مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا سچی محبت کو قائم رکھنا ممکن ہے؟‏

کیا سچی محبت کو قائم رکھنا ممکن ہے؟‏

‏”‏[‏محبت]‏ کے شعلے آگ کے شعلے ہیں اور [‏یاہ]‏ کے شعلہ کی مانند۔‏“‏—‏غز 8:‏6‏۔‏

1‏،‏ 2.‏ غزل‌الغزلات میں لکھی باتوں پر غور کرنے سے کن کو فائدہ ہوگا اور کیوں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

‏”‏یہ دونوں کتنی چاہت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور اِنہوں نے کتنے پیار سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔‏ اِنہیں دیکھ کر صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بےاِنتہا محبت کرتے ہیں۔‏“‏ یہ خیال ایک بزرگ کے ذہن میں اُس وقت آیا جب اُس نے ایک دُلہا دُلہن کی شادی کی تقریر دی۔‏ لیکن اُنہیں دیکھ کر اُس نے یہ بھی سوچا کہ کیا سالوں بعد بھی یہ ایک دوسرے سے اِتنا ہی ٹوٹ کر محبت کریں گے؟‏ یا کیا وقت کے ساتھ ساتھ اِن کی محبت پھیکی پڑ جائے گی؟‏ جب میاں بیوی ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں تو اُن کا رشتہ مشکل حالات میں بھی مضبوط رہتا ہے۔‏ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بہت سے میاں بیوی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ازدواجی زندگی سے خوش نہیں رہتے اور اپنے رشتے کو توڑ دیتے ہیں۔‏ اِس لیے ہمارے ذہن میں یہ سوال اُٹھ سکتا ہے کہ کیا سچی محبت ہمیشہ تک قائم رہ سکتی ہے؟‏

2 ایسا صرف ہمارے زمانے میں ہی نہیں کہ بہت کم مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں۔‏ بادشاہ سلیمان کے زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔‏ اِس لیے سلیمان نے لکھا:‏ ”‏مَیں نے ہزاروں میں ایک راست مرد کو پایا،‏ لیکن اُن تمام میں ایک بھی راست عورت نہ تھی۔‏ مَیں نے صرف یہ معلوم کِیا ہے:‏ کہ خدا نے نوعِ‌انسان کو راست‌کار بنایا،‏ لیکن انسان نے بہت سی بندشیں تجویز کیں۔‏“‏ (‏واعظ 7:‏26-‏29‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ سلیمان نے یہ بات اِس لیے کہی کیونکہ اُن کے زمانے میں  اِسرائیلیوں کے بیچ ایسی عورتیں بھی رہتی تھیں جو بعل کی پرستش کرتی تھیں اور بدچلن تھیں۔‏ اِن کے اثر کی وجہ سے بہت سے اِسرائیلی مرد اور عورتیں بھی بدکاری میں پڑ گئے تھے۔‏ لیکن یہ بات لکھنے سے تقریباً 20 سال پہلے سلیمان نے ایک ایسی غزل لکھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سچی محبت قائم رہ سکتی ہے۔‏ اِس غزل سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سچی محبت کیا ہے اور اِسے کیسے ظاہر کِیا جا سکتا ہے۔‏ چاہے ہم شادی‌شُدہ ہوں یا غیرشادی‌شُدہ،‏ ہم سب کو غزل‌الغزلات میں لکھی باتوں پر غور کرنے سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔‏

سچی محبت ہونا ممکن ہے

3.‏ مرد اور عورت کے لیے ایک دوسرے سے سچی محبت کرنا ممکن کیوں ہے؟‏

3 غزل‌الغزلات 8:‏6 کو پڑھیں۔‏ اِس آیت میں محبت کو  ”‏[‏یاہ]‏ کے شعلہ“‏ سے تشبیہ دی گئی ہے۔‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ محبت یہوواہ خدا کی سب سے اعلیٰ خوبی ہے۔‏ اور چونکہ یہوواہ خدا نے ہمیں اپنی صورت پر بنایا ہے اِس لیے ہم میں بھی محبت کرنے کی صلاحیت ہے۔‏ (‏پید 1:‏26،‏ 27‏)‏ جب یہوواہ خدا حوا کو آدم کے پاس لایا تو حوا کو دیکھ کر آدم کے مُنہ سے جو الفاظ نکلے،‏ وہ کسی شعر سے کم نہیں تھے۔‏ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ حوا بھی اُس شخص سے بہت محبت کرتی تھیں جس سے وہ ”‏نکالی گئی“‏ تھیں۔‏ (‏پید 2:‏21-‏23‏)‏ چونکہ یہوواہ خدا نے اِنسانوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ظاہر کرنے کی صلاحیت ڈالی ہے اِس لیے مرد اور عورت کے لیے ایک دوسرے سے ہمیشہ تک سچی محبت کرنا ممکن ہے۔‏

4‏،‏ 5.‏ غزل‌الغزلات میں لکھی کہانی کو مختصراً بیان کریں۔‏

4 سچی محبت کی پہچان صرف یہی نہیں کہ یہ ہمیشہ تک  قائم رہتی ہے۔‏ اِس میں اَور بھی بہت سی خصوصیات ہوتی ہیں۔‏ اور غزل‌الغزلات میں اِن میں سے کچھ خصوصیات کو بہت  خوب‌صورتی سے بیان کِیا گیا ہے۔‏ یہ غزل ایک چرواہے اور شونیم یا شولم نامی گاؤں میں رہنے والی لڑکی کی محبت کے بارے میں ہے۔‏ ایک دن جب شولمیت اپنے تاکستان کی رکھوالی کر رہی تھی تو سلیمان کی نظر اُس پر پڑی۔‏ سلیمان اور اُن کے سپاہیوں نے شولمیت کے تاکستان کے پاس ہی اپنے خیمے لگائے ہوئے تھے۔‏ سلیمان  نے دیکھا کہ یہ لڑکی بہت خوب‌صورت ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اپنے سپاہیوں کو بھیج کر اُسے اپنے پاس بلایا۔‏ پھر اُنہوں نے اُس کا دل جیتنے کے لیے اُس کی خوب‌صورتی کی بہت تعریف کی اور اُسے بہت سے تحفوں کی پیشکش کی۔‏ لیکن شولمیت نے سلیمان کو صاف صاف بتایا کہ وہ ایک چرواہے سے محبت کرتی ہے اور اُسی کی رہنا چاہتی ہے۔‏ (‏غز 1:‏4-‏14‏)‏ جب چرواہے کو شولمیت کہیں نظر نہیں آئی تو وہ اُسے ڈھونڈتا ڈھونڈتا بادشاہ کے خیمے تک پہنچ گیا۔‏ شولمیت اور چرواہے نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑے خوب‌صورت الفاظ میں اپنی محبت کا اِظہار کِیا۔‏—‏غز 1:‏15-‏17‏۔‏

5 لیکن سلیمان،‏ شولمیت کو اپنے ساتھ یروشلیم لے گئے۔‏ چرواہا بھی شولمیت کے پیچھے پیچھے گیا۔‏ (‏غز 4:‏1-‏5،‏ 8،‏ 9‏)‏ سلیمان نے شولمیت کا دل جیتنے کے لیے جتنی بھی کوششیں کیں،‏ اُن کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‏ (‏غز 6:‏4-‏7؛‏ 7:‏1-‏10‏)‏ آخرکار بادشاہ سلیمان نے شولمیت کو گھر واپس جانے کی اِجازت دے دی۔‏ غزل کے آخر میں شولمیت اِس خواہش کا اِظہار کرتی ہے کہ اُس کا محبوب غزال کی طرح تیزی سے دوڑتا ہوا اُس کے پاس آ جائے۔‏—‏غز 8:‏14‏۔‏

6.‏ یہ جاننا مشکل کیوں ہو سکتا ہے کہ غزل‌الغزلات میں کب کون بات کر رہا ہے؟‏

6 سلیمان کی لکھی یہ کتاب اِتنی خوب‌صورت غزل ہے  کہ اِسے ”‏غزل‌الغزلات“‏ یعنی غزلوں میں سب سے بہترین غزل کہا جاتا ہے۔‏ (‏غز 1:‏1‏)‏ اِس غزل میں سلیمان نے نہیں بتایا کہ کب کون بات کر رہا ہے۔‏ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ اِس میں بہت زیادہ تفصیلات ڈال کر اِس کی خوب‌صورتی کو کم کر دیا جائے۔‏ اگرچہ اِس غزل میں بات کرنے والوں کے نام شامل نہیں کیے گئے لیکن پھر بھی کرداروں کی پہچان کرنا مشکل نہیں۔‏

‏”‏تیرا عشق مے سے بہتر ہے“‏

7‏،‏ 8.‏ شولمیت اور چرواہے نے جن الفاظ میں اپنی محبت کا اِظہار کِیا،‏ اُس سے کیا پتہ چلتا ہے؟‏ مثالیں دیں۔‏

7 غزل‌الغزلات کی کتاب شولمیت اور چرواہے  کی  محبت  کے  اِظہارات سے بھری پڑی ہے۔‏ شاید ہمیں یہ اِظہارات سننے میں عجیب لگیں کیونکہ شولمیت اور چرواہا آج سے تقریباً 3000 سال پہلے رہتے تھے اور اُن کی ثقافت ہماری ثقافت سے فرق تھی۔‏ لیکن ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے تھے۔‏ مثال کے طور پر چرواہے نے شولمیت کی آنکھوں کی نزاکت کو کبوتروں کی نازکی سے تشبیہ دی۔‏ (‏غز 1:‏15‏)‏ اور شولمیت نے چرواہے کی آنکھوں کی خوب‌صورتی کو بیان کرنے کے لیے اِنہیں ایسے کبوتروں سے تشبیہ دی جو دودھ میں نہائے ہوں۔‏ شولمیت کی نظر میں چرواہے کی آنکھوں کا رنگ ایسے ہی نمایاں تھا جیسے دودھ  میں  نہاتے کبوتروں کا رنگ۔‏‏—‏غزل‌الغزلات 5:‏12 کو پڑھیں۔‏

8 لیکن شولمیت اور چرواہے کی محبت کے اِظہارات صرف ظاہری خوب‌صورتی تک محدود نہیں تھے۔‏ غور کریں کہ چرواہے نے شولمیت کی باتوں کے بارے میں کیا کہا۔‏ ‏(‏غزل‌الغزلات 4:‏7،‏ 11 کو پڑھیں۔‏)‏ اُس نے کہا کہ ”‏تیرے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے۔‏ شہدوشِیر تیری زبان تلے ہیں۔‏“‏ چرواہے کی نظر میں شولمیت کی باتیں شہد اور دودھ کی طرح میٹھی اور دلکش تھیں۔‏ جب چرواہے نے شولمیت سے کہا کہ ”‏تُو سراپا جمال ہے۔‏ تجھ میں کوئی عیب نہیں“‏ تو وہ نہ صرف اُس کی ظاہری خوب‌صورتی کا بلکہ اُس کی خوبیوں کا بھی ذکر کر رہا تھا۔‏

9.‏ ‏(‏الف)‏ میاں بیوی کی محبت میں کیا شامل ہے؟‏ (‏ب)‏ یہ کیوں ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے محبت کا اِظہار کریں؟‏

9 یہوواہ خدا کی خدمت کرنے والے  میاں  بیوی  کے  لیے  شادی محض ایک قانونی معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا بندھن ہے جس میں وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور اِس کا اِظہار بھی کرتے ہیں۔‏ لیکن یہ کس طرح کی محبت ہے؟‏ کیا یہ ایک ایسی محبت ہے جو ایک مسیحی کو سب لوگوں سے کرنی چاہیے؟‏ (‏1-‏یوح 4:‏8‏)‏ کیا یہ ایسی محبت ہے جو ہم اپنے گھر والوں کے لیے رکھتے ہیں؟‏ کیا یہ ایسی محبت ہے جو دو قریبی دوستوں میں ہوتی ہے؟‏ (‏یوح 11:‏3‏)‏ یا کیا یہ رومانی محبت ہے؟‏ (‏امثا 5:‏15-‏20‏)‏ دراصل میاں بیوی کی محبت میں یہ سب باتیں شامل ہونی چاہئیں۔‏ یہ بہت ضروری ہے کہ میاں بیوی اپنی باتوں اور کاموں سے ایک دوسرے کو اپنی محبت کا احساس دِلائیں کیونکہ اِس سے اُن کی ازدواجی زندگی خوش‌گوار ہو سکتی ہے۔‏ اُنہیں اپنے کاموں میں اِتنا مگن نہیں ہونا چاہیے کہ اُنہیں ایک دوسرے سے محبت کے اِظہار کے لیے وقت ہی نہ ملے۔‏ بعض ثقافتوں میں ماں باپ اپنے بچوں کے لیے جیون ساتھی چنتے ہیں اور لڑکے لڑکی کو شادی سے پہلے ایک دوسرے کو اِتنی اچھی طرح سے جاننے کا موقع نہیں ملتا۔‏ اِس لیے ایسے میاں بیوی کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے پیار کا اِظہار لفظوں میں کریں۔‏ یوں اُن کی محبت بڑھے گی اور اُن کا رشتہ مضبوط ہوگا۔‏

10.‏ جب میاں بیوی اپنی باتوں سے محبت کا اِظہار کرتے ہیں تو اِس سے اَور کیا فائدہ ہوتا ہے؟‏

10 جب میاں بیوی ایک دوسرے سے محبت کا اِظہار کرتے ہیں تو اِس سے ایک اَور فائدہ بھی ہوتا ہے۔‏ غور کریں کہ بادشاہ سلیمان نے شولمیت کو ’‏سونے کے طوقوں‘‏ کی پیشکش کی جن میں ’‏چاندی کے پھول جڑے تھے۔‏‘‏ (‏غز 1:‏9-‏11‏)‏ اِس کے علاوہ سلیمان نے اُس کی ڈھیروں تعریفیں بھی کیں۔‏ اُنہوں نے کہا کہ وہ ”‏چاند جیسی خوب‌صورت،‏ آفتاب جیسی پاک“‏ ہے۔‏ (‏غز 6:‏10‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ اِن سب باتوں کے باوجود شولمیت کے دل میں سلیمان کے لیے محبت پیدا نہیں ہوئی۔‏ لیکن کس وجہ سے شولمیت اپنے محبوب سے دُور رہ کر بھی اُس کی وفادار رہی اور جُدائی کے درد کو برداشت کر پائی؟‏ ‏(‏غزل‌الغزلات 1:‏2،‏ 3 کو پڑھیں۔‏)‏ دراصل وہ اُن پیار بھری باتوں کو یاد کرتی رہی جو چرواہے نے اُس سے کہی تھیں۔‏ اُس کے نزدیک یہ باتیں ”‏مے سے بہتر“‏ تھیں جس سے دل کو خوشی ملتی ہے اور خوشبودار تیل کی طرح تھیں جسے سر پر لگانے سے راحت ملتی ہے۔‏ (‏زبور 23:‏5؛‏ 104:‏15‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کا اِظہار کرنا کتنا ضروری ہے۔‏ بِلاشُبہ جیون ساتھی کی محبت بھری یادیں ازدواجی بندھن کو بہت مضبوط کر دیتی ہیں۔‏

 ‏’‏جب تک محبت خود نہ چاہے تُم اُسے نہ جگاؤ،‏ نہ بیدار کرو‘‏

11.‏ شولمیت نے یروشلیم کی بیٹیوں کو جو قسم دی،‏ اُس سے غیرشادی‌شُدہ مسیحی کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

11 غزل‌الغزلات کی کتاب سے غیرشادی‌شُدہ مسیحی بھی  بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں،‏ خاص طور پر وہ جو شادی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‏ شولمیت کے دل میں بادشاہ سلیمان کے لیے کوئی محبت نہیں تھی۔‏ اُس نے یروشلیم کی بیٹیوں کو قسم دیتے ہوئے کہا:‏ ”‏جب تک محبت خود نہ چاہے تُم اُسے نہ جگاؤ گی،‏ نہ بیدار کرو گی۔‏“‏ (‏غز 2:‏7؛‏ 3:‏5‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ اُس نے ایسا کیوں کہا؟‏ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ کسی بھی ایرے غیرے کے ساتھ محبت میں پڑ جانا ممکن نہیں۔‏ اِس لیے جو مسیحی شادی کرنا چاہتے ہیں،‏ بہتر ہے کہ وہ اُس وقت تک اِنتظار کریں جب تک اُنہیں ایسا شخص نہیں مل جاتا جس سے وہ سچا پیار کر سکتے ہیں۔‏

12.‏ شولمیت چرواہے سے کیوں پیار کرتی تھی؟‏

12 شولمیت چرواہے سے کیوں پیار کرتی تھی؟‏ یقیناً چرواہا  بہت خوب‌صورت تھا۔‏ اِسی لیے شولمیت نے اُسے ”‏جوان ہرن“‏ سے تشبیہ دی۔‏ اُس نے چرواہے کے بارے میں کہا کہ اُس کے ہاتھ ”‏زبرجد سے مُرصع سونے کے حلقے“‏ کی طرح مضبوط ہیں اور اُس کی ٹانگیں ”‏کُندن کے پایوں پر سنگِمرمر کے ستون“‏ کی طرح خوب‌صورت اور مضبوط ہیں۔‏ لیکن چرواہا صرف خوب‌صورت اور طاقت‌ور ہی نہیں تھا۔‏ شولمیت جانتی تھی کہ چرواہا یہوواہ خدا سے پیار کرتا ہے اور اُس میں بہت اچھی خوبیاں بھی ہیں۔‏ اِسی لیے اُس نے چرواہے کے بارے میں کہا کہ ”‏جیسا سیب کا درخت بن کے درختوں میں ویسا ہی میرا محبوب نوجوانوں میں ہے۔‏“‏—‏غز 2:‏3،‏ 9؛‏ 5:‏14،‏ 15‏۔‏

13.‏ چرواہا شولمیت سے پیار کیوں کرتا تھا؟‏

13 کیا شولمیت بھی خوب‌صورت تھی؟‏ بےشک۔‏ تبھی تو  بادشاہ بھی اُس پر فدا ہو گیا حالانکہ اُس کے پاس پہلے سے ہی ”‏ساٹھ رانیاں اور اَسی حرمیں اور بےشمار کنواریاں“‏ تھیں۔‏ لیکن شولمیت خود کو ”‏شاؔرون کی نرگس“‏ خیال کرتی تھی جو کہ ایک عام سا پھول ہے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بہت خاکسار تھی۔‏ شولمیت نے تو خود کو ایک عام سے پھول سے تشبیہ دی لیکن چرواہے کی نظر میں وہ ایسی تھی ”‏جیسی سوسن جھاڑیوں میں۔‏“‏ دراصل چرواہا بھی شولمیت کی خوبیوں اور یہوواہ خدا سے اُس کی محبت کی وجہ سے اُس سے پیار کرتا تھا۔‏—‏غز 2:‏1،‏ 2؛‏ 6:‏8‏۔‏

14.‏ جو مسیحی شادی کرنا چاہتے ہیں،‏ وہ چرواہے اور شولمیت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

14 یہوواہ خدا نے اپنے بندوں کو یہ واضح حکم دیا ہے کہ  وہ ”‏صرف خداوند میں“‏ شادی کریں۔‏ (‏1-‏کر 7:‏39‏)‏ اِس سے ظاہر  ہوتا ہے کہ غیرشادی‌شُدہ مسیحیوں کو کسی ایسے شخص کے پیار میں نہیں پڑنا چاہیے جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتا۔‏ اُنہیں صرف ایسے شخص سے شادی کرنی چاہیے جو بپتسمہ‌یافتہ ہے۔‏ لیکن کیوں؟‏ کیونکہ مشکل گھڑی میں شادی کے بندھن کو مضبوط اور خوش‌گوار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ میاں اور بیوی دونوں یہوواہ خدا سے پیار کریں اور اُس پر مضبوط ایمان رکھیں۔‏ لہٰذا اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو شولمیت اور چرواہے کی مثال پر عمل کریں اور کسی ایسے شخص کا اِنتخاب کریں جس میں اچھی خوبیاں ہیں اور جو واقعی یہوواہ خدا سے محبت کرتا ہے۔‏

مسیحیوں کو کسی ایسے شخص کے پیار میں نہیں پڑنا چاہیے جو یہوواہ خدا کی خدمت نہیں کرتا۔‏ (‏پیراگراف 14 کو دیکھیں۔‏)‏

‏”‏میری زوجہ ایک مقفل باغیچہ ہے“‏

15.‏ شولمیت نے غیرشادی‌شُدہ مسیحیوں کے لیے کیا مثال قائم کی؟‏

15 غزل‌الغزلات 4:‏12 کو پڑھیں۔‏ چرواہے نے اپنی  محبوبہ کو  ”‏مقفل باغیچہ“‏ کیوں کہا؟‏ مقفل باغیچہ یعنی ایسا باغ جس کے دروازے پر تالا لگا ہوتا ہے،‏ اُس میں ہر کوئی نہیں آ سکتا۔‏ شولمیت بھی ایک ایسے ہی باغ کی طرح تھی کیونکہ وہ صرف چرواہے سے پیار کرتی تھی اور اُس نے اُسی سے شادی کرنے کا فیصلہ کِیا تھا۔‏ اِس لیے وہ بادشاہ کی میٹھی میٹھی باتوں میں نہیں آئی اور اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔‏ وہ ایک ”‏دیوار“‏ کی طرح تھی نہ کہ ’‏دروازے‘‏ کی طرح جسے آسانی  سے کھول لیا جائے۔‏ (‏غز 8:‏8-‏10‏)‏ اِسی طرح دو ایسے غیرشادی‌شُدہ مسیحی جنہوں نے آپس میں شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،‏ اُنہیں عزم کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہونے والے جیون ساتھی کے علاوہ کسی اَور سے دل نہیں لگائیں گے۔‏

16.‏ جو لوگ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننے کے لیے اِکٹھے وقت گزارتے ہیں،‏ وہ غزل‌الغزلات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

16 جب چرواہے نے شولمیت کو بہار کے موسم میں اپنے ساتھ سیر پر جانے کو کہا تو شولمیت کے بھائیوں نے اُسے جانے کی اِجازت نہیں دی۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے شولمیت کو تاکستان کی رکھوالی کرنے کے لیے بھیج دیا۔‏ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏ کیا اُنہیں اپنی بہن پر بھروسا نہیں تھا؟‏ کیا اُنہیں لگا کہ چرواہا اور اُن کی بہن غلط کام کرنے کے اِرادے سے جانا چاہتے ہیں؟‏ ایسا نہیں تھا۔‏ دراصل وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ایسی صورتحال کھڑی ہو جائے جس میں اُن کی بہن بدکاری کے خطرے میں پڑ جائے۔‏ (‏غز 1:‏6؛‏ 2:‏10-‏15‏)‏ اِس سے غیرشادی‌شُدہ مسیحی بہت اہم سبق سیکھتے ہیں۔‏ اگر آپ دونوں شادی سے پہلے اِکٹھے وقت گزارتے ہیں تو ایسی صورتحال سے گریز کریں جس میں آپ ایک دوسرے کے ساتھ غلط حرکتیں کرنے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔‏ ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں کوئی اَور آپ کو دیکھ نہیں سکتا۔‏ مناسب طریقے سے اپنی محبت کا اِظہار کرنا غلط نہیں۔‏ لیکن احتیاط برتیں کہ اِن اِظہارات کے دوران آپ اِس حد تک نہ پہنچ جائیں کہ کوئی غلط قدم اُٹھا بیٹھیں۔‏

17‏،‏ 18.‏ غزل‌الغزلات کی کتاب پر غور کرنے سے آپ کو کیا فائدہ ہوا ہے؟‏

17 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ میاں بیوی عمر بھر  ساتھ  رہیں  اور ایک دوسرے سے پیار کریں۔‏ جب نئی نئی شادی ہوتی ہے تو عموماً میاں بیوی کی محبت بہت عروج پر ہوتی ہے۔‏ لیکن شادی کو عمر بھر قائم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی محبت کے شعلے کو بڑھائیں اور اِسے کبھی بُجھنے نہ دیں۔‏—‏مر 10:‏6-‏9‏۔‏

18 اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایسے شخص سے  کریں جس سے آپ سچا پیار کر سکتے ہیں۔‏ اور جب آپ کو ایسا شخص مل جاتا ہے تو پھر مل کر اپنے پیار کو اَور بڑھائیں اور اِسے کبھی ختم نہ ہونے دیں۔‏ غزل‌الغزلات سے ہم نے واقعی سیکھ لیا ہے کہ سچی محبت کرنا اور اِسے قائم رکھنا ممکن ہے کیونکہ یہ ”‏[‏یاہ]‏ کے شعلہ“‏ کی مانند ہے۔‏—‏غز 8:‏6‏۔‏