مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ کی مدد سے اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط اور محفوظ رکھیں

یہوواہ کی مدد سے اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط اور محفوظ رکھیں

‏”‏اگر [‏یہوواہ]‏ ہی شہر کی حفاظت نہ کرے تو نگہبان کا جاگنا عبث ہے۔‏“‏—‏زبور 127:‏1‏۔‏

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ کس وجہ سے 24 ہزار اِسرائیلی مرد شان‌دار برکتوں سے محروم رہ گئے؟‏ (‏ب)‏ یہ واقعہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟‏

بنی‌اِسرائیل ملک کنعان میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ ہزاروں اِسرائیلی مردوں نے ”‏موآبی عورتوں کے ساتھ حرامکاری شروع کر دی۔‏“‏ اِس کے نتیجے میں 24 ہزار مرد یہوواہ خدا کے ہاتھوں مارے گئے۔‏ ذرا سوچیں کہ بنی‌اِسرائیل کو وہ میراث ملنے ہی والی تھی جس کا وہ برسوں سے اِنتظار کر رہے تھے۔‏ لیکن غلط خواہشوں میں پڑ کر اُنہوں نے شان‌دار برکتوں کو حاصل کرنے کا موقع کھو دیا۔‏—‏گن 25:‏1-‏5،‏ 9‏۔‏

2 بائبل میں یہ واقعہ ”‏ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کے واسطے“‏ لکھا گیا ہے۔‏ (‏1-‏کر 10:‏6-‏11‏)‏ ”‏اخیر زمانہ“‏ اپنے اِختتام کو پہنچنے والا ہے اور خدا کے بندے نئی دُنیا کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏1؛‏ 2-‏پطر 3:‏13‏)‏ لیکن افسوس کی بات ہے کہ خدا کے کچھ بندوں نے اپنے دل کی حفاظت نہیں کی اور بدکاری کے پھندے میں پھنس گئے۔‏ اِس وجہ سے وہ سنگین نتائج بھگت رہے ہیں۔‏ اگر وہ توبہ نہیں کریں گے تو وہ اُن برکتوں سے محروم رہ سکتے ہیں جو نئی دُنیا میں ملیں گی۔‏

3.‏ میاں بیوی کو یہوواہ خدا کی طرف سے رہنمائی اور تحفظ کی ضرورت کیوں ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

3 آج‌کل دُنیا میں ہر طرف بدکاری کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔‏ اِس لیے میاں بیوی کو یہوواہ خدا کی طرف سے رہنمائی اور تحفظ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی شادی کو مضبوط رکھنے کے لیے جو  بھی  کوششیں کریں،‏ وہ بےفائدہ نہ جائیں۔‏ ‏(‏زبور 127:‏1  کو پڑھیں۔‏)‏ اِس مضمون میں ہم غور کریں گے کہ میاں بیوی اپنے دل کی حفاظت کرنے،‏ یہوواہ خدا کے قریب رہنے،‏ نئی اِنسانیت کو پہننے،‏ آپس میں اچھی طرح سے بات‌چیت کرنے اور ایک دوسرے کا حق ادا کرنے سے اپنی شادی کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں۔‏

اپنے دل کی حفاظت کریں

4.‏ بعض مسیحی بدکاری کے پھندے میں کیسے پھنس گئے؟‏

4 ایک مسیحی بدکاری کے خطرے میں کیسے پڑ سکتا ہے؟‏ تباہی کے اِس راستے پر چلنے کی شروعات اکثر آنکھوں سے ہوتی ہے۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اُس کے ساتھ زِنا کر چُکا۔‏“‏ (‏متی 5:‏27،‏ 28؛‏ 2-‏پطر 2:‏14‏)‏ بہت سے مسیحی بدکاری کے پھندے میں اِس لیے پھنس گئے کیونکہ اُنہوں نے فحش فلمیں دیکھیں،‏ جنسی خواہشات اُبھارنے والا مواد پڑھا یا اِنٹرنیٹ پر گندی تصویریں دیکھیں۔‏ کچھ مسیحیوں نے ایسی فلمیں،‏ سٹیج شو یا ٹی‌وی پروگرام دیکھے جن میں جنسی مناظر تھے۔‏ بعض مسیحی نائٹ کلب گئے،‏ ایسی جگہوں پر گئے جہاں کچھ لوگ گاہکوں کے سامنے اپنے سارے کپڑے اُتارتے ہیں یا پھر ایسے مساج پارلروں میں گئے جہاں شہوت‌انگیز مالش کی جاتی ہے۔‏

5.‏ ہمیں اپنے دل کی حفاظت کیوں کرنی چاہیے؟‏

5 بعض مسیحی اِس لیے بدکاری کے جال میں پھنس جاتے  ہیں کیونکہ وہ پیار اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے جیون ساتھی کی بجائے کسی اَور شخص کے پاس جاتے ہیں۔‏ ہم ایک ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جہاں بہت سے لوگ اپنی غلط خواہشوں کو قابو میں نہیں رکھتے اور جہاں ہر طرح کی گندے کام عام ہے۔‏ لہٰذا ایک شخص کے حیلہ‌باز اور لاعلاج دل میں بڑی آسانی سے اپنے جیون ساتھی کی بجائے کسی اَور کے لیے چاہت پیدا ہو سکتی ہے۔‏ ‏(‏یرمیاہ 17:‏9،‏ 10 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏بُرے خیال۔‏ خونریزیاں۔‏ زِناکاریاں۔‏ حرام‌کاریاں۔‏ چوریاں۔‏ جھوٹی گواہیاں۔‏ بدگوئیاں دل ہی سے نکلتی ہیں۔‏“‏—‏متی 15:‏19‏۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ ایک شخص کا حیلےباز دل اُسے گُناہ کے کس راستے پر لے جا سکتا ہے؟‏ (‏ب)‏ میاں بیوی بدکاری میں پڑنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

6 جب دو لوگ ایک دوسرے کے لیے کشش محسوس کرتے ہیں اور اُن کے حیلےباز دل میں کوئی غلط خواہش جڑ پکڑ لیتی ہے تو شاید وہ آپس میں ایسی باتیں کرنے لگیں جو اُنہیں صرف اپنے جیون ساتھی سے کرنی چاہئیں۔‏ جلد ہی وہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے زیادہ سے زیادہ موقعے ڈھونڈنے لگتے ہیں اور اُن کی ایسی ملاقاتوں میں بھی اِضافہ ہو جاتا ہے جو دِکھنے میں اِتفاقیہ لگتی ہیں۔‏ جیسے جیسے ایک دوسرے کے لیے اُن کے جذبات شدید ہوتے جاتے ہیں،‏ بدکاری سے بچنے کا اُن کا عزم کمزور پڑتا جاتا ہے۔‏ وہ گُناہ کے راستے پر جتنا آگے نکلتے ہیں اُتنا ہی اُن کے لیے اپنے قدم روکنا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں،‏ وہ غلط ہے۔‏—‏امثا 7:‏21،‏ 22‏۔‏

7 اُن کی غلط خواہشیں اور بات‌چیت اِس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسے کام کرنے لگتے ہیں جو اُنہیں صرف اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کرنے چاہئیں جیسے کہ ہاتھ پکڑنا،‏ چُومنا یا جنسی خواہشات کو اُبھارنے کے لیے ایک دوسرے کو چُھونا۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے معیاروں پر قائم رہنے کا اُن کا عزم ٹوٹ چُکا ہے۔‏ آخرکار وہ ’‏اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمائے جاتے ہیں۔‏‘‏ پھر اُن کی ”‏خواہش حاملہ ہو کر گُناہ کو جنتی ہے“‏ یعنی وہ حرام‌کاری کر بیٹھتے ہیں۔‏ (‏یعقو 1:‏14،‏ 15‏)‏ لہٰذا کتنا اچھا ہے کہ میاں بیوی شادی کے بندھن کے سلسلے میں یہوواہ خدا کا نظریہ اپنائیں اور یوں بدکاری میں پڑنے سے بچیں۔‏ لیکن وہ یہوواہ خدا کا نظریہ کیسے اپنا سکتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا کے قریب رہیں

8.‏ یہوواہ خدا کے ساتھ دوستی کرنے سے میاں بیوی بدکاری سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

8 زبور 97:‏10 کو پڑھیں۔‏ بدکاری سے بچنے کے لیے  یہوواہ خدا سے دوستی کرنا بہت ضروری ہے۔‏ جب ہم خدا کی شان‌دار  خوبیوں کے بارے میں سیکھتے ہیں،‏ ’‏عزیز فرزندوں کی طرح اُس کی مانند بننے‘‏ کی کوشش کرتے ہیں اور ’‏محبت سے چلتے ہیں‘‏ تو ہمارا یہ عزم مضبوط ہوتا ہے کہ ہم ’‏حرام‌کاری اور ہر طرح کی ناپاکی‘‏ سے دُور رہیں گے۔‏ (‏افس 5:‏1-‏4‏)‏ جب میاں بیوی اِس بات کو یاد رکھتے ہیں کہ ”‏خدا حرام‌کاروں اور زانیوں کی عدالت کرے گا“‏ تو اِس سے اُنہیں اپنے بندھن کو باعزت اور بےداغ رکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏—‏عبر 13:‏4‏۔‏

9.‏ ‏(‏الف)‏ یوسف بدکاری سے کیسے بچے؟‏ (‏ب)‏ ہم یوسف کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

9 خدا کے بعض وفادار بندوں کا بدکاری سے دُور  رہنے  کا  عزم اِس لیے کمزور پڑ گیا کیونکہ اُنہوں نے کام کے بعد بھی ساتھی کارکنوں کے ساتھ وقت گزارا۔‏ لیکن بات صرف کام کے بعد وقت گزارنے کی نہیں ہے،‏ کام کے دوران بھی ہمیں آزمائش کا سامنا ہو سکتا ہے۔‏ یاد رکھیں کہ یوسف بھی فوطیفار کے گھر میں کام ہی کِیا کرتے تھے جب اُن کے مالک کی بیوی اُن میں دلچسپی لینے لگی۔‏ وہ ہر دن یوسف کو اپنے ساتھ بدکاری پر اُکساتی رہی۔‏ اور پھر ایک دن اُس نے ”‏[‏یوسف]‏ کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم‌بستر ہو۔‏“‏ لیکن یوسف وہاں سے بھاگ گئے۔‏ آزمائش کی اِس گھڑی میں یوسف بدکاری سے دُور رہنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏ دراصل اُنہوں نے پکا اِرادہ کِیا تھا کہ وہ یہوواہ خدا کے ساتھ اپنے رشتے پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔‏ اِس وجہ سے اگرچہ یوسف کو نوکری سے نکال دیا گیا اور اُنہیں جیل میں ڈال دیا گیا لیکن یہوواہ خدا نے اُنہیں برکت دی۔‏ (‏پید 39:‏1-‏12؛‏ 41:‏38-‏43‏)‏ لہٰذا چاہے ہم کام پر ہوں یا کسی اَور جگہ،‏ ہمیں ایسی صورتحال سے بچنا چاہیے جس میں ہم بدکاری کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔‏

نئی اِنسانیت کو پہنیں

10.‏ میاں بیوی نئی اِنسانیت کو پہننے سے شادی کے بندھن کو محفوظ کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

10 چونکہ نئی اِنسانیت ”‏خدا کے مطابق سچائی کی راست‌بازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے“‏ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ میاں بیوی حرام‌کاری سے بچنے کے لیے اِسے پہنیں۔‏ (‏افس 4:‏24‏)‏ جو لوگ نئی اِنسانیت کو پہن لیتے ہیں،‏ وہ ’‏حرام‌کاری،‏ ناپاکی،‏ شہوت،‏ بُری خواہش اور لالچ‘‏ سے گریز کرنے سے اپنے اعضا کو ”‏مُردہ“‏ کرتے ہیں۔‏ ‏(‏کلسیوں 3:‏5،‏ 6 کو پڑھیں۔‏)‏ اِصطلاح ”‏مُردہ کرو“‏ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں غلط خواہشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اِقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے۔‏ ہمیں ہر اُس کام سے گریز کرنا چاہیے جو ہمارے دل میں اپنے جیون ساتھی کے علاوہ کسی اَور کے لیے جنسی خواہش پیدا کرے۔‏ (‏ایو 31:‏1‏)‏ جب ہم اپنی زندگی یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق گزارتے ہیں تو ہم ”‏بدی سے نفرت“‏ کرنا اور ”‏نیکی سے لپٹے“‏ رہنا سیکھتے ہیں۔‏—‏روم 12:‏2،‏ 9‏۔‏

11.‏ نئی اِنسانیت شادی کے بندھن کو کیسے مضبوط کرتی ہے؟‏

11 نئی اِنسانیت ”‏اپنے خالق کی صورت پر“‏ بنی ہے۔‏ اِس لیے جب ہم اِسے پہنتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کی خوبیاں ظاہر کرتے ہیں۔‏ (‏کل 3:‏10‏)‏ جب میاں بیوی شادی کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے ’‏دردمندی،‏ مہربانی،‏ فروتنی،‏ حلم اور تحمل کا لباس‘‏ پہنتے ہیں تو یہوواہ خدا اُنہیں بہت برکتیں دیتا ہے۔‏ (‏کل 3:‏12‏)‏ جب وہ ’‏مسیح کے اِطمینان کو اپنے دلوں پر حکومت کرنے‘‏ دیتے ہیں تو اُن کا ازدواجی رشتہ اَور خوش‌گوار ہو جاتا ہے۔‏ (‏کل 3:‏15‏)‏ جب میاں بیوی ”‏ایک دوسرے کو پیار“‏ کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور عزت کرنے میں پہل کرتے ہیں۔‏—‏روم 12:‏10‏۔‏

12.‏ آپ کے خیال میں ایک خوش‌گوار ازدواجی زندگی کے لیے کن خوبیوں کی ضرورت ہے؟‏

12 جب سڈ نامی بھائی سے پوچھا گیا کہ اُن کی ازدواجی زندگی کو خوش‌گوار بنانے میں کن خوبیوں کا ہاتھ ہے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سب سے بڑھ کر محبت کی خوبی کا۔‏ اِس خوبی کو ظاہر کرنے کے لیے ہم نے ہمیشہ بہت کوشش کی ہے۔‏ ہم نے دیکھا ہے کہ نرمی کی خوبی بھی بہت اہم ہے۔‏“‏ اُن کی بیوی سونیا بھی اِس بات سے متفق  ہیں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مہربانی بھی ایک اہم خوبی ہے۔‏ اِس کے علاوہ ہم خاکساری ظاہر کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایسا کرنا ہمیشہ ہمارے لیے آسان نہیں ہوتا۔‏“‏

اچھے طریقے سے بات کریں

13.‏ شادی کے بندھن کو مضبوط رکھنے کے لیے کیا ضروری ہے اور کیوں؟‏

13 بِلاشُبہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ پیار سے بات کرنا شادی کے بندھن کو مضبوط رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔‏ یہ کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ میاں بیوی اجنبیوں کے ساتھ تو پیار سے بات کریں لیکن آپس میں تلخی سے۔‏ میاں بیوی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’‏تلخ‌مزاجی،‏ قہر،‏ غصہ،‏ شوروغل اور بدگوئی‘‏ شادی کے بندھن کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔‏ (‏افس 4:‏31‏)‏ ہر وقت ایک دوسرے پر تنقید کرنے یا طنز کے تیر چلانے کی بجائے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی،‏ نرمی اور پیار سے بات کرنی چاہیے۔‏ اِس سے اُن کا رشتہ مضبوط ہو سکتا ہے۔‏—‏افس 4:‏32‏۔‏

14.‏ میاں بیوی کو کیا نہیں کرنا چاہیے؟‏

14 بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏چپ رہنے کا ایک وقت  ہے۔‏“‏ (‏واعظ 3:‏7‏)‏ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ میاں بیوی اپنے  درمیان چپ کی دیوار کھڑی کر لیں۔‏ دراصل شادی کے بندھن کو خوش‌گوار رکھنے کے لیے آپس میں بات‌چیت کرنا بہت ضروری ہے۔‏ جرمنی میں رہنے والی ایک شادی‌شُدہ بہن کہتی ہے:‏ ”‏آپ کی چپ آپ کے جیون ساتھی کو بہت تکلیف دے سکتی ہے۔‏ مانا کہ پریشانی کے عالم میں خود کو ٹھنڈا رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔‏ لیکن یہ بھی اچھا نہیں کہ آپ اپنا سارا غبار نکال دیں کیونکہ اِس طرح آپ بِلا سوچے سمجھے ایسی بات کہہ جائیں گے جس سے آپ کے جیون ساتھی کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔‏ اور معاملہ اَور بگڑ سکتا ہے۔‏“‏ یاد رکھیں کہ مسئلوں کا حل بات‌چیت بند کرنے یا چیخنے چلّانے سے نہیں ہوتا۔‏ میاں بیوی کو اپنے مسئلے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بحث میں اُلجھنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ اُن کا بندھن مضبوط رہے۔‏

15.‏ اچھے طریقے سے بات کرنا شادی کے بندھن کو کیسے مضبوط بناتا ہے؟‏

15 جب میاں بیوی ایک دوسرے سے اپنے احساسات  اور خیالات کا اِظہار کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں تو اِس سے وہ  ایک دوسرے کے اَور قریب آ جاتے ہیں۔‏ غور کریں کہ جتنی ہماری بات اہم ہوتی ہے اُتنا ہی یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ ہم یہ بات کس طرح سے کرتے ہیں۔‏ اِس لیے جب آپ میں اَن‌بن ہو جاتی ہے تو اُس وقت بھی اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اچھے لفظوں میں اور نرمی سے بات کریں۔‏ یوں اِس بات کا اِمکان زیادہ ہوگا کہ آپ کا جیون ساتھی آرام سے آپ کی بات سنے۔‏ ‏(‏کلسیوں 4:‏6 کو پڑھیں۔‏)‏ میاں بیوی کو اپنے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے ایسی باتیں کہنی چاہئیں ”‏جو ضرورت کے موافق ترقی کے لیے اچھی“‏ ہوں اور جن سے اُن کے جیون ساتھی کو فائدہ ہو۔‏—‏افس 4:‏29‏۔‏

میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے بات‌چیت کرنے سے اپنے بندھن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔‏ (‏پیراگراف 15 کو دیکھیں۔‏)‏

اپنے جیون ساتھی کا حق ادا کریں

16،‏ 17.‏ یہ کیوں ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی جذباتی اور جنسی ضروریات کا خیال رکھیں؟‏

16 میاں بیوی ایک اَور طریقے سے بھی اپنے بندھن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔‏ اُنہیں اپنا فائدہ سوچنے کی بجائے اپنے جیون ساتھی کا فائدہ سوچنا چاہیے۔‏ (‏فل 2:‏3،‏ 4‏)‏ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جذباتی اور جنسی ضروریات کا خیال رکھیں۔‏‏—‏1-‏کرنتھیوں 7:‏3،‏ 4 کو پڑھیں۔‏

17 افسوس کی بات ہے کہ بعض شوہر یا بیویاں اپنے جیون ساتھی سے پیار محبت کا اِظہار نہیں کرتے یا پھر اُس کی جنسی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔‏ بعض شوہر سوچتے ہیں کہ اصل مرد اپنی بیوی سے پیار محبت کا اِظہار نہیں کرتا۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏شوہرو،‏ آپ بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے اُس کا لحاظ رکھیں۔‏“‏ (‏1-‏پطر 3:‏7‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)‏ شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بیوی کا حق ادا کرنے کا مطلب اُس کے ساتھ صرف جسمانی تعلقات قائم کرنا نہیں ہے۔‏ جب شوہر جنسی ملاپ کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی اپنی بیوی سے محبت کا اِظہار کرتا ہے تو جنسی ملاپ بیوی کے لیے زیادہ خوشی کا باعث بن سکتا ہے۔‏ جب شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی جذباتی اور جنسی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکتے ہیں۔‏

18.‏ میاں بیوی اپنے بندھن کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟‏

18 اگرچہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ بےوفائی کرنے  کا کوئی جواز نہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنے جیون ساتھی کی جنسی ضروریات کو پورا نہیں کرتا تو ہو سکتا ہے کہ اُس کا جیون ساتھی اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی اَور کی طرف مائل ہو جائے۔‏ (‏امثا 5:‏18؛‏ واعظ 9:‏9‏)‏ اِسی لیے بائبل میں میاں بیوی کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا حق ادا کریں کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ’‏غلبۂ‌نفس کے سبب سے شیطان اُن کو آزما سکتا ہے۔‏‘‏ (‏1-‏کر 7:‏5‏)‏ یہ کتنے دُکھ کی بات ہوگی کہ شیطان میاں بیوی کے ”‏غلبۂ‌نفس کے سبب سے“‏ اُنہیں آزمائے اور اُن میں سے کوئی حرام‌کاری کر بیٹھے۔‏ لیکن اگر میاں بیوی ”‏اپنے ہی فائدے کی تلاش میں“‏ رہنے کی بجائے اپنے جیون ساتھی کا فائدہ سوچتے ہیں اور فرض سمجھ کر نہیں بلکہ محبت سے اُس کا حق ادا کرتے ہیں تو اُن کا بندھن مضبوط ہو جائے گا۔‏—‏1-‏کر 10:‏24‏۔‏

اپنے ازدواجی بندھن کو محفوظ رکھیں

19.‏ ہمیں کیا کرنے کا عزم کرنا چاہیے اور کیوں؟‏

19 ہم نئی دُنیا کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔‏ اِس لیے اگر ہم غلط خواہشوں کو پورا کریں گے تو شاید ہمارا بھی وہی انجام ہو جو موآب کے میدان میں 24 ہزار اِسرائیلی مردوں کا ہوا تھا۔‏ بائبل میں اِس شرم‌ناک اور افسوس‌ناک واقعے کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ”‏جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گِر نہ پڑے۔‏“‏ (‏1-‏کر 10:‏12‏)‏ لہٰذا یہ کتنا ضروری ہے کہ میاں بیوی اپنے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے یہوواہ خدا اور اپنے جیون ساتھی کے وفادار رہیں۔‏ (‏متی 19:‏5،‏ 6‏)‏ اب وقت ہے کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ ”‏اِطمینان کی حالت میں بےداغ اور بےعیب“‏ رہنے کی کوشش کریں۔‏—‏2-‏پطر 3:‏13،‏ 14‏۔‏