مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یسوع مسیح کی طرح دلیر اور سمجھ‌دار بنیں

یسوع مسیح کی طرح دلیر اور سمجھ‌دار بنیں

‏’‏یسوع مسیح سے تُم بےدیکھے محبت رکھتے ہو اور اگرچہ اِس وقت اُس کو نہیں دیکھتے تو بھی اُس پر ایمان لاتے ہو۔‏‘‏—‏1-‏پطر 1:‏8‏۔‏

1‏،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ ہم نجات کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم اپنا پورا دھیان ہمیشہ کی زندگی کے راستے پر کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

جب ہم یسوع مسیح کے شاگرد بنے تھے تو ہم نے ایک نئے راستے پر اپنا سفر شروع کِیا تھا۔‏ یہ راستہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جاتا ہے،‏ چاہے یہ زندگی ہمیں آسمان پر ملے یا پھر زمین پر۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏جو آخر تک [‏یعنی اپنی زندگی کے آخر تک یا اِس شریر دُنیا کے آخر تک]‏ برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا۔‏“‏ (‏متی 24:‏13‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”‏آخر تک“‏ یہوواہ خدا کا وفادار رہنے سے ہم نجات حاصل کر سکتے ہیں۔‏ لیکن ہمیشہ کی زندگی کے راستے پر چلتے ہوئے ہمیں اِس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم کہیں بھٹک نہ جائیں۔‏ (‏1-‏یوح 2:‏15-‏17‏)‏ مگر ہم اپنا پورا دھیان اِس سفر پر کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

2 اِس سلسلے میں یسوع مسیح نے ہمارے لیے بہت شان‌دار مثال قائم کی۔‏ بائبل میں یسوع مسیح کی زندگی کے سفر کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔‏ اِس سے ہم جان سکتے ہیں کہ اِس سفر میں یسوع مسیح نے کن خوبیوں کو ظاہر کِیا۔‏ اِن خوبیوں پر غور کرنے سے ہمارے دل میں یسوع مسیح کے لیے محبت پیدا ہوگی اور ہم اُن پر ایمان رکھیں گے۔‏ ‏(‏1-‏پطرس 1:‏8،‏ 9 کو پڑھیں۔‏)‏ یاد کریں کہ پطرس رسول نے کہا تھا کہ یسوع مسیح نے ہمیں ایک نمونہ دیا ہے تاکہ ہم اُن کے نقشِ‌قدم پر چلیں۔‏ (‏1-‏پطر 2:‏21‏)‏ اگر ہم یسوع مسیح کے نقشِ‌قدم پر  چلنے کی پوری کوشش کریں گے تو ہم آخر تک برداشت کرنے کے قابل ہوں گے۔‏ * پچھلے مضمون میں ہم نے اِس بارے میں بات کی تھی کہ ہم یسوع مسیح کی طرح خاکسار اور ہمدرد کیسے بن سکتے ہیں۔‏ آئیں،‏ اب غور کرتے ہیں کہ ہم یسوع مسیح کی طرح دلیر اور سمجھ‌دار کیسے بن سکتے ہیں۔‏

یسوع مسیح دلیر تھے

3.‏ دلیری کیا ہے اور ہم اِسے کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟‏

3 دلیری ہمیں مضبوط اور مشکلوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔‏ ایک دلیر شخص ہمیشہ صحیح کا ساتھ دیتا ہے۔‏ وہ مشکل حالات میں بھی خدا کا وفادار رہتا ہے اور سر اُٹھا کر مشکلوں کا مقابلہ کرتا ہے۔‏ دلیری کا تعلق خوف،‏ اُمید اور محبت سے ہے۔‏ ایسا کیوں کہا جا سکتا ہے؟‏ کیونکہ خدا کا خوف ہم میں یہ دلیری پیدا کرتا ہے کہ ہم اِنسانوں سے نہ ڈریں۔‏ (‏1-‏سمو 11:‏7؛‏ امثا 29:‏25‏)‏ یہوواہ خدا پر اُمید یا آس رکھنے سے ہم اپنی توجہ مشکلوں پر رکھنے کی بجائے مستقبل میں ملنے والی برکتوں پر رکھتے ہیں۔‏ (‏زبور 27:‏14‏)‏ بےغرض محبت ہمیں اُس وقت بھی دلیری ظاہر کرنے کی ترغیب دیتی ہے جب ہماری جان داؤ پر لگی ہوتی ہے۔‏ (‏یوح 15:‏13‏)‏ ہم یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنے اور اُس کے بیٹے کے نقشِ‌قدم پر چلنے سے اپنے اندر دلیری پیدا کر سکتے ہیں۔‏—‏زبور 28:‏7‏۔‏

4.‏ یسوع مسیح نے ”‏ہیکل میں اُستادوں کے بیچ میں بیٹھے“‏ دلیری کیسے ظاہر کی؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

4 یسوع مسیح نے 12 سال کی عمر میں بھی دلیری ظاہر کی۔‏ یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ ”‏ہیکل میں اُستادوں کے بیچ میں بیٹھے“‏ اُن سے بات‌چیت کر رہے تھے۔‏ ‏(‏لوقا 2:‏41-‏47 کو پڑھیں۔‏)‏ وہ جن اُستادوں یعنی مذہبی رہنماؤں سے بات کر رہے تھے،‏ وہ نہ صرف موسیٰ کی شریعت کا گہرا علم رکھتے تھے بلکہ یہودی روایتوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔‏ یہ ایسی روایتیں تھیں جن کی وجہ سے لوگوں کے لیے شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔‏ لیکن یسوع مسیح مذہبی رہنماؤں کے علم کی وجہ سے اُن سے بات کرنے سے نہیں ہچکچائے۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے ”‏اُن سے سوال“‏ پوچھے۔‏ یقیناً یہ ایسے سوال نہیں تھے جو عموماً اِس عمر  کے لڑکے دوسروں سے کرتے ہیں۔‏ بِلاشُبہ یسوع مسیح نے اِن اُستادوں سے ایسے سوال پوچھے تھے جن کی وجہ سے یہ اُستاد سوچ میں پڑ گئے اور یسوع مسیح کی بات کو توجہ سے سننے لگے۔‏ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اگر اِن اُستادوں نے اپنے سوالوں سے یسوع مسیح کو اُلجھانے کی کوشش کی بھی ہوگی تو وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہوں گے۔‏ یسوع مسیح نے اِتنی دلیری سے خدا کے کلام کی سچائیوں کا دِفاع کِیا کہ سبھی لوگ یہاں تک کہ مذہبی اُستاد بھی اُن کی ”‏سمجھ اور [‏اُن]‏ کے جوابوں سے دنگ تھے۔‏“‏

5.‏ یسوع مسیح نے بڑے ہو کر کن طریقوں سے دلیری ظاہر کی؟‏

5 یسوع مسیح نے بڑے ہو کر بھی کئی موقعوں پر ظاہر کِیا کہ وہ بہت دلیر ہیں۔‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے بڑی دلیری سے مذہبی رہنماؤں کی جھوٹی تعلیمات کا پردہ فاش کِیا۔‏ (‏متی 23:‏13-‏36‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے دُنیا کی بُری سوچ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔‏ (‏یوح 16:‏33‏)‏ وہ مخالفت کے باوجود مُنادی کا کام کرتے رہے۔‏ (‏یوح 5:‏15-‏18؛‏ 7:‏14‏)‏ اُنہوں نے دو بار بڑی بہادری سے ہیکل سے اُن لوگوں کو نکالا جو اِسے ناپاک کر رہے تھے۔‏—‏متی 21:‏12،‏ 13؛‏ یوح 2:‏14-‏17‏۔‏

6.‏ یسوع مسیح نے اپنی موت سے پہلے کی رات دلیری کیسے ظاہر کی؟‏

6 آئیں،‏ اب غور کرتے ہیں کہ  یسوع  مسیح  نے  اپنی  موت  سے  پہلے کی رات دلیری کیسے ظاہر کی۔‏ یسوع مسیح جانتے تھے کہ جب یہوداہ اِسکریوتی اُنہیں دھوکا دے گا تو اِس کے بعد اُن کے ساتھ کیا کیا ہوگا۔‏ لیکن پھر بھی اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏جو کچھ تُو کرتا ہے جلد کر لے۔‏“‏ (‏یوح 13:‏21-‏27‏)‏ پھر جب کچھ سپاہی یسوع مسیح کو پکڑنے کے لیے گتسمنی باغ میں آئے تو یسوع مسیح نے نڈر ہو کر اُنہیں بتایا کہ وہی وہ شخص ہیں جسے سپاہی گِرفتار کرنے آئے ہیں۔‏ حالانکہ یسوع مسیح کی اپنی جان خطرے میں تھی پھر بھی اُنہوں نے اپنے شاگردوں کی حفاظت کی اور سپاہیوں سے کہا:‏ ”‏اگر مجھے ڈھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔‏“‏ (‏یوح 18:‏1-‏8‏)‏ اِس کے بعد یسوع مسیح کو سردار کاہن کے سامنے پیش کِیا گیا۔‏ سردار کاہن کے پوچھنے پر یسوع مسیح نے اُنہیں دلیری سے بتایا کہ وہ مسیح اور خدا کے بیٹے ہیں حالانکہ یسوع مسیح جانتے تھے کہ سردار کاہن اُنہیں قتل کرنے کے لیے کوئی عُذر ڈھونڈ رہا ہے۔‏ (‏مر 14:‏60-‏65‏)‏ یسوع  مسیح نے بڑی دلیری سے سُولی پر تکلیف‌دہ موت کا سامنا کِیا اور مرتے دم تک یہوواہ خدا کے وفادار رہے۔‏ اپنی آخری سانس لیتے وقت اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تمام ہوا۔‏“‏—‏یوح 19:‏28-‏30‏۔‏

یسوع مسیح کی طرح دلیر بنیں

7.‏ ‏(‏الف)‏ نوجوانو،‏ آپ یہوواہ خدا کے نام سے کہلانے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ آپ سکول میں دلیری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

7 ہم یسوع مسیح کی طرح دلیر کیسے بن سکتے ہیں؟‏ سکول میں:‏ نوجوانو،‏ جب آپ اپنے ہم‌جماعتوں اور دوسرے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ آپ یہوواہ کے گواہ ہیں تو آپ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ دلیر ہیں۔‏ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اِس وجہ سے کچھ لوگ آپ کا مذاق اُڑائیں گے،‏ آپ یہ بات بتانے سے کبھی نہیں گھبراتے۔‏ یوں آپ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کو یہوواہ خدا کے نام سے کہلانے پر فخر ہے۔‏ ‏(‏زبور 86:‏12 کو پڑھیں۔‏)‏ بعض لوگ شاید آپ پر اِرتقا کے نظریے کو ماننے کا دباؤ ڈالیں۔‏ لیکن آپ کو پورا یقین ہے کہ بائبل میں تخلیق کے بارے میں جو باتیں بتائی گئی ہیں،‏ وہی سچی ہیں۔‏ جب آپ لوگوں سے اِس بارے میں بات کرتے ہیں تو آپ اُنہیں جاگو!‏ میں شائع ہونے والے مضامین کے سلسلے ”‏کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏“‏ دِکھا سکتے ہیں۔‏ اِن مضامین میں دی گئی مثالوں کے ذریعے آپ ایسے لوگوں کو جواب دے سکتے ہیں جو آپ سے آپ کی ”‏اُمید کی وجہ دریافت“‏ کرتے ہیں۔‏ (‏1-‏پطر 3:‏15‏)‏ جب آپ اِس طرح دلیری سے بائبل کی سچائیوں کا دِفاع کریں گے تو آپ کو بہت خوشی ملے گی۔‏

8.‏ ہم کن وجوہات کی بِنا پر دلیری سے مُنادی کرتے ہیں؟‏

8 مُنادی کے کام میں:‏ سچے  مسیحیوں  کے  طور  پر  ہمیں  ”‏[‏یہوواہ]‏ کے بھروسے پر دلیری سے کلام“‏ کرتے رہنا چاہیے۔‏ (‏اعما 14:‏3‏)‏ ہم کن وجوہات کی بِنا پر دلیری سے مُنادی کرتے ہیں؟‏ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں،‏ وہ سچ ہے کیونکہ یہ بائبل پر مبنی ہے۔‏ (‏یوح 17:‏17‏)‏ دوسری وجہ یہ ہے کہ ”‏ہم خدا کے ساتھ کام کرنے والے ہیں“‏ اور اُس کی پاک روح ہمارے ساتھ ہے۔‏ (‏1-‏کر 3:‏9؛‏ اعما 4:‏31‏)‏ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم خدا اور پڑوسی سے محبت کرتے ہیں اور اِس وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوش‌خبری سنانا چاہتے ہیں۔‏ (‏متی 22:‏37-‏39‏)‏ چونکہ ہم دلیر ہیں اِس لیے ہم  مُنادی کرنا بند نہیں کریں گے۔‏ اِس کی بجائے ہم نے ٹھان لیا ہے کہ ہم جھوٹی مذہبی تعلیمات کا پردہ فاش کریں گے کیونکہ اِن کی وجہ سے لوگ خدا کے کلام کی سچائیوں کو دیکھ نہیں پاتے۔‏ (‏2-‏کر 4:‏4‏)‏ اِس کے علاوہ ہم نے یہ بھی عزم کِیا ہے کہ ہم لوگوں کو خوش‌خبری سناتے رہیں گے،‏ بھلے ہی وہ ہمارا مذاق اُڑائیں،‏ ہماری مخالفت کریں یا ہمارا پیغام قبول نہ کریں۔‏—‏1-‏تھس 2:‏1،‏ 2‏۔‏

9.‏ ہم مشکل حالات میں دلیری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

9 مشکل حالات میں:‏ خدا پر بھروسا رکھنے سے ہمارا ایمان مضبوط رہتا ہے اور ہم دلیری سے مشکلوں کا سامنا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏ اِسی وجہ سے جب ہمارا کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو ہم دُکھی تو ہوتے ہیں لیکن نااُمید نہیں ہوتے۔‏ ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ ”‏ہر طرح کی تسلی کا خدا“‏ ہمیں حوصلہ دے گا۔‏ (‏2-‏کر 1:‏3،‏ 4؛‏ 1-‏تھس 4:‏13‏)‏ پھر اگر ہم کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا شدید زخمی ہو جاتے ہیں تو ہم درد تو سہتے ہیں لیکن ہم خدا کے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔‏ ہم کوئی ایسا علاج نہیں کرواتے جو خدا کے حکموں سے ٹکراتا ہے۔‏ (‏اعما 15:‏28،‏ 29‏)‏ اِس کے علاوہ جب ہم افسردگی کا شکار ہوتے ہیں تو شاید ”‏ہمارا دل ہمیں اِلزام“‏ تو دیتا ہے لیکن ہم ہمت نہیں ہارتے کیونکہ ہم ایسے خدا پر بھروسا رکھتے ہیں جو ”‏شکستہ دلوں کے نزدیک ہے۔‏“‏ *‏—‏1-‏یوح 3:‏19،‏ 20؛‏ زبور 34:‏18‏۔‏

یسوع مسیح سمجھ‌دار تھے

10.‏ ایک سمجھ‌دار شخص کیا کرنے کے قابل ہے؟‏ ایک سمجھ‌دار مسیحی کیسی باتیں اور کیسے کام کرتا ہے؟‏

10 ایک سمجھ‌دار شخص صحیح اور غلط میں اِمتیاز کر سکتا ہے اور اِس وجہ سے اچھے فیصلے کرنے کے قابل ہوتا ہے۔‏ (‏عبر 5:‏14‏)‏ ایک سمجھ‌دار مسیحی ایسے فیصلے کرتا ہے جس سے اُس کا خدا کے ساتھ رشتہ مضبوط ہو۔‏ ایسا شخص اِس بات کا خیال رکھتا ہے کہ اُس کی باتوں سے دوسروں کو حوصلہ  ملے نہ کہ ٹھیس پہنچے۔‏ (‏امثا 11:‏12،‏ 13‏)‏ وہ ”‏قہر کرنے میں دھیما ہے۔‏“‏ (‏امثا 14:‏29‏)‏ وہ ”‏سیدھا راستہ اِختیار کرتا ہے“‏ اور ساری زندگی اُسی پر چلتا ہے۔‏ (‏امثا 15:‏21‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ ہم سمجھ‌داری سے کام لینا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟‏ اِس کے لیے ہمیں خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔‏ (‏امثا 2:‏1-‏5،‏ 10،‏ 11‏)‏ اِس سلسلے میں خاص طور پر یسوع مسیح کی مثال پر غور کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تاریخ میں سب سے زیادہ سمجھ‌دار اِنسان تھے۔‏

11.‏ یسوع مسیح نے اپنی باتوں سے سمجھ‌داری کیسے ظاہر کی؟‏

11 یسوع مسیح نے اپنی باتوں اور اپنے کاموں سے سمجھ‌داری ظاہر کی۔‏ یسوع مسیح کی باتیں:‏ یسوع مسیح لوگوں کو خوش‌خبری سناتے وقت اُن سے اِتنی ’‏پُرفضل باتیں‘‏ کرتے تھے کہ سننے والے حیران رہ جاتے تھے۔‏ (‏لو 4:‏22؛‏ متی 7:‏28‏)‏ وہ اکثر لوگوں کو تعلیم دیتے وقت خدا کے کلام کو پڑھتے تھے یا اِس کا حوالہ دیتے تھے۔‏ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ کون سا صحیفہ کس صورتحال میں اِستعمال کِیا جا سکتا ہے۔‏ (‏متی 4:‏4،‏ 7،‏ 10؛‏ 12:‏1-‏5؛‏ لو 4:‏16-‏21‏)‏ اِس کے علاوہ جس طرح سے یسوع مسیح صحیفوں کی وضاحت کرتے تھے،‏ اُس سے لوگوں کے دل پر گہرا اثر ہوتا تھا۔‏ مثال کے طور پر مُردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد یسوع مسیح دو شاگردوں کو دِکھائی دیے جو اِماؤس نامی گاؤں جا رہے تھے۔‏ راستے میں یسوع مسیح نے اُنہیں وہ سب باتیں سمجھائیں جو ’‏نوشتوں میں مسیح کے حق میں لکھی ہوئی تھیں۔‏‘‏ غور کریں کہ بعد میں اِن شاگردوں نے کہا:‏ ”‏جب وہ .‏ .‏ .‏ ہم پر نوشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟‏“‏—‏لو 24:‏27،‏ 32‏۔‏

12‏،‏ 13.‏ کن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح قہر کرنے میں دھیمے تھے اور معاملات کو صحیح زاویے سے دیکھ سکتے تھے؟‏

12 یسوع مسیح کے جذبات اور اُن کا رویہ:‏ یسوع مسیح کی سمجھ‌داری کا ثبوت اِس بات سے بھی ملتا ہے کہ وہ ’‏قہر کرنے میں دھیمے‘‏ تھے۔‏ (‏امثا 16:‏32‏)‏ وہ ”‏حلیم“‏ تھے۔‏ (‏متی 11:‏29‏)‏ وہ اپنے شاگردوں کی غلطیوں کے باوجود بھی اُن کے ساتھ ہمیشہ صبروتحمل سے پیش آتے تھے۔‏ (‏مر 14:‏34-‏38؛‏ لو 22:‏24-‏27‏)‏ وہ اُس وقت بھی غصے میں نہیں آتے تھے جب اُن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا تھا۔‏—‏1-‏پطر 2:‏23‏۔‏

13 سمجھ‌دار ہونے کی وجہ سے یسوع مسیح  معاملات  کو  صحیح  زاویے سے بھی دیکھ سکتے تھے۔‏ وہ نہ صرف شریعت میں دیے گئے قوانین سے واقف تھے بلکہ وہ اُن اصولوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھتے تھے جن پر یہ قوانین مبنی تھے۔‏ مثال کے طور پر مرقس 5:‏25-‏34 میں درج واقعے پر غور کریں۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏ اِس میں ایک ایسی عورت کا ذکر کِیا گیا ہے جسے 12 برس سے خون جاری تھا۔‏ یہ عورت بِھیڑ میں آئی اور یسوع مسیح کی پوشاک کو چُھونے سے ٹھیک ہو گئی۔‏ شریعت کے مطابق یہ عورت ناپاک تھی اور اُسے کسی کو بھی چُھونے کی اِجازت نہیں تھی۔‏ (‏احبا 15:‏25-‏27‏)‏ لیکن جب یسوع مسیح کو پتہ چلا کہ اِس عورت نے اُنہیں چُھوا ہے تو اُنہوں نے اُسے ڈانٹا نہیں۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے بڑے پیار سے اُس سے کہا:‏ ”‏بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔‏ سلامت جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ۔‏“‏ یسوع مسیح جانتے تھے کہ ”‏اِنصاف اور رحم“‏ ”‏شریعت کی زیادہ بھاری باتوں“‏ میں شامل ہیں اِس لیے اِن خوبیوں کو ظاہر کرنا شریعت کی پابندی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔‏ (‏متی 23:‏23‏)‏ یسوع مسیح نے سمجھ‌داری سے کام لینے کی کتنی عمدہ مثال قائم کی۔‏

14.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع مسیح نے کیا کرنے کا فیصلہ کِیا؟‏ (‏ب)‏ یسوع مسیح کس وجہ سے اپنا پورا دھیان مُنادی کے کام پر رکھنے کے قابل ہوئے؟‏

14 یسوع مسیح کی زندگی:‏ جس طرح سے یسوع مسیح نے زندگی گزاری،‏ اُس سے بھی اُن کی سمجھ‌داری نظر آتی ہے۔‏ اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اپنی زندگی خوش‌خبری کی مُنادی کرنے میں وقف کریں گے۔‏ (‏لو 4:‏43‏)‏ اِس کے علاوہ یسوع مسیح نے ایسے فیصلے بھی کیے جن کی مدد سے وہ اپنا پورا دھیان مُنادی کے کام پر رکھنے اور مرتے دم تک اِسے کرنے کے قابل ہوئے۔‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے سادہ زندگی گزاری تاکہ وہ اپنا وقت اور توانائی مُنادی کے کام میں صرف کر سکیں۔‏ (‏لو 9:‏58‏)‏ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اُن کے شاگردوں کو مُنادی کے کام میں تربیت دی جائے تاکہ وہ اُن کی موت کے بعد اِس کام کو جاری رکھ سکیں۔‏ (‏لو 10:‏1-‏12؛‏ یوح 14:‏12‏)‏ اُنہوں نے اپنے پیروکاروں سے وعدہ کِیا کہ وہ ”‏دُنیا کے آخر تک“‏ اِس کام میں اُن کا ساتھ دیں گے۔‏—‏متی 28:‏19،‏ 20‏۔‏

 یسوع مسیح کی طرح سمجھ‌دار بنیں

لوگوں کی دلچسپی اور ضرورت کے مطابق اُن سے بات‌چیت کریں۔‏ (‏پیراگراف 15 کو دیکھیں۔‏)‏

15.‏ ہم اپنی باتوں سے سمجھ‌داری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

15 ہم یسوع مسیح کی طرح سمجھ‌دار کیسے بن سکتے ہیں؟‏  ہماری  باتیں:‏ ہم اپنے بہن بھائیوں سے ایسی باتیں کر سکتے ہیں جن سے اُن کی حوصلہ‌افزائی ہو نہ کہ وہ بےحوصلہ ہوں۔‏ (‏افس 4:‏29‏)‏ جب ہم لوگوں سے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم ایسے الفاظ اِستعمال کر سکتے ہیں جو ”‏پُرفضل اور نمکین“‏ ہوں۔‏ (‏کل 4:‏6‏)‏ ہم لوگوں کی ضرورت کے مطابق اپنی بات‌چیت کو ڈھال سکتے ہیں اور اُن سے ایسے موضوعات پر بات کر سکتے ہیں جن میں اُنہیں دلچسپی ہے۔‏ ہم یہ یاد رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم اچھے الفاظ اِستعمال کریں گے تو اِس بات کا اِمکان زیادہ ہوگا کہ لوگ ہمارا پیغام سنیں اور یہ اُن کے دل کو چُھوئے۔‏ اِس کے علاوہ جب ہم لوگوں سے اپنے عقیدوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم بائبل کو اِستعمال کرنے کی پوری کوشش کر سکتے ہیں تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں،‏ وہ خدا کے کلام پر مبنی ہے۔‏ بائبل کے پیغام میں بہت طاقت ہے۔‏ اِس لیے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری باتوں کا لوگوں کے دل پر اِتنا اثر نہیں ہوگا جتنا بائبل کے پیغام کا۔‏—‏عبر 4:‏12‏۔‏

16‏،‏ 17.‏ ‏(‏الف)‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم قہر کرنے میں دھیمے ہیں؟‏ (‏ب)‏ سمجھ‌داری کی وجہ سے ہم اپنے بہن بھائیوں سے کیا توقع نہیں کریں گے اور کیا کرنے کو تیار ہوں گے؟‏ (‏ج)‏ خدا کی خدمت پر پوری توجہ رکھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

16 ہمارے جذبات اور ہمارا رویہ:‏ سمجھ‌داری ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے اور ”‏قہر میں دھیما“‏ ہونے کے قابل بناتی ہے۔‏ (‏یعقو 1:‏19‏)‏ جب دوسرے ہم سے کوئی ایسی بات کہتے ہیں یا کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے ہمیں ٹھیس پہنچتی ہے تو ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اُنہوں نے یہ بات کیوں کہی یا یہ کام کیوں کِیا۔‏ اِس طرح ہمارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور ہم ”‏خطا سے درگذر“‏ کریں گے۔‏ (‏امثا 19:‏11‏)‏ سمجھ‌داری کی وجہ سے ہم اپنے بہن بھائیوں سے یہ توقع نہیں کریں گے کہ وہ کبھی غلطی نہ کریں۔‏ اِس کی بجائے ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ شاید وہ ایسی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ہم پوری طرح واقف نہیں ہیں۔‏ اِس کے علاوہ اگر وہ ہمیں کسی بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں تو ہم اُن کی بات سننے کو تیار ہو جائیں گے۔‏ اور اگر مناسب ہو تو اُن کی بات مان لیں گے نہ کہ اپنی رائے پر ڈٹے رہیں گے۔‏—‏فل 4:‏5‏۔‏

17 ہماری زندگی:‏ یسوع مسیح کے پیروکاروں کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ مُنادی کے کام میں حصہ لینے سے بڑا اعزاز اَور کوئی نہیں۔‏ اِس لیے ہمیں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن کے ذریعے ہم اِس کام پر پوری توجہ رکھ سکیں۔‏ ہم نے فیصلہ کِیا ہے کہ ہم یہوواہ خدا کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔‏ اِس فیصلے پر قائم رہنے کے لیے ہمیں سادہ زندگی گزارنی چاہیے تاکہ خاتمہ آنے سے پہلے ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اور توانائی بادشاہت کی خوش‌خبری سنانے کے اہم کام میں صرف کر سکیں۔‏—‏متی 6:‏33؛‏ 24:‏14‏۔‏

18.‏ ہم ہمیشہ کی زندگی کے راستے پر اپنا سفر جاری کیسے رکھ سکتے ہیں اور ہمارا کیا عزم ہے؟‏

18 یسوع مسیح کی کچھ شان‌دار خوبیوں پر غور کرکے ہمیں واقعی بہت خوشی ہوئی ہے۔‏ ذرا سوچیں کہ اُن کی باقی خوبیوں پر غور کرنے سے بھی ہم کتنا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏ لہٰذا آئیں،‏ یسوع مسیح کے نقشِ‌قدم پر چلنے کا عزم کریں۔‏ ایسا کرنے سے ہم ہمیشہ کی زندگی کے راستے پر اپنا سفر جاری رکھیں گے اور یہوواہ خدا کے اَور قریب ہو جائیں گے۔‏

^ پیراگراف 2 پہلا پطرس 1:‏8،‏ 9 میں درج بات اُن مسیحیوں کے لیے لکھی گئی ہے جو آسمان پر جانے کی اُمید رکھتے ہیں۔‏ لیکن یہ بات اُن مسیحیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو زمین پر ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی اُمید رکھتے ہیں۔‏

^ پیراگراف 9 یہ جاننے کے لیے کہ کچھ بہن بھائیوں نے مشکل حالات میں  دلیری کیسے  ظاہر کی،‏ مینارِنگہبانی 1 دسمبر 2000ء،‏ صفحہ 24-‏28 اور جاگو!‏ جولائی–‏ستمبر 2003ء،‏ صفحہ 16-‏19 کو دیکھیں۔‏