مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ہم اپنے چال‌چلن کو پاک کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

ہم اپنے چال‌چلن کو پاک کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏اپنے سارے چال‌چلن میں پاک بنو۔‏“‏—‏1-‏پطر 1:‏15‏۔‏

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا اپنے بندوں سے کیا توقع کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

پطرس رسول نے خدا کے اِلہام سے احبار میں لکھی بات کو دُہراتے ہوئے کہا کہ خدا کے بندوں کو اپنا چال‌چلن پاک رکھنا چاہیے۔‏ ‏(‏1-‏پطرس 1:‏14-‏16 کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ خدا ”‏پاک“‏ ہے اور وہ ممسوح مسیحیوں اور یسوع مسیح کی ’‏اَور بھی بھیڑوں‘‏ سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اپنے چال‌چلن کو ہر لحاظ سے پاک رکھیں۔‏—‏یوح 10:‏16‏۔‏

2 احبار کی کتاب میں درج کچھ اَور بیش‌قیمت باتوں پر غور کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔‏ اِن باتوں پر عمل کرنے سے ہم اپنے چال‌چلن کو ہر لحاظ سے پاک رکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔‏ اِس سلسلے میں ہم اِس مضمون میں اِن سوالوں پر غور کریں گے:‏ ہمیں یہوواہ خدا کے حکموں اور اصولوں پر سمجھوتا کیوں نہیں کرنا چاہیے؟‏ ہم احبار کی کتاب سے یہوواہ خدا کی حکمرانی کی حمایت کرنے کے سلسلے میں کیا سیکھتے ہیں؟‏ اور بنی‌اِسرائیل جو قربانیاں چڑھاتے تھے،‏ ہم اُن سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا کے حکموں اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کریں

3،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ مسیحیوں کو خدا کے حکموں اور اصولوں پر سمجھوتا کیوں نہیں کرنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ ہمیں بدلا کیوں نہیں لینا چاہیے یا اپنے دل میں ناراضگی کیوں نہیں رکھنی چاہیے؟‏

3 اگر ہم یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُس کے حکموں اور اصولوں پر عمل کرنا چاہیے اور کبھی بھی اِن پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔‏ اگرچہ ہم موسیٰ کی شریعت کے تحت تو نہیں  ہیں لیکن اِس میں درج حکموں پر غور کرنے سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کی نظر میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔‏ مثال کے طور پر یہوواہ خدا نے اِسرائیلیوں کو حکم دیا:‏ ”‏تُو اِنتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔‏ مَیں [‏یہوواہ]‏ ہوں۔‏“‏—‏احبا 19:‏18‏۔‏

4 یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم بدلا نہ لیں اور نہ ہی اپنے دل میں کسی طرح کی ناراضگی رکھیں۔‏ (‏روم 12:‏19‏)‏ اگر ہم یہوواہ خدا کے حکموں اور اصولوں کو نظرانداز کریں گے تو شیطان بہت خوش ہوگا اور یہوواہ خدا کے نام کی بدنامی ہوگی۔‏ اگر کوئی جان بُوجھ کر بھی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو بھی ہمیں ایسا برتن نہیں بننا چاہیے جس میں ناراضگی بھری رہتی ہے۔‏ یہوواہ خدا نے ہمیں ’‏مٹی کے ایسے برتن‘‏ بننے کا اعزاز بخشا ہے جن میں اُس کی خدمت کا خزانہ بھرا ہے۔‏ (‏2-‏کر 4:‏1،‏ 7‏)‏ اِن برتنوں میں ناراضگی جیسا زہر نہیں بھرنا چاہیے۔‏

5.‏ ہم ہارون سے کیا سیکھتے ہیں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

5 احبار 10:‏1-‏11 میں ہم ایک ایسی صورتحال کے بارے میں پڑھتے ہیں جس میں ہارون اور اُن کے گھر والوں کو بہت کرب سے گزرنا پڑا۔‏ یہوواہ خدا نے آسمان سے آگ نازل کرکے ہارون کے بیٹوں ندب اور ابیہو کو ہلاک کر دیا۔‏ اِس کے بعد یہوواہ خدا نے ہارون اور اُن کے گھر والوں سے کہا کہ وہ کسی بھی طرح سے اپنے دُکھ کا اِظہار نہ کریں۔‏ یہ یقیناً ہارون اور اُن کے گھر والوں کے ایمان کا اِمتحان تھا۔‏ اگر آپ کے کسی رشتےدار یا عزیز کو کلیسیا سے خارج کر دیا گیا ہے تو کیا آپ اُس سے رابطہ نہ کرنے سے خود کو پاک ثابت کرتے ہیں؟‏‏—‏1-‏کرنتھیوں 5:‏11 کو پڑھیں۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ چرچ میں ہونے والی شادی میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت ہمیں کن باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟‏ (‏فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏)‏ (‏ب)‏ اگر ہمیں کسی رشتےدار کی شادی میں جانے کی دعوت ملتی ہے جو چرچ میں ہوگی تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟‏

6 شاید ہمیں ایسے اِمتحان سے تو نہ گزرنا پڑے جس  سے  ہارون اور اُن کے گھر والوں کو گزرنا پڑا۔‏ لیکن اگر ہمیں کسی رشتےدار کی شادی میں جانے کی دعوت ملتی ہے جو چرچ میں ہوگی تو پھر ہم کیا کریں گے؟‏ اگرچہ بائبل میں اِس سلسلے میں کوئی واضح حکم تو نہیں  دیا  گیا لیکن ہمیں اِس میں درج کچھ اصولوں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔‏ *

7 چونکہ ہم یہوواہ خدا کی نظر میں پاک  رہنا  چاہتے  ہیں  اِس لیے ایسی صورتحال میں ہم جو فیصلہ کریں گے شاید اُس کی وجہ ہمارے رشتےداروں کی سمجھ میں نہ آئے۔‏ (‏1-‏پطر 4:‏3،‏ 4‏)‏ سچ ہے کہ ہم اپنے رشتےداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے لیکن اچھا ہے کہ ہم اُنہیں اپنے فیصلے کی وجہ بڑے پیار سے لیکن واضح طور پر بتائیں۔‏ شاید ہم شادی کی تقریب ہونے سے کافی دیر پہلے اِس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‏ ہم اُن کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں کہ اُنہوں نے ہمیں شادی میں آنے کی دعوت دی ہے۔‏ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں اُنہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ ہم اپنے عقیدوں کی وجہ سے شادی کی کچھ رسموں میں حصہ نہیں لیں گے۔‏ پھر ہم اُن سے کچھ یوں کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏مَیں یہ بات آپ کو پہلے سے اِس لیے بتانا چاہتا ہوں کیونکہ مَیں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے شادی کا مزہ خراب ہو یا آپ کو اور آپ کے مہمانوں کو شرمندگی اُٹھانی پڑے۔‏“‏ ایسا کرنے سے ہم ایسی صورتحال میں پڑنے سے بچ جائیں گے جس میں ہمیں اپنے عقیدوں اور ایمان پر سمجھوتا کرنا پڑے۔‏

یہوواہ خدا کی حکمرانی کی حمایت کریں

8.‏ احبار کی کتاب میں یہوواہ خدا کی حکمرانی پر کیسے زور دیا گیا ہے؟‏

8 احبار کی کتاب میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہوواہ خدا اعلیٰ حکمران ہے۔‏ اِس میں جو حکم درج ہیں،‏ اُن کے بارے میں 30 سے زیادہ مرتبہ کہا گیا ہے کہ یہ یہوواہ خدا کی طرف سے ہیں۔‏ موسیٰ یہ بات جانتے تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے وہی کِیا جو یہوواہ خدا نے کرنے کا حکم دیا تھا۔‏ (‏احبا 8:‏4،‏ 5‏)‏ اِسی طرح ہمیں بھی ہمیشہ وہی کام کرنے چاہئیں جو ہمارا حاکم یہوواہ ہم سے چاہتا ہے۔‏ اگرچہ خدا کی تنظیم اور ہمارے بہن بھائی اِس سلسلے میں ہمیشہ ہماری مدد کرتے ہیں مگر کبھی کبھار ہمارے ایمان کا اِمتحان اُس وقت بھی ہو سکتا ہے جب ہم اکیلے ہوتے ہیں،‏ بالکل ویسے ہی جیسے بیابان میں  یسوع مسیح کے ساتھ ہوا تھا۔‏ (‏لو 4:‏1-‏13‏)‏ اگر ہم اپنی پوری توجہ یہوواہ خدا کی حکمرانی پر رکھیں گے اور اُس پر پورا بھروسا کریں گے تو ہم کبھی بھی کسی کے ڈر میں آ کر خدا کے حکموں اور اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔‏—‏امثا 29:‏25‏۔‏

9.‏ پوری دُنیا میں لوگ ہماری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟‏

9 چونکہ ہم یسوع مسیح کے پیروکار اور یہوواہ کے گواہ ہیں اِس لیے پوری دُنیا میں لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔‏ اور ہم اِس بات کی توقع بھی کرتے ہیں کیونکہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ ”‏لوگ تُم کو اِیذا دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تُم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تُم سے عداوت رکھیں گی۔‏“‏ (‏متی 24:‏9‏)‏ لیکن لوگوں کی مخالفت کے باوجود ہم مُنادی کا کام جاری رکھتے ہیں اور یہوواہ خدا کی نظر میں پاک رہتے ہیں۔‏ حالانکہ ہم ایمان‌دار ہیں،‏ جسمانی اور اخلاقی لحاظ سے پاک رہتے ہیں اور حکومت کے قوانین کی پابندی کرتے ہیں تو پھر لوگ ہماری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟‏ (‏روم 13:‏1-‏7‏)‏ کیونکہ ہم یہوواہ خدا کو اپنا حاکم مانتے ہیں۔‏ ہم ”‏صرف اُسی کی عبادت“‏ کرتے ہیں اور کبھی بھی اُس کے قوانین اور اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔‏—‏متی 4:‏10‏۔‏

10.‏ جب ایک بھائی نے بےطرف‌دار رہنے کے حکم پر سمجھوتا کر لیا تو کیا ہوا؟‏

10 ہم اِس ”‏دُنیا کے نہیں“‏ ہیں۔‏ اِس لیے ہم سیاسی  معاملوں میں کسی کی طرف‌داری نہیں کرتے اور نہ ہی جنگوں میں حصہ لیتے ہیں۔‏ ‏(‏یوحنا 15:‏18-‏21؛‏ یسعیاہ 2:‏4 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن خدا کے کچھ خادموں نے بےطرف‌دار رہنے کے سلسلے میں اُس کے حکم پر سمجھوتا کر لیا۔‏ بعد میں اِن میں سے بہت سے لوگوں کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہوا اور وہ پھر سے ہمارے رحم‌دل آسمانی باپ کی قربت میں آ گئے۔‏ (‏زبور 51:‏17‏)‏ لیکن کچھ لوگوں کو اپنی غلطی پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔‏ مثال کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے دوران بہت سے بھائیوں کو ملک ہنگری کی جیلوں میں قید کر دیا گیا۔‏ فوجی افسر اِن میں سے 160 بھائیوں کو جن کی عمر 45 سال سے کم تھی،‏ ایک علاقے میں لے کر آئے اور اِنہیں فوج میں بھرتی ہونے کو کہا۔‏ اِن میں سے زیادہ‌تر بھائیوں نے ایسا کرنے سے اِنکار کر دیا۔‏ لیکن 9 بھائیوں نے فوجیوں کے طور پر حلف اُٹھا لیا اور وردی پہن لی۔‏ دو سال بعد اِن میں سے ایک کو کچھ گواہوں کو گولی مارنے کو کہا گیا۔‏ اِن گواہوں میں اُس کا اپنا بھائی بھی شامل تھا۔‏ لیکن پھر کسی وجہ سے اِن گواہوں کو گولی مارنے کا حکم واپس لے لیا گیا۔‏

یہوواہ خدا کے حضور بہترین قربانی چڑھائیں

11،‏ 12.‏ یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو قربانیاں چڑھانے کے سلسلے میں جو حکم دیا تھا،‏ اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

11 موسیٰ کی شریعت کے مطابق اِسرائیلیوں کو کچھ  خاص قربانیاں پیش کرنی تھیں۔‏ (‏احبا 9:‏1-‏4،‏ 15-‏21‏)‏ اِن قربانیوں کو بےعیب ہونا چاہیے تھا کیونکہ اِنہوں نے یسوع مسیح کی بےعیب قربانی کی عکاسی کرنی تھی۔‏ اِس کے علاوہ ہر قربانی کو ایک خاص طریقے سے چڑھانے کا حکم دیا گیا تھا۔‏ مثال کے طور پر غور کریں کہ جب ایک عورت کا بچہ پیدا ہوتا تھا تو اُسے کیا کرنا تھا۔‏ احبار 12:‏6 میں لکھا ہے:‏ ”‏جب اُس کی طہارت کے ایّام پورے ہو جائیں تو خواہ اُس کے بیٹا ہوا ہو یا بیٹی وہ سوختنی قربانی کے لئے ایک یکسالہ برّہ اور خطا کی قربانی کے لئے کبوتر کا ایک بچہ یا ایک قمری خیمۂ‌اِجتماع کے دروازہ پر کاہن کے پاس لائے۔‏“‏ اگرچہ یہوواہ خدا نے اپنے حکموں کے سلسلے میں خاص ہدایات دی تھیں لیکن اِن حکموں سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خدا شفیق ہے اور وہ اِنسانوں سے اُن کے حالات کے مطابق توقع کرتا ہے۔‏ اگر ایک ماں ایک برّے کو قربانی کے لیے پیش نہیں کر سکتی تھی تو وہ دو قمریوں یا کبوتر کے دو بچوں کو پیش کر سکتی تھی۔‏ (‏احبا 12:‏8‏)‏ اگرچہ یہ عورت غریب تھی لیکن یہوواہ خدا اُس سے پیار کرتا تھا اور اُس کی قربانی کی قدر کرتا تھا۔‏ ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

12 پولُس رسول نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ خدا کے حضور ”‏حمد کی قربانی“‏ چڑھائیں۔‏ (‏عبر 13:‏15‏)‏ ہمیں اپنے ہونٹوں سے یہوواہ خدا کے نام کا اِقرار کرنا چاہیے یعنی دوسروں کو اِس کے بارے میں بتانا چاہیے۔‏ جو بہن بھائی سُن نہیں سکتے،‏ وہ اِشاروں کی زبان میں یہوواہ خدا کی بڑائی کرتے ہیں۔‏ جو بہن بھائی بڑھاپے  یا کسی بیماری کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں جا سکتے،‏ وہ خط لکھ کر یا فون کرکے گواہی دیتے ہیں یا پھر وہ اُن لوگوں کو گواہی دیتے ہیں جو اُن کی دیکھ‌بھال کرتے یا اُن سے ملنے آتے ہیں۔‏ ہمیں اپنی صحت اور صورتحال کے مطابق یہوواہ خدا کے حضور حمد کی قربانی چڑھانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‏—‏روم 12:‏1؛‏ 2-‏تیم 2:‏15‏۔‏

13.‏ ہمیں مُنادی کی رپورٹ کیوں دینی چاہیے؟‏

13 چونکہ ہم یہوواہ خدا سے پیار کرتے ہیں اِس  لیے  ہم  خوشی سے اُس کے حضور حمد کی قربانی چڑھاتے ہیں۔‏ (‏متی 22:‏37،‏ 38‏)‏ لیکن ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ہر مہینے مُنادی کی رپورٹ دیں۔‏ کیا ہم اِس ہدایت پر عمل کرتے ہیں؟‏ مُنادی کی رپورٹ دینے سے ہم ”‏دین‌داری“‏ یعنی خدا کے لیے اپنی محبت کا اِظہار کرتے ہیں۔‏ (‏2-‏پطر 1:‏7‏)‏ ہمیں یہ سوچ کر مُنادی میں زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اپنی رپورٹ پر زیادہ گھنٹے لکھ سکیں۔‏ اگر ایک مبشر اپنی عمر یا صحت کی وجہ سے مُنادی کے کام میں زیادہ وقت صرف نہیں کر سکتا تو وہ صرف 15 منٹ کی رپورٹ بھی دے سکتا ہے۔‏ وہ اپنی صورتحال کے مطابق یہوواہ خدا کے خدمت میں جتنا بھی کرتا ہے،‏ یہوواہ خدا اُس کی قدر کرتا ہے۔‏ یہوواہ خدا جانتا ہے کہ ہمارے بہن بھائی اُس سے پیار کرتے ہیں اور اُس کے بارے میں گواہی دینا چاہتے ہیں۔‏ جس طرح کچھ غریب اِسرائیلی بھی یہوواہ خدا کے حضور قربانی چڑھا سکتے تھے،‏ اُسی طرح ہمارے بوڑھے اور بیمار بہن بھائی بھی مُنادی کے کام میں جتنا وقت صرف کرتے ہیں،‏ وہ اُس کی رپورٹ دے سکتے ہیں۔‏ پوری دُنیا میں مُنادی کے کام میں صرف کیے گئے گھنٹوں کی رپورٹ میں ہماری رپورٹ بھی شامل ہوتی ہے اور سب رپورٹوں کو ملا کر جو رپورٹ بنتی ہے،‏ اُس کی بِنا پر ہماری تنظیم مُنادی کے حوالے سے منصوبے بناتی ہے۔‏ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مُنادی کے کام کی رپورٹ ضرور دینی چاہیے۔‏

بائبل کا مطالعہ اور حمد کی قربانیاں

14.‏ ہمیں بائبل کا مطالعہ کرنے کے اپنے طریقے کا جائزہ کیوں لینا چاہیے؟‏

14 احبار کی کتاب میں درج کچھ بیش‌قیمت  باتوں  پر  غور  کرنے کے بعد شاید آپ سوچیں کہ ”‏اب مَیں بہتر طور پر سمجھ گیا ہوں کہ اِس کتاب کو خدا کے کلام میں کیوں شامل کِیا گیا ہے۔‏“‏ (‏2-‏تیم 3:‏16‏)‏ اب آپ کا یہ عزم اَور مضبوط ہو گیا ہوگا کہ آپ خود کو پاک ثابت کریں گے،‏ صرف اِس لیے نہیں کہ یہوواہ خدا اِس کی توقع کرتا ہے بلکہ اِس لیے بھی کہ آپ اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں۔‏ احبار کی کتاب میں درج کچھ باتوں پر غور کرنے سے شاید آپ کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا ہو کہ آپ بائبل میں درج اَور بھی باتوں پر تحقیق کریں گے۔‏ ‏(‏امثال 2:‏1-‏5 کو پڑھیں۔‏)‏ بائبل کا مطالعہ کرنے کے اپنے طریقے کا جائزہ لیں۔‏ یقیناً آپ چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا آپ کی حمد کی قربانی کو قبول کرے۔‏ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ٹی‌وی،‏ ویڈیو گیمز،‏ کھیل کود یا کسی اَور مشغلے کی وجہ سے آپ بائبل کا مطالعہ نہیں کر پاتے یا یہ چیزیں آپ کے لیے روحانی لحاظ سے آگے بڑھنے میں رُکاوٹ بن رہی ہیں؟‏ اگر ایسا ہے کہ تو آپ کو پولُس رسول کی اُس بات پر غور کرنے سے بہت فائدہ ہوگا جو اُنہوں نے عبرانیوں کے نام خط میں لکھی۔‏

کیا آپ خاندانی عبادت اور بائبل کا مطالعہ کرنے کو اپنی زندگی میں اہمیت دے رہے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 14 کو دیکھیں۔‏)‏

15،‏ 16.‏ پولُس رسول نے عبرانیوں کے مسیحیوں کی کھرے کھرے الفاظ میں اِصلاح کیوں کی؟‏

15 پولُس رسول نے عبرانیوں کے مسیحیوں کی  کھرے  کھرے الفاظ میں اِصلاح کی۔‏ ‏(‏عبرانیوں 5:‏7،‏ 11-‏14 کو پڑھیں۔‏)‏ اُنہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایسا نہیں کِیا۔‏ اُنہوں نے اِن مسیحیوں سے کہا کہ وہ ”‏اُونچا سننے“‏ والے بن گئے ہیں۔‏ پولُس رسول  نے اِتنے سخت الفاظ کیوں اِستعمال کیے؟‏ کیونکہ یہوواہ خدا کی طرح پولُس رسول کو بھی اِن مسیحیوں سے محبت اور اِن کی فکر تھی۔‏ یہ مسیحی صرف روحانی دودھ یعنی بائبل کی بنیادی سچائیوں پر گزارہ کر رہے تھے۔‏ اگرچہ بائبل کی بنیادی سچائیاں سیکھنا بہت ضروری ہے لیکن روحانی طور پر نشوونما پانے یعنی ایک پُختہ مسیحی بننے کے لیے ہمیں ”‏سخت غذا“‏ یعنی بائبل کی گہری تعلیمات کی ضرورت ہے۔‏

16 عبرانیوں کے مسیحیوں کو تو دوسروں کو تعلیم دینے کے  قابل ہونا چاہیے تھا لیکن نوبت یہ تھی کہ کوئی اَور اُنہیں تعلیم دے۔‏ ایسا کیوں تھا؟‏ کیونکہ یہ مسیحی ”‏سخت غذا“‏ کھانے سے بھاگ رہے تھے۔‏ ذرا خود سے پوچھیں:‏ ”‏سخت روحانی غذا کے سلسلے میں میری سوچ کیا ہے؟‏ کیا مَیں اِسے کھا رہا ہوں؟‏ یا کیا مَیں دُعا کرنے اور بائبل کا گہرا مطالعہ کرنے سے کتراتا ہوں؟‏“‏ اگر ایسا ہے تو بائبل کا مطالعہ کرنے کے اپنے طریقے کا جائزہ لیں۔‏ یاد رکھیں کہ ہمیں دوسروں کو صرف خوش‌خبری ہی نہیں سنانی چاہیے بلکہ اُنہیں تعلیم دینی اور شاگرد بھی بنانا چاہیے۔‏—‏متی 28:‏19،‏ 20‏۔‏

17،‏ 18.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں باقاعدگی سے سخت روحانی غذا کیوں کھانی چاہیے؟‏ (‏ب)‏ ہمیں اِجلاس پر آنے سے پہلے شراب پینے کو کیسا خیال کرنا چاہیے؟‏

17 ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں کے  لیے  بائبل  کا  گہرا مطالعہ کرنا آسان نہیں ہے۔‏ بےشک یہوواہ خدا کبھی بھی ہمیں شرمندہ کرکے یہ احساس نہیں دِلاتا کہ ہمیں بائبل کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔‏ لیکن ہم سب کو سخت روحانی غذا کھانی چاہیے،‏ چاہے ہم کافی عرصے سے سچائی میں ہوں یا ابھی نئے نئے سچائی میں آئے ہوں۔‏ یہوواہ خدا کی نظر میں پاک بننے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔‏

18 اگر ہم پاک ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں بائبل کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے اور خدا کے حکموں پر عمل کرنا چاہیے۔‏ ذرا ہارون کے بیٹوں ندب اور ابیہو پر غور کریں جنہیں یہوواہ خدا نے ہلاک کر دیا۔‏ اُنہوں نے یہوواہ خدا کے حضور ”‏اُوپری آگ“‏ گزرانی جس کا حکم یہوواہ خدا نے نہیں دیا تھا۔‏ شاید اُنہوں نے ایسا شراب کے نشے میں کِیا تھا۔‏ (‏احبا 10:‏1،‏ 2‏)‏ غور کریں کہ خدا نے ہارون سے کیا کہا۔‏ ‏(‏احبار 10:‏8-‏11 کو پڑھیں۔‏)‏ کیا اِس واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اِجلاس پر جانے سے پہلے ہمیں شراب بالکل نہیں پینی چاہیے؟‏ اِس سلسلے میں ذرا اِن باتوں پر غور کریں:‏ ہم موسیٰ کی شریعت کی تحت نہیں ہیں۔‏ (‏روم 10:‏4‏)‏ بعض ملکوں میں ہمارے بہن بھائی اِجلاس پر جانے سے پہلے کھانے کے ساتھ تھوڑی بہت شراب پیتے ہیں۔‏ عیدِفسح پر یہودی مے کے چار پیالے آپس میں بانٹ کر پیتے تھے۔‏ جب یسوع مسیح نے یادگاری تقریب رائج کی تھی تو اُنہوں نے اپنے رسولوں کو مے پینے کو دی جو یسوع مسیح کے خون کی طرف اِشارہ کرتی تھی۔‏ (‏متی 26:‏27‏)‏ بائبل میں حد سے زیادہ شراب پینے سے منع کِیا گیا ہے۔‏ (‏1-‏کر 6:‏10؛‏ 1-‏تیم 3:‏8‏)‏ بہت سے بہن بھائیوں کا ضمیر اُنہیں اِس بات کی اِجازت نہیں دیتا کہ وہ عبادت سے پہلے شراب پئیں۔‏ لیکن ہر ملک کی ثقافت فرق ہوتی ہے۔‏ سچے مسیحیوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ”‏مُقدس اور عام اشیا میں .‏ .‏ .‏ تمیز“‏ کریں تاکہ وہ خود کو یہوواہ خدا کی نظر میں پاک ثابت کر سکیں۔‏

19.‏ ‏(‏الف)‏ ہم خاندانی عبادت اور ذاتی مطالعے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم کیا کر سکتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ہم نے پاک رہنے کا عزم کِیا ہوا ہے؟‏

19 خدا کے کلام میں اَور بھی بہت سی بیش‌قیمت باتیں چھپی ہیں۔‏ اِس کا گہرا مطالعہ کرنے سے ہم اِن باتوں کو سیکھ سکتے ہیں۔‏ اِس سلسلے میں خاندانی عبادت اور ذاتی مطالعے کے لیے اُن سہولیات کو اِستعمال کریں جو یہوواہ خدا کی تنظیم نے ہمیں فراہم کی ہیں۔‏ یہوواہ خدا اور اُس کے مقصد کے بارے میں اپنے علم کو بڑھائیں۔‏ اُس کے اَور قریب ہو جائیں۔‏ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ زبور نویس کی طرح یہوواہ خدا سے دُعا کریں جس نے یہ گیت گایا:‏ ”‏میری آنکھیں کھول دے تاکہ مَیں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔‏“‏ (‏زبور 119:‏18‏)‏ کبھی بھی خدا کے قوانین اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کریں۔‏ خوشی سے پاک خدا یہوواہ کے حکموں کے مطابق چلیں اور مُنادی کا کام کریں۔‏ (‏1-‏پطر 1:‏15؛‏ روم 15:‏16‏)‏ اِس بُرے زمانے میں خود کو پاک ثابت کریں۔‏ آئیں،‏ ہم سب اپنے چال‌چلن کو ہر لحاظ سے پاک رکھیں اور اپنے پاک خدا یہوواہ کی حکمرانی کی حمایت کرتے رہیں۔‏

^ پیراگراف 6 اِس سلسلے میں مینارِنگہبانی 15 مئی 2002ء میں ”‏سوالات از قارئین“‏ کو دیکھیں۔‏