مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

نوجوانی میں اچھے فیصلے کریں

نوجوانی میں اچھے فیصلے کریں

‏’‏اَے نوجوانو اور کنواریو!‏ یہوواہ کے نام کی حمد کرو۔‏‘‏ —‏زبور ۱۴۸:‏۱۲،‏ ۱۳‏۔‏

۱.‏ آجکل بہت سے مسیحی نوجوان مُنادی کے کام سے زیادہ خوشی کیسے حاصل کر رہے ہیں؟‏

ہمارا زمانہ یہوواہ خدا کی عبادت کے حوالے سے بہت ہی خاص ہے۔‏ آجکل تمام قوموں سے لاکھوں لوگ یہوواہ خدا کی عبادت کرنے آ رہے ہیں۔‏ (‏مکا ۷:‏۹،‏ ۱۰‏)‏ بہت سے نوجوان دوسروں کو بائبل کا زندگیبخش پیغام دینے سے خوشی حاصل کر رہے ہیں۔‏ (‏مکا ۲۲:‏۱۷‏)‏ بعض نوجوان دوسروں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن لوگوں کی زندگی زیادہ خوش‌گوار ہو گئی ہے۔‏ کچھ نوجوان دوسری زبان سیکھ رہے ہیں تاکہ وہ اُن علاقوں میں جا کر خوش‌خبری سنا سکیں جہاں وہ زبان بولی جاتی ہے۔‏ (‏زبور ۱۱۰:‏۳؛‏ یسع ۵۲:‏۷‏)‏ اگر آپ نوجوان ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ بھی اِس کام سے زیادہ اِطمینان حاصل کر سکیں؟‏

۲.‏ تیمُتھیُس کی مثال سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا نوجوانوں کو اہم ذمےداریاں سونپتا ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

۲ آپ اپنی نوجوانی میں ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جن سے آگے چل کر آپ کو یہوواہ خدا کی خدمت کے سلسلے میں مختلف کام کرنے کے موقعے ملیں گے۔‏ مثال کے طور پر تیمُتھیُس نے بھی نوجوانی میں اچھے فیصلے کئے۔‏ اِن کے نتیجے میں اُنہیں تقریباً ۲۰ سال کی عمر میں دوسرے علاقوں میں جا کر خدمت کرنے کا اعزاز ملا۔‏ (‏اعما ۱۶:‏۱-‏۳‏)‏ اِس کے چند مہینے بعد اُنہیں ایک اہم ذمےداری سونپی گئی۔‏ شہر تھسلُنیکے کی کلیسیا حال ہی میں بنی تھی۔‏ لیکن اچانک وہاں کے بہن‌بھائیوں پر سخت اذیت آن پڑی جس کی وجہ سے پولُس رسول کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔‏ لیکن اُنہیں تیمُتھیُس پر اِتنا بھروسا تھا کہ اُنہوں نے اِس جوان کو بہن‌بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے کے  لئے بھیجا۔‏ (‏اعما ۱۷:‏۵-‏۱۵؛‏ ۱-‏تھس ۳:‏۱،‏ ۲،‏ ۶‏)‏ ذرا سوچیں کہ تیمُتھیُس کو یہ ذمےداری پا کر کیسا محسوس ہوا ہوگا؟‏

آپ کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ

۳.‏ آپ کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کیا ہے؟‏ اور یہ کب کِیا جانا چاہئے؟‏

۳ نوجوانی میں ہمیں کئی اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔‏ لیکن اِن میں سے سب سے اہم فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں یہوواہ خدا کی خدمت کو کیا مقام دیں گے۔‏ یہ فیصلہ کرنے کا بہترین وقت واقعی نوجوانی ہوتا ہے۔‏ خدا نے فرمایا ہے:‏ ”‏اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر۔‏“‏ (‏واعظ ۱۲:‏۱‏)‏ خدا کو ’‏یاد کرنے‘‏ کا مطلب یہ ہے کہ ہم دل‌وجان سے اُس کی خدمت کریں۔‏ (‏است ۱۰:‏۱۲‏)‏ پوری لگن سے خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ آ پ کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے جس کا آپ کے مستقبل پر گہرا اثر ہوگا۔‏—‏زبور ۷۱:‏۵‏۔‏

۴.‏ کونسے اہم فیصلے اِس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ آپ خدا کی خدمت میں کیا کچھ کریں گے؟‏

۴ بِلاشُبہ اِس فیصلے کے علاوہ اَور بھی کئی فیصلے ہیں جن کا آپ کی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔‏ مثال کے طور پر آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ روزی کیسے کمائیں گے،‏ آپ شادی کریں گے یا نہیں اور اگر کریں گے تو کس سے کریں گے۔‏ یہ فیصلے بھی بہت اہم ہیں لیکن ایسے فیصلے کرنے سے پہلے آپ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آپ خدا کی خدمت میں کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‏ (‏است ۳۰:‏۱۹،‏ ۲۰‏)‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن فیصلوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔‏ آپ شادی اور ملازمت کے معاملے میں جو فیصلہ کریں گے،‏ اُس کا اِس بات پر اثر ہوگا کہ آپ خدا کی خدمت میں کیا کچھ کریں گے۔‏ (‏لوقا ۱۴:‏۱۶-‏۲۰ پر غور کریں۔‏)‏ اِسی طرح اگر آپ خدا کی خدمت کو زندگی میں پہلا درجہ دیں گے تو اِس کا اثر شادی اور ملازمت کے فیصلے پر ہوگا۔‏ لہٰذا زندگی کے سب سے اہم معاملے کے بارے میں فیصلہ سب سے پہلے کریں۔‏

نوجوانی میں اچھے فیصلے کریں

۵،‏ ۶.‏ مثال دے کر بتائیں کہ نوجوانی میں صحیح فیصلے کرنے سے آئندہ کتنی خوشیاں ملتی ہیں۔‏ (‏اِس شمارے میں مضمون ”‏بچپن میں میرا اہم فیصلہ“‏ کو بھی دیکھیں۔‏)‏

۵ جب آپ خدا کی خدمت کرنے کا اِنتخاب کر لیتے ہیں تو پھر اِس بات پر سوچ‌بچار کریں کہ وہ آپ سے کیا کام لینا چاہتا ہے اور پھر یہ فیصلہ کریں کہ آپ اُس کی خدمت کیسے کریں گے۔‏ اِس سلسلے میں بھائی یوچیرو کی مثال پر غور کریں جن کا تعلق جاپان سے ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏جب میری عمر ۱۴ سال تھی تو ایک بار مَیں اپنی کلیسیا کے ایک بزرگ کے ساتھ مُنادی کے کام میں گیا۔‏ اُنہوں نے دیکھا کہ مَیں مُنادی کے کام میں بور ہو رہا ہوں۔‏ اُنہوں نے بڑے پیار سے مجھ سے کہا:‏ ”‏یوچیرو،‏ آپ گھر جاؤ اور آرام سے بیٹھ کر سوچو کہ یہوواہ خدا نے آپ کے لئے کیا کچھ کِیا ہے۔‏“‏ مَیں نے اُن کی بات مانی اور گھر آ کر اِس بات پر سوچ‌بچار کِیا۔‏ اگلے چند دن تک مَیں اِسی بارے میں سوچتا رہا اور دُعا بھی کی۔‏ آہستہ‌آہستہ مُنادی کے کام کے بارے میں میری سوچ بدل گئی۔‏ مجھے اِس کام میں بہت مزہ آنے لگا۔‏ مَیں نے اُن بہن‌بھائیوں کی آپ‌بیتیاں پڑھنا شروع کیں جو دوسرے ملکوں میں جا کر خدمت کر رہے تھے۔‏ یوں مجھے دل‌وجان سے خدا کی خدمت کرنے کی ترغیب ملی۔‏

۶ مَیں نے ایسے فیصلے کئے جن کی وجہ سے مَیں بعد میں دوسرے ملک میں جا کر خدا کی خدمت کرنے کے قابل ہوا۔‏ مثال کے طور پر مَیں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کی۔‏ سکول سے فارغ ہو کر مَیں ہر ہفتے چند گھنٹوں کے لئے انگریزی زبان پڑھانے لگا تاکہ مَیں پہلکار بن سکوں۔‏ جب مَیں ۲۰ سال کا ہوا تو مَیں نے منگولی زبان سیکھنا شروع کی اور مَیں منگولی زبان بولنے والے مبشروں سے ملنے لگا۔‏ دو سال بعد یعنی ۲۰۰۷ء میں مَیں منگولیا گیا۔‏ جب مَیں وہاں کچھ پہلکاروں کے ساتھ مُنادی کے کام میں گیا اور دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ سچائی کے پیاسے ہیں تو میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مَیں منگولیا منتقل ہو جاؤں۔‏ مَیں جاپان واپس لوٹ آیا تاکہ مَیں منگولیا جانے کے لئے کچھ تیاریاں کر سکوں۔‏ مَیں اپریل ۲۰۰۸ء سے منگولیا میں پہلکار کے طور پر خدمت کر رہا ہوں۔‏ یہاں زندگی اِتنی آسان نہیں ہے۔‏ لیکن لوگ بادشاہت کے پیغام کو بڑی خوشی سے سنتے ہیں اور مَیں یہوواہ خدا کے قریب آنے میں اُن کی مدد کر رہا ہوں۔‏ منگولیا جانے کا فیصلہ میری زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔‏“‏

۷.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں کونسے فیصلے خود کرنے ہوتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم موسیٰ کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

۷ ہم سب کو یہ فیصلہ خود کرنا ہے کہ یہوواہ کے گواہ کے طور پر ہم اپنی زندگی کیسے گزاریں گے۔‏ (‏یشو ۲۴:‏۱۵‏)‏ خدا کی تنظیم آپ کو یہ نہیں  بتاتی کہ آپ کو شادی کرنی چاہئے یا نہیں؛‏ آپ کو کس سے شادی کرنی چاہئے یا آپ کو کون‌سی ملازمت کرنی چاہئے۔‏ کیا آپ کوئی ایسی ملازمت کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس کے لئے زیادہ تعلیم‌وتربیت کی ضرورت نہیں؟‏ بعض مسیحی نوجوان غریب دیہاتوں میں رہتے ہیں جبکہ بعض امیر شہروں میں۔‏ اِس کے علاوہ ہمارے تمام مسیحی نوجوانوں کی شخصیت،‏ صلاحیت،‏ تجربہ اور مشغلے ایک دوسرے سے فرق ہیں۔‏ خدا کی خدمت کے سلسلے میں اُن کے منصوبے بھی ایک دوسرے سے فرق ہیں۔‏ جس طرح مصر میں موسیٰ کی زندگی دوسرے عبرانی لڑکوں سے بہت فرق تھی اُسی طرح بعض لحاظ سے آپ کی زندگی دیگر مسیحی نوجوانوں سے فرق ہے۔‏ موسیٰ شاہی محل میں رہتے تھے جبکہ دوسرے عبرانی نوجوان غلام تھے۔‏ (‏خر ۱:‏۱۳،‏ ۱۴؛‏ اعما ۷:‏۲۱،‏ ۲۲‏)‏ جیسے آپ ایک خاص دَور میں رہ رہے ہیں ویسے وہ بھی ایک خاص دَور میں رہ رہے تھے کیونکہ جلد ہی وہ ایک ”‏مُقدس قوم“‏ بننے والے تھے۔‏ (‏خر ۱۹:‏۴-‏۶‏)‏ ہر نوجوان کو خود فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کرے گا۔‏ موسیٰ نے صحیح فیصلہ کِیا۔‏‏—‏عبرانیوں ۱۱:‏۲۴-‏۲۷ کو پڑھیں۔‏

۸.‏ اچھے فیصلے کرنے کے سلسلے میں آپ کے لئے کون‌سی مدد موجود ہے؟‏

۸ یہوواہ خدا آپ کی مدد کرتا ہے تاکہ آپ نوجوانی میں اچھے فیصلے کر سکیں۔‏ اُس نے آپ کو کچھ اصول فراہم کئے ہیں۔‏ آپ کے حالات چاہے جیسے بھی ہوں،‏ یہ اصول آپ کے کام آئیں گے۔‏ (‏زبور ۳۲:‏۸‏)‏ آپ کے والدین اور کلیسیا کے بزرگ اِن اصولوں پر عمل کرنے کے سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔‏ (‏امثا ۱:‏۸،‏ ۹‏)‏ آئیں،‏ تین ایسے اصولوں پر غور کریں جو صحیح فیصلے کرنے میں آپ کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔‏

آپ کی رہنمائی کے لئے تین اصول

۹.‏ ‏(‏الف)‏ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی خدا کی طرف سے ایک اعزاز کیوں ہے؟‏ (‏ب)‏ ’‏پہلے خدا کی بادشاہت کی تلاش کرنے‘‏ سے آپ کو کیا ظاہر کرنے کے موقعے ملیں گے؟‏

۹ پہلے خدا کی بادشاہت اور اُس کی راست‌بازی کی تلاش کریں۔‏ (‏متی ۶:‏۱۹-‏۲۱،‏ ۲۴-‏۲۶،‏ ۳۱-‏۳۴ کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ خدا نے ہمیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا اعزاز بخشا ہے۔‏ وہ نوجوانوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اُنہیں مُنادی کے کام میں کتنا وقت صرف کرنا چاہئے۔‏ لیکن خدا کی خدمت کے حوالے سے یسوع مسیح نے ہمیں ایک اہم اصول دیا ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ ہمیں بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا مقام دینا چاہئے۔‏ ایسا کرنے سے آپ کو یہوواہ خدا اور اپنے پڑوسی کے لئے محبت ظاہر کرنے کے موقعے ملیں گے۔‏ اِس کے علاوہ آپ یہ ظاہر کر پائیں گے کہ آپ ہمیشہ کی زندگی کی نعمت کے لئے دل سے شکرگزار ہیں۔‏ جب آپ شادی اور ملازمت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا اِس فیصلے سے مَیں فکروں تلے دب جاؤں گا یا کیا اِس سے یہ ظاہر ہوگا کہ میری زندگی میں خدا کی بادشاہت اور اُس کی راست‌بازی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے؟‏“‏

۱۰.‏ یسوع مسیح کو کیا کرنے سے خوشی ملی تھی؟‏ اور آپ کو خوشی کیسے ملے گی؟‏

۱۰ دوسروں کی خدمت کرنے سے خوشی پائیں۔‏ (‏اعمال ۲۰:‏۲۰،‏ ۲۱،‏ ۲۴،‏ ۳۵ * کو پڑھیں۔‏)‏ یہ اہم اصول یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا۔‏ وہ خود بھی اِس پر عمل کرتے تھے۔‏ اُنہیں اپنے باپ کی خدمت کرنے سے بہت خوشی ملی۔‏ اُنہوں نے دوسروں کو بادشاہت کا پیغام سنانے میں بہت محنت کی اور جب لوگ اُن کے پیغام کو قبول کرتے تھے تو اُنہیں بہت خوشی ہوتی تھی۔‏ (‏لو ۱۰:‏۲۱؛‏ یوح ۴:‏۳۴‏)‏ یقیناً آپ کو بھی دوسروں کے کام آنے سے خوشی ملی ہوگی۔‏ اگر آپ یسوع مسیح کے دئے ہوئے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں تو نہ صرف آپ خود خوش رہیں گے بلکہ یہوواہ خدا کا دل بھی شاد ہوگا۔‏—‏امثا ۲۷:‏۱۱‏۔‏

۱۱.‏ ‏(‏الف)‏ باروک کو خدا کی خدمت کرنے سے خوشی کیوں نہیں مل رہی تھی؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے اُنہیں کیا نصیحت کی؟‏

۱۱ سب سے زیادہ خوشی تو یہوواہ خدا کی خدمت کرنے سے ملتی ہے۔‏ یرمیاہ نبی کے مُنشی باروک اِس حقیقت کو بھلا بیٹھے تھے۔‏ ایک وقت تو ایسا آیا کہ خدا کی خدمت کرنے سے اُنہیں کوئی خوشی نہیں مل رہی تھی۔‏ یہوواہ خدا نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا تُو اپنے لئے اُمورِعظیم کی تلاش میں ہے؟‏ اُن کی تلاش چھوڑ دے .‏ .‏ .‏ دیکھ مَیں تمام بشر پر بلا نازل کروں گا لیکن جہاں کہیں تُو جائے تیری جان تیرے لئے غنیمت ٹھہراؤں گا۔‏“‏ (‏یرم ۴۵:‏۳،‏ ۵‏)‏ آپ کے خیال میں باروک کو کس چیز سے خوشی ملی ہوگی،‏ دُنیا میں کامیابی حاصل کرکے یا پھر یروشلیم کی تباہی سے بچ کے؟‏—‏یعقو ۱:‏۱۲‏۔‏

۱۲.‏ رامیرو کو کون‌سا فیصلہ کرنے سے خوشی ملی؟‏

 ۱۲ ملک بولیویا میں رہنے والے بھائی رامیرو کی مثال پر غور کریں۔‏ اُنہیں بھی دوسروں کی خدمت کرنے سے بہت خوشی ملتی ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏ہم ایک پہاڑی گاؤں میں رہتے تھے۔‏ ہم بہت غریب تھے اِس لئے جب میرے بڑے بھائی نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں میری تعلیم کا خرچہ اُٹھائے گا تو یہ میرے لئے ایک سنہری موقع تھا۔‏ لیکن اِس سے کچھ ماہ پہلے مَیں نے بپتسمہ لیا تھا اور مجھے ایک پہلکار بھائی نے دعوت دی تھی کہ مَیں اُس کے ساتھ ایک چھوٹے قصبے میں مُنادی کے لئے چلوں۔‏ مَیں نے اُس بھائی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کِیا۔‏ مَیں نے بال کاٹنے کا کام سیکھا اور دُکان کھول لی تاکہ میرا گزربسر ہو سکے۔‏ وہاں بہت سے لوگوں نے بائبل سے تعلیم پانے کا شوق ظاہر کِیا۔‏ اِس کے بعد مَیں ایک نئی کلیسیا کے ساتھ خدمت کرنے لگا جس میں ایک مقامی زبان بولی جاتی تھی۔‏ اب مجھے کُلوقتی خدمت کرتے ہوئے دس سال ہو گئے ہیں۔‏ مجھے لوگوں کو اُن کی مادری زبان میں بائبل کی تعلیم دینے سے جتنی خوشی ملی ہے اُتنی شاید کوئی اَور پیشہ اِختیار کرنے سے نہ ملتی۔‏“‏

رامیرو نوجوانی سے ہی خدا کی خدمت کرنے سے بڑی خوشی حاصل کر رہے ہیں۔‏ (‏پیراگراف ۱۲ کو دیکھیں۔‏)‏

۱۳.‏ خدا کی خدمت کرنے کا سب سے اچھا وقت نوجوانی کیوں ہے؟‏

۱۳ نوجوانی میں یہوواہ خدا کی خدمت کرنے سے خوشی حاصل کریں۔‏ (‏واعظ ۱۲:‏۱ کو پڑھیں۔‏)‏ آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ”‏پہلے مَیں کچھ عرصے کے لئے اچھی نوکری کروں گا اور بعد میں پہلکار بنوں گا۔‏“‏ دل‌وجان سے خدا کی خدمت کرنے کا سب سے اچھا وقت نوجوانی ہی ہے۔‏ عام طور پر نوجوانوں کے کندھوں پر زیادہ ذمےداریاں نہیں ہوتیں اور وہ تندرست بھی ہوتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ اُن میں مشکل کام کرنے کے لئے طاقت اور توانائی بھی ہوتی ہے۔‏ آپ اپنی نوجوانی میں یہوواہ خدا کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟‏ شاید آپ پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔‏ یا شاید آپ کسی ایسے علاقے میں خدمت کرنا چاہتے ہیں جہاں کوئی فرق زبان بولی جاتی ہے۔‏ یا شاید آپ اپنی کلیسیا میں اَور زیادہ لگن سے خدمت کرنا چاہتے ہیں۔‏ آپ کا اِرادہ چاہے جو بھی ہو،‏ آپ کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی کام تو کرنا ہی ہوگا۔‏ لہٰذا خود سے پوچھیں:‏ ”‏مَیں کون‌سا کام کروں گا اور اِس کے لئے مجھے کتنی تعلیم‌وتربیت کی ضرورت ہوگی؟‏“‏

 بائبل کے اصولوں کی بِنا پر اچھے فیصلے کریں

۱۴.‏ مستقبل کے لئے منصوبے بناتے وقت آپ کو کیا احتیاط برتنی چاہئے؟‏

۱۴ جن تین اصولوں پر ابھی ہم نے بات کی ہے،‏ وہ ملازمت کا اِنتخاب کرنے کے سلسلے میں آپ کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔‏ شاید آپ کے ٹیچر جانتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں کس طرح کی نوکریاں دستیاب ہیں۔‏ یا پھر کچھ حکومتی اِدارے آپ کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں یا دوسرے علاقوں میں کس طرح کے پیشوں کی زیادہ مانگ ہے۔‏ ٹیچرز اور اِداروں سے معلومات لینے سے کچھ فائدہ تو ہوتا ہے مگر آپ کو احتیاط بھی برتنی چاہئے۔‏ جو لوگ خدا سے محبت نہیں کرتے،‏ وہ آپ کے دل میں دُنیا کی محبت جگانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‏ (‏۱-‏یوح ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ یہ مت بھولیں کہ دُنیا کی چمک دمک دیکھ کر آپ کا دل دھوکا کھا سکتا ہے۔‏‏—‏امثال ۱۴:‏۱۵ کو پڑھیں؛‏ یرم ۱۷:‏۹‏۔‏

۱۵،‏ ۱۶.‏ ملازمت کا اِنتخاب کرنے کے سلسلے میں کون آپ کو اچھی صلاح دے سکتا ہے؟‏

۱۵ جب آپ یہ جان جانتے ہیں کہ کس طرح کی نوکریاں دستیاب ہیں تو پھر اِنتخاب کرنے کے لئے آپ کو اچھی صلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ (‏امثا ۱:‏۵‏)‏ کون آپ کو بائبل کے اصولوں پر مبنی صلاح دے سکتا ہے؟‏ اُن لوگوں سے مشورہ لیں جو یہوواہ خدا سے اور آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کو اور آپ کے حالات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔‏ وہ یہ جائزہ لینے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں کہ آپ میں کس طرح کی صلاحتیں ہیں اور آپ کس مقصد سے نوکری کرنا چاہتے ہیں۔‏ اُن کی باتوں سے شاید آپ کو اپنے منصوبے بدلنے کی ترغیب ملے۔‏ اگر آپ کے والدین خدا سے محبت کرتے ہیں تو وہ صحیح فیصلہ کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔‏ کلیسیا کے بزرگ بھی آپ کی رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‏ آپ پہلکاروں سے اور سفری نگہبانوں سے بھی بات کر سکتے ہیں۔‏ آپ اُن سے پوچھ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے کُلوقتی خدمت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا تھا؟‏ اُنہوں نے پہلکاروں کے طور پر خدمت کیسے شروع کی اور گزربسر کرنے کے لئے کس طرح کی نوکری کی؟‏ اُنہیں خدا کی خدمت کرنے سے کیا فائدہ ہوا ہے؟‏—‏امثا ۱۵:‏۲۲‏۔‏

۱۶ جو لوگ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں،‏ وہ آپ کو اچھے مشورے دے سکتے ہیں۔‏ فرض کریں کہ آپ اپنا سکول چھوڑ کر صرف اِس لئے پہلکار بننا چاہتے ہیں کیونکہ آپ سکول کے کام سے جی چراتے ہیں۔‏ جو شخص آپ سے محبت کرتا ہے،‏ وہ شاید آپ کے اِس مقصد کو بھانپ لے۔‏ وہ آپ کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ اگر آپ سکول میں محنت کرتے رہیں گے تو آپ خدا کی خدمت میں محنت کرنے سے بھی نہیں گھبرائیں گے۔‏—‏زبور ۱۴۱:‏۵؛‏ امثا ۶:‏۶-‏۱۰‏۔‏

۱۷.‏ ہمیں کس طرح کے فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہئے؟‏

۱۷ خدا کے بندوں کو کبھی نہ کبھی ایسے حالات کا سامنا ہوتا ہے جو اُنہیں خدا سے دُور کر سکتے ہیں۔‏ (‏۱-‏کر ۱۵:‏۳۳؛‏ کل ۲:‏۸‏)‏ لیکن جب ملازمت کی بات آتی ہے تو بعض نوکریاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں اِختیار کرنے سے یہ خطرہ اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔‏ شاید آپ کسی ایسے بھائی یا بہن کو جانتے ہوں جس کے ”‏ایمان کا جہاز غرق ہو گیا“‏ کیونکہ اُس نے نوکری کے سلسلے میں غلط فیصلہ کِیا تھا۔‏ (‏۱-‏تیم ۱:‏۱۹‏)‏ ایسے فیصلوں سے گریز کرنا عقل‌مندی کی بات ہوگی جن کی وجہ سے آپ یہوواہ خدا کی قربت سے محروم ہو سکتے ہیں۔‏—‏امثا ۲۲:‏۳‏۔‏

نوجوانی میں خدا کی خدمت کرنے کا موقع نہ گنوائیں

۱۸،‏ ۱۹.‏ اگر آپ دل‌وجان سے یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ اُن موقعوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو آپ کو نوجوانی میں خدا کی خدمت کرنے سے ملتے ہیں۔‏ ایسے فیصلے کریں جن سے آپ اِس آخری زمانے میں بھرپور طریقے سے خدا کی خدمت کر سکیں۔‏ اِس سے آپ کو نہایت خوشی ملے گی۔‏—‏زبور ۱۴۸:‏۱۲،‏ ۱۳‏۔‏

۱۹ لیکن اگر آپ دل‌وجان سے یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ یہوواہ خدا پر اپنا ایمان مضبوط کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔‏ پولُس رسول نے ایک بار فِلپّی کے مسیحیوں کو بتایا کہ اُنہوں نے خدا کی مرضی پر چلنے کے لئے کتنی کوشش کی ہے۔‏ پھر اُنہوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر کسی بات میں تمہارا اَور طرح کا خیال ہو [‏یعنی تمہاری سوچ فرق ہو]‏ تو خدا اُس بات کو [‏یعنی صحیح سوچ کو]‏ بھی تُم پر ظاہر کر دے گا۔‏ بہرحال جہاں تک ہم پہنچے ہیں اُسی کے مطابق چلیں۔‏“‏ (‏فل ۳:‏۱۵،‏ ۱۶‏)‏ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا آپ سے محبت کرتا ہے اور اُس کی صلاح پر چلنا ہمیشہ فائدہ‌مند ثابت ہوتا ہے۔‏ نوجوانی میں اچھے فیصلے کرنے کے سلسلے میں یہوواہ خدا سے زیادہ بہتر رہنمائی کوئی نہیں کر سکتا۔‏

^ پیراگراف 10 اعمال ۲۰:‏۳۵ میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏مبارک“‏ کِیا گیا ہے،‏ وہ دراصل ”‏خوشی“‏ کے معنی رکھتا ہے۔‏