی۔‏ (‏1-‏یوح 5:‏19‏)‏ اُس کا سب سے بڑا نشانہ زمین پر موجود ممسوح مسیحی اور یسوع مسیح کی ”‏اَور بھی بھیڑیں“‏ ہیں۔‏ (‏یوح 10:‏16؛‏ مکا 12:‏17‏)‏ شیطان نے خدا کے بندوں کو ہڑپ کر لینے کی ٹھان رکھی ہے۔‏ وہ پہلی صدی سے لے کر آج تک مسیح کے پیروکاروں پر لگاتار اذیت ڈھا رہا ہے۔‏ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کتنا سفاک ہے۔‏

9،‏ 10.‏ ‏(‏الف)‏ شیطان نے بنی‌اِسرائیل پر کس طرح حملے کیے؟‏ مثالیں دیں۔‏ (‏ب)‏ شیطان نے بنی‌اِسرائیل کو اپنا خاص نشانہ کیوں بنایا؟‏ (‏ج)‏ جب خدا کا کوئی بندہ سنگین گُناہ کرتا ہے تو شیطان کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‏

9 شیطان کی سفاکی اِس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اُسے دوسروں کو پھاڑ ڈالنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔‏ بھوکے شیرببر کو اپنے شکار سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔‏ اُسے نہ تو اُسے مارنے سے پہلے اُس پر رحم آتا ہے اور نہ ہی بعد میں کوئی پچھتاوا ہوتا ہے۔‏ اِسی طرح شیطان کو بھی اُن لوگوں پر ذرا ترس نہیں آتا جن پر وہ حملہ کرتا ہے۔‏ مثال کے طور پر ذرا سوچیں کہ جب بنی‌اِسرائیل حرام‌کاری اور لالچ کے پھندے میں پھنستے ہوں گے تو شیطان کو کیسا محسوس ہوتا ہوگا۔‏ تصور کریں کہ جب زمری کو حرام‌کاری کی وجہ سے اور جیحازی کو لالچ کی وجہ سے سنگین نتائج بھگتنے پڑے تو شیطان کتنی خوشی سے دھاڑا ہوگا۔‏—‏گن 25:‏6-‏8،‏ 14،‏ 15؛‏ 2-‏سلا 5:‏20-‏27‏۔‏

شیطان کو اُس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب خدا کا کوئی بندہ سنگین گُناہ کرتا ہے۔‏ (‏پیراگراف 10 کو دیکھیں۔‏)‏

10 بنی‌اِسرائیل کو نشانہ بنانے کی خاص وجہ تھی۔‏ دراصل مسیح نے اِسی قوم سے آنا تھا۔‏ مسیح وہ ہستی ہے جو شیطان کو کچلے  گا اور یہ ثابت کرے گا کہ حکمرانی کرنے کا حق صرف یہوواہ خدا کا ہے۔‏ (‏پید 3:‏15‏)‏ شیطان یہ نہیں چاہتا تھا کہ بنی‌اِسرائیل کو خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔‏ اِس لیے وہ اُنہیں گُناہ کرنے پر اُکساتا رہا۔‏ یہ نہ سوچیں کہ جب داؤد نے زِناکاری کی تو شیطان کو اُن پر ترس آیا ہوگا۔‏ اور جب موسیٰ نے اُس ملک میں جانے کا شرف کھو دیا جس کا وعدہ یہوواہ نے کِیا تھا تو شیطان کو موسیٰ سے کوئی ہمدردی ہوئی ہوگی۔‏ شیطان کو تو اُس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب خدا کا کوئی بندہ سنگین گُناہ کرتا ہے۔‏ دراصل یوں اُسے یہوواہ خدا کو طعنے مارنے کا موقع ملتا ہے۔‏—‏امثا 27:‏11‏۔‏

11.‏ شیطان نے سارہ کو اپنے حملے کا نشانہ کیوں بنایا؟‏

11 شیطان کو اُس گھرانے سے خاص دُشمنی تھی جس سے مسیح نے آنا تھا۔‏ مثال کے طور پر غور کریں کہ جب خدا نے ابرہام کو بتایا کہ اُس کی اولاد ”‏ایک بڑی قوم“‏ بنے گی تو اُس کے تھوڑی دیر بعد کیا ہوا۔‏ (‏پید 12:‏1-‏3‏)‏ جب ابرہام اور سارہ،‏ مصر میں تھے تو فرعون سارہ کو اپنے محل میں لے گیا تاکہ اُن سے شادی کر لے۔‏ لیکن یہوواہ نے سارہ کو اِس مشکل صورتحال سے بچا لیا۔‏ ‏(‏پیدایش 12:‏14-‏20 کو پڑھیں۔‏)‏ اِضحاق کی پیدایش سے پہلے شہر جرار میں بھی ایسا ہی ہوا۔‏ (‏پید 20:‏1-‏7‏)‏ کیا اِس سب کے پیچھے شیطان کا ہاتھ تھا؟‏ یاد رکھیں کہ سارہ،‏ شہر اُور کی خوش‌حال زندگی کو چھوڑ کر خیموں میں بسنے چلی آئی تھیں۔‏ تو پھر کیا شیطان کو یہ اُمید تھی کہ فرعون اور ابی‌ملک کے شان‌دار محلوں کی زندگی سارہ کو لبھائے گی؟‏ کیا شیطان یہ سوچ رہا تھا کہ سارہ اپنے شوہر سے اور یہوواہ سے بےوفائی کرے گی؟‏ بائبل میں اِن سوالوں کا جواب نہیں لکھا۔‏ لیکن اگر سارہ ایسا کرتیں تو مسیح کے آنے میں رُکاوٹ پیدا ہوتی اور اِس سے شیطان کو یقیناً بڑی خوشی ملتی۔‏ شیطان کو اِس بات پر ذرا سا بھی پچھتاوا نہ ہوتا کہ ایک نیک عورت کا ازدواجی بندھن تباہ ہو گیا ہے،‏ اُس کی بدنامی ہوئی ہے اور وہ خدا کی خوشنودی کھو بیٹھی ہے۔‏ واقعی شیطان بڑا سفاک ہے!‏

12،‏ 13.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع کی پیدایش کے بعد شیطان نے سفاکی کیسے دِکھائی؟‏ (‏ب)‏ آپ کے خیال میں شیطان اُن بچوں کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے جو یہوواہ سے پیار کرتے ہیں اور اُس کی خدمت کرتے ہیں؟‏

12 ابرہام کے صدیوں بعد یسوع پیدا ہوئے۔‏ کیا شیطان کو ننھے اور معصوم یسوع پر پیار آیا؟‏ بالکل نہیں۔‏ وہ جانتا تھا کہ یہی بچہ بڑا ہو کر مسیح بنے گا۔‏ یسوع مسیح ابرہام کی نسل کا اہم حصہ تھے اور وہی ”‏اِبلیس کے کاموں“‏ کو مٹائیں گے۔‏ (‏1-‏یوح 3:‏8‏)‏ کیا شیطان نے یہ سوچا کہ اِس بچے کو ہلاک کرنا بڑی بےرحمی کی بات ہوگی؟‏ جی نہیں۔‏ دراصل شیطان کو اچھے بُرے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‏ اُس نے تو یسوع کو مروانے کی بھی سازش کی۔‏ کیسے؟‏

13 جب ہیرودیس بادشاہ کو مجوسیوں سے پتہ چلا کہ ”‏یہودیوں کا بادشاہ“‏ پیدا ہوا ہے تو اُسے بہت غصہ آیا اور اُس نے بچے کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔‏ (‏متی 2:‏1-‏3،‏ 13‏)‏ اُس نے حکم دیا کہ بیت‌لحم اور اُس کے آس‌پاس کے علاقوں میں اُن تمام لڑکوں کو مار دیا جائے جن کی عمر دو سال یا اِس سے کم ہے۔‏ ‏(‏متی 2:‏13-‏18 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع اِس خون‌ریزی سے بچ گئے مگر اِس واقعے سے ہمیں اپنے دُشمن شیطان کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی نظر میں اِنسانی زندگی کی کوئی قدر نہیں ہے۔‏ اُس کے دل میں بچوں کے لیے بھی ذرا پیار نہیں ہے۔‏ شیطان واقعی ’‏گرجنے والا شیرببر‘‏ ہے۔‏ یاد رکھیں کہ شیطان سے بڑا سفاک اَور کوئی نہیں۔‏

شیطان بڑا فریبی ہے

14،‏ 15.‏ شیطان نے کیسے ’‏بےایمانوں کی عقلوں کو اندھا کر دیا ہے‘‏؟‏

14 شیطان لوگوں کو اپنے فریب میں پھنسا کر ہی اُنہیں شفیق خدا یہوواہ سے دُور کر سکتا ہے۔‏ (‏1-‏یوح 4:‏8‏)‏ اُس کے فریب میں آ کر لوگوں کو یہوواہ خدا کی دوستی اور رہنمائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔‏ اُس نے ’‏بےایمانوں کی عقلوں کو اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اُس کے جلال کی خوش‌خبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔‏‘‏—‏2-‏کر 4:‏4‏۔‏

 15 لوگوں کو دھوکا دینے کا ایک کامیاب ذریعہ جھوٹا مذہب ہے۔‏ شیطان جانتا ہے کہ یہوواہ ”‏غیور خدا“‏ ہے یعنی ایسا خدا جو چاہتا ہے کہ صرف اُسی کی عبادت کی جائے۔‏ (‏خر 20:‏5‏)‏ اِس لیے ذرا سوچیں کہ جب لوگ اپنے مرے ہوئے باپ‌دادا کی،‏ درختوں،‏ پتھروں یا جانوروں وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں تو شیطان کتنا خوش ہوتا ہوگا۔‏ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچے خدا کی عبادت کر رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ جھوٹے عقیدوں اور رسموں میں جکڑے ہوتے ہیں۔‏ اُن کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسی یسعیاہ نبی کے زمانے میں بنی‌اِسرائیل کی تھی۔‏ یہوواہ نے اِسرائیلیوں سے کہا:‏ ”‏تُم کس لئے اپنا روپیہ اُس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اُس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرتے ہو؟‏ تُم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہے کھاؤ اور تمہاری جان فربہی سے لذت اُٹھائے۔‏“‏—‏یسع 55:‏2‏۔‏

16،‏ 17.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع مسیح نے پطرس سے یہ کیوں کہا کہ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ،‏ شیطان“‏؟‏ (‏ب)‏ شیطان ہمیں اِس فریب میں کیسے پھنسا سکتا ہے کہ ہمیں ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت نہیں؟‏

16 شیطان تو یہوواہ خدا کے بندوں کو بھی فریب دے سکتا ہے۔‏ آئیں،‏ ایک مثال پر غور کریں۔‏ جب یسوع مسیح نے شاگردوں کو بتایا کہ ”‏مجھے قتل کِیا جائے گا“‏ تو پطرس اُنہیں ایک طرف لے گئے اور نیک‌نیتی سے کہا:‏ ”‏مالک!‏ خود پر رحم کریں۔‏ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‏“‏ لیکن یسوع نے پطرس کی طرف پیٹھ پھیر کر کہا:‏ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ،‏ شیطان!‏“‏ (‏متی 16:‏22،‏ 23‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ یسوع مسیح نے پطرس کو ”‏شیطان“‏ کیوں کہا؟‏ کیونکہ یسوع مسیح جانتے تھے کہ جلد ہی وہ اپنی جان قربان کریں گے اور اِبلیس کو جھوٹا ثابت کریں گے۔‏ چونکہ یہ اِنسانی تاریخ کا بہت ہی نازک موڑ تھا اِس لیے یسوع مسیح کے لیے یہ ”‏خود پر رحم“‏ کرنے کا وقت نہیں تھا۔‏ شیطان تو چاہتا ہی یہ تھا کہ یسوع مسیح اِس اہم موڑ پر ہوشیار اور بیدار نہ رہیں۔‏

17 ہم بھی ایک نازک دَور میں رہ رہے ہیں کیونکہ خاتمہ نزدیک ہے۔‏ شیطان چاہتا ہے کہ ہم بھی ہوشیار اور بیدار رہنے کی بجائے ”‏خود پر رحم کریں“‏ یعنی اِس دُنیا کی آسائشوں سے لطف اُٹھائیں اور نام کمائیں۔‏ اِس دھوکے میں کبھی نہ آئیں بلکہ ہمیشہ ’‏جاگتے رہیں۔‏‘‏ (‏متی 24:‏42‏)‏ شیطان کے اِس فریب میں نہ آئیں کہ خاتمہ ابھی بہت دُور ہے یا یہ کبھی آئے گا ہی نہیں۔‏

18،‏ 19.‏ ‏(‏الف)‏ شیطان ہمیں اَور کس طریقے سے فریب دیتا ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا ہمیں ہوشیار رہنے کے قابل کیسے بناتا ہے؟‏

18 شیطان ایک اَور طریقے سے بھی ہمیں فریب دیتا ہے۔‏ وہ ہمیں یقین دِلانا چاہتا ہے کہ خدا ہمیں پیار نہیں کرتا اور ہمارے گُناہوں کو معاف نہیں کرتا۔‏ یہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔‏ ذرا سوچیں کہ یہوواہ کی محبت کے لائق کون نہیں؟‏ شیطان!‏ معافی کے لائق کون نہیں؟‏ شیطان!‏ لیکن بائبل میں ہمیں یہ یقین دِلایا گیا ہے کہ ”‏خدا بےاِنصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تُم نے اُس کے نام کے واسطے .‏ .‏ .‏ کی۔‏“‏ (‏عبر 6:‏10‏)‏ یہوواہ ہماری خدمت کی قدر کرتا ہے۔‏ لہٰذا یہ بےفائدہ نہیں۔‏ ‏(‏1-‏کرنتھیوں 15:‏58 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس لیے شیطان کے فریب میں کبھی نہ آئیں۔‏

19 ہم نے سیکھ لیا ہے کہ شیطان بڑا طاقت‌ور،‏ سفاک اور فریبی ہے۔‏ ہم اِس خطرناک دُشمن کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏ یہوواہ نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔‏ اُس کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کون سے پھندے اِستعمال کرتا ہے۔‏ یوں ”‏ہم [‏شیطان]‏ کے حیلوں سے ناواقف نہیں“‏ رہتے۔‏ (‏2-‏کر 2:‏11‏)‏ جب ہم شیطان کی چالوں سے واقف ہو جاتے ہیں تو ہمارے لیے ہوشیار رہنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔‏ لیکن شیطان کی چالوں سے واقف ہونا ہی کافی نہیں ہے۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تُم سے بھاگ جائے گا۔‏“‏ (‏یعقو 4:‏7‏)‏ اگلے مضمون میں ہم شیطان پر فتح پانے کے تین طریقوں پر بات کریں گے۔‏