مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ کی آنکھیں ہم پر کیوں لگی ہیں؟‏

یہوواہ کی آنکھیں ہم پر کیوں لگی ہیں؟‏

‏”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ہر جگہ ہیں اور نیکوں اور بدوں کی نگران ہیں۔‏“‏—‏امثا ۱۵:‏۳‏۔‏

۱،‏ ۲.‏ یہوواہ خدا کی نگاہ اور سڑکوں پر لگائے جانے والے کیمروں کی نگاہ میں کیا فرق ہے؟‏

بہت سے ملکوں میں سڑکوں پر ایسے کیمرے لگے ہوتے ہیں جن کے ذریعے آنے جانے والی گاڑیوں پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔‏ اِن میں سڑک پر ہونے والے حادثوں کی تصویریں محفوظ ہو جاتی ہیں۔‏ جب کوئی ڈرائیور کسی کو گاڑی مار کر بھاگ جاتا ہے تو پولیس اِن کیمروں کی تصویروں سے اُس ڈرائیور کو گِرفتار کر سکتی ہے۔‏ آجکل چونکہ کیمرے کی آنکھ ہر جگہ موجود ہوتی ہے اِس لیے مُجرموں کا بچ نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔‏

۲ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ہر جگہ ہیں۔‏“‏ (‏امثا ۱۵:‏۳‏)‏ لیکن کیمرے کی آنکھ اور یہوواہ کی آنکھ دونوں کا مقصد فرق‌فرق ہے۔‏ یہوواہ ہم پر صرف اِس لیے نظر نہیں رکھتا کیونکہ وہ ہماری غلطیاں پکڑنا چاہتا ہے اور ہمیں سزا دینا چاہتا ہے۔‏ (‏یرم ۱۶:‏۱۷؛‏ عبر ۴:‏۱۳‏)‏ دراصل وہ ہم پر نگاہ اِس لیے رکھتا ہے کیونکہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور ہماری بھلائی چاہتا ہے۔‏—‏۱-‏پطر ۳:‏۱۲‏۔‏

۳.‏ ہم کن پانچ باتوں پر غور کریں گے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا محبت کی وجہ سے ہم پر نگاہ رکھتا ہے؟‏

۳ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا محبت کی وجہ سے ہم پر نگاہ رکھتا ہے؟‏ اِس سلسلے میں آئیں،‏ ہم پانچ باتوں پر غور کریں۔‏ (‏۱)‏ یہوواہ خدا ہمیں غلط سوچ اور خیالات سے خبردار کرتا ہے۔‏ (‏۲)‏ جب ہم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ ہماری اِصلاح کرتا ہے۔‏ (‏۳)‏ وہ اپنے کلام کے ذریعے ہماری رہنمائی  کرتا ہے۔‏ (‏۴)‏ وہ مشکلات کو برداشت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔‏ (‏۵)‏ وہ ہماری نیکیوں کا صلہ دیتا ہے۔‏

خدا ہمیں غلط سوچ سے خبردار کرتا ہے

۴.‏ یہوواہ خدا نے قائن کو کیوں خبردار کِیا تھا کہ ”‏گُناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے“‏؟‏

۴ جب ہم میں کوئی غلط سوچ پیدا ہوتی ہے تو خدا ہمیں کیسے خبردار کرتا ہے؟‏ (‏۱-‏توا ۲۸:‏۹‏)‏ اِس سلسلے میں قائن کی مثال پر غور کریں۔‏ جب یہوواہ خدا نے قائن کی قربانی قبول نہ کی تو قائن ”‏نہایت غضب‌ناک ہوا۔‏“‏ ‏(‏پیدایش ۴:‏۳-‏۷ کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ خدا نے اُسے تاکید کی کہ وہ ”‏بھلا کرے۔‏“‏ دراصل یہوواہ خدا اُسے ترغیب دے رہا تھا کہ وہ اپنی غلط سوچ کو ترک کرے۔‏ اُس نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ”‏گُناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے۔‏“‏ پھر خدا نے اُس سے کہا:‏ ”‏تُو اُس پر غالب آ۔‏“‏ یہوواہ چاہتا تھا کہ قائن اُس کی بات پر دھیان دے اور ”‏مقبول“‏ ٹھہرے۔‏ اگر قائن خدا کی بات مانتا تو وہ اُس کی قربت میں رہتا۔‏

۵.‏ یہوواہ خدا ہمیں غلط سوچ اور خیالات سے کیسے خبردار کرتا ہے؟‏

۵ یہوواہ خدا کی آنکھیں ہمارے دل کو بھی دیکھ سکتی ہیں۔‏ وہ ہمارے خیالات اور خواہشات کو جانتا ہے۔‏ ہمارا آسمانی باپ چاہتا ہے کہ ہم نیکی کی راہ پر چلتے رہیں۔‏ لیکن وہ ہمیں اِس راہ پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔‏ جب ہم کسی غلط راہ پر چل پڑتے ہیں تو وہ ہمیں اِس کے خطرات سے خبردار کرتا ہے۔‏ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟‏ جب ہم ہر روز بائبل کو پڑھتے ہیں تو اکثر ہماری نظر میں ایسی باتیں آتی ہیں جو غلط سوچ اور خیالات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔‏ اِس کے علاوہ ہماری کتابیں اور رسالے شاید کسی ایسے مسئلے پر روشنی ڈالیں جس سے ہم کافی عرصے سے دوچار ہیں۔‏ شاید اِن سے ہمیں ایسے مشورے ملیں جن کے ذریعے ہم اِس مسئلے پر قابو پا سکیں۔‏ ہمارے اِجلاسوں پر بھی ہمیں ایسی ہدایات دی جاتی ہیں جو اکثر ہماری ضرورت کے عین مطابق ہوتی ہیں۔‏

۶،‏ ۷.‏ ‏(‏الف)‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ بائبل اور ہماری کتابیں اور رسالے آپ کے لیے خدا کی محبت کا ثبوت ہیں؟‏ (‏ب)‏ آپ خدا کی ہدایات سے فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

۶ ہم کو غلط سوچ اور خیالات سے خبردار کرنے سے یہوواہ خدا اِس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ ہم میں سے ہر ایک سے محبت کرتا ہے۔‏ یہ سچ ہے کہ خدا کے کلام کے ذریعے صدیوں سے لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔‏ ہماری کتابوں اور رسالوں سے بھی لاکھوں لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور ہمارے اِجلاسوں پر جو ہدایات دی جاتی ہیں،‏ وہ پوری کلیسیا کے لیے ہوتی ہیں۔‏ پھر بھی یہوواہ خدا آپ میں دلچسپی لیتا ہے اور اِنفرادی طور پر آپ کی توجہ پاک کلام میں درج ایسی باتوں پر دِلاتا ہے جن سے آپ اپنی غلط سوچ اور خیالات پر قابو پا سکتے ہیں۔‏ اِس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہوواہ خدا محبت کی وجہ سے آپ پر نگاہ رکھتا ہے۔‏

پاک کلام میں درج ہدایات پر عمل کرنے سے ہم غلط سوچ اور خواہشات سے بچ سکتے ہیں۔‏ (‏پیراگراف ۶ اور ۷ کو دیکھیں۔‏)‏

۷ اگر ہم یہوواہ خدا کی ہدایات سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اُسے ہماری فکر ہے۔‏ پھر ہمیں اُس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایسی سوچ اور خیالات کو ترک کرنا چاہیے جن سے خدا نفرت کرتا ہے۔‏ ‏(‏یسعیاہ ۵۵:‏۶،‏ ۷ کو پڑھیں۔‏)‏ اگر ہم خدا کی نصیحت پر کان لگاتے ہیں تو ہم دُکھ اور نقصان اُٹھانے سے بچ جائیں گے۔‏ لیکن اگر ہم کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو ہمارا آسمانی باپ ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟‏

ہمارا شفیق باپ ہماری اِصلاح کرتا ہے

۸،‏ ۹.‏ پُختہ بھائیوں کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کس لحاظ سے خدا کی محبت کا ثبوت ہے؟‏ مثال دیں۔‏

۸ یہوواہ خدا کی محبت کا ایک اَور ثبوت یہ ہے کہ وہ ہماری اِصلاح کرتا ہے۔‏ ‏(‏عبرانیوں ۱۲:‏۵،‏ ۶ کو پڑھیں۔‏)‏ یہ سچ ہے کہ بعض اوقات جب ہماری اِصلاح کی جاتی ہے تو ہمیں اچھا نہیں لگتا۔‏ (‏عبر ۱۲:‏۱۱‏)‏ لیکن جب کوئی ہماری اِصلاح کرتا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اُس نے ایسا کیوں کِیا۔‏ یقیناً اُس نے ہمیں ٹھیس پہنچانے کے لیے تو ایسا نہیں کِیا ہوگا۔‏ اِس کے بجائے شاید اُس نے بھانپ لیا ہے کہ یہوواہ خدا کے ساتھ ہماری دوستی خطرے میں ہے۔‏ وہ اپنا وقت قربان کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ پاک کلام کے ذریعے ہماری مدد کرے اور ہم یہوواہ کی طرف لوٹ آئیں۔‏ اگر ایک بھائی کو ہماری اِتنی فکر ہے تو ذرا سوچیں کہ یہوواہ خدا کو ہماری کتنی فکر ہوگی۔‏ اصل میں یہ اِصلاح اُسی کی طرف سے آتی ہے۔‏

 ۹ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا کی طرح کلیسیا کے بزرگ محبت کی بِنا پر ہماری اِصلاح کرتے ہیں۔‏ ایک بھائی کو سچائی میں آنے سے پہلے فحش تصویریں دیکھنے کی عادت تھی لیکن اُس نے اِس پر قابو پا لیا۔‏ مگر ایسی تصویریں دیکھنے کی خواہش پوری طرح ختم نہ ہوئی۔‏ جس طرح سلگتے ہوئے انگارے کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں اُسی طرح یہ خواہش بھی بھڑک سکتی تھی۔‏ جب اُس بھائی نے نیا موبائل فون خریدا تو ایسا ہی ہوا۔‏ (‏یعقو ۱:‏۱۴،‏ ۱۵‏)‏ اِس فون پر وہ فحش ویب‌سائٹس دیکھنے لگا۔‏ ایک دن وہ ایک بزرگ کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعے لوگوں کو گواہی دینے کا کام کر رہا تھا۔‏ اُس نے کچھ لوگوں کا پتہ دیکھنے کے لیے اپنا فون بزرگ کو دیا۔‏ جب بزرگ نے فون اِستعمال کِیا تو کچھ گندی ویب‌سائٹس سامنے آ گئیں۔‏ اُس بزرگ نے بھائی کی اِصلاح کی۔‏ اِس بھائی نے اِصلاح کو قبول کِیا اور آخرکار اِس بُری خواہش کو کچل دیا۔‏ ہم اپنے آسمانی باپ کے بڑے شکر گزار ہیں جو ہمارے پوشیدہ گُناہوں کو دیکھ لیتا ہے اور ہماری اِصلاح کرتا ہے تاکہ اُس کے ساتھ ہماری دوستی نہ ٹوٹے۔‏

پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنا فائدہ‌مند ہے

۱۰،‏ ۱۱.‏ ‏(‏الف)‏ خدا کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنے سے ایک خاندان کو کیا فائدہ ہوا؟‏

۱۰ زبورنویس نے یہوواہ خدا سے درخواست کی کہ ”‏تُو اپنی مصلحت سے میری رہنمائی“‏ کر۔‏ (‏زبور ۷۳:‏۲۴‏)‏ جب کبھی ہمیں رہنمائی کی ضرورت پڑے تو ہم خدا کے کلام سے ایسے اصول ڈھونڈ سکتے ہیں جن سے ہم اپنی صورتحال کے بارے میں خدا کا نظریہ جان سکتے ہیں۔‏ اِن اصولوں پر عمل کرنے سے ہم نہ صرف خدا کی قربت میں رہیں گے بلکہ ہم اپنے گھرانے کی دیکھ‌بھال کرنے کی ذمےداری کو بھی اچھی طرح نبھا سکیں گے۔‏—‏امثا ۳:‏۶‏۔‏

۱۱ اِس سلسلے میں ایک بھائی کی مثال پر غور کریں جو فلپائن کے ایک پہاڑی علاقے میں رہتا ہے۔‏ وہ ایک زمین‌دار کے کھیت میں کھیتی‌باڑی کرتا ہے اور اُسی کے دیے ہوئے گھر میں رہتا ہے۔‏ بھائی اور اُس کی بیوی پہلکار کے طور پر خدمت کر رہے تھے اور اِس کے ساتھ‌ساتھ بڑی محنت سے اپنے بچوں کا پیٹ بھی پال رہے تھے۔‏ ایک دن زمین‌دار نے اُنہیں گھر خالی کرنے کا نوٹس بھیج دیا۔‏ اُنہیں بڑی حیرت ہوئی اور وہ یہ سوچنے لگے کہ آخر زمین‌دار ایسا کیوں کر رہا ہے؟‏ دراصل اُن پر یہ اِلزام لگایا تھا کہ اُنہوں نے بددیانتی کی ہے۔‏ بھائی کو یہ فکر تو تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر کہاں جائے گا اور کہاں رہے گا۔‏ پھر بھی اُس نے کہا:‏ ”‏یہوواہ ہی کوئی نہ کوئی بندوبست کرے گا۔‏ اُس نے ہمیشہ ہمارا خیال رکھا اور اب بھی وہ ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔‏“‏ بھائی اور اُس کے گھر  والے بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے زمین‌دار کے ساتھ بڑی عزت اور احترام سے پیش آتے رہے اور اُس کے ساتھ کسی قسم کا لڑائی جھگڑا نہیں کِیا۔‏ چند دن بعد زمین‌دار نے اُن سے کہا کہ اُنہیں گھر خالی کرنے کی ضرورت نہیں۔‏ دراصل وہ اِس بات سے بڑا متاثر ہوا تھا کہ اِلزام کے باوجود بھائی اور اُس کے گھر والوں نے صبر کا مظاہرہ کِیا۔‏ لہٰذا اُس نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور ہمارے بھائی کو کھیتی‌باڑی کے لیے اَور زمین دی۔‏ ‏(‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۲ کو پڑھیں۔‏)‏ واقعی یہوواہ خدا اپنے پاک کلام کے ذریعے ہماری مدد کرتا ہے تاکہ ہم زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے نپٹ سکیں۔‏

خدا مشکلات کو برداشت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے

۱۲،‏ ۱۳.‏ کن صورتوں میں یہ ماننا مشکل لگ سکتا ہے کہ خدا کو ہماری فکر ہے؟‏

۱۲ بعض اوقات کوئی مشکل صورتحال ایک لمبے عرصے تک چلتی رہتی ہے۔‏ شاید ہم کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو جائیں،‏ ہمیں اذیت پہنچائی جائے یا پھر ہمارے گھر والے ہماری مخالفت کرتے رہیں۔‏ کبھی‌کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کلیسیا میں کسی بھائی یا بہن کے ساتھ ہماری نہیں بنتی۔‏

۱۳ مثال کے طور پر شاید کسی بھائی نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے آپ کو ٹھیس پہنچی ہے۔‏ آپ شاید سوچیں:‏ ”‏یہوواہ کے بندوں کو تو ایسی دل دُکھانے والی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔‏“‏ لیکن شاید اُس بھائی کو کلیسیا میں ذمےداریاں مل رہی ہیں اور دوسرے بہن‌بھائی اُس کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔‏ آپ شاید سوچیں:‏ ”‏ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‏ کیا یہوواہ خدا اِس سارے معاملے کو دیکھ نہیں رہا؟‏ کیا وہ اِس سلسلے میں کچھ نہیں کرے گا؟‏“‏—‏زبور ۱۳:‏۱،‏ ۲؛‏ حبق ۱:‏۲،‏ ۳‏۔‏

۱۴.‏ ایک وجہ کیا ہے جس کی بِنا پر یہوواہ خدا بعض اوقات ہمارے مسئلوں کو حل نہیں کرتا؟‏

۱۴ اگر یہوواہ خدا کوئی قدم نہیں اُٹھاتا تو شاید اُس کے پاس اِس کی کوئی جائز وجہ ہو۔‏ مثال کے طور پر شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ ساری غلطی دوسرے بھائی کی ہے۔‏ لیکن ہو سکتا ہے کہ یہوواہ خدا کا نظریہ اِس سے فرق ہو۔‏ اُس کی نظر میں شاید آپ کی غلطی زیادہ ہے۔‏ جس بات کو سُن کر آپ کو ٹھیس پہنچی ہے،‏ شاید وہ بات آپ کی اِصلاح کے لیے ضرورت تھی اور آپ کو اُس پر دھیان دینا چاہیے تھا۔‏ اِس سلسلے میں بھائی کارل کلائن کی مثال پر غور کریں جو گورننگ باڈی کے رُکن تھے۔‏ جب وہ جوان تھے تو ایک مرتبہ بھائی رتھرفورڈ نے اُنہیں کسی معاملے کے بارے میں نصیحت کی۔‏ لیکن بھائی کلائن کو یہ بات بہت بُری لگی۔‏ بعد میں جب بھائی رتھرفورڈ نے مسکراتے ہوئے اُنہیں سلام کِیا تو بھائی کلائن نے اُنہیں سیدھے مُنہ جواب نہ دیا۔‏ بھائی رتھرفورڈ سمجھ گئے کہ بھائی کلائن اُن سے ناراض ہیں۔‏ اِس لیے اُنہوں نے بھائی کلائن کو خبردار کِیا کہ شیطان اُنہیں اپنے جال میں پھنسانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔‏ بعد میں بھائی کلائن نے لکھا:‏ ”‏جب ہم کسی بھائی کے خلاف اپنے دل میں ناراضگی رکھتے ہیں تو ہم شیطان کے پھندے میں پھنسنے کے خطرے میں ہوتے ہیں۔‏ خاص طور پر جب ہم کسی ذمےدار بھائی کی نصیحت کی وجہ سے اپنے دل میں رنجش کو پالتے ہیں تو ہم شیطان کو حملہ کرنے کا موقع دے رہے ہوتے ہیں۔‏“‏

۱۵.‏ مشکل صورتحال میں ہمیں کس بات کو یاد رکھنا چاہیے؟‏

۱۵ جب کوئی مشکل صورتحال ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تو شاید صبر کا دامن ہمارے ہاتھ سے چُھوٹنے لگے۔‏ ہم اِس صورتحال سے کیسے نپٹ سکتے ہیں؟‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ فرض کریں کہ آپ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور آپ ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں۔‏ آپ نہیں جانتے کہ راستہ کھلنے میں کتنی دیر لگے گی۔‏ اگر آپ تنگ آ کر دوسرے راستے سے اپنی منزل تک جانے کی کوشش کرتے ہیں تو شاید آپ بھٹک جائیں۔‏ اور آپ کو منزل تک پہنچنے میں اِتنی دیر لگ جائے جتنی شاید اصل راستے پر اِنتظار کرنے سے بھی نہ لگتی۔‏ اِسی طرح اگر آپ خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے تو آپ اپنی منزل پر ضرور پہنچیں گے۔‏

۱۶.‏ ایک اَور وجہ کیا ہے جس کی بِنا پر یہوواہ خدا بعض اوقات ہمارے مسئلوں کو فوراً حل نہیں کرتا؟‏

۱۶ یہوواہ خدا اِس لیے بھی فوراً ہمارے مسئلوں کو حل نہیں کرتا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ مشکل سے گزر کر ہماری خوبیوں میں نکھار پیدا  ہو۔‏ ‏(‏۱-‏پطرس ۵:‏۶-‏۱۰ کو پڑھیں۔‏)‏ ہمیں یہ کبھی نہیں سوچنا چاہیے کہ یہوواہ خدا ہم پر آزمائشیں لاتا ہے۔‏ (‏یعقو ۱:‏۱۳‏)‏ ہماری زیادہ‌تر تکلیفوں اور مصیبتوں کے پیچھے ہمارے ”‏مخالف اِبلیس“‏ کا ہاتھ ہوتا ہے۔‏ خدا جانتا ہے کہ مشکلات کے دوران ہمیں روحانی لحاظ سے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔‏ وہ ہمارے دُکھ‌تکلیف کو دیکھتا ہے اور چونکہ ’‏اُس کو ہماری فکر ہے‘‏ اِس لیے وہ دُکھ‌تکلیف کو صرف ”‏تھوڑی مُدت تک“‏ ہی چلنے دیتا ہے۔‏ جب آپ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو کیا آپ اِس بات کی قدر کرتے ہیں کہ یہوواہ کی آنکھیں آپ پر لگی ہیں؟‏ کیا آپ کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ آپ کو برداشت کرنے کی قوت بخشے گا؟‏—‏۲-‏کر ۴:‏۷-‏۹‏۔‏

خدا ہماری نیکیوں کا صلہ دیتا ہے

۱۷.‏ یہوواہ خدا کی آنکھیں کن کو ڈھونڈتی ہیں؟‏ اور کیوں؟‏

۱۷ یہوواہ خدا تمام لوگوں کے دلوں کو یہ دیکھنے کے لیے جانچتا ہے کہ کون اُس سے محبت کرتا ہے۔‏ حنانی نبی کے ذریعے یہوواہ نے بادشاہ آسا سے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی اِمداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تیئں قوی دِکھائے۔‏“‏ (‏۲-‏توا ۱۶:‏۹‏)‏ آسا کا دل تو ’‏یہوواہ خدا کی طرف کامل‘‏ نہیں تھا لیکن اگر آپ دل سے خدا کی خدمت کرتے ہیں تو وہ آپ کی خاطر اپنی طاقت ظاہر کرے گا۔‏

۱۸.‏ جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ آپ کے اچھے کاموں کی قدر نہیں کی جاتی تو آپ کو کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

۱۸ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم ”‏نیکی کے طالب“‏ ہوں،‏ ”‏نیکی سے محبت“‏ رکھیں اور ”‏نیکی کو عمل“‏ میں لائیں تاکہ وہ ہم پر ”‏رحم کرے“‏ یعنی اُس کا کرم ہم پر ہو۔‏ (‏عامو ۵:‏۱۴،‏ ۱۵؛‏ ۱-‏پطر ۳:‏۱۱،‏ ۱۲‏)‏ یہوواہ کی ”‏نگاہ صادقوں پر ہے“‏ اور وہ اُنہیں برکتوں سے نوازتا ہے۔‏ (‏زبور ۳۴:‏۱۵‏)‏ اِس سلسلے میں دو عبرانی دائیوں کی مثال پر غور کریں جن کا نام سفرہ اور فوعہ تھا۔‏ جب بنیاِسرائیل ملک مصر میں غلام تھے تو فرعون نے اِن دونوں کو حکم دیا کہ وہ عبرانی لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیں۔‏ لیکن اِن دائیوں نے فرعون سے زیادہ یہوواہ خدا کا خوف مانا۔‏ اُن کے ضمیر نے اُنہیں بچوں کو ہلاک کرنے کی اِجازت نہ دی۔‏ اِس کے بدلے میں یہوواہ خدا نے اُنہیں بھی اولاد کی نعمت سے نوازا۔‏ (‏خر ۱:‏۱۵-‏۱۷،‏ ۲۰،‏ ۲۱‏)‏ یہوواہ خدا کی آنکھیں اُن کی نیکی پر لگی تھیں۔‏ کبھی‌کبھار ہم بھی سوچتے ہیں کہ کوئی ہمارے اچھے کاموں کی قدر نہیں کرتا۔‏ لیکن یہوواہ خدا کرتا ہے۔‏ وہ ہمارے اچھے کاموں کو دیکھتا ہے اور وہ ہمیں اِن کا صلہ دے گا۔‏—‏متی ۶:‏۴،‏ ۶؛‏ ۱-‏تیم ۵:‏۲۵؛‏ عبر ۶:‏۱۰‏۔‏

۱۹.‏ ایک بہن کی مثال سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا اپنے بندوں کو اُن کی کوششوں کا صلہ دیتا ہے؟‏

۱۹ ملک آسٹریا میں رہنے والی ایک بہن نے بھی محسوس کِیا کہ یہوواہ خدا اُس کی محنت کو دیکھتا ہے اور اُس کی قدر کرتا ہے۔‏ اُس بہن کا تعلق ملک ہنگری سے تھا اِس لیے اُسے ایک عورت کا پتہ دیا گیا جو اِس ملک کی زبان بولتی تھی۔‏ وہ بہن اُس پتے پر پہنچی مگر گھر پر کوئی نہیں تھا۔‏ وہ وہاں کئی بار گئی پر اُسے کوئی نہ ملا۔‏ کبھی‌کبھار اُسے لگا کہ جیسے گھر میں تو کوئی ہے مگر دروازہ نہیں کھولتا۔‏ وہ کچھ کتابیں اور رسالے،‏ خط اور اپنا فون‌نمبر وغیرہ چھوڑتی رہی۔‏ تقریباً ڈیڑھ سال کی کوشش کے بعد آخرکار دروازہ کُھلا اور ایک عورت اُس سے ملی۔‏ اُس عورت نے بہن سے کہا:‏ ”‏اندر آ جائیں۔‏ مَیں نے وہ تمام کتابیں اور رسالے پڑھے ہیں جو آپ چھوڑ کر جاتی تھیں۔‏ اور مَیں آپ سے ملنے کی مشتاق تھی۔‏“‏ دراصل اُس عورت کا کینسر کا علاج چل رہا تھا اور اُس کے لیے لوگوں سے ملنا مشکل تھا۔‏ بہرحال اِس عورت کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع ہو گیا۔‏ واقعی یہوواہ خدا نے ہماری بہن کو اُس کی کوششوں کا صلہ دیا۔‏

۲۰.‏ آپ اِس بات کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں کہ یہوواہ خدا کی آنکھیں آپ پر لگی ہیں؟‏

۲۰ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ یہوواہ خدا ہمارے کاموں کو دیکھتا ہے اور دلوں کو پرکھتا ہے۔‏ ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ وہ سڑک پر لگے کیمروں کی طرح ہماری غلطیاں پکڑنے کے لیے ہم پر نگاہ نہیں رکھتا۔‏ اِس کی بجائے وہ ہم سے بڑی محبت کرتا ہے اور اُسے ہماری فکر ہے۔‏ وہ ہماری مدد کرنا چاہتا ہے اور ہماری نیکیوں کا صلہ دیتا ہے۔‏ یقیناً اِس سے ہمیں اپنے شفیق آسمانی با پ کی قربت میں رہنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏