مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ خدا کا شکر ادا کریں اور برکتیں پائیں

یہوواہ خدا کا شکر ادا کریں اور برکتیں پائیں

‏”‏[‏یہوواہ]‏ کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے۔‏“‏—‏زبور 106:‏1‏۔‏

1.‏ یہوواہ خدا اِس بات کا حق‌دار کیوں ہے کہ ہم اُس کا شکرادا کریں؟‏

یہوواہ خدا ”‏ہر اچھی بخشش اور ہر کامل اِنعام“‏ کا دینے والا ہے۔‏ اِس لیے وہ اِس بات کا حق‌دار ہے کہ ہم اُس کا شکرادا کریں۔‏ (‏یعقو 1:‏17‏)‏ ایک شفیق چرواہے کی طرح وہ بڑے پیار سے ہماری جسمانی اور روحانی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔‏ (‏زبور 23:‏1-‏3‏)‏ اُس نے ثابت کِیا ہے کہ وہ ”‏ہماری پناہ اور قوت“‏ ہے،‏ خاص طور پر اُس وقت جب ہم پر مشکل وقت آتا ہے۔‏ (‏زبور 46:‏1‏)‏ یقیناً ہمارے پاس زبور نویس کی اِس بات سے اِتفاق کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔‏“‏—‏زبور 106:‏1‏۔‏

سن 2015ء کی سالانہ آیت ہے:‏ یہوواہ کا شکر کریں کیونکہ وہ بھلا ہے۔‏—‏زبور 106:‏1‏۔‏

2‏،‏ 3.‏ ‏(‏الف)‏ کن باتوں کی وجہ سے ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی برکتوں کے لیے قدر کم ہو سکتی ہے؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

2 یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم یہوواہ خدا کی نعمتوں کے لیے اُس کا شکرادا کریں؟‏ اِس لیے کہ بائبل کی پیش‌گوئی کے مطابق اِس آخری زمانے میں زیادہ‌تر لوگ ناشکرے ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏2‏)‏ یہ لوگ خدا کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔‏ آج‌کل زیادہ‌تر لوگ اُن چیزوں پر خوش نہیں رہتے جو اُن کے پاس ہیں کیونکہ اِشتہاربازی کے ذریعے اُن کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیزیں حاصل کریں۔‏ ہمارے اندر بھی ناشکری کا رُجحان پیدا ہو سکتا ہے۔‏ بنی‌اِسرائیل کی طرح ہمارے دل میں بھی  یہوواہ خدا کی نعمتوں اور اُس کے ساتھ ہمارے بیش‌قیمت رشتے کے لیے قدر کم ہو سکتی ہے۔‏—‏زبور 106:‏7،‏ 11-‏13‏۔‏

3 اِس کے علاوہ کبھی کبھار ہمیں شدید مشکلوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‏ یہ مشکلات ہم پر اِس قدر حاوی ہو سکتی ہیں کہ ہماری توجہ یہوواہ خدا کی برکتوں سے ہٹ سکتی ہے۔‏ (‏زبور 116:‏3‏)‏ لیکن اِن سب باتوں کے باوجود ہم اپنے دل میں یہوواہ خدا کے لیے شکرگزاری کا جذبہ کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟‏ اور مشکلوں کا سامنا کرتے وقت ہم بےحوصلہ ہونے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏ اِس مضمون میں ہم اِن سوالوں پر غور کریں گے۔‏

‏’‏اَے یہوواہ جو عجیب کام تو نے کیے،‏ وہ بہت سے ہیں‘‏

4.‏ ہم اپنے دل میں یہوواہ خدا کے لیے شکرگزاری کا جذبہ کیسے برقرار  رکھ سکتے ہیں؟‏

4 اگر ہم اپنے دل میں یہوواہ خدا کے لیے شکرگزاری کا جذبہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں ذاتی طور پر کون سی برکتیں دی ہیں اور اِن کے ذریعے اُس نے ہمارے لیے محبت کیسے دِکھائی ہے۔‏ جب زبور نویس نے ایسا کِیا تو وہ حیران رہ گیا کہ یہوواہ خدا نے اُس کے لیے کتنے بڑے بڑے کام کیے ہیں۔‏‏—‏زبور 40:‏5؛‏ 107:‏43 کو پڑھیں۔‏

5.‏ ہم یہوواہ خدا کا شکرگزار ہونے کے سلسلے میں پولُس رسول سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

5 یہوواہ خدا کا شکرگزار ہونے کے سلسلے میں ہم پولُس رسول سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏ وہ اکثر یہوواہ خدا کا شکر ادا کرتے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اُس کی برکتوں پر غور کرتے تھے۔‏ پولُس کو یہ احساس تھا کہ وہ ’‏پہلے کفر بکنے والے،‏ ستانے والے اور بےعزت کرنے والے تھے۔‏‘‏ لیکن وہ بہت شکرگزار تھے کہ اِس سب کے باوجود یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے اُن پر رحم کِیا اور اُنہیں دوسروں کو خوش‌خبری سنانے کا اعزاز بخشا۔‏ ‏(‏1-‏تیمتھیس 1:‏12-‏14 کو پڑھیں۔‏)‏ پولُس رسول اِس بات کے لیے بھی یہوواہ خدا کے شکرگزار تھے کہ اُس نے اُنہیں مسیحی بہن بھائی دیے ہیں جن میں اِتنی اچھی خوبیاں ہیں اور جو وفاداری سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔‏ (‏فل 1:‏3-‏5،‏ 7؛‏ 1-‏تھس 1:‏2،‏ 3‏)‏ اِس کے علاوہ جب مشکلوں میں بہن بھائیوں نے پولُس کی مدد کی تو پولُس نے اِس کے لیے بھی یہوواہ خدا کا شکر ادا کِیا۔‏ (‏اعما 28:‏15؛‏ 2-‏کر 7:‏5-‏7‏)‏ اِسی لیے اُنہوں نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ ”‏تُم شکرگزار رہو۔‏ .‏ .‏ .‏ اور اپنے دلوں میں خدا کی شکرگزاری کرتے ہوئے زبور،‏ گیت اور روحانی غزلیں گایا کرو۔‏“‏—‏کل 3:‏15-‏17‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

سوچ بچار اور دُعا کرنے سے شکرگزاری کا جذبہ برقرار رکھیں

6.‏ آپ خاص طور پر کن برکتوں کے لیے یہوواہ خدا کے شکرگزار ہیں؟‏

6 ہم پولُس رسول کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ پولُس کی طرح ہمیں بھی اِس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہوواہ خدا نے ذاتی طور پر ہمارے لیے کیا کِیا ہے۔‏ (‏زبور 116:‏12‏)‏ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ ”‏آپ یہوواہ خدا کی کن برکتوں کے لیے اُس کے شکرگزار ہیں“‏ تو آپ کیا جواب دیں گے؟‏ کیا آپ کہیں گے کہ آپ اِس بات کے لیے شکرگزار ہیں کہ آپ کو خدا کی قربت حاصل ہے؟‏ کیا آپ اِس بات کے لیے شکر ادا کریں گے کہ یسوع مسیح کی قربانی پر ایمان رکھنے کی وجہ سے آپ کو اپنے گُناہوں کی معافی مل سکتی ہے؟‏ کیا آپ اُن بہن بھائیوں کا نام لے کر خدا کا شکر ادا کریں گے جنہوں نے مشکل گھڑی میں آپ کا ساتھ دیا؟‏ بےشک آپ اپنے جیون ساتھی اور بچوں کے لیے بھی یہوواہ خدا کا شکر ادا کریں گے۔‏ یقیناً اپنے شفیق باپ یہوواہ کی اِن برکتوں پر سوچ بچار کرنے سے ہمارا دل شکرگزاری سے بھر جائے گا اور ہمیں ہر روز اُس کا شکر ادا کرنے کی ترغیب ملے گی۔‏‏—‏زبور 92:‏1،‏ 2 کو پڑھیں۔‏

7.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں دُعا میں یہوواہ خدا کا شکرگزار کیوں ہونا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ دُعا میں شکرگزاری ظاہر کرنے سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟‏

7 جب ہم یہوواہ خدا کی سب برکتوں پر غور کریں گے تو ہمارے دل میں خواہش پیدا ہوگی کہ ہم دُعا میں اُس کا شکر ادا کریں۔‏ (‏زبور 95:‏2؛‏ 100:‏4،‏ 5‏)‏ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ دُعا صرف خدا سے  کچھ مانگنے کا ذریعہ ہے۔‏ لیکن ہم ایسا نہیں سوچتے۔‏ ہم جانتے ہیں کہ جب ہم دُعا میں اُن چیزوں کے لیے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں تو اُسے خوشی ہوتی ہے۔‏ بائبل میں دل کو گرما دینے والی ایسی بہت سی دُعائیں درج ہیں جن میں خدا کے بندوں نے اُس کا شکر ادا کِیا جیسے کہ حنّہ اور حِزقیاہ کی دُعائیں۔‏ (‏1-‏سمو 2:‏1-‏10؛‏ یسع 38:‏9-‏20‏)‏ لہٰذا خدا کے ایسے بندوں کی مثال پر عمل کریں جنہوں نے شکرگزاری کا جذبہ ظاہر کِیا۔‏ دُعا میں اُن برکتوں کے لیے یہوواہ خدا کا شکر ادا کریں جو اُس نے آپ کو دی ہیں۔‏ (‏1-‏تھس 5:‏17،‏ 18‏)‏ ایسا کرنے سے آپ کو بہت سے فائدے ہوں گے،‏ مثلاً آپ کا حوصلہ بلند ہوگا،‏ یہوواہ خدا کے لیے آپ کی محبت بڑھے گی اور آپ اُس کے اَور قریب ہو جائیں گے۔‏—‏یعقو 4:‏8‏۔‏

آپ یہوواہ خدا کی کن برکتوں کے لیے اُس کے شکرگزار ہیں؟‏ (‏پیراگراف 6 اور 7 کو دیکھیں۔‏)‏

8.‏ کن باتوں کی وجہ سے ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی برکتوں کے لیے قدر کم ہو سکتی ہے؟‏

8 ہمیں اِس بات کا خیال کیوں رکھنا چاہیے کہ ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی برکتوں کے لیے قدر کم نہ ہو؟‏ یاد رکھیں کہ ہمیں ناشکری کا رُجحان ورثے میں ملا ہے۔‏ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو فردوس میں رکھا جہاں وہ اُن کی سب ضروریات کو پورا کر رہا تھا۔‏ آدم اور حوا کے پاس فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع بھی تھا۔‏ (‏پید 1:‏28‏)‏ لیکن وہ اِنہی برکتوں پر خوش نہ رہے۔‏ اُنہوں نے کچھ اَور بھی حاصل کرنے کا لالچ کِیا۔‏ اِس کے نتیجے میں وہ دونوں وہ چیزیں  بھی کھو بیٹھے جو اُن کے پاس تھیں۔‏ (‏پید 3:‏6،‏ 7،‏ 17-‏19‏)‏ چونکہ ہم ناشکرے لوگوں سے بھری دُنیا میں رہتے ہیں اِس وجہ سے ہمارے دل میں اُن برکتوں کے لیے قدر کم ہو سکتی ہے جو یہوواہ خدا نے ہمیں دی ہیں،‏ جیسے کہ اُس کے ساتھ ہماری دوستی اور ایک عالم‌گیر برادری کا حصہ ہونے کا شرف۔‏ اگر ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی برکتوں کے لیے قدر کم ہو گئی تو ہم اِس دُنیا کی چیزوں میں مگن ہو جائیں گے جو بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔‏ (‏1-‏یوح 2:‏15-‏17‏)‏ اِس پھندے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہوواہ خدا کی برکتوں پر غور کرتے رہیں اور باقاعدگی سے اِس بات کے لیے اُس کا شکر ادا کریں کہ اُس نے ہمیں اپنے لوگوں کے طور پر چنا ہے۔‏‏—‏زبور 27:‏4 کو پڑھیں۔‏

مشکل وقت میں بھی شکرگزاری ظاہر کریں

9.‏ کڑی سے کڑی مشکل میں بھی ہمیں یہوواہ خدا کی دی ہوئی برکتوں پر غور کیوں کرنا چاہیے؟‏

9 یہوواہ خدا کا شکرگزار رہنے کی وجہ سے ہم کڑی سے کڑی مشکل کا سامنا بھی کر سکتے ہیں۔‏ کبھی کبھار ہمیں اچانک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ہماری زندگی کو ایک پَل میں بدل کر رکھ سکتی ہے،‏ جیسے کہ جیون ساتھی کی بےوفائی،‏ جان‌لیوا بیماری،‏ کسی عزیز کی موت یا کوئی قدرتی آفت۔‏ ایسی صورتحال میں جب ہم یہوواہ خدا کی برکتوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں حوصلہ اور  تسلی ملتی ہے۔‏  آئیں،‏ اِس سلسلے میں کچھ بہن بھائیوں کی آپ‌بیتی پر غور کرتے ہیں۔‏

10.‏ یہوواہ خدا کی برکتوں پر غور کرنے سے آئرینا کو کیا فائدہ ہوا ہے؟‏

10 آئرینا * شمالی امریکہ میں ایک پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔‏ اُن کی شادی ایک بزرگ سے ہوئی تھی جس نے اُن سے بےوفائی کی اور اُنہیں اور بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔‏ لیکن کس چیز نے آئرینا کی مدد کی کہ وہ وفاداری سے یہوواہ خدا کی خدمت کرتی رہیں؟‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں یہوواہ خدا کی بہت شکرگزار ہوں کہ اُس نے میرا خیال رکھا۔‏ جب مَیں اِس بات پر غور کرتی ہوں کہ یہوواہ خدا نے مجھے کتنی زیادہ برکتیں دی ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میرا آسمانی باپ مجھے جانتا ہے اور مجھ سے پیار کرتا ہے۔‏ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔‏“‏ اگرچہ آئرینا نے اپنی زندگی میں بہت دُکھ دیکھے ہیں لیکن وہ پھر بھی خوش رہتی ہیں۔‏ اِس وجہ سے وہ خود بھی ہمت نہیں ہارتیں اور دوسروں کا بھی حوصلہ بڑھاتی ہیں۔‏

11.‏ کس چیز کی وجہ سے کیونگ سُوک جان‌لیوا بیماری کے باوجود ہمت نہیں ہاریں؟‏

11 ایشیا میں رہنے والی کیونگ سُوک اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً 20 سال سے پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔‏  اچانک اُنہیں پتہ چلا کہ اُنہیں پھیپھڑوں کا کینسر ہے اور اُن کے پاس تین سے چھ مہینے بچے ہیں۔‏ اگرچہ کیونگ سُوک اور اُن کے شوہر نے زندگی میں بہت مشکلیں سہیں لیکن اُنہیں کبھی صحت کے مسائل کا سامنا نہیں ہوا۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏جب مجھے میری بیماری کے بارے میں پتہ چلا تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔‏ مجھے لگا کہ مَیں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔‏ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔‏“‏ کیونگ سُوک نے کس وجہ سے اِس جان‌لیوا بیماری کے باوجود ہمت نہیں ہاری؟‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏ہر رات سونے سے پہلے مَیں چھت پر جاتی ہوں اور اُونچی آواز میں یہوواہ خدا سے دُعا کرتی ہوں۔‏ دُعا میں مَیں اُن پانچ برکتوں کے لیے اُس کا شکر ادا کرتی ہوں جو اُس دن اُس نے مجھے دی ہوتی ہیں۔‏ اِس سے مجھے بہت سکون ملتا ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ مَیں یہوواہ خدا کے لیے اپنی محبت کا اِظہار کروں۔‏“‏ دُعا کرنے سے کیونگ سُوک کو کیا فائدے ہوئے ہیں؟‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں سمجھ گئی ہوں کہ یہوواہ خدا مشکل وقت میں ہمیں سنبھالے رکھتا ہے اور جو برکتیں وہ ہمیں دیتا ہے،‏ وہ اُن مشکلوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔‏“‏

اپنے بھائی جون کے ساتھ جو قدرتی آفت میں بچ گیا۔‏ (‏پیراگراف 13 کو دیکھیں۔‏)‏

12.‏ جیسن اپنی بیوی کی موت کے صدمے کو کیسے برداشت کر پائے؟‏

12 جیسن افریقہ کے ایک بیت‌ایل میں خدمت کرتے ہیں۔‏ وہ تقریباً 30 سال سے کُلوقتی خدمت کر رہے ہیں۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏سات سال پہلے میری بیوی کینسر کی وجہ سے فوت ہو گئی۔‏ اُس کی موت نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔‏ جب مَیں یاد کرتا ہوں کہ اپنی بیماری کی وجہ سے وہ کتنی تکلیف میں تھی تو مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے۔‏“‏ لیکن جیسن اپنے دُکھ پر قابو پانے کے قابل کیسے ہوئے ہیں؟‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏ایک بار مَیں اپنی بیوی کے ساتھ گزارے ایک خوش‌گوار لمحے کو یاد کر رہا تھا۔‏ جب مَیں نے اُس لمحے کے لیے یہوواہ خدا کا شکر ادا کِیا تو میرا دل بہت ہلکا ہو گیا۔‏ پھر مَیں باقاعدگی سے ایسے لمحات کے لیے یہوواہ خدا کا شکر ادا کرنے لگا۔‏ یہوواہ خدا کا شکرگزار ہونے کی وجہ سے مَیں اب اِتنا مایوس نہیں رہتا۔‏ مجھے اپنی بیوی کی موت کا درد ابھی بھی محسوس ہوتا ہے۔‏ لیکن جب مَیں یہوواہ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہماری ازدواجی زندگی کتنی خوش‌گوار تھی اور مَیں نے ایک ایسے جیون ساتھی کے ساتھ مل کر اُس کی خدمت کی ہے جو اُس سے بہت پیار کرتی تھی تو مجھے اپنے دُکھ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔‏“‏

‏”‏مَیں بہت شکرگزار ہوں کہ یہوواہ میرا خدا ہے۔‏“‏—‏شیرل

13.‏ کس چیز نے شیرل کی مدد کی تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی موت کا صدمہ دل سے نہ لگائیں؟‏

13 سن 2013ء میں وسطیٰ فلپائن میں شدید سمندری طوفان آیا۔‏ اِس طوفان سے شیرل بھی متاثر ہوئیں جو اُس وقت صرف 13 سال کی تھیں۔‏ اِس میں اُن کا سب کچھ چھن گیا۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں نے اپنے گھر اور تقریباً سبھی گھر والوں کو کھو دیا۔‏“‏ شیرل کے ماں باپ اور تین بہن بھائی پانی کے تیز ریلے میں ہلاک ہو گئے۔‏ ایسی صورتحال میں کس چیز نے شیرل کی مدد کی تاکہ وہ اِس صدمے کو دل سے نہ لگائیں؟‏ وہ اِس بات پر غور کرتی ہیں کہ اُن کے پاس اب  بھی یہوواہ خدا کی کون سی برکتیں ہیں اور وہ اِن کے لیے اُس کا شکر ادا  کرتی ہیں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں دیکھ رہی تھی کہ بہن بھائی ضرورت‌مند بہن بھائیوں کی کتنی مدد کر رہے ہیں اور اُنہیں حوصلہ دے رہے ہیں۔‏ مَیں جانتی تھی کہ پوری دُنیا میں بہن بھائی میرے لیے دُعا کر رہے ہیں۔‏ مَیں بہت شکرگزار ہوں کہ یہوواہ میرا خدا ہے۔‏ وہ ہمیشہ ہمیں وہ چیزیں دے دیتا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔‏“‏ اِن بہن بھائیوں کی آپ‌بیتی سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کی برکتوں کو ذہن میں رکھنے سے ہم غم کی تاریکی میں گم ہونے سے بچ سکتے ہیں۔‏ جب ہم اپنے دل میں یہوواہ خدا کی برکتوں کے لیے قدر برقرار رکھتے ہیں تو ہمیں ہر مشکل کا سامنا کرنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔‏—‏افس 5:‏20؛‏ فلپیوں 4:‏6،‏ 7 کو پڑھیں۔‏

‏”‏مَیں [‏یہوواہ]‏ سے خوش رہوں گا“‏

14.‏ ہمارے پاس کون سی شان‌دار اُمید ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

14 پوری تاریخ میں یہوواہ خدا کے بندوں نے اُس کی  برکتوں کے لیے اُس کا شکر ادا کِیا ہے۔‏ مثال کے طور پر جب یہوواہ خدا نے فرعون اور اُس کی فوج کو بحرِقلزم میں غرق کِیا تو بنی‌اِسرائیل نے خوشی سے یہوواہ خدا کی حمد اور شکرگزاری میں گیت گائے۔‏ (‏خر 15:‏1-‏21‏)‏ آج یہوواہ خدا نے ہمیں جو ایک خاص برکت دی ہے،‏ وہ یہ اُمید ہے کہ وہ ہمیں ہر اُس چیز سے چھٹکارا دِلائے گا جس کی وجہ سے ہمیں دُکھ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ (‏زبور 37:‏9-‏11؛‏ یسع 25:‏8؛‏ 33:‏24‏)‏ ذرا سوچیں کہ آپ اُس وقت کیسا محسوس کریں گے جب یہوواہ خدا اپنے سب دُشمنوں کو ختم کرکے آپ کو نئی دُنیا میں لے جائے گا جہاں سلامتی اور راست‌بازی ہوگی؟‏ وہ واقعی یہوواہ خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے بہت بڑا دن ہوگا!‏—‏مکا 20:‏1-‏3؛‏ 21:‏3،‏ 4‏۔‏

15.‏ سن 2015ء میں آپ کا کیا عزم ہے؟‏

15 یقیناً 2015ء میں بھی یہوواہ خدا ہمیں بےشمار برکتیں  دے گا۔‏ بےشک ہمیں کچھ مشکلوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔‏ لیکن چاہے کچھ بھی ہو،‏ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہوواہ خدا ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔‏ (‏است 31:‏8؛‏ زبور 9:‏9،‏ 10‏)‏ وہ ہمیں ہر وہ چیز دیتا رہے گا جو ہمیں اُس کا وفادار رہنے کے لیے چاہیے۔‏ اِس لیے ہمیں حبقوق نبی جیسا رُجحان رکھنا چاہیے جنہوں نے کہا:‏ ”‏اگرچہ اِنجیر کا درخت نہ پھولے اور تاک میں پھل نہ لگے اور زؔیتون کا حاصل ضائع ہو جائے اور کھیتوں میں کچھ پیداوار نہ ہو اور بھیڑخانہ سے بھیڑیں جاتی رہیں اور طویلوں میں مویشی نہ ہوں تو بھی مَیں [‏یہوواہ]‏ سے خوش رہوں گا اور اپنے نجات‌بخش خدا سے خوش وقت ہوں گا۔‏“‏ (‏حبق 3:‏17،‏ 18‏)‏ آئیں،‏ ہم 2015ء میں یہوواہ خدا کی برکتوں پر غور کرتے رہے اور سالانہ آیت کے مطابق عمل کریں جس میں لکھا ہے:‏ ’‏یہوواہ کا شکر کریں کیونکہ وہ بھلا ہے۔‏‘‏—‏زبور 106:‏1‏۔‏

^ پیراگراف 10 اِس مضمون میں کچھ فرضی نام اِستعمال کیے گئے ہیں۔‏