مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا کی خدمت کریں ”‏جبکہ بُرے دن ہنوز نہیں آئے“‏

خدا کی خدمت کریں ”‏جبکہ بُرے دن ہنوز نہیں آئے“‏

‏”‏اپنے خالق کو یاد کر۔‏“‏—‏واعظ ۱۲:‏۱‏۔‏

۱،‏ ۲.‏ ‏(‏الف)‏ سلیمان نے خدا کے اِلہام سے نوجوانوں کو کیا نصیحت کی تھی؟‏ (‏ب)‏ اُن مسیحیوں کو بھی سلیمان کی نصیحت پر کیوں غور کرنا چاہئے جن کی عمریں ۵۰ سال یا اِس سے کچھ زیادہ ہیں؟‏

بادشاہ سلیمان نے خدا کے اِلہام سے نوجوانوں کو نصیحت کی:‏ ”‏اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد [‏کرو]‏ جبکہ بُرے دن ہنوز نہیں آئے۔‏“‏ ’‏بُرے دنوں‘‏ سے کیا مراد ہے؟‏ سلیمان کا اِشارہ دراصل بڑھاپے کے دنوں کی طرف تھا۔‏ اُنہوں نے بڑے شاعرانہ انداز میں بتایا کہ بڑھاپے میں اِنسان پر کیا گزرتی ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ اِنسان کی ٹانگیں اور ہاتھ کپکپانے لگتے ہیں؛‏ دانت گِر جاتے ہیں؛‏ بینائی اور سماعت کمزور ہو جاتی ہے؛‏ بالوں میں چاندی اُتر آتی ہے اور کمر جھک جاتی ہے۔‏ لہٰذا جب تک ہم میں طاقت اور توانائی ہے،‏ ہمیں دل‌وجان سے خدا کی خدمت کرتے رہنا چاہئے،‏ اِس سے پہلے کہ بڑھاپا ہمیں آ دبوچے۔‏‏—‏واعظ ۱۲:‏۱-‏۵ کو پڑھیں۔‏

۲ بہت سے مسیحی بہن‌بھائی جن کی عمریں ۵۰ سال یا اِس سے کچھ زیادہ ہیں،‏ اُن میں ابھی بھی طاقت اور توانائی ہے۔‏ شاید اُن کے بال تھوڑے تھوڑے سفید ہو چکے ہیں لیکن غالباً بڑھاپے کے دیگر اثرات ابھی اُن پر حاوی نہیں ہوئے۔‏ کیا ایسے بہن‌بھائی بھی ’‏اپنے خالق کو یاد کرنے‘‏ کے حوالے سے سلیمان کی نصیحت سے  کچھ سیکھ سکتے ہیں؟‏ اِس سوال کا جواب حاصل کرنے سے پہلے آئیں،‏ یہ دیکھیں کہ اِس نصیحت کا مطلب کیا ہے۔‏

۳.‏ اپنے خالق کو یاد کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۳ شاید ہم کئی سالوں سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔‏ پھر بھی یہ اچھا ہوگا کہ ہم وقتاًفوقتاً اِس بات پر غور کریں کہ ہمارا خالق کتنی عظیم ہستی ہے۔‏ اُس کی خلقت نہایت شان‌دار ہے۔‏ اُس کی بنائی ہوئی چیزیں اِتنی حیرت‌انگیز ہیں کہ اِنسان اِنہیں پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔‏ اُس نے ہمیں بےشمار نعمتیں دی ہیں جن سے ہماری زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔‏ جب ہم اُس کی خلقت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اُس کی محبت،‏ حکمت اور طاقت کے لئے قدر اَور بھی بڑھ جاتی ہے۔‏ (‏زبور ۱۴۳:‏۵‏)‏ لیکن اپنے خالق کو یاد کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اُن ذمےداریوں پر غور کریں جو اُس نے ہمیں سونپی ہیں۔‏ جب ہم خدا کی خلقت اور اُس کے حکموں پر سوچ‌بچار کرتے ہیں تو ہمیں یہ ترغیب ملتی ہے کہ ہم‌عمر بھر دل‌وجان سے اُس کی خدمت کرتے رہیں۔‏ یوں ہم اُس کے لئے دل سے شکرگزاری ظاہر کرتے ہیں۔‏—‏واعظ ۱۲:‏۱۳‏۔‏

آپ کا تجربہ دوسروں کے لئے فائدہ‌مند ثابت ہو سکتا ہے

۴.‏ خدا کی خدمت میں کافی سالوں کا تجربہ رکھنے والے بہن‌بھائیوں کو خود سے کون‌سا سوال پوچھنا چاہئے؟‏ اور کیوں؟‏

۴ اگر آپ کی عمر ۵۰ سال سے زیادہ ہو گئی ہے اور آپ خدا کی خدمت میں کافی سالوں کا تجربہ رکھتے ہیں تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏جب تک مجھ میں طاقت اور توانائی ہے،‏ مَیں اپنی زندگی کو کیسے اِستعمال کروں گا؟‏“‏ ایک تجربہکار مسیحی کے طور پر آپ مختلف طریقوں سے دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔‏ آپ بچوں اور جوانوں کو وہ باتیں سکھا سکتے ہیں جو آپ نے یہوواہ خدا سے سیکھی ہیں۔‏ آپ دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کرنے کے لئے اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ خدا کی خدمت میں آپ کو کیاکیا تجربے حاصل ہوئے ہیں۔‏ بادشاہ داؤد بھی چاہتے تھے کہ اُنہیں دوسروں کو یہوواہ خدا کے بارے میں بتانے کے موقعے ملیں۔‏ اِس لئے اُنہوں نے دُعا کی:‏ ”‏اَے خدا!‏ تُو مجھے بچپن سے سکھاتا آیا ہے۔‏ .‏ .‏ .‏ اَے خدا!‏ جب مَیں بڈھا اور سرسفید ہو جاؤں تو مجھے ترک نہ کرنا جب تک کہ مَیں تیری قدرت آیندہ پُشت پر اور تیرا زور ہر آنے والے پر ظاہر نہ کر دوں۔‏“‏—‏زبور ۷۱:‏۱۷،‏ ۱۸‏۔‏

۵.‏ تجربہکار مسیحی کیا کر سکتے ہیں تاکہ بہن‌بھائیوں کو اُن کی حکمت سے فائدہ ہو؟‏

۵ آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ بہن‌بھائیوں کو اُس حکمت سے فائدہ ہو جو آپ نے سالوں کے دوران حاصل کی ہے؟‏ کیا آپ نوجوان بہن‌بھائیوں کو اپنے گھر بلا سکتے ہیں تاکہ آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے اُن کی حوصلہ‌افزائی ہو؟‏ کیا آپ اُنہیں اپنے ساتھ مُنادی میں چلنے کو کہہ سکتے ہیں تاکہ وہ دیکھیں کہ یہوواہ خدا کی خدمت کرنے سے آپ کو کتنی خوشی ملتی ہے؟‏ خدا کے بندے الیہو نے کہا:‏ ”‏سال‌خوردہ لوگ بولیں اور عمررسیدہ حکمت سکھائیں۔‏“‏ (‏ایو ۳۲:‏۷‏)‏ پولُس رسول نے بھی تجربہکار مسیحی بہنوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی باتوں اور کاموں سے دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کریں۔‏ اُنہوں نے لکھا کہ ’‏بوڑھی عورتیں اچھی باتیں سکھانے والی ہوں۔‏‘‏—‏طط ۲:‏۳‏۔‏

آپ کن طریقوں سے دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں؟‏

۶.‏ جو مسیحی کئی سال سے سچائی میں ہیں،‏ وہ کن طریقوں سے اپنے بہن‌بھائیوں کے کام آ سکتے ہیں؟‏

۶ ایک تجربہکار مسیحی کے طور پر آپ دوسروں کے بہت کام آ سکتے ہیں۔‏ ذرا سوچیں کہ آپ اب اُن باتوں کو سمجھتے ہیں جو آپ ۳۰ یا ۴۰ سال پہلے نہیں جانتے تھے۔‏ آپ مختلف صورتحال میں بائبل کے اصولوں کو عمل میں لانا سیکھ گئے ہیں۔‏ آپ بائبل کی سچائیوں کو دوسروں کے دل تک پہنچانے میں ماہر ہو گئے ہیں۔‏ اگر آپ کلیسیا میں بزرگ ہیں تو آپ نے اُن بہن‌بھائیوں کی مدد کرنا سیکھ لیا ہے جو کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔‏ (‏گل ۶:‏۱‏)‏ شاید آپ نے کلیسیا میں یا بڑے اِجتماعات پر ذمےداریاں نبھانا سیکھ لیا ہے۔‏ یا شاید آپ نے ہماری عبادتگاہوں کے تعمیری کام کی نگرانی کرنا سیکھا ہے۔‏ شاید آپ ڈاکٹروں کے ساتھ اِس موضوع پر بات کرنے کے ماہر ہو گئے ہیں کہ خون کے بغیر علاج کرنا بہت فائدہ‌مند ہے۔‏ اگر آپ نے حال ہی میں سچائی سیکھی ہے تو بھی آپ کے پا س زندگی کا کافی تجربہ ہوگا۔‏ مثال کے طور پر اگر آپ نے اپنے بچوں کی پرورش کی ہے تو آپ اِس سلسلے میں دوسروں کو اچھے مشورے دے سکتے ہیں۔‏ جو مسیحی ایک لمبے عرصے سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں،‏ وہ اپنے بہن‌بھائیوں کو تعلیم دینے،‏ اُن کی رہنمائی کرنے اور اُن کی حوصلہ‌افزائی کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‏‏—‏ایوب ۱۲:‏۱۲ کو پڑھیں۔‏

۷.‏ پُختہ اور تجربہکار بہن‌بھائی جوان مسیحیوں کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏

 ۷ آپ اَور کیا کر سکتے ہیں تاکہ بہن‌بھائی آپ کے تجربے سے فائدہ حاصل کر سکیں؟‏ شاید آپ جوانوں کو سکھا سکتے ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ بائبل کے مطالعے کیسے شروع کر سکتے ہیں اور اُنہیں مؤثر طور پر تعلیم کیسے دے سکتے ہیں۔‏ ایک پُختہ اور تجربہکار بہن کے طور پر آپ جوان بہنوں کو مشورہ دے سکتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ‌بھال کرنے کے ساتھ‌ساتھ وہ سارے کام کیسے کر سکتی ہیں جو ایک مسیحی کو کرنے چاہئیں۔‏ ایک پُختہ اور تجربہکار بھائی کے طور پر آپ جوان بھائیوں کو جوش کے ساتھ تقریریں پیش کرنا اور مؤثر طریقے سے مُنادی کرنا سکھا سکتے ہیں۔‏ آپ اُنہیں دِکھا سکتے ہیں کہ جب آپ بوڑھے بہن‌بھائیوں سے ملنے جاتے ہیں تو آپ اُن کی حوصلہ‌افزائی کیسے کرتے ہیں۔‏ اگرچہ اب آپ میں اُتنی طاقت نہیں جتنی پہلے ہوتی تھی پھر بھی آپ کے پاس جوانوں کی تربیت کرنے کے بہت سے موقعے ہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏جوانوں کا زور اُن کی شوکت ہے اور بوڑھوں کے سفید بال اُن کی زینت ہیں۔‏“‏—‏امثا ۲۰:‏۲۹‏۔‏

وہاں خدمت کریں جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے

۸.‏ پولُس رسول عمر بڑھنے کے باوجود کیا کرتے رہے؟‏

۸ پولُس رسول عمر بڑھنے کے باوجود اپنی پوری قوت اور صلاحیت سے خدا کی خدمت کرتے رہے۔‏ اُنہوں نے بہت سے علاقوں میں بادشاہت کا پیغام پھیلایا۔‏ ایسا کرنے کے لئے اُنہیں بہت سی تکلیفیں بھی اُٹھانی پڑیں۔‏ ایک بار اُنہیں روم میں قید کر دیا گیا۔‏ جب وہ تقریباً ۶۱ء میں قید سے آزاد ہوئے تو اُن کے پاس موقع تھا کہ وہ روم میں ہی رہ کر مُنادی کے کام میں ہاتھ بٹائیں۔‏ (‏۲-‏کر ۱۱:‏۲۳-‏۲۷‏)‏ اگر وہ ایسا کرتے تو بےشک روم کے مسیحی اُن کے بہت شکرگزار ہوتے۔‏ لیکن پولُس رسول جانتے تھے کہ دوسرے علاقوں میں بھی مُنادی کا کام کرنا ضروری ہے۔‏ لہٰذا وہ تیمُتھیُس اور طِطُس کو لے کر اِفسس،‏ کریتے اور شاید مکدنیہ میں بادشاہت کی مُنادی کرنے گئے۔‏ (‏۱-‏تیم ۱:‏۳؛‏ طط ۱:‏۵‏)‏ ہم نہیں جانتے کہ وہ سپین بھی گئے تھے کہ نہیں،‏ البتہ اُن کا وہاں جانے کا اِرادہ ضرور تھا۔‏—‏روم ۱۵:‏۲۴،‏ ۲۸‏۔‏

۹.‏ پطرس رسول شہر بابل کب گئے ہوں گے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

۹ پطرس رسول کی عمر شاید ۵۰ سال سے زیادہ تھی جب وہ ایک ایسے علاقے میں گئے جہاں مُنادی کرنے والوں کی زیادہ ضرورت تھی۔‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت وہ تقریباً ۵۰ سال کے تھے؟‏ شاید اُن کی عمر یسوع مسیح جتنی یا اُن سے کچھ زیادہ تھی۔‏ لہٰذا جب وہ ۴۹ء میں یروشلیم میں دیگر رسولوں سے ملے تو وہ ۵۰ سال کے لگبھگ ہوں گے۔‏ (‏اعما ۱۵:‏۷‏)‏ اِس ملاقات کے کچھ دیر بعد پطرس رسول شہر بابل چلے گئے۔‏ وہ یقیناً وہاں مُنادی کرنے کی غرض سے گئے تھے کیونکہ وہاں یہودیوں کی بہت بڑی آبادی تھی۔‏ (‏گل ۲:‏۹‏)‏ جب اُنہوں نے ۶۲ء میں اپنا پہلا اِلہامی خط لکھا تو وہ ابھی بھی بابل میں رہ رہے تھے۔‏ (‏۱-‏پطر ۵:‏۱۳‏)‏ کسی دوسرے ملک میں رہنا آسان نہیں ہے۔‏ لیکن پطرس رسول نے اپنی ڈھلتی عمر کی وجہ سے دل‌وجان سے خدا کی خدمت کرنا نہیں چھوڑا تھا۔‏

۱۰،‏ ۱۱.‏ ایک ایسی بہن یا بھائی کا تجربہ بتائیں جو اَدھیڑعمر میں کسی دوسرے ملک میں مُنادی کرنے کے لئے منتقل ہو گیا۔‏

۱۰ آجکل بھی بہت سے مسیحی جن کی عمریں ۵۰ یا اِس سے کچھ زیادہ ہیں،‏ اُنہیں خدمت کرنے کے نئے موقعے ملے ہیں کیونکہ اُن کے حالات میں کچھ تبدیلی آ گئی ہے۔‏ بعض بہن‌بھائی ایسے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔‏ اِس سلسلے میں بھائی رابرٹ کی مثال پر غور کریں جن کا تعلق شمالی امریکہ سے ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏جب مَیں اور میری بیوی تقریباً ۵۵ سال کے تھے تو ہم نے دیکھا کہ اب ہمارے پاس خدا کی زیادہ خدمت کرنے کا موقع ہے۔‏ ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ ہم سے الگ رہ رہا تھا۔‏ ہم دونوں کے والدین بھی وفات پا چکے تھے۔‏ ہمیں اُن کی جائیداد سے کچھ رقم بھی ملی۔‏ مَیں نے حساب لگایا کہ اگر ہم اپنا گھر بیچ دیں تو گھر کی رقم اور جائیداد کی رقم سے ہم وہ قرضہ ادا کر سکیں گے جو ہم نے بینک سے اِس گھر کے لئے لیا تھا۔‏ اِس کے علاوہ جب تک مجھے پنشن ملنا شروع نہیں ہوتی،‏ ہم اپنا گزارہ بھی کر سکیں گے۔‏ ہم نے سنا تھا کہ ملک بولیویا میں بہت سے لوگ بائبل کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں اور وہاں اِتنی مہنگائی بھی نہیں ہے۔‏ اِس لئے ہم نے وہاں منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔‏ وہاں رہنا اِتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہاں کا ماحول ہمارے ملک کے ماحول سے بہت فرق تھا۔‏ لیکن بولیویا جا کر ہم نے جو محنت کی،‏ اُس کا ہمیں پھل ملا۔‏“‏

۱۱ بھائی رابرٹ نے یہ بھی بتایا:‏ ”‏یہاں ہماری ساری توجہ یہوواہ خدا  کی خدمت پر ہے۔‏ ہم نے جن لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا،‏ اُن میں سے بعض نے بپتسمہ لے لیا ہے۔‏ ہم نے ایک غریب خاندان کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا جو ہمارے گھر سے کئی میل دُور واقع ایک گاؤں میں رہتا ہے۔‏ لیکن اِس خاندان کے سب لوگ ہر ہفتے بڑا مشکل سفر کرکے اِجلاس میں آتے ہیں۔‏ وہ روحانی طور پر آگے بڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ بڑا بیٹا اب پہلکار بن چُکا ہے۔‏ اِس خاندان کو آگے بڑھتے دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔‏“‏

غیرزبان بولنے والے لوگوں کو خوش‌خبری سنائیں

۱۲‏،‏ ۱۳.‏ ایک ایسی بہن یا بھائی کا تجربہ بتائیں جو ریٹائر ہونے کے بعد کسی ایسے طریقے سے مُنادی کرنے لگا جسے اُس نے کبھی پہلے نہیں آزمایا تھا۔‏

۱۲ اَدھیڑعمر یا اِس سے زیادہ عمر والے بہن‌بھائی غیرزبان والی کلیسیاؤں اور گروپوں کے بھی بہت کام آ سکتے ہیں۔‏ ایسے لوگوں میں مُنادی کرنے سے بہت خوشی ملتی ہے جو کوئی فرق زبان بولتے ہیں۔‏ اِس سلسلے میں بھائی برائن کی مثال پر غور کریں جن کا تعلق برطانیہ سے ہے۔‏ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏جب مَیں ۶۵ سال کی عمر میں ریٹائر ہوا تو مَیں بہت بور ہونے لگا۔‏ میری بیوی کے پاس بھی کرنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔‏ ہمارے بچے ہم سے الگ رہ رہے تھے اور ہمیں ایسے لوگ بھی کبھی‌کبھار ہی ملتے تھے جو بائبل کا مطالعہ کرنے پر راضی ہوتے تھے۔‏ پھر میری ملاقات ایک جوان شخص سے ہوئی جو چین سے یہاں پڑھنے کے لئے آیا ہوا تھا۔‏ جب مَیں نے اُسے اِجلاس میں آنے کی دعوت دی تو وہ اِجلاس پر آیا۔‏ مَیں نے اُس کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کِیا۔‏ چند ہفتوں بعد وہ اپنے ساتھ ایک اَور چینی آدمی کو اِجلاس میں لے کر آیا۔‏ اِس کے دو ہفتے بعد تیسرا اور پھر چوتھا شخص اُس کے ساتھ آیا۔‏

۱۳ جب پانچویں چینی شخص نے کہا کہ وہ بھی بائبل کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو مَیں نے سوچا کہ ۶۵ سال کی عمر میں مَیں کام سے تو ریٹائر ہو گیا ہوں لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مَیں خدا کی خدمت سے بھی ریٹائر ہو جاؤں۔‏ اِس لئے مَیں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ چینی زبان سیکھنا چاہتی ہے۔‏ میری بیوی مجھ سے بس دو ہی سال چھوٹی ہے۔‏ ہم نے آڈیو کیسٹوں کے ذریعے چینی زبان سیکھی۔‏ اِس بات کو اب دس سال ہو گئے ہیں۔‏ چینی زبان بولنے والے لوگوں میں مُنادی کرنے سے ہمارے اندر ایک نئی ترنگ جاگ اُٹھی ہے۔‏ اب تک ہم نے ۱۱۲ لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا ہے۔‏ اِن میں سے زیادہ‌تر لوگ اِجلاسوں میں آئے ہیں۔‏ ایک شخص تو اب ہماری کلیسیا میں پہلکار کے طور پر خدمت کر رہا ہے۔‏“‏

عمر بڑھنے کے باوجود آپ مختلف طریقوں سے خدا کی خدمت کر سکتے ہیں۔‏ (‏پیراگراف ۱۲ اور ۱۳ کو دیکھیں۔‏)‏

 اپنی صحت اور حالات کے مطابق خدمت کرتے رہیں

۱۴.‏ اَدھیڑ عمر والے مسیحیوں کو کیا بات یاد رکھنی چاہئے؟‏ اور وہ پولُس رسول کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۱۴ جن بہن‌بھائیوں کی عمریں ۵۰ سال یا اِس سے زیادہ ہیں،‏ اُن سب کے حالات یہ اِجازت نہیں دیتے کہ وہ نئے نئے طریقوں سے خدا کی خدمت کریں۔‏ بعض بہن‌بھائیوں کی صحت اِتنی اچھی نہیں ہے جبکہ بعض کو اپنے بچوں یا بوڑھے والدین کی دیکھ‌بھال کرنی پڑتی ہے۔‏ لیکن یاد رکھیں کہ آپ یہوواہ خدا کی خدمت میں جتنا بھی حصہ لیتے ہیں،‏ وہ اُس کی قدر کرتا ہے۔‏ لہٰذا اگر آپ زیادہ خدمت نہیں کر سکتے تو مایوس نہ ہوں بلکہ جو بھی کر سکتے ہیں،‏ خوشی سے کریں۔‏ ذرا پولُس رسول کی مثال پر غور کریں۔‏ وہ کئی سال تک اپنے گھر میں نظربند رہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے علاقوں میں جا کر مُنادی نہیں کر سکتے تھے۔‏ لیکن جب بھی لوگ اُن سے ملنے آتے تھے،‏ وہ اُنہیں پاک کلام کی باتیں بتاتے تھے تاکہ اُن کا ایمان مضبوط ہو جائے۔‏—‏اعما ۲۸:‏۱۶،‏ ۳۰،‏ ۳۱‏۔‏

۱۵.‏ ہم عمررسیدہ بہن‌بھائیوں کی قدر کیوں کرتے ہیں؟‏

۱۵ سلیمان کے مطابق بڑھاپا زندگی کا خوش‌گوار دَور نہیں ہوتا۔‏ پھر بھی عمررسیدہ بہن‌بھائی یہوواہ خدا کی خدمت میں جتنا بھی حصہ لیتے ہیں،‏ وہ اُس کی قدر کرتا ہے۔‏ (‏لو ۲۱:‏۲-‏۴‏)‏ کلیسیا کے رُکن بھی ایسے بہن‌بھائیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں جو خراب صحت اور دیگر مشکلات کے باوجود وفاداری سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔‏

۱۶.‏ عمررسیدہ حناہ کو غالباً کون‌سا اعزاز حاصل نہیں ہوا تھا؟‏ پھر بھی اُنہوں نے دل‌وجان سے خدا کی خدمت کیسے کی؟‏

۱۶ بائبل میں حناہ کے بارے میں بتایا گیا ہے جو بڑھاپے میں بھی وفاداری سے خدا کی خدمت کر رہی تھی۔‏ وہ بیوہ تھیں اور یسوع کی پیدائش کے وقت اُن کی عمر ۸۴ سال تھی۔‏ غالباً وہ یسوع کے مُنادی شروع کرنے سے پہلے وفات پا گئی تھیں۔‏ اِس لئے اُنہیں یسوع مسیح کے شاگرد بننے،‏ روحُ‌القدس سے مسح ہونے اور بادشاہت کی مُنادی کے کام میں حصہ لینے کا اعزاز نہیں ملا تھا۔‏ پھر بھی حناہ اپنی زندگی میں جو کچھ کر سکیں،‏ اُنہوں نے خوشی سے کِیا۔‏ وہ ”‏ہیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عبادت کِیا کرتی تھی۔‏“‏ (‏لو ۲:‏۳۶،‏ ۳۷‏)‏ جب کاہن ہیکل میں ہر صبح اور شام بخور جلاتے تھے تو حناہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہیکل کے صحن میں جمع ہوتی تھیں اور شاید آدھے گھنٹے تک دل میں دُعا کرتی تھیں۔‏ جب اُنہوں نے ننھے یسوع کو دیکھا تو وہ ”‏اُن سب سے جو یرؔوشلیم کے چھٹکارے کے منتظر تھے [‏یسوع]‏ کی بابت باتیں کرنے لگی۔‏“‏—‏لو ۲:‏۳۸‏۔‏

۱۷.‏ ہم عمررسیدہ یا بیمار بہن‌بھائیوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں تاکہ وہ خدا کی عبادت میں حصہ لے سکیں؟‏

۱۷ ہمیں ایسے بہن‌بھائیوں کی مدد کرنے کے موقعے ہاتھ سے نہیں جانے دینے چاہئیں جو عمررسیدہ ہیں یا طویل عرصے سے بیمار ہیں۔‏ بعض بہن‌بھائی اِجلاسوں اور اِجتماعوں میں جانا چاہتے ہیں مگر اکثر وہ جا نہیں پاتے۔‏ کچھ ملکوں میں کلیسیائیں عمررسیدہ بہن‌بھائیوں کے لئے یہ اِنتظام کرتی ہیں کہ وہ ٹیلیفون کے ذریعے اِجلاس میں پیش کی جانے والی معلومات سُن سکیں۔‏ بعض ملکوں میں شاید ایسا کرنا ممکن نہ ہو۔‏ پھر بھی ایسے بہن‌بھائی یہوواہ خدا کی عبادت کو فروغ دینے میں حصہ لے سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر وہ کلیسیا کی ترقی اور بھلائی کے لئے دُعا کر سکتے ہیں۔‏‏—‏زبور ۹۲:‏۱۳،‏ ۱۴ کو پڑھیں۔‏

۱۸،‏ ۱۹.‏ ‏(‏الف)‏ عمررسیدہ مسیحی دوسرے بہن‌بھائیوں کے لئے حوصلہ‌افزائی کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ واعظ ۱۲:‏۱ میں درج نصیحت پر کون عمل کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ عمررسیدہ بہن‌بھائیوں کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ وہ دوسروں کے لئے کتنی حوصلہ‌افزائی کا باعث ہیں۔‏ مثال کے طور پر حناہ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ خدا کے لئے اُن کی محبت کا ذکر پاک کلام میں کِیا جائے گا اور صدیوں بعد آنے والے لوگ اُن کی مثال کو یاد کرکے حوصلہ پائیں گے۔‏ آپ بھی یقین رکھ سکتے ہیں کہ آپ کے بہن‌بھائی اُس محبت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے جو آپ یہوواہ خدا کے لئے رکھتے ہیں۔‏ خدا کے کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏بڑھاپے کے سفید بال شان‌وشوکت کا وہ تاج ہیں؛‏ جسے راست‌باز زندگی کے ذریعہ حاصل کِیا جاتا ہے۔‏“‏—‏امثا ۱۶:‏۳۱‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

۱۹ ہم خدا کی خدمت میں اُتنا ہی حصہ لے سکتے ہیں جتنا ہمارے حالات اور صحت اِجازت دیتے ہیں۔‏ لیکن جب تک آپ میں طاقت اور توانائی ہے،‏ اِس اِلہامی نصیحت پر عمل کرتے رہیں:‏ ”‏اپنے خالق کو یاد کر جبکہ بُرے دن ہنوز نہیں آئے۔‏“‏—‏واعظ ۱۲:‏۱‏۔‏